1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعوت دین میں صدق و امانتداری کی اہمیت

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن الياس آسي الكلائي, ‏جولائی 29، 2020 at 4:12 PM۔

  1. ‏جولائی 29، 2020 at 4:12 PM #1
    ابن الياس آسي الكلائي

    ابن الياس آسي الكلائي مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 14، 2018
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    بسم ا للہ ا لرحمان ا لرحیم

    دعوت دین اور صدق وامانت

    داعیان اسلام کا صدق و امانت کا پیکر ہونا بھی ضروری ہے۔ صدق و امانتداری کا تعلق عمل و کردار سے بھی ہے اور تبلیغ و نصیحت سے بھی۔ قول و عمل میں بھی مسلمان صدق گوئی اور امانتداری کا بے مثل نمونہ ہو اور پیغام ربانی لوگوں تک پہنچانے میں بھی اس کا دامن ان صفات سے لبریز ہو۔ داعی ا عظم جناب محمد کریمe صدق وامانت کے بے مثال اسوہ تھے۔ صدق کا مطلب ہے ظاہر و باطن میں مطابقت ہونا اور خبر کا حقیقت پر مبنی ہونا۔اس کے برعکس جھوٹ اور کذب ہے۔ جبکہ امانت داری کا مطلب ہے بطور امانت رکھی ہوئی چیز میں بغیر اجازت تصرف نہ کرنا۔ راست گوئی اللہ عزوجل کی صفت اور پیغمبرانہ خوبی ہے۔ انبیائے کرام سب سے بڑھ کر صدق وامانت کے پیکر ہوتے ہیں۔ وارثین انبیاء کا بھی ان عظیم صفات سے متصف ہونا انتہائی ضروری ہے۔ راست بازی اور امانتداری ذریعہ نجات ہیں۔ انہی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اور انہی سے حصول جنت کا امکان ہے۔
    رسول اللہe قبل از بعثت بھی صادق و امین کے لقب بے مثل سے مشہور تھے۔ دوست دشمن سبھی آپ کی انہی خوبیوں کے معترف تھے۔حضرت عبداللہ بن سلام t ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، یہودی عالم تھے،ہجرت مدینہ کے موقع پر قبا میں قیام کے دوران یہ بھی دیگر لوگوں کی طرح آپ کی زیارت کی غرض سے آئے تھے۔ آپ کا چہرہ پر انوار دیکھتے ہی پکار اُٹھے تھے:
    ((اِنَّ وَجْھَہُ لَیْس ِبوَجہٍ کَذَّابٍ))(سنن الترمذی:۵۸۴۲وسنن ابن ماجہ:۴۳۳۱)
    ”ایسے پرانوار چہرے والی ہستی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔“
    آپ ہی نے اپنی امت کو ((علَیِکُمْ بِالصّدقِ))(صحیح مسلم:۷۰۶۲) کی تلقین فرمائی اور اسی کو ذریعہ نجات اور حصول جنت کا زینہ قرار دیا جبکہ امانتداری کے بارے میں فرمایا: ((لَااِیْمَان لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ))(مسند احمد:۳۸۳۲۱)بد دیانت کا تو ایمان ہی نہیں۔ اسی طرح آپ نے امانت میں خیانت کرنے کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔
    صدق وامانت آدمی کے قول و عملاور ظاہر سے بھی متوشح ہوتی ہے۔

    حافظ محمد فیاض الیاس الاثری
    رکن دارالمعارف لاہور
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں