• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خاوند کا ۔۔ بیوی پر حق

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
خاوند کا بیوی پر حق.png

یہ حدیث بالکل صحیح ہے ۔علامہ الالبانی ؒؒ نے اسے ۔حسن صحیح ۔کہا ہے۔۔حسن صحيح - ((التعليق الرغيب))

اور علامہ شعیب ارناوط نے صحیح ابن حبان کی تعلیق و تخریج میں اسے ’‘ حسن ’‘قرار دیا ہے ۔نیچے اس کا سکین پیش خدمت ہے ۔

خاوند کا بیوی پر حق 2.jpg
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
اگر گستاخی نہ لگے تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جب انھوں نے شادی ہی نہ کرنی تھی تو حق کا سوال کیوں کیا ؟ اور خاوند کا حق جاننے کے بعد اللہ کی قسم کھا لی کہ شادی نہیں کریں گی!! کیوں؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
میرے خیال میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ :

والد نے اپنی بیٹی سے اس کی شادی کی بات کی ۔
بیٹی نے کہا میں شادی نہیں کروں گی ۔کیونکہ اسلام میں خاوند کے بڑے حقوق ہیں ،جو ہو سکتا ہے میں ادا نہ کر سکوں ۔
معاملہ خدمت نبوی میں پیش ہوا ۔آپ نے بھی خاوندکا حق بتایا ۔
یہ سن کر وہ لڑکی کہنے لگی۔پھر تو میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔۔۔
یا کوئی اور صورت ہو ،جس کے سبب اس نے یہ بات کہی ہو
اس سے جہاں خاوند کے حقوق کی اہمیت واضح ہوتی ہے ؛
بظاہر اس سے یہ بات بھی پتا چلتی ہے کہ نکاح فرض نہیں ۔وگرنہ نبی کریم ﷺ اس کے انکار پر خاموش نہ رہتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی ہو ،حدیث میں موجود نبی اکرم ﷺ کاارشاد واضح ہے
کہ خاوند کا بیوی پر بڑا حق ہے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
ازدواجی زندگی سے متعلق قرآن وحدیث سے مندرجہ ذیل باتیں واضح طور نظر آتی ہیں۔
  1. نکاح فرض نہیں بلکہ سنت ہے ۔ اگر کوئی ”ذاتی وجوہ“ کی بنیاد پر جان بوجھ کر نکاح نہ کرے تو وہ صرف اسی بنیاد پرگنہگار نہیں ہوسکتا، جیسے اصحاب صفہ نے شادی نہیں کی تھی۔
  2. نکاح کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ یعنی جس نے نکاح کرلیا، اس نے اپنا پچاس فیصد ایمان اسی ایک عمل سےمحفوظ کرلیا۔ اب وہ اپنے بقیہ پچاس فیصد ایمان کی حفاظت کرے۔گویا نکاح نہ کرنے والے کو ”زیادہ محنت “ کرکے اپنے سو فیصد ایمان کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔
  3. جس طرح نکاح کرنے کے لئے بنیادی طور پر دونوں فریق کی رضامندی ضروری ہے۔ اسی طرح نکاح کو جاری رکھنے کے لئے بھی دونوں فریق کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک فریق بھی نکاح کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہے، تو وہ اس نکاح کے خاتمے کے لئے ”پیش قدمی“ کرسکتا ہے۔ گو کہ طلاق کو جائز کاموں میں ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، لیکن طلاق دینے یا لینے والے فریق کو صرف اس بنیاد پر بُرا بھلا نہیں کہا جاسکتا نہ ہی وہ گنہگار ہوگا، الا یہ کہ وہ اس عمل کے دوران دوسرے فریق پر ظلم کرے یا کسی اسلامی تعلیم کی خلاف ورزی کرے۔ طلاق لینے یا دینے کے باوجود ایسا فرد ایک اچھا مسلمان بھی رہ سکتا ہے۔ جیسے متعدد صحابی و صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم طلاق دینے یا لینے کے باوجود بہترین مسلمان بھی تھے۔
  4. جس طرح مردوں کے لئے ”رشتہ داروں“ میں اس کی ماں کا رتبہ سب سے بلند ہے۔ اسی پس منظر میں کہا گیا ہے کہ مرد کی جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسی طرح شادی شدہ خاتون کے لئے شوہر کا رتبہ سب سے بلند ہے اور اسی منظر میں کہا گیا ہے کہ اگر اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو عورت کو حکم ہوتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے یا اگر عورت اپنے شوہر کے زخم چاٹ بھی لے تو وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ یہ ساری باتیں تشبیہ اور استعارے کے طور پر بیان ہوئی ہیں نہ کہ لفظی معنی کے طور پر۔ نہ عملاً جنت ماں کے قدموں تلے ہے نہ بیوی شوہر کی پوجا کرسکتی ہے۔ یہ صرف اور صرف دو انسانی رشتوں میں سے کسی ایک کی بلند ترین اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ ایک طرف عورت جب ماں بن جاتی ہے تو اس کا رتبہ اولاد کے سامنے بلند ترین (باپ سے بھی تین چوتھائی زیادہ) ہوجاتا ہے۔ تو دوسری طرف بیوی کو ماں کے بلند ترین مقام تک لے جانے والے اس کے شوہر کا درجہ اس کہیں زیادہ ہوجاتا ہے۔ اسی بات کو مروجہ جمہوری نظام سے اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اس نظام میں جب کوئی رکن قومی اسمبلی وزیر اعظم بن جائے تو پارلیمنٹ میں گواس کی اہمیت ”سب سے زیادہ“ ہوتی ہے۔ لیکن حکمران پارٹی کے سربراہ کی حیثیت وزیر اعظم سے کہیں زیادہ ہوتی ہے کہ اسے وزیر اعظم پارٹی لیڈر ہی نے بنایا ہوتا ہے۔ گویا مختلف رشتوں میں مردو زن کی اہمیت جدا جدا ہوتی ہے۔ ماں-بیٹے کے رشتے میں ماں برتر اور شوہر-بیوی کے رشتہ میں شوہر برتر ۔ یہ برتری ”بربنائے عہدہ“ ہوتی ہے، نہ کہ بر بنائے انسان اور مسلمان۔ انفرادی طور پر دونوں یکساں طور پر برابر ہوتے ہیں۔ اور ہر دو میں سے اللہ کے نزدیک برتر و افضل صرف وہی ہوتا ہے جو زیادہ متقی و پرہیزگار ہو۔
واللہ اعلم بالصواب
 

عبدالقیوم

مشہور رکن
شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
825
ری ایکشن اسکور
431
پوائنٹ
142
اگر گستاخی نہ لگے تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جب انھوں نے شادی ہی نہ کرنی تھی تو حق کا سوال کیوں کیا ؟ اور خاوند کا حق جاننے کے بعد اللہ کی قسم کھا لی کہ شادی نہیں کریں گی!! کیوں؟
بہت اچھا سوال اٹھایا آپ نے
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,743
پوائنٹ
1,069
میاں بیوی ایک دوسرے کا دل کیسے جیتیں؟

شیخ ابو ذید ضمیر حفظہ اللہ


بيوى خاوند كے تعلقات کو خوشگوار کیونکر بنایا جاسکتا ہے؟ اس موضوع پر یہ لیکچر انتہائی بیش بہا اور معلومات افزا ہے.

جسے شیخ نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے-


پہلے حصے میں ان عمدہ صفات کو بیان کیا ہے’ جن کے زیورسے آراستہ ہونا ایک مسحورکن خاوند کے لئے ضروری ہے اور دوسرے حصے میں ان اعلى خصائل کا ذکر کیا ہے جو ایک دلربا بیوی کی زندگی کا جزولاینفک ہونى چاہئیں تاکہ ان دونوں کی زندگی ایسی زندگی بن جائے جس سے پیارومحبت ’ والہانہ شوق اور وارفتگی کے سورتے پھوٹتے ہوں جو راحت وسکون اور رحمت ومودت کا باعث ہوں’ تیسرے حصے میں چند ایسے نصحیتیوں کا اضافہ کیا ہے جنکا موضوع سے بڑا گہرا تعلق ہے-

• میل جول کے راز اور میان بیوی کی نفسیات
• میاں بیوی کے باہمی میل جول میں تناقض
• میاں بیوی کے تعلقات میں خرابی کیسے جنم لیتی ہے اور اسکا علاج کیا ہے


 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
جس طرح مرد کے بیوی پر حقوق ہیں اسی طرح بیوی کے خاوند پر حقوق ہیں ،اسلام نے ان حقوق کی بھی بڑی اہمیت بتائی ہے ۔

حق الزوجة78.jpg


صحيح البخاري
باب الوصاة بالنساء:
باب: عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان
حدیث نمبر: 5186
واستوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع وإن اعوج شيء في الضلع اعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء خيرا".
عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لیے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔

حقوق الزوج 55.jpg
 
Top