• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعوت ولیمہ صرف مردوں کے لئے - آپ کی کیا رائے ہے؟

ریحان احمد

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2011
پیغامات
267
ری ایکشن اسکور
709
پوائنٹ
120
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

دور حاضر میں اسلام سے دوری کی وجہ سے جہاں بہت سے مسائل اور غیر شرعی کاموں نے جنم لیا ہے وہاں ایک مسئلہ نامحرموں کا باہمی اختلاط بھی ہے۔ ہمارے ہاں کسی بھی قسم کی محفل ہو یا کوئی بھی دعوت ہو' وہاں اختلاط مرد و زن بہت عام سی بات بن گئی ہے۔ اس عام اختلاط کی وجہ سے بہت سے مسائل نے بھی جنم لے لیا ہے۔ جنسی بے راہ روی بھی اسی وجہ سے ہی عام ہو گئی ہے۔

یہ اختلاط تب بہت بڑھ جاتا ہے جب کوئی فنکشن وغیرہ ہو۔ اور خاص طور پر شادی بیاہ کی تقریبات۔ ان تقریبات میں اکثر تو ہندوانہ ثقافت سے ماخوز ہیں اور بعض علاقائی رسمیں ہیں۔ اسلام میں تو شادی کے موقع پر جو رسم مشروع ہے وہ صرف ولیمہ ہے بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے۔

ہمارے ہاں شادی و ولیمہ کے کئے جو دعوتیں منعقد کی جاتی ہے ان میں بہت سی باتیں شرعیت کے خلاف ہوتی ہیں۔ ناچ گانا اور اس طرح کی حرکتیں جن کو کسی دور میں بد ذات لوگوں کا فعل سمجھا جاتا تھا آج ہر کوئی فخر سے انجام دیتا ہے۔

اگر ایسی دعوتوں کا انعقاد صرف مرد حضرات کے لئے کیا جائے اور خواتین کی شمولیت کو اس میں محدود کیا جائے تو بہت سی مشکلات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس سے شادی بیاہ پر آنے والے اخراجات بھی کم ہو جائیں گے اور غیر شرعی کاموں سے بھی بہت حد تک بچا جا سکے گا۔

احباب کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جزاک اللہ خیرا
 

سیماب

مبتدی
شمولیت
اگست 06، 2013
پیغامات
33
ری ایکشن اسکور
73
پوائنٹ
17
دور حاضر میں اسلام سے دوری کی وجہ سے جہاں بہت سے مسائل اور غیر شرعی کاموں نے جنم لیا ہے وہاں ایک مسئلہ نامحرموں کا باہمی اختلاط بھی ہے۔ ہمارے ہاں کسی بھی قسم کی محفل ہو یا کوئی بھی دعوت ہو' وہاں اختلاط مرد و زن بہت عام سی بات بن گئی ہے۔ اس عام اختلاط کی وجہ سے بہت سے مسائل نے بھی جنم لے لیا ہے۔ جنسی بے راہ روی بھی اسی وجہ سے ہی عام ہو گئی ہے۔
سچی گل اے۔
 

ادب دوست

مبتدی
شمولیت
جولائی 23، 2015
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
22
میرا خیال ہے اس معاملے میں اگر سلف صالحین نے کوئی قدغن نہیں لگائی تو ہمیں بھی اسے آزاد چھوڑنا چاہیئے۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
اگر ایسی دعوتوں کا انعقاد صرف مرد حضرات کے لئے کیا جائے اور خواتین کی شمولیت کو اس میں محدود کیا جائے تو بہت سی مشکلات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس سے شادی بیاہ پر آنے والے اخراجات بھی کم ہو جائیں گے اور غیر شرعی کاموں سے بھی بہت حد تک بچا جا سکے گا۔
برائیوں کے روکنے کے لیے کوئی بھی مناسب اقدام کیا جاسکتا ہے ۔
صرف عورتوں کو ہی کیوں ، بعض مرد بھی اسے ملیں گے جن کی وجہ سے ماحول خراب ہوتا ہے ، ایسے شر پسند عناصر کو بھی دور کیا جانا چاہیے ۔
 
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
234
ری ایکشن اسکور
49
پوائنٹ
52
برائیوں کے روکنے کے لیے کوئی بھی مناسب اقدام کیا جاسکتا ہے ۔
صرف عورتوں کو ہی کیوں ، بعض مرد بھی اسے ملیں گے جن کی وجہ سے ماحول خراب ہوتا ہے ، ایسے شر پسند عناصر کو بھی دور کیا جانا چاہیے ۔
ھم آپکی بات سے متفق ھیں. آخر عورتوں پر ھی گاج کیوں گرے؟؟؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
یہ اس ”مسئلہ“ کا کوئی ”معقول حل“ نہیں ہے۔ دیندار گھرانے کی خواتین کو ویسے بھی ”آؤٹنگ“ کے مواقع کم کم ہی ملتے ہیں۔ ایسے میں انہیں خاندان کی شادی بیاہ کی تقاریب سے بھی ”آؤٹ“ کردینا، کہاں کی دانشمندی ہے۔ بالعموم شادی ہال یا لان میں منعقدہ یہ وہ واحد ”گھریلو تقریب“ ہوتی ہے، جہاں انہیں معمول کی ”زنانہ انتظامی امور کی ٹینشن“ سے یکسر بے فکر ہوکر خاندان بھر کی خواتین سے ملنے جلنے، گپ شپ لگانے، پکائے اور سرو کئے بغیر عمدہ کھانا کھانے اور ایک دوسرے کے احوال سے واقفیت حاصل کرنے کا بہترین اور ”وافر“ موقع ملتا ہے۔

اس مسئلہ کا بہترین حل یہ ہے کہ ولیمہ کی تقریب ”غیر مخلوط“ منعقد کی جائے ۔ ہماری اہلیہ اور بیٹی کو اکثر یہ ”شکایت“ ہوتی ہے کہ وہ جب بھی خاندان کی کسی شادی بیاہ کی تقریب میں اچھا پہن اوڑھ کر اور بن سنور کر جاتی ہیں تو عبایا اور نقاب میں مستور ہوکر کسی گوشہ میں بیٹھے رہنے پر مجبور ہوتی ہیں کہ ایسی تقریبات عموماً مخلوط ہوا کرتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں ان تقاریب میں اپنے ہی جیسی دیگر باحجاب رشتہ دار خواتین سے ملنے جلنے میں بھی عجیب سی ”اجنبیت“ کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر محض آوازوں سے ”پہچان“ کر یا اپنا نام بتلا کر ”ملنا“ پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی ”نامحرم“ سے مل رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں ہمیں خاندان کے ایک ایسے ولیمہ کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا، جس کے دعوت کے ساتھ ہی یہ بھی اطلاع تھی کہ ہال میں خواتین و حضرات کے لئے علیحدہ علیحدہ انتظام ہوگا۔ حتیٰ کہ خواتین کے حصہ میں ویٹرز بھی خواتین ہوں گی اور اس حصہ میں کسی بھی مرد کا داخلہ ممکن نہ ہو سکے گا۔ تقریب میں شرکت کے بعد اہلیہ نے بتلایا کہ ولیمہ کی تقریب میں پہلی مرتبہ خاندان کی ”باحجاب خواتین“ زرق برق لباس میں ملبوس ”بے حجابانہ“ اور آزادانہ ملیں۔ اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور گپ شپ میں ”بے تکلفانہ“ ماحول نے زنانہ کالج کی تقاریب کی یاد دلادی۔ اب تو موبائل فون کی بدولت ایسی تقاریب میں علیحدہ علیحدہ پورشنز میں موجود ایک ہی گھر کے خواتین و حضرات کے مابین ”رابطہ“ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، جو قبل از موبائل کے دور میں ہوا کرتا تھا۔

کیا ہم مرد منتظمین ولیمہ سمیت ایسی دیگر تمام تقاریب کو اس طرح منعقد کرکے اپنی خواتین کی خوشیوں کو دوبالا نہیں کرسکتے؟
 
Top