• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حیا ایمان کا ایک حصہ

Muhammad Yahya

مبتدی
شمولیت
اگست 17، 2019
پیغامات
12
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
13
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: ’’ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘​
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کاخصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ جو اخلاق حسنہ ایمان کے لیے مبادی کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں حیا بھی ہے بلکہ حیا ایمان کا سرچشمہ ہے کیونکہ انسان جب اپنے وجود اور اپنی صفات کمال پر غور کرتا ہے تو اسے اللہ پر ایمان لانا پڑتا ہے۔اگرانسان ان انعامات واحسانات کے باوجود،جو اللہ نے اس پر فرمائے ہیں،اللہ کی ذات پر ایمان نہیں لاتا تو یہ اس کی بہت بڑی بے حیائی ہے ،گویا ان احسانات کے پیش نظر اللہ پر ایمان لانا حیا ہی کا نتیجہ ہے۔یعنی حیا پہلے ایمان کا سبب بنی،ایمان لانے کے بعد پھر ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ثابت ہوئی کیونکہ انعامات کامسلسل شکریہ ادا کرتے رہنا بھی حیا ہی کا نتیجہ ہے۔





 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
پردہ پوشی اور حیا
از قلم : محترم بھائی @محمد نعیم یونس صاحب
(مکمل مضمون کیلئے یہاں کلک کیجئے )

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَیِّيٌّ سِتِّیْرٌ یُحِبُ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ۔ ))1

’’ بے شک اللہ تعالیٰ ستیر (بہت پردہ ڈالنے والا) اور حیا دار ہے (چنانچہ) وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی نہائے تو اسے پردہ کرنا چاہیے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ہے:
(( اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً؛ وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ۔ ))2

’’ ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ ‘‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1- صحیح سنن أبي داؤد، رقم: ۳۳۸۷۔
2- أخرجہ مسلم في کتاب الإیمان، باب: بیان عدد شعب الإیمان، رقم: ۱۵۲۔
 
Top