• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حوروں سے جماع

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,310
ری ایکشن اسکور
372
پوائنٹ
209
متعدد نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ جنت کی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ مردوں کو اللہ تعالی حوروں سے شادی کرادے گا اور اہل جنت ان سے جماع کریں گے ۔
(1) اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ( الطور:20)
ترجمہ: اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کردئے ہیں۔

(2)ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے :
إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ (يسين:55)
ترجمہ: جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسپ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہوں گے ۔

یہاں جنتی کے مشغلوں سے مراد کنواریوں کے پاس جانا ہے ۔
(3) ادخُلُوا الجَنَّةَ أَنتُم وَأَزوٰجُكُم تُحبَر‌ونَ ﴿الزخرف:70)
ترجمہ :تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ۔

اسی طرح نبی ﷺ کے متعدد فرامین سے بھی یہ بات واضح ہے کہ اہل جنت حوروں سے جماع کریں گے ۔
(1) مسلم شریف کی حدیث ہے : وما في الجنةِ أعزبُ(صحیح مسلم :2834)
یعنی جنت میں کوئی بغیر جوڑے کے نہ ہوگا۔

(2) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس یہودی آئے اور پوچھا:اے ابا القاسم آپ کا یہ گمان ہے کہ جنت میں لوگ کھائیں اور پیئیں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
نعَم ؛ والَّذي نَفسُ مُحمَّدٍ بيدِه ، إنَّ أحدَهم ليُعْطَى قوَّةَ مئةِ رجُلٍ ؛ في الأكلِ والشُّربِ والجِماعِ (صحيح الترغيب:3739)
ترجمہ :ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جنتی مردوں میں سے ہر ایک کو کھانے پینے اور ہم بستری کرنے میں ایک سو آدمیوں کے برابر قوت دی جائے گی۔

(3)نبی ﷺ کا فرمان ہے : إنَّ أهْلَ الجنةِ إذا جَامَعُوا نِساءَهُمْ عادُوا أبْكارًا(صحيح الجامع:3351)
ترجمہ: جنتی جب اپنی بیویوں سے صحبت کرلیں گے تووہ پھرسے وہ کنواری (جیسی) ہوجائیگی۔

(4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : " أَنَطَأُ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، دَحْمًا دَحْمًا، فَإِذَا قَامَ عَنْهَا رَجَعَتْ مُطَهَّرَةً بكرا(السلسلة الصحيحة:3351)
ترجمہ : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا ہم جنت میں جماع بھی کریں گے ؟ توآپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: ہاں !قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے خوب جوش سے صحبت کریں گے ، جب کھڑے ہوں گے تو وہ(حورآپ خود) پاک اور باکرہ ہوجائے گی۔


اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں جنت نصیب کرے ۔ آمین
 
Last edited by a moderator:

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,399
پوائنٹ
562
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں جنت نصیب کرے ۔ آمین
 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,310
ری ایکشن اسکور
372
پوائنٹ
209
(2)ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے :
إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ (يسين:55)
ترجمہ: جنتی لوگ آج کے دل اپنے (دلچسپ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہوں گے ۔

(3) ادخُلُوا الجَنَّةَ أَنتُم وَأَزوٰجُكُم تُحبَر‌ونَ ﴿الزخرف:70)
ترجمہ :تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ۔
یہاں جنتی کے مشغلوں سے مراد کنواریوں کے پاس جانا ہے ۔


یہ جملہ دوسرے نمبرکی آیت کے بعد رہے گا غلطی سے یہاں آگیاہے ، انتظامیہ سے اصلاح کی درخواست ہے ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,399
پوائنٹ
562
مجھے اس عنوان کی ”شانِ نزول“ سمجھ نہیں آئی۔ جنت میں مردوں کو ملنے والی نعمتوں میں غالباً یہ واحد نعمت ہے، جس کا ہر خاص و عام ، مرد و زن، مسلم کافر سب کو علم ہے۔ نہ صرف علم ہے، بلکہ اتنا ”زیادہ علم“ ہے کہ یہ ان کی زبان سے ادا ہونے والے ”طنز و مزاح“ تک میں موجود ہے۔ جب حوریں جنتی مردوں کی منکوحہ ہوں گی تو اُن سے ہر وہ تعلق جائز ہوگا جو منکوحہ سے ”بائی ڈیفالٹ“ ہوا کرتا ہے۔ پھر جنتی مردوں اور ان کی منکوحہ حوروں کے درمیان اس خصوصی تعلق کے خصوصی ذکر کو عنوان کے ذریعہ ”ہائی لائیٹ“ کرنا ۔ ۔ ۔ بات کچھ سمجھ نہیں آئی کہ اس عنوان کے تحت اس خصوصی تعلق کو اجاگر کرنے کی ”ضرورت“ کیوں پیش آئی؟
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,418
پوائنٹ
521
السلام علیکم

اس بات سے میں بھی اتفاق کرتا ہوں کہ صاحب علم جس موضوع پر اپنی بات سمجھانا چاہتا ہے اسی سے ملتی جلتی مثال اور حوالہ جات پیش کرتا ہے۔


جنت میں حور موضوع پر جہاں بھی پوسٹ دیکھنے کو ملتی ہیں وہاں بییوں کو غائب کر دیا جاتا ھے جبکہ قرآنی آیات میں بییوں کے ساتھ ان کی اولاد کا ذکر بھی ہے، اور حوریں ان سے بیاہ دی جائیں گی (میرے ناقص علم کے مطابق جن کی بیویاں اپنے نیک اعمال میں کمی کی وجہ سے جنت میں اپنے خاوندوں کے ساتھ نہیں ہونگی ان کو حوریں ملیں گی جو ان کے ساتھ بیاہ دی جائیں گی، واللہ اعلم!)

پیش کی گئی مکمل آیات کا مطالعہ فرمائیں تو بات واضع ہو جاتی ہے۔ خیال رہے موضوع کے مطابق جو تعلق ہے اس پر نہیں۔ آیات کا ترجمہ محمد جونا گڑھی سے ہے۔


متعدد نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ جنت کی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ مردوں کو اللہ تعالی حوروں سے شادی کرا دے گا اور اہل جنت ان سے جماع کریں گے ۔
(1) اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ( الطور:20)
ترجمہ: اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کردئے ہیں۔

(2) ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے :

إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ (يسين:55)
ترجمہ: جنتی لوگ آج کے دل اپنے (دلچسپ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہوں گے ۔

(3) ادخُلُوا الجَنَّةَ أَنتُم وَأَزوٰجُكُم تُحبَر‌ونَ ﴿الزخرف:70)

ترجمہ :تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ۔

یہاں جنتی کے مشغلوں سے مراد کنواریوں کے پاس جانا ہے ۔



36۔ سورة يس

إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ

جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسپ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں (55)

هُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ فِي ظِلَالٍ عَلَى الْأَرَائِكِ مُتَّكِئُونَ
وه اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (56)

لَهُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ

ان کے لئے جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور بھی جو کچھ وه طلب کریں (57)

سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ

مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا (58)


52۔ سورة الطور


إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَعِيمٍ
متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے (17)

فَاكِهِينَ بِمَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

لطف لے رہے ہوں گے اُن چیزوں سے جو اُن کا رب انہیں دے گا، اور اُن کا رب اُنہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا (18)

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو (19)

مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ سُرُرٍ مَّصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ

وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے (20)

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے (21)


43ِ۔ سورة الزخرف


الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ

اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے (67)

يَا عِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ

میرے بندو! آج تو تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزده ہو گے (68)

الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ

جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻئے اور تھے بھی وه (فرماں بردار) مسلمان (69)

ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ

تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ (70)


56۔ سورۃ واقعہ


بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ

آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو (18)

لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ

جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے (19)

وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ

اور ایسے میوے لیے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں (20)

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ

اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں (21)

وَحُورٌ عِينٌ
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں (22)

كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ

جو چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں (23)

جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

یہ صلہ ہے ان کے اعمال کا (24)

لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا

نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناه کی بات (25)

إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا

صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی (26)

55۔ سورة الرحمن


فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ

ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں (70)

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (71)

حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ
(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں (72)

ترجمہ، محمد جونا گڑھی

====

زَوجَہ [زَو (و لین) + جَہ] (عربی)
بیوی، رفیقۂ حیات۔
"آپ سے پہلے عورتوں میں یہ شرف زوجۂ رسولۖ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری کے حصہ میں آ چکا تھا۔"


حُور [حُور] (عربی)

گوری چٹی عورتیں جن کی آنکھوں کی پتلیاں اور بال بہت سیاہ ہوں، بہشتی عورتیں، (اردو میں بطور واحد مستعمل) بہشتی عورت۔


والسلام
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
یرے ناقص علم کے مطابق جن کی بیویاں اپنے نیک اعمال میں کمی کی وجہ سے جنت میں اپنے خاوندوں کے ساتھ نہیں ہونگی ان کو حوریں ملیں گی جو ان کے ساتھ بیاہ دی جائیں گی، واللہ اعلم!)
یہ غامدی فرقے کا نقطہ نظر ہے۔کہ حوریں دنیاوی بیویاں ہوں گی ۔جبکہ اہل سنت الجماعت کے جنت اب بھی ماجود ہے
صحیح بخاری: کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی (باب : جنت کا بیان اور یہ بیان کہ جنت پیدا ہوچکی ہے۔)
ترجمۃ الباب : اسی طرح دوزخ دونوں موجود ہیں، جملہ اہل سنت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے۔ حافظ صاحب فرماتے ہیں۔ یعنی جنت اب موجود ہے اور اس میں معتزلہ کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ جنت قیامت ہی کے دن پیدا ہوگی۔ مصنف نے یہا ںکئی احادیث ذکر کی ہیں۔ جن سے جنت کا وجود ثابت ہوتا ہے او
. حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ، قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ، أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا
حکم : صحیح


حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کو ایذا دیتی ہے تو (جنت کی) حوروں میں سے اس مرد کی بیوی (حور) کہتی ہے: اللہ تجھے تباہ کرے! اس شخص کو تکلیف نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔
. حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ
حکم : حسن

ضرت معاذ بن انس جہنی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘جس شخص نے اپنا غصہ روک لیا جب کہ وہ غصہ (کے مطابق سختی) نافذ کرنے کی طاقت رکھتا تھا اسے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب مخلوقات کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جون سی حور چاہے پسند کر لے’’۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ، وَالَّذِينَ عَلَى آثَارِهِمْ كَأَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، لاَ تَبَاغُضَ بَيْنَهُمْ وَلاَ تَحَاسُدَ، لِكُلِّ امْرِئٍ زَوْجَتَانِ مِنَ الحُورِ العِينِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ العَظْمِ وَاللَّحْمِ»
حکم : صحیح

ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیا ، ان سے ہلال نے ، ان سے عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہوگا ان کے چہرے آسمان پر موتی کی طرح چمکنے والے ستاروں میں جو سب سے زیادہ روشن ستارہ ہوتا ہے اس جیسے روشن ہوں گے ، سب کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان میں بغض و فساد ہوگا اور نہ حسد ، ہر جنتی کی دو حور عین بیویاں ہوں گی ، اتنی حسین کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی اور گوشت کے اندر کا گودا بھی دیکھا جاسکے گا ۔
جامع ترمذی: كتاب: جہاد کےفضائل کےبیان میں ( شہید کے ثواب کا بیان)
1663 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنْ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
حکم : صحیح

مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ کے نزدیک شہیدکے لیے چھ انعامات ہیں،(۱) خون کاپہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے ،(۲) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے،(۳) عذاب قبرسے محفوظ رہتاہے ،(۴) فزع اکبر (عظیم گھبراہٹ والے دن)سے مامون رہے گا ،(۵) اس کے سرپر عزت کا تاج رکھا جائے گاجس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہترہے ،(۶) بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
جنت میں مردوں کے لیے حوریں اور عورتوں کے لیے.......؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 03 June 2012 09:28 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مردوں کو تو جنت میں حور عین ملیں گی، سوال یہ ہے کہ عورتوں کو کیا ملے گا۔؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
﴿وَلَكُمۡ فِيهَا مَا تَشۡتَهِيٓ أَنفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - نُزُلٗا مِّنۡ غَفُورٖ رَّحِيمٖ﴾--فصلت:31-32

’’اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گی اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لیے موجود ہوگی (یہ) بخشنے والی مہربان ذات کی طرف سے مہمانی ہے۔‘‘
اور فرمایا:
﴿وَفِيهَا مَا تَشۡتَهِيهِ ٱلۡأَنفُسُ وَتَلَذُّ ٱلۡأَعۡيُنُۖ وَأَنتُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ﴾--الزخرف:71

’’اور وہاں جو جی چاہے اور آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت!) تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔‘‘
معلوم ہے کہ انسانی نفوس سب سے زیادہ جس چیز کی خواہش رکھتے ہیں، وہ شادی ہے، لہٰذا جنت میں مردوں اور عورتوں میں سے سب کے لئے اس خواہش کا انتظام ہوگا۔ جنت میں عورت کی شادی اللہ تعالیٰ اس کے دنیا کے شوہر سے کرے گا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ﴾--الغافر:8

’’اے ہمارے پروردگار! ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی، بے شک تو غالب ،حکمت والا ہے۔‘‘
اور اگر کسی عورت نے دنیا میں شادی نہ کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی کسی ایسے مرد سے شادی کا انتظام کرے گا جس سے اسے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہوگی۔
وباللہ التوفیق
فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل

 
Top