• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی اور جنگوں میں جیتنا

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
89
پوائنٹ
53
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی اور جنگوں میں جیتنا

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَقَدْ قَلَنْسُوَةً لَهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ فَقَالَ: اطْلُبُوهَا فَلَمْ يَجِدُوهَا، ثُمَّ طَلَبُوهَا فَوَجَدُوهَا، وَإِذَا هِيَ قَلَنْسُوَةٌ خَلِقَةٌ، فَقَالَ خَالِدٌ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَابْتَدَرَ النَّاسُ جَوَانِبَ شَعْرِهِ، فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى نَاصِيَتِهِ فَجَعَلْتُهَا فِي هَذِهِ الْقَلَنْسُوَةِ، فَلَمْ أَشْهَدْ قِتَالًا وَهِيَ مَعِي إِلَّا رُزِقْتُ النَّصْرَ؟»

حضرت
جعفر بن عبد اللہ بن حکم کہتے ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جنگ یرموک کے دن اپنی ٹوپی نہ پائی تو ساتھیوں سے فرمایا اسے تلاش کرو۔ انہوں نے تلاش کیا تو انہیں نہ ملی فرمایا اور تلاش کرو اور تلاش کیا گیا تو مل گئ لوگوں نے دیکھا تو وہ بالکل پرانی ٹوپی تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا پھر بال منڈواۓ لوگ آپ کے بالوں پر جھپٹ پڑے میں نے بھی آگے بڑھ کر آپ کی پیشانی کے بال اٹھا لئے اور ٹوپی میں رکھ لۓ اب جب میں کسی لڑائی میں شریک ہوتا ہوں اور یہ ٹوپی میرے پاس ہوتی ہے تو مجھے اللہ کی غیبی نصرت ضرور نصیب ہوتی ہے۔

[مستدرک الحاکم: 5299]


اسکی سند منقطع ہے ۔ راوی جعفر کا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔

شیخ محمد صالح المنجد فرماتے ہیں :

سكت عنه الحاكم ، وأعله الذهبي بالانقطاع ، وهو الصحيح ؛ فإن جعفرا هذا ، وهو ابن عبد الله بن الحكم بن رافع ، إنما يروي عن صغار الصحابة كأنس ، ومحمود بن لبيد ، كما في "التهذيب" (2/99) ، وخالد بن الوليد رضي الله عنه قديم الوفاة ، فقد توفي في خلافة عمر رضي الله عنه - كما في "طبقات ابن سعد" (7/ 279) ، و "أسد الغابة" (2/140) ، فلا يتهيأ لجعفر إدراكه والسماع منه ؛ ولذلك قال البخاري في " التاريخ الكبير" (2/195) في ترجمة جعفر هذا : " رأى أنسا " ، وهذا مشعر أنه لم يدرك كبار الصحابة ومتقدمي الوفاة منهم .

اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد حاکم نے سکوت اختیار کیا ہے، جبکہ ذہبی نے اسے منقطع قرار دیا ہے، اور یہی بات درست ہے، کیونکہ سند میں مذکور جعفر وہ جعفر بن عبد اللہ بن الحکم بن رافع ہے، اور یہ صغار صحابہ کرام سے روایت کرتا ہے، جیسے انس اور محمود بن لبید وغیرہ ، "التهذيب" (2/99)
جبکہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات بہت پہلے کی ہے، کہ آپ عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پا گئے تھے، جیسے کہ "طبقات ابن سعد" (7/ 279) ، اور"أسد الغابة" (2/140) میں ہے، چنانچہ جعفر کیلئے ممکن ہی نہیں کہ وہ خالد کے زمانے کو پا لے اور ان سے سماع بھی کرسکے، اسی لئے امام بخاری نے " التاريخ الكبير" (2/195) میں اسی جعفر کے حالات کے تحت لکھا: "جعفر نے انس کو دیکھا ہے"، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ جعفر کبار اور متقدم الوفاۃ صحابہ کرام کو نہیں پاسکا۔

حافظ زبیر علی زئی صاحب کی تحقیق کے مطابق بھی یہ قصہ صحیح متصل سند سے ثابت نہیں ہے چنانچہ حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں :

یہ قصہ درج ذیل کتابوں میں ”عبدالحمید بن جعفر بن عبدالله بن الحکم بن رافع عن أبیہ“ کی سند سے مروی ہے۔ ( معجم الكبير للطبرانی (۱۰۴/۴، ۱۰۵ ح ۳۸۰۴) مسند ابی یعلی الموصلی (۱۳۹/۱۳ ح ۷۱۸۳) المستدرک للحاکم (۲۹۹/۳ ح ۵۲۹۹ وقال الذہبی : "منقطع") دلائل النبوة (۲۴۹/۶) أسد الغابة لابن الاثیر (۹۵/۲ من طریق ابی یعلی ) سیر اعلام النبلاء (۳۷۵،۳۷۴/۱) المطالب العالیہ ( المسندة ۴۲۱/۸ ح ۴۰۱۱، غیر المسند ۹۰/۴ ح ۴۰۴۴ عن ابی یعلی ) اتحاف المهرة ( ۴۰۶/۴ ،۴۰۷ ۴۴۵۱) اتحاف الخيرة المهرة للبوصیری ( ۶۷/۷ ح ۸۶۶۹، ۳۱۲/۷ ح ۹۱۴۱ وقال البوصیری : ” بسند صحیح ! ) المقصد العلی (۲۳۳/۳ ۱۴۳۲) مجمع الزوائد (۳۴۹/۹ وقال: "رواه الطبرانی و ابو یعلی بنحوه ورجالہما رجال الصحيح و جعفر سمع من جماعة من الصحابة فلا أدرى سمع من خالد أم لا ) الاصابه (۴۱۴/۱ ت ۲۲۰۱) اس قصے کے بنیادی راوی جعفر بن عبداللہ بن الحکم ثقہ ہیں ( تقریب التہذیب: ۹۴۴) لیکن سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ ( متوفی ۲۲ھ) سے ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے۔ حافظ ذہبی نے اس سند کو منقطع قرار دیا ہے لہذا بوصیری کا اسے "بسند صحیح" کہنا غلط ہے۔ ہیشمی نے بھی یہ کہہ کر سند کے منقطع ہونے کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ ”مجھے معلوم نہیں کہ اس نے خالد سے سنا ہے یا نہیں" ، عرض ہے کہ سنا تو در کنار سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جعفر بن عبد اللہ بن الحکم کا پیدا ہو جانا بھی ثابت نہیں ہے۔ رافع بن سنان رضی اللہ عنہ تو صحابی ہیں لیکن الحکم بن رافع والی روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے الاصابہ (طبعه جدیده ص ۲۸۸ت ۲۰۰۲)

خلاصة التحقیق: یہ قصہ صحیح متصل سند سے ثابت نہیں ہے۔

جعفر بن عبد اللہ بن الحکم کا ایک دو متاخر الوفاۃ صحابہ سے ( مثلاً سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ) ایک دو حدیثیں سن لینا اس کی دلیل نہیں ہے کہ سید نا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فوت ہونے والے صحابی سیننا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ضرور بالضرور ان کی ملاقات ثابت ہے۔

[ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ ۲۵، صفحہ ۴۷]
 
Top