• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حنفیوں کی غلط گائیڈنگ کا نقصان۔۔ ایک حنفی کا سچا واقعہ

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304

اللہ نے صرف یہ بتایا ہے کہ اگر نکاح ہو گیا اور جماع ہو گیا تو عورت حلال ہے۔ آگے کی تفصیل آپ کی نکالی ہوئی ہے کہ نہیں حلال نہیں ہے اگر حلالہ کی نیت سے نکاح ہوا ہے۔ یہ نکالیے ذرا قرآن سے۔


ازدواجی زندگی سے صرف جماع تک کا ذکر قرآن میں ہے وہ بھی صراحتا نہیں۔ ترتیب الفاظ کے ذریعے اور حدیث عسیلہ میں بھی صرف جماع کا ذکر ہے۔ اگر اس سے زیادہ زندگی کے قائل ہیں تو دلیل لائیے۔
حلالہ میں کس کی مرضی سے طلاق دے رہا ہوتا ہے؟


قرآن بغیر کسی شرط کے کہہ رہا ہے کہ نکاح اور جماع کے بعد حلال ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہونے سے منع نہیں کیا ہے اس کام کو برا بتانے کے باوجود بھی۔ (اگرچہ خبر واحد پر الفاظ قرآنی کو ترجیح ہوتی ہے۔)
اور فقہ اہل حدیث نئی شرط لگا رہا ہے۔ کیوں؟


عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تین طلاق کا فیصلہ کرنے کے بعد یہ کہا تھا کہ حلالہ کر لیا کرو؟ پھر پشیمانی کس بات پر؟ اگر فیصلہ پر تو کیا اس سے رجوع کیا تھا؟ ایک ہاتھ ذرا سر پر مارئیے۔
انہوں نے حلالہ کرنے والے کو سزا دینے کا کہا ہے لیکن فیصلہ واپس نہیں لیا۔ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ عمر رض کے نزدیک فیصلہ کا نتیجہ یہ نہیں تھا اور فیصلہ بالکل درست تھا۔
حلالہ کرنے والے کے بارے میں اگر یہ فرمایا بھی ہے تو اس سے بیوی کا حلال نہ ہونا تو ثابت نہیں ہوتا اور اس فعل کے برے ہونے کے ہم بھی قائل ہیں۔
باقی عمر رض کی روایت پر کامل تحقیق نہیں ہے ورنہ تعزیری فیصلہ کے بارے میں بھی کچھ عرض کرتا۔ لہذا اسے چھوڑئیے۔[/quote]

آپ فرما رہے ہیں کہ :


قرآن بغیر کسی شرط کے کہہ رہا ہے کہ نکاح اور جماع کے بعد حلال ہے۔


اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کیا نکاح کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے -یعنی اگر آپ نا جائز حلالہ کو جائز بنانے پر تلے ہوے ہیں تو کیا ایسا نہیں کہ قرآن میں جہاں جہاں نکاح کا بیان ہے وہاں الله نے صرف یہ فرمایا کہ جو تم کو اچھی لگے ان سے شادی کر لو دو دو تین تین چار چار- یہاں پر یہ بیان نہیں کیا کہ کتنی مدت کے لئے نکاح کیا جائے- اب اگر کوئی آدمی ایک عورت سے ایک خاص مدت کے لئے نکاح کرنا چاہتا ہے (یعنی نکاح متعہ ) تو آپ قرآن سے اس کی ممانعت کیسے ثابت کریں گے؟؟؟ یعنی اگر حلالہ جو ہر صورت میں ایک لعنتی فعل ہے اور اس لعنتی فعل سے آپ ایک عورت کو اپنے پہلے خاوند کے لئے قرآن کی رو سے جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں - اس صورت میں تو نکاح متعہ بھی ایک جائز فعل ہونا چاہیے - لیکن تمام اہل سنّت اور احناف اور بریلوی علماء اس نکاح متعہ کو نا جائز اور حرام کہتے ہیں -کیا کہیں گے آپ -؟؟؟

میں نے کب کہا کہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے حلالہ کا حکم دیا تھا - انہوں نے تو عوام کو متنبع کیا تھا کہ اگر کسی نے حلالہ کروایا تو اس کو رجم کی سزا دی جائے گی - جو زنا کی صورت میں دی جاتی ہے - یہ آپ کس طرح ثابت کریں کہ حلالہ کے بعد بیوی حلال ہوگئی - جب کہ دوسرے شوہر سے نکاح ہی شرط پر ہوا جیسا کہ نکاح متعہ میں ہوتا ہے جو کہ نا جائز ہے -تو پھر ایک نا جائز فعل کے ذریے وہ عورت کیسے پہلے مرد کے لئے حلال ہوگی ؟؟

آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ بیک وقت ٣ طلاق دینے والے کو کوڑے مرواتے تھے - اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک تعزیری فعل تھا شرعی فعل نہیں تھا - حضرت عمر رضی الله عنہ بھی بیک وقت ٣ طلاقوں کو حرام ہی سمجھتے تھے -

حضرت عمر رضی الله عنہ کے فعل کی مثال ایسی ہی ہے کہ کوئی آدمی اپنی شادی شدہ بیٹی پر ظلم ہوتا دیکھ کر اس کے شوہر سے کہے کہ میری بیٹی اب تمھارے ساتھ نہیں رہے گی- اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس کے شوہر سے طلاق کا شرعی حق سلب کر رہا ہے بلکہ اس کا یہ فعل سزا کے طور پر ہوتا ہے -
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
آپ فرما رہے ہیں کہ :


قرآن بغیر کسی شرط کے کہہ رہا ہے کہ نکاح اور جماع کے بعد حلال ہے۔


اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کیا نکاح کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے -یعنی اگر آپ نا جائز حلالہ کو جائز بنانے پر تلے ہوے ہیں تو کیا ایسا نہیں کہ قرآن میں جہاں جہاں نکاح کا بیان ہے وہاں الله نے صرف یہ فرمایا کہ جو تم کو اچھی لگے ان سے شادی کر لو دو دو تین تین چار چار- یہاں پر یہ بیان نہیں کیا کہ کتنی مدت کے لئے نکاح کیا جائے- اب اگر کوئی آدمی ایک عورت سے ایک خاص مدت کے لئے نکاح کرنا چاہتا ہے (یعنی نکاح متعہ ) تو آپ قرآن سے اس کی ممانعت کیسے ثابت کریں گے؟؟؟ یعنی اگر حلالہ جو ہر صورت میں ایک لعنتی فعل ہے اور اس لعنتی فعل سے آپ ایک عورت کو اپنے پہلے خاوند کے لئے قرآن کی رو سے جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں - اس صورت میں تو نکاح متعہ بھی ایک جائز فعل ہونا چاہیے - لیکن تمام اہل سنّت اور احناف اور بریلوی علماء اس نکاح متعہ کو نا جائز اور حرام کہتے ہیں -کیا کہیں گے آپ -؟؟؟


نکاح متعہ کی تعریف کیجیے۔ آپ کو خود جواب مل جائے گا۔ لیکن تعریف وہ جو کتابوں میں منقول ہے۔

میں نے کب کہا کہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے حلالہ کا حکم دیا تھا - انہوں نے تو عوام کو متنبع کیا تھا کہ اگر کسی نے حلالہ کروایا تو اس کو رجم کی سزا دی جائے گی - جو زنا کی صورت میں دی جاتی ہے - یہ آپ کس طرح ثابت کریں کہ حلالہ کے بعد بیوی حلال ہوگئی - جب کہ دوسرے شوہر سے نکاح ہی شرط پر ہوا جیسا کہ نکاح متعہ میں ہوتا ہے جو کہ نا جائز ہے -تو پھر ایک نا جائز فعل کے ذریے وہ عورت کیسے پہلے مرد کے لئے حلال ہوگی ؟؟
نکاح متعہ کی تعریف کیجیے۔ متعہ حرام ہے دلائل شرعیہ کی وجہ سے لیکن متعہ اور حلالہ میں فرق ہے۔ تعریف کریں تو خود واضح ہو جائے گا۔

آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ بیک وقت ٣ طلاق دینے والے کو کوڑے مرواتے تھے - اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک تعزیری فعل تھا شرعی فعل نہیں تھا - حضرت عمر رضی الله عنہ بھی بیک وقت ٣ طلاقوں کو حرام ہی سمجھتے تھے -
حلال سمجھتے تھے یا حرام۔ واقع تو تین ہی کرتے تھے نا؟ یا ایک واقع ہوتی تھی اور وہ اسے تین کہہ کر قرآن کے فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجہن کے خلاف کرتے تھے؟ ایسے تو ہو نہیں سکتا۔ تو معلوم ہوا کہ تین واقع بھی ہوتی تھیں۔
ویسے میں نے کہا تھا:
باقی عمر رض کی روایت پر کامل تحقیق نہیں ہے ورنہ تعزیری فیصلہ کے بارے میں بھی کچھ عرض کرتا۔ لہذا اسے چھوڑئیے۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
نکاح متعہ کی تعریف کیجیے۔ آپ کو خود جواب مل جائے گا۔ لیکن تعریف وہ جو کتابوں میں منقول ہے۔


نکاح متعہ کی تعریف کیجیے۔ متعہ حرام ہے دلائل شرعیہ کی وجہ سے لیکن متعہ اور حلالہ میں فرق ہے۔ تعریف کریں تو خود واضح ہو جائے گا۔


حلال سمجھتے تھے یا حرام۔ واقع تو تین ہی کرتے تھے نا؟ یا ایک واقع ہوتی تھی اور وہ اسے تین کہہ کر قرآن کے فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجہن کے خلاف کرتے تھے؟ ایسے تو ہو نہیں سکتا۔ تو معلوم ہوا کہ تین واقع بھی ہوتی تھیں۔
ویسے میں نے کہا تھا:
میرے بھائی کن کتابوں کے حوالے پیش کروں -فقہ حنفیہ کے یا کسی اور کے -؟؟ بات بڑی واضح ہے اب کان ایک طرف سے پکڑو یا دوسری طرف سے- بات ایک ہی ہے - دونوں فعل یعنی متعہ اور حلالہ وقت کی شروط کے تحت ہوتے ہیں - یعنی ایک خاص مدت کے لئے دونوں فعل سر انجام دیے جاتے ہیں - دونوں پر الله کے نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے - ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک فعل کو نا جائز قرار دے دیں اور دوسرے فعل کو جائز قرار دیں - (بقول آپ کے کہ حلالہ ہے تو لعنتی فعل لیکن اس کے ذریے عورت کا پہلے شوہر سے نکاح جائز ہو جاتا ہے)-

یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ہم یہ کہیں کہ نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے شراب پینے اور پلانے والی پر ، سود کھانے اور کھلانے والے پر ، انبیاء و اولیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے والوں پر، یہ تمام افعال لعنتی ہیں لیکن باحالت مجبوری جائز ہیں - (یہ بات ذہن میں رہے کہ صرف زندگی بچانے کے لئے حرام چیز جائز ہو جاتی ہے) - اس سے یہ استدلال ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ ہر ناجائز چیز باحالت مجبوری جائز ہو جائے گی - جیسے آپ حلالہ کے ذریے ایک عورت کو اپنے پہلے خاوند کے لئے جائز قرار دینے پر تلے ہوے ہیں -

آپ کہتے ہیں کہ متعہ حرام ہے دلائل شرعیہ کی وجہ سے - تو کیا حلالہ جائز ہے دلائل شرعیہ میں ؟؟؟

حضرت عمر رضی الله عنہ کے فعل پر میں پہلے ہی بیان کرچکا ہوں کہ ان کا فعل تعزیری تھا - شرعی نہیں- ورنہ تین طلاقوں کے بعد کوڑے مارنے کا کیا جواز ؟؟؟ -حنفیہ کو چاہیے کہ اگر انھیں حضرت عمر رضی الله عنہ کا فعل کا اتنا ہی عزیز ہے تو بیک وقت ٣ طلاقیں دینے والے کو کوڑے بھی مروائیں-
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
میرے بھائی کن کتابوں کے حوالے پیش کروں -فقہ حنفیہ کے یا کسی اور کے -؟؟
تعریفات کی کتابیں کن کن کی ہوتی ہیں؟ پیش کریں بے فکر ہو کر۔ کہیں تعریف میں فرق ہوگا تو واضح کر دوں گا۔

ات بڑی واضح ہے اب کان ایک طرف سے پکڑو یا دوسری طرف سے- بات ایک ہی ہے - دونوں فعل یعنی متعہ اور حلالہ وقت کی شروط کے تحت ہوتے ہیں - یعنی ایک خاص مدت کے لئے دونوں فعل سر انجام دیے جاتے ہیں - دونوں پر الله کے نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے - ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک فعل کو نا جائز قرار دے دیں اور دوسرے فعل کو جائز قرار دیں - (بقول آپ کے کہ حلالہ ہے تو لعنتی فعل لیکن اس کے ذریے عورت کا پہلے شوہر سے نکاح جائز ہو جاتا ہے)-
تعریف تو کریں نا متعہ کی پہلے۔ متعہ اور حلالہ میں تو بہت فرق ہے اور حلالہ اور موقت میں بھی ایک انتہائی اہم شرط میں فرق ہے۔ لیکن آپ تعریف کریں۔

یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ہم یہ کہیں کہ نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے شراب پینے اور پلانے والی پر ، سود کھانے اور کھلانے والے پر ، انبیاء و اولیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے والوں پر، یہ تمام افعال لعنتی ہیں لیکن باحالت مجبوری جائز ہیں - (یہ بات ذہن میں رہے کہ صرف زندگی بچانے کے لئے حرام چیز جائز ہو جاتی ہے) - اس سے یہ استدلال ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ ہر ناجائز چیز باحالت مجبوری جائز ہو جائے گی - جیسے آپ حلالہ کے ذریے ایک عورت کو اپنے پہلے خاوند کے لئے جائز قرار دینے پر تلے ہوے ہیں -
بحالت مجبوری کیوں جائز ہیں؟ نص کی وجہ سے۔ تو میرے محترم حلالہ کے بعد عورت کا حلال ہونا بھی نص سے ہی ثابت ہو رہا ہے۔ ورنہ مسئلہ تبدیل ہوتا شاید۔

آپ کہتے ہیں کہ متعہ حرام ہے دلائل شرعیہ کی وجہ سے - تو کیا حلالہ جائز ہے دلائل شرعیہ میں ؟؟؟
کیا آپ نے اوپر سے پوسٹس نہیں پڑھیں؟ حلالہ کو جائز کس نے قرار دیا ہے؟

حضرت عمر رضی الله عنہ کے فعل پر میں پہلے ہی بیان کرچکا ہوں کہ ان کا فعل تعزیری تھا - شرعی نہیں- ورنہ تین طلاقوں کے بعد کوڑے مارنے کا کیا جواز ؟؟؟
لیکن تین طلاقوں کو ایک طلاق نہ قرار دینے پر اصرار باوجود حلالہ کے مسئلے کے کیا بتاتا ہے؟
میرے محترم بھائی کسی کام پر کوڑے مارنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ کام تعزیری ہے۔ کوڑے مارے گئے تین طلاقیں اکٹھی دینے پر اور تین طلاقوں کو باقی بھی رکھا گیا۔
لیکن بحث ابھی حلالہ کے بعد حلال ہونے پر چل رہی ہے۔ اسی تک رہیے تو بہتر ہے۔

حنفیہ کو چاہیے کہ اگر انھیں حضرت عمر رضی الله عنہ کا فعل کا اتنا ہی عزیز ہے تو بیک وقت ٣ طلاقیں دینے والے کو کوڑے بھی مروائیں-
کیا آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ تعزیر حکومت شرعیہ کا امام یا قاضی لگاتا ہے مفتی نہیں؟
ویسے عمر رض نے یہ کوڑے کتنی بار لگائے تھے؟
 
شمولیت
مئی 23، 2013
پیغامات
213
ری ایکشن اسکور
381
پوائنٹ
90
میرا سوال یہ ہے کہ -۔ تین اوقات میں تین طلاقیں دینے کے بعد اگر کوئی شخص راہ راست پر آجائے اور دوبارہ اسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو کیا صورت اختیار کرے ؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,534
پوائنٹ
791
تین اوقات میں تین طلاقیں دینے کے بعد اگر کوئی شخص راہ راست پر آجائے
ساتھ ہی بتانا ضروری ہے ،کہ۔۔ تین طلاق کیسے دی ہوں،
اکٹھی ۔یا۔ سنت ۔کے مطابق
 
شمولیت
ستمبر 06، 2014
پیغامات
94
ری ایکشن اسکور
31
پوائنٹ
74
بھائی مجھے یہ بات سمجھنے میں نھین آتی کہ طلاق توشوھردیتاھے لیکن سزاعورت کوملتی یہ ٹھیک نھین۔ ھوناتویہ چاھیے تھاکہ جس نے طلاق دی ہے اسے سزاملے حلالہ کی نھ کہ عورت کو
 
Top