• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حنفی دیوبندی مفتی اعظم امریکہ مفتی منیر آخون کی ہفوات

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,376
ری ایکشن اسکور
2,689
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اب ان سے کوئی پوچھے، کہ اگر نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی یعنی قرآن وحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھینس، بھینس کا دودھ حلال ہونے کا ثبوت نہیں، تو آپ کے امام اعظم ابو حنیفہ پر کوئی وحی نازل ہوئی تھی، کہ جس سے انہوں نے بھینس اور بھینس کا دودھ ، چائے، اور چنے کی دال کو حلال قرار دیا ہے؟
مفتی موصوف کبھی کہتے ہیں کہ اللہ نے قرآن میں نہیں بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں نہیں بتایا! مفتی موصوف کی یہ بات مان لی جائے، تو امام ابو حنیفہ کو پھر کس نے بتایا؟ کیا امام ابو حنیفہ کے پاس ان علاوہ بھی وحی کا کوئی ماخذ تھا، جہاں سے وہ شرعی مسائل اخذ کرتے تھے؟
دوم کہ جو مالکی، شوافع، حنبلی بھینس اور بھینس کا دودھ اور، چائے، اور چنے کی دال کھاتے ہیں، وہ بھی آپ کی منطق کے مطابق تو حنفی ٹھہرے، کہ ان کو کھانے سے بندہ عملی طور پر حنفی ہوجاتا ہے!
اور جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے قرآن وحدیث سے ہی ثابت کیا ہے، تو یہ قرآن وحدیث امام ابو حنیفہ کے ساتھ اٹھا لیا گیا ہے، کہ کوئی دوسرا اسے پیش نہیں کر سکتا!
سوم کہ مفتی موصوف کو اتنا نہیں معلوم کہ جو مثالیں انہوں نے دی ہیں، اس میں حلال ہونے کی دلیل قرآن وحدیث سے مطلوب نہیں، بلکہ حرام کا ثبوت درکار ہوتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ مفتی موصوف بنیادی فقہی قاعدہ ہی بھول گئے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے! یہ امور معاملات کی مثالیں ہیں، نہ کہ امور عبادات کی، کہ حلال ہونے کے لئے ثبوت درکار ہو!
تقلید کا بھوت اس قدر اعصاب پر سوار کہ گفتگو کرتے اپنے بھی فقہی قواعد کے الٹ بولے جارہے ہیں!

کیا خوب کہا ہے کسی نے؛ عقلمندی کی تو حد ہے، مگر جہالت کی نہیں!
 
Last edited:
Top