• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعیانہ صفات کا حصول کیونکر ممکن ہے؟

شمولیت
نومبر 14، 2018
پیغامات
29
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
30
بسم ا للہ ا لرحمان ا لرحیم


(( داعیانہ صفات کا حصول کیونکر ممکن ہے؟))

ایک فطری ساسوال پیدا ہوتا ہے کہ داعیانہ اوصاف وخصائل کا حصول کس طرح ممکن ہے؟
اس حوالے سے گزارش ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں اس بارے بھی مکمل رہنمائی موجود ہے۔ کچھ چیزیں کَسبی، علاقائی، خاندانی اور جغرافیائی ہوتی ہیں اور کچھ وہبی۔ وہبی میں آدمی کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ انہیں ذاتی محنت اور کوشش سے حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جیسے کہ نبوت ورسالت ہے، جبکہ وہبی بھی اگرچہ خداداد ہوتی ہیں لیکن ان میں بہتری اور کمال محنت، جستجواور مشق سے حاصل کیا جاسکتا ہے، جیسے کہ جراء ت و بہادری، جود و سخا اور علم و ہنر۔ رسول اللہe کا فرمان اس بارے یوں سے رہنمائی کرتا ہے:
((إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ، مَنْ یَتَحَرَّی الْخَیْرَ یُعْطَہُ، وَمَنْ یَتَّقِ الشَّرَّ یُوقَہُ))(المعجم الأوسط للطبرانی:2663والسلسلسۃ الصحیحہ:342)
”علم سیکھنے سے آتا ہے اور حلم و برد باری خود کو تحمل کا عادی بنانے سے پیدا ہوتی ہے، خیر و بھلائی کے طلب گار کو خیر سے نوازا جاتا ہے اور برائی سے بچنے کی کوشش کرنے والے کو شر سے بچا ہی لیا جاتا ہے۔“
حلم و برد باری، جود وسخا، عفو در گزر،اخلاق حسنہ، صدق و امانت اور تواضع وانکساری جیسی اعلی صفات کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ان امور کے بارے میں آگہی حاصل کی جائے، ان کے متعلق قرآن و حدیث میں مذکورہدایات سے واقفیت ہو۔اچھی صفات کا خود کو عادی بنانے کے پیہم مشق اورمسلسل جستجو کی جائے۔ اعلی اخلاق وکردار کے حامل لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے۔عمدہ صفات اور خصائل حمیدہ کے اجرو ثواب کے بار ے میں معلوم ہو اور ان کے برعکس بری عادات کی صورت میں لاحق مصائب وآلام اور ان کے گناہ کے متعلق بھی پتہ ہو۔
اسی طرح سیرت نبوی اورسیرت اسلاف کا فکری اور شعوری مطالعہ ہو۔ رموزِ شریعت اور اسرار دین کے بارے میں آگہی ہو۔ شریعت کے لطائف اور کمالات سے غیر معمولی واقفیت ہو۔ حالات حاضرہ پر دلائل شرعیہ کے انطباق اور عصر حاضر کے متعلق گہرا اور شعوری علم ہو۔ مسلم اور غیر مسلم سے تعامل کی نوعیت و طریقہ کار کے بارے میں ضروری معلومات ہونا بھی انتہائی اہم ہے۔ دشمن کی ریشہ دوانیوں، مخالفین کی چیرہ دستیوں اور اعدائے اسلام کے طریقہ واردات کے بارے میں شناساہی کی اہمیت کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔
دین و دنیا کی عدم تفریق پر کامل ایمان اور دین اسلام سے کامل فکری وابستگی کی بنا پر ہی احساس کمتری اور معاشرے میں اجنبیت محسوس کرنے جیسی بیماریوں سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
اس طرح کے مضبوط فکری مطالعہ کی صورت ہی میں بندہ مومن داعیانہ اعلی صفات سے متصف ہوسکتا ہے اور یوں دعوتِ دین کا عظیم فریضہ بطریق احسن ادا کی جاسکتا ہے۔


حافظ محمد فیاض الیاس الاثری
رکن دارالمعارف ریلوے روڈ لاہور
0306-4436662
1-11-2020
 
Top