• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خسارہ حقیقی کے اسباب

شمولیت
دسمبر 09، 2013
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
15
پوائنٹ
37
خسارہ حقیقی کے اسباب

پروفیسر احمد حمادحفظہ اللہ
ربنا ظلمنا أنفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین (الأعراف:۲۳) ’’ اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا ‘اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘

انسان کے لیے حقیقی اور اصل خسارہ قیامت کے دن کی دائمی اور ابدی ناکامی ہے۔دنیا میں رہتے ہوئے انسان ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے جو اس کے لیے کوئی معمولی سے فائدے کا مو جب بن سکتا ہو اور ہر اس چیز سے بچنے کو شش کرتا ہے جو اسے خسارہ اور نقصان میں مبتلا کردے۔اسی طرح ایک مسلمان کو اپنی اخروی زندگی کے نفع و نقصان کے بارہ میں بھی سوچنا چاہیے اور ایسے اعمال کرنے چاہییں جو اس کے لیے اخروی فائدے کا باعث ہو ںاور اسے حقیقی نقصان و ناکامی سے بچا سکیں۔ قرآن نے بے شمار مقامات پر ان صفات کا تذکرہ کیا ہے جو انسان کے لیے ابدی ناکامی کا موجب بنتی ہیں تاکہ ایک زیرک انسان ان خصائل ردیئہ سے بچ سکے:

{الَّذِیْنَ یَنقُضُونَ عَہْدَ اللَّہِ مِن بَعْدِ مِیْثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ أَن یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِیْ الأَرْضِ أُولَـئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ} (البقرۃ: ۲۷) ’’جو لوگ اللہ کے مضبوط عہد کو توڑدیتے ہیں اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ‘ انہیں کاٹتے ہیں(قطع رحمی کرتے ہیں) اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘

کفار سے دوستی اور ان کی تہذیب و تمدن کو اپنانا اور ان کی اطاعت میں اپنے آپ کو پیش کیے رکھنا بھی خسران اور نقصان کا باعث ہے :

{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوَاْ إِن تُطِیْعُواْ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَرُدُّوکُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَاسِرِیْنَ} (آل عمران: ۱۴۹) ’’اے ایمان والو! اگر تم کافروں کی بات مانو گے تو وہ تمہیں ایڑیوں کے بل پلٹا دیں گے پھر تم نامراد ہو جاؤ گے‘‘

مال و اولاد کی محبت میں اس قدر مگن ہو جانا کہ حقوق اللہ کی ادائیگی اور ذکر الہی میں سستی اور کوتاہی ہونے لگے تو یہ بھی سراسر گھاٹا ہے:

{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تُلْہِکُمْ أَمْوَالُکُمْ وَلَا أَوْلَادُکُمْ عَن ذِکْرِ اللَّہِ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ} (المنافقون: ۹) ’’اے مسلمانو!تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جو ایسا کرے گا وہ بڑے ہی زیاں کار لوگوں میں شامل ہو جائے گا۔‘‘

ریاکاری اور دنیوی مصلحت کی خاطر اسلامی امور کی انجام دہی بھی خسارہ کا باعث ہے:

’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک کنارے پر( کھڑے ہوکر)اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔اگر کوئی نفع مل جائے تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آجائے تومنہ پھیر لیتے ہیں۔انہوں نے دونوں جہانوں کا نقصان اٹھالیا جو کہ ایک کھلا نقصان ہے‘‘
لنک
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
318
پوائنٹ
127
حقیقی خسارے مین وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ شرک و بدعت کا ہے اور جو توحید پر نہیں ہین اسی مفہوم پر سورہ العصر دلالت کرتا ہے ۔ اس کے برعکس جو توحید پر قایم ہین پھر بھی ان سے بشری تقاضے کے مطابق غلطیاں ہو جاتی ہیں تو وہ حقیقی خسارے میں نہیں ہیں بلکہ اللہ غفور رحیم ہے اگر گناہ صغیرہ ہے تو وہ نماز وغیرہ پڑہنے سے معاف ہوجاتے ہیں اور اگر گناہ کبیرہ ھے تو وہ توبہ کرنے سے معاف ہوجاتا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top