• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خلع !

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
خلع پر متفق ہونے كے بعد خاوند كا رجوع كرنا :

اگر كوئى شخص اپنى بيوى كے ساتھ خلع كرنے پر متفق ہو جائے كہ وہ خاوند كو مہر واپس كر دے، ليكن مہر ادا كرنے سے قبل خاوند بيوى سے رجوع كرنا چاہے تو كيا اسے رجوع كا حق حاصل ہے ؟

الحمد للہ:

اگر تو خاوند نے اس كے ساتھ خلع كيا ہے، وہ اس طرح كہ ان دونوں كے مابين نكاح فسخ ہو گيا اور صرف معاوضہ يعنى مہر كى ادائيگى كرنا باقى ہے، تو اس صورت ميں اسے كوئى اختيار باقى نہيں چاہے اس نے ابھى اپنا مہر واپس نہيں ليا.

ليكن اگر وہ دونوں نكاح فسخ كيے بغير متفق ہوئے ہيں كہ جب وہ مہر واپس كر ديگى تو نكاح فسخ كر ديا جائيگا ت واس سے فسخ واقع نہيں ہوا، بلكہ اس ميں اس نے نكاح فسخ كرنے كا وعدہ ہى كيا ہے، اگر اس نے نكاح فسخ نہيں كيا تو اپنى نيت سے اور جو كام ابھى كيا ہى نہيں اس سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے.

اگرچہ وہ كہہ چكا ہے كہ اگر تم مجھے ميرا مہر واپس كر ديتى ہو تو ميں تم سے خلع كرتا ہوں يا نكاح فسخ كر ديتا ہوں تو حنابلہ كا مذہب يہ ہے كہ اس كو رجوع كا حق حاصل نہيں؟ اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كے ہاں يہ ہے كہ: اگر اس نے ابھى عوض نہيں ليا تو اسے رجوع كا حق حاصل ہے.

ليكن احتياط اسى ميں ہے كہ اگرچہ اس آخرى صورت ميں عادت بن چكى ہے اور وہ دونوں اتفاق كرنا چاہتے ہيں تو تجديد نكاح كر ليں تا كہ اختلاف سے نكلا جا سكے " اھـ شيخ عبد الرحمن السعدى كا فتوى.

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 2 / 785 ).

http://islamqa.info/ur/10140
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
خلع والی عورت کی عدت اوراس کا خاوند سے رجوع

جب بیوی خاوند سے خلع کا مطالبہ کرے اورخاوند موافقت کرلے تو خلع کے بعد عورت کتنی مدت تک شادی کے لیے انتظار کرے ؟ اورکیا ان دونوں کے لیے دوبارہ شادی کرنا ممکن ہے ؟

الحمد للہ :

اگر خلع حاصل کرنے والی عورت حاملہ ہوتو علماء کے اجماع کے مطابق اس کی عدت وضع حمل ہے ،


دیکھیں : المغنی ابن قدامہ ( 11 / 227 ) ۔


لیکن اگر وہ حاملہ نہیں تواس کی عدت میں علماء کرام کا اختلاف ہے ، ان میں سے اکثر اہل علم تو اس طرف گۓ ہیں کہ وہ تین حیض عدت گزارے گی کیونکہ اللہ تعالی کے فرمان کا عموم اسی پر دلالت کرتا ہے :

فرمان باری تعالی ہے :

{ اورطلاق والی عورتیں تین حیض تک انتظار کریں } البقرۃ ( 228 ) ۔

اورصحیح یہی ہے کہ خلع حاصل کرنے والی عورت صرف ایک حیض عدت گزارے گی ،

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضي اللہ تعالی عنہ کی بیوی کوبھی خلع حاصل کرنے کے بعد ایک حیض عدت گزارنے کا فرمایا تھا ۔

سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1185 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ترمذی ( 946 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

اوریہ حدیث اس آیت کے عموم کے لیے مخصص ہے جواوپر بیان کی گئي ہے ، اوراگروہ تین حیض عدت گزارے تو یہ اکمل اوراحوط ہوگا اورعلماء کرام کے اختلاف سے بھی نکلا جاۓ گا جوکہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آیت کے عموم کے اعتبار سے وہ تین حیض عدت گزارے ۔

دیکھیں فتاوی الطلاق للشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 1 / 286 ) ۔

اوراس میں کوئي حرج نہیں کہ وہ نۓ نکاح کے ساتھ دوبارہ شادی کرلیں اس کے لیے آپ سوال نمبر (10140 ) کا مطالعہ کریں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد

http://islamqa.info/ur/14569
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
اکثر اہل علم تو اس طرف گۓ ہیں کہ وہ تین حیض عدت گزارے گی
اورصحیح یہی ہے کہ خلع حاصل کرنے والی عورت صرف ایک حیض عدت گزارے گی ،
گویا اس معاملہ میں اکثر اہل علم غلطی پر ہیں ؟
 
Top