• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حلالہ اور ہمارا معاشرہ

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,346
پوائنٹ
180
ملزم کی تصدیق کی جائے کہ کیا واقعی اس نے کسی کی ترغیب و تحریص سے طلاق دیا ہے، اس سلسلہ میں عورت کا بیان بھی سننا ضروری ہے، اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بتایا گیا ہے تو میاں بیوی کے علاوہ گواہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حتمی نتائج پر پہنچا جاسکتا ہے
اگر یہ بات غلط ہے تو کوئی صاحب روشنی ڈالیں
میں نہیں سمجھاکہ آپ کیاکہناچاہ رہے ہیں۔تمام گواہوں اورثبوتوں کو مد نظررکھ کر فیصلہ کیاجائے گاکہ طلاق ہوئی یانہیں ہوئی ۔
اگریہی آپ کاموقف ہے تواس کی دلیل پیش کیجئے جب کہ حدیث کہتی ہے کہ کوئی آدمی کیسے بھی طلاق دے اس کی طلاق معتبر ہوگی۔ ثلاث جدھن جد وہزلہن ہزل
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,441
پوائنٹ
964
میں نہیں سمجھاکہ آپ کیاکہناچاہ رہے ہیں۔تمام گواہوں اورثبوتوں کو مد نظررکھ کر فیصلہ کیاجائے گاکہ طلاق ہوئی یانہیں ہوئی ۔
اگریہی آپ کاموقف ہے تواس کی دلیل پیش کیجئے جب کہ حدینث کہتی ہے کہ کوئی آدمی کیسے بھی طلاق دے اس کی طلاق معتبر ہوگی۔ ثلاث جدھن جد وہزلہن ہزل
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ " رواه ابن ماجة في السنن برقم ٢٠٣٩
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
سوال میراوہ قطعانہیں ہے جسے آپ نے سمجھاہے ۔
سوال صرف اس قدر ہے کہ ایک شخص طلاق دیتاہے مگر اس طلاق کی وجہ خود اس کاارادہ نہیں بلکہ دوسرے کی ترغیب وتحریص ہے۔
توکیاایسی طلاق معتبر ہوگی یاغیرمعتبر ہوگی!اوروجہ بھی ساتھ میں فرمادیں۔
اگر مغالطہ مقصود نہیں ، تو غلط فہمی ہی ہے۔
کسی دوسرے کی ترغیب و تحریص کے بعد طلاق دینے والے شخص کے بارے میں یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا اپنا ارادہ نہیں؟
یہ کہہ سکتے ہیں کہ طلاق کے ارادے کی وجہ ترغیب و تحریص تھی۔
کیونکہ طلاق تو اس نے ترغیب سے متاثر ہونے کے بعد اپنے بھرپور ارادے کے ساتھ ہی دی ہے۔
ہاں جبر و اکراہ کا معاملہ ہو تو سوال بنتا ہے۔ کہ گن پوائنٹ پر کسی شخص نے طلاق دی تو اس نے اپنے ارادہ سے نہیں دی۔

اتنی ساری پوسٹس کے ساتھ اگر پوسٹ 23 کا بھی جواب عنایت کر دیتے تو اچھا تھا۔ خصوصاً یہ:

اصل غور طلب معاملہ یہ نہیں کہ حلالہ میں دوسرے شوہر کی دی جانے والی طلاق معتبر ہے یا نہیں۔
بلکہ اختلافی معاملہ تو یہ ہے کہ آیا ایسا نکاح معتبر ہے جو پہلے سے ہی طلاق کی نیت کے تحت کیا جائے۔ آپ کہتے ہیں ایسا نکاح معتبر ہے اور ہم کہتے ہیں معتبر نہیں۔ آپ ایسے نکاح کے معتبر ہونے کے دلائل پیش کیجئے۔
اور یہ:
کیا آپ کے نزدیک نکاح متعہ معتبر ہے؟ اگرچہ فریقین کو آپ گناہ گار ہی کیوں نہ تسلیم کریں؟
اگر جواب ہاں میں ہو تو پھر ہمارے بیچ اختلاف کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ ہمیں موجودہ موضوع کو بھی پھیلانا ہوگا۔
اگر جواب ناں میں ہو تو پھر نکاح متعہ اور نکاح حلالہ میں وجوہات تفریق بتائیں۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,346
پوائنٹ
180
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ " رواه ابن ماجة في السنن برقم ٢٠٣٩
تصحیح کا شکریہ!
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,346
پوائنٹ
180
گر مغالطہ مقصود نہیں ، تو غلط فہمی ہی ہے۔
کسی دوسرے کی ترغیب و تحریص کے بعد طلاق دینے والے شخص کے بارے میں یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا اپنا ارادہ نہیں؟
یہ کہہ سکتے ہیں کہ طلاق کے ارادے کی وجہ ترغیب و تحریص تھی۔
کیونکہ طلاق تو اس نے ترغیب سے متاثر ہونے کے بعد اپنے بھرپور ارادے کے ساتھ ہی دی ہے۔
ہاں جبر و اکراہ کا معاملہ ہو تو سوال بنتا ہے۔ کہ گن پوائنٹ پر کسی شخص نے طلاق دی تو اس نے اپنے ارادہ سے نہیں دی۔
حقیقت یہ ہے کہ جوبات آپ جبرواکراہ کے معاملے میں کہہ رہے ہیں اس میں بھی کہاجاسکتاہے کہ اس نے اپنے ارادے سے طلاق دی ہے۔کسی کو گن پوائنٹ پر رکھ کر طلاق کیلئے کہاجاتاہے تواس کے سامنے بھی چوائس ہوتاہے کہ وہ اپنی جان بچائے یاپھر طلاق دے۔ اوروہ پہلی صورت اختیار کرتاہے؟
اس بحث سے قطع نظر
میرسوال صرف اس قدر ہے
اگرکوئی شخص ترغیب وتحریص کی وجہ سے طلاق دیتاہے تواس کی طلاق واقع ہوجائے گی یانہیں آپ کہتے ہیں کہ ہوجائے گی اورحدیث اس پر دال ہے ثلاث جدھن جد وہزلہن جد
کہ تین چیزیں چاہے سنجیدگی سے یامذاق سے وہ واقع ہوجاتی ہیں۔
اب اسی اصول پر غورکریں کہ
جوشخص نکاح حلالہ کرتاہے اورکراتاہے آپ کہتے ہیں کہ اس کانکاح نہیں ہوا
جب کہ حدیث کہتی ہے کہ نکاح چاہے ترغیب وتحریص سے ہویاکسی اورمقصد سے ۔نکاح ہوجائے گا۔جدھن جد وہزلہن جد
ہاں چونکہ نکاح حلالہ کی حدیث میں مذمت اورلعنت وارد ہوئی ہے لہذا ہم کہتے ہیں وہ شدید گنہگار ہوگا اوراگراسلامی حکومت ہوتو تفتیش کے بعد اس کو تعزیر بھی ہوسکتی ہے۔
اس طرح دونوں حدیثوں میں پر عمل آوری ہوجاتی ہے۔
اصل موقف احناف کایہ ہے کہ نکاح درست ہے کراہت کے ساتھ
یہی موقف امام شافعی علیہ الرحمہ کابھی ہے
ہاں اگرنکاح میں کوئی شرط لگاتاہے کہ اس کو طلاق دیناہوگایاایساویساتووہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ حنفیہ اورشافعیہ کے بھی نزدیک
أما نكاح التحليل المؤقت: وهو الذي يقصد به تحليل المرأة لزوجها الأول بشرط أو اتفاق في العقد أو غيره بالنية، فهو زواج باطل غير صحيح، ولا تحل به المرأة للأول الذي طلقها، وهو معصية لعن الشرع فاعلها، سواء علم الزوج المطلّق أو جهل بذلك وهو رأي مالك وأحمد والثوري والظاهرية. وقال الحنفية والشافعية: هو صحيح مع الكراهة ما لم يشترط التحليل في العقد.
 
شمولیت
اکتوبر 08، 2012
پیغامات
74
ری ایکشن اسکور
135
پوائنٹ
32
السلام علیکم۔
حلالہ کی لعنت کا نبوی فتوی جن کے سر پر ہر وقت منڈلائے ، تحکیم بغیر ما انزل اللہ جن کا پسندیدہ کام ہو ، بھلا کیا وہ "اہل حق" ہو سکتے ہیں؟؟؟
حرامہ کا فتوی جو فتوی فروش مولوی اپنی جیب مین چھپائے حنفی بستیوں میں منڈلائے، جن کی عید ہی اسی دن ہو جب کسی مسلمان کا گھر اجڑ جائے، بھلا کیا وہ " اہل حدیث" ہوسکتا ہے؟؟؟
 

ٹائپسٹ

رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
186
ری ایکشن اسکور
987
پوائنٹ
86
ہاں اگرنکاح میں کوئی شرط لگاتاہے کہ اس کو طلاق دیناہوگایاایساویساتووہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ حنفیہ اورشافعیہ کے بھی نزدیک
بھائی میرے خیال سے اختلاف اس ہی بات پر ہے کہ اگر نکاح میں یہ شرط موجود ہو کہ نکاح کے بعد طلاق دینا ہوگی تو یہ نکاح باطل ہے۔ اور حلالہ میں یہی شرط ہوتی ہے۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,346
پوائنٹ
180
بھائی میرے خیال سے اختلاف اس ہی بات پر ہے کہ اگر نکاح میں یہ شرط موجود ہو کہ نکاح کے بعد طلاق دینا ہوگی تو یہ نکاح باطل ہے۔ اور حلالہ میں یہی شرط ہوتی ہے۔
شایدکتب فقہ وغیرہ آپ نے پڑھی نہیں ہے۔
اگرکوئی نکاح میں یہ شرط لگاتاہے کہ طلاق دینی ہوگی تویہ نکاح باطل ہے
نکاح سے قبل آپ ہونے والے شوہر سے عرض ومعروض کرلیں۔ ڈرادھمکاکرمنظورکرالیں وہ الگ چیز ہے۔
یہی وجہ ہے بعض دفعہ نکاح حلالہ کرنے والے شوہر طلاق دینے کیلئے راضی نہیں ہوتے اوروہ نہیں دیتے ہیں۔
اگرطلاق کی شرط نکاح میں رکھنامعتبر ہوتاتوپھرحلالہ کرنے والے شوہر کویہ اختیارہی نہیں ہوتاکہ وہچاہے تواپنی بیوی کو ہمیشہ اپنے پاس رکھے۔نکاح اگلی صبح ہوتے ہی ختم ہوجاتالیکن ایسانہیں ہے۔
امید ہے کہ یہ نقطہ آنجناب کی سمجھ میں آگیاہوگا۔
 

ٹائپسٹ

رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
186
ری ایکشن اسکور
987
پوائنٹ
86
شایدکتب فقہ وغیرہ آپ نے پڑھی نہیں ہے۔
اگرکوئی نکاح میں یہ شرط لگاتاہے کہ طلاق دینی ہوگی تویہ نکاح باطل ہے
نکاح سے قبل آپ ہونے والے شوہر سے عرض ومعروض کرلیں۔ ڈرادھمکاکرمنظورکرالیں وہ الگ چیز ہے۔
یہی وجہ ہے بعض دفعہ نکاح حلالہ کرنے والے شوہر طلاق دینے کیلئے راضی نہیں ہوتے اوروہ نہیں دیتے ہیں۔
اگرطلاق کی شرط نکاح میں رکھنامعتبر ہوتاتوپھرحلالہ کرنے والے شوہر کویہ اختیارہی نہیں ہوتاکہ وہچاہے تواپنی بیوی کو ہمیشہ اپنے پاس رکھے۔نکاح اگلی صبح ہوتے ہی ختم ہوجاتالیکن ایسانہیں ہے۔
امید ہے کہ یہ نقطہ آنجناب کی سمجھ میں آگیاہوگا۔
سب سے پہلے تو میں یہ چاہوں گا کہ مجھے کوئی بھی جواب کسی بھی مسلک کا طرفدار سمجھ کر نہ دیا جائے۔
اور رہی بات یہ کہ میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں یا نہیں تو عرض ہے!
میں اس تھریڈ کو شروع سے پڑھتا ہوا آ رہا ہوں اور میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ کہ اس تھریڈ میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ جو شخص حلالہ میں نکاح کرتا ہے اس کا نکاح نہیں ہوتا اور نکاح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نکاح میں پہلے ہی یہ شرط موجود ہوتی ہے کہ تم حقوق زوجیت کی ادائیگی کے بعد طلاق دے دو گے۔ اور جس نکاح میں یہ شرط موجود ہو وہ نکاح باطل ہے یہی وجہ ہے کہ متعہ بھی حرام ہے۔
آپ نے جو بات لکھی کہ نکاح کرنے والا بعد میں طلاق دینے کے لیے راضی نہیں ہوتا ، تو بات یہی ہے کہ اس سے طلاق کا مطالبہ ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا اس سے نکاح اس لیے کیا گیا تھا کہ وہ اس عورت کے ساتھ ہمیشہ زندگی گزارے یا یہ کہ اس شخص کو جلد ہی اسے طلاق دینا ہوگی جس کا اس سے فورا ہی مطالبہ بھی کیا جاتا ہے اور ایسے میں بعض لوگ راضی نہیں ہوتے ۔ تو بات تو یہی ہوئی کہ طلاق دینا تو طے تھا لیکن یہ شخص مکر گیا طلاق دینے سے۔
تو میں تو یہی سمجھا ہوں کہ جس نکاح میں پہلے ہی یہ بات طے کر لی جائے کہ تم نکاح بعد طلاق بھی دو گے تو وہ نکاح باطل ہے اور حلالہ میں میں نے جو کچھ پڑھا اور سنا ہے وہ یہی کچھ ہے۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,346
پوائنٹ
180
شاید میری بات آپ کو سمجھ میں نہیں آئی
آپ قانونی داؤپیج سے پھنسنے کیلئے اپنی کچھ جائیداد کسی عزیز وقریبی رشتہ دارکے نام کردیتے ہیں اوراس سے پہلے یہ طے کرلیتے ہیں کہ یہ جائیدادہوگی توتمہارے نام لیکن سارااختیاراورسارامنافع میراہوگا۔
اگراس جائیدادکی دستاویز پر آپ کابھی نام ہوتو قانون فوراگرفت میں لے لے گااورسوال ہوگاکہ اس جائیدادکیلئے روپئے کہاں سے آئے۔
قانونی پھندے سے بچنے کیلئے آپ جس جائیداد کو اپنے رشتہ دارکے نام منتقل کررہے ہیں اسمیں آپ کبھی ایسانہیں کریں گے کہ جائیداد کی دستاویز پر اپنانام لکھیں گے۔ہاں اس کو الگ سے کچھ اس طرح مجبور کریں گے کہ وہ بعد میں آپ سے مکرنہ سکے۔یاجائیداد میں اپناتصرف نہ شروع کردے یااس کیلئے کچھ بھی لالچ دیں گے لیکن جائیداد کی جوڈاکیومنٹ ہوگی وہ پوری طرح قانونی اوراس میں صرف آپ کے رشتہ دارکاہی نام ہوگا۔
بعینہ یہی حال سمجھیں
ایک شخص غصہ میں آکر اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتاہے اب اسے پچھتاواہوتاہے کہ یہ تومیں نے بہت براکیا
حنفیہ شافعیہ مالکیہ حنابلہ کہتے ہیں کہ تم نے ایک ساتھ تین طلاق دے کر کتاب اللہ کو مذاق بنایاہے اب اس کی سنگین سزابھگتو
اب وہ شخص حلالہ کا طریقہ ڈھونڈتاہے اورکسی دوسرے مرد کے ساتھ اپنی بیوی کی شادی کراتاہے
وہ اس دوسرے شخص سے کسی اورطریقہ سے عرض ومعروض کرسکتاہے کہ تمہیں اگلی صبح کو تین طلاق دیناہوگا۔نہیں کروگے توایساایساہوگا
لیکن نکاح نامے میں وہ ایسی کوئی شرط نہیں رکھ سکتاکہ اس نکاح کی شرط یہ ہے کہ تمہیں اگلی صبح کو طلاق دیناہوگا۔
حنفیہ کاکہناہے کہ اگرکوئی ایسی شرط لگاتابھی ہے تونکاح صحیح اورشرط باطل ہوگی!
 
Top