1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خاوند کے حقوق سے متعلق حدیث (اگرشوہرکے بدن پرزخم ہو اوراس کی بیوی۔۔۔)

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 24، 2015۔

  1. ‏جنوری 24، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,039
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اس حدیث کی تحقیق درکار ہے ؟؟؟؟

    کیا یہ صحیح ہے ؟؟؟​

    1604562_923719830986240_1683613626482832989_n (1).png
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 04، 2015 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,925
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا رَبِيعَةُ بن عُثْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَى بِابْنَةٍ لَهُ إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم , فَقَالَ : إنَّ ابْنَتِي هَذِهِ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ قَالَ , فَقَالَ لَهَا : أَطِيعِي أَبَاك قَالَ ، قَالَتْ : لاَ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ فَرَدَّدَتْ عَلَيْهِ مَقَالَتَهَا قَالَ , فَقَالَ : حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا ، أَوِ ابْتَدَرَ مَنْخِرَاهُ صَدِيدًا ، أَوْ دَمًا ثُمَّ لَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ قَالَ , فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ لاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا قَالَ , فَقَالَ : لاَ تُنْكِحُوهُنَّ إلاَّ بِإِذْنِهِنَّ[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 4/ 303 واسنادہ صحیح ]

    اس کی سند صحیح ہے۔اس کے سارے رجال ثقہ ہیں۔
    امام ابن حبان اور امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔
    امام ابوحاتم نے اس سند کے ایک راوی ربیعہ بن عثمان کو منکر الحدیث کہا ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 3/ 476]
    اور اسے بنیاد بنا کر امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام حاکم کی تصحیح پرتعاقب کیا ہے۔[المستدرك للحاكم: 2/ 205]
    لیکن یہ تعاقب درست نہیں معلوم ہوتا کہ کیونکہ امام ابوحاتم جرح میں متشدد ہے اور یہاں منفرد بھی ہیں ۔باقی دیگر سارے محدثین نے ربیعہ کی توثیق کی ہے۔
    امام مسلم نے بھی صحیح مسلم میں ان سے حجت پکڑی ہے،لہٰذا یہ ثقہ ہیں اوریہ سند صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں