• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دفاع سیدنا ولید بن عقبہ

شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,006
پوائنٹ
97

(محمد حسین میمن)

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ Č۝﴾ (الحجرات: ۶)
ترجمہ: (اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔)
مفسرین نے اس آیت کے تحت سیدنا ولید بن عقبہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے، جس سے کئی طعنہ دینے والوں نے یہ الزام ٹھہرایا ہے کہ سیدنا ولید بن عقبہ کو قرآن نے فاسق کہا ہے۔ (العیاذ باللہ) ہم اس روایت پر اصولی اور نتیجہ خیز گفتگو سے قبل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت پر چند سطریں روشنی ڈالیں گے پھر اس کے بعد اس روایت کی تحقیق اور اس سے صحیح نتیجہ کو قارئین کے سامنے پیش کریں گے۔
صحابی کی تعریف:
شیخ الاسلام نے امام احمد بن حنبل کا قول نقل فرمایا کہ:

﴿من صحب النبی ﷺ او شھرا او یوما او ساعة اوراہ مؤمنا بہ فھو من اصحابہ لہ من الصحبة علی قدر ما صحبہ وھذا قول جماھیر العلماء من الفقھاء واھل الکلام وغیرھم﴾
ترجمہ: ( جس شخص کو بھی حالت ایمان میں نبی کریم ﷺ کی صحت حاصل ہوئی خواہ وہ صحبت ایک سال ہو ای ایک مہینہ یا ایک دن یا ایک گھڑی ہو وہ اپنی صحت کے لحاظ سے آپ کا صحابی ہے۔ جمہور علماء فقھاء اور متکلیمن وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔
(منھاج السنة، ج۴، ص۲۴۳)

امام ابن الصلاح نے صحابی کی کچھ یوں تعریف فرمائی:

﴿ان کل مسلم رای رسول اللہ ﷺ فھو من الصحابة﴾ (علوم الحدیث ،ص ۳۹۴)
ترجمہ: ( جس مسلمان نے (ایمان کی حالت میں) رسول اللہ ﷺ کو دیکھا پس وہ صحابی ہے۔ )
حافظ ابن حجر نے مزید وضاحت کے ساتھ صحابی کی کچھ اس طرح سے تعریف فرمائی:
﴿ان الصحابی: من لقی النبی ﷺ مومناً بہ، ومات علی الاسلام فیدخل فیہ من لقیہ من طالت مجالستہ لہ اٴو قصر تومن روی عنہ اولم یرو، ومن غزامعہ اولم یغز ومن راہ رؤیة ولو لم یجالسہ ومن لم یرہ لعارض کالعمی﴾
ترجمہ: (صحابہ وہ ہے جس نے نبی کریم ﷺ پر ایمان لاتے ہوئے آپ سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر ہی اس کی وفات ہوئی ہو۔ اس تعریف میں وہ شخص بھی داخل ہے جس نے آپ سے ملاقات کی اور صحبت اگرچہ کم ملی ہو یا زیادہ۔ اور وہ شخص جس نے آپ سے کچھ بیان کیا یا نہ کیا اور وہ جس نے آپ کے ساتھ غزوہ کیا یا نہ کیا اور جس نے آپ کو صرف ایک بار ہی دیکھا ہو اگرچہ اسے آپ کے ساتھ بیٹھنے کا شرف نہ بھی ملا ہو۔ اسی طرح صحابی کی تعریف میں وہ بھی شخص داخل ہے جو کسی عارضے کی وجہ سے آپ کو نہ دیکھس کا ہو، جیسے کہ نا بینا ہو۔ ) (مقدمة الاصابة الفصل الاول فی تعاریف الصحابی ۹/۱)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ جن سے اللہ راضی:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا 18؀ۙ﴾
ترجمہ: (یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اللہ نے اسے معلوم کر لیا پس ان پر سکونت نازل کر دی اور انہیں بدلے میں ایک قریبی فتح عطا فرمائی۔)
مندرجہ بالا آیت نے ایمان والوں سے راضی ہونے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایمان والے کون تھے؟ بلاشبہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہی تھے جن کے بارے میں رضاء الہٰی کا اعلان ہوا یہ وہ آسمان کے چمکتے ہوئے ستارے اور مشعلہ راہ ہیں جو اللہ کو راضی کر چکے اور اللہ ان سے راضی ہوگیا۔
امت کے سب سے بہترین اور برگزیدہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

﴿خیر الناس قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ثم یجیء اقوام تسبق شھادة اٴحدھم یمینہ ویمینہ شھادة ﴾ (صحیح بخاری کتاب الشھادات، رقم ۶۲۵۶)
ترجمہ: (جب تم کسی آدمی کو اصحاب رسول میں سے کسی ایک کے مقام و مرتبہ میں کمی کرتا ہوا دیکھو تو جان لو وہ پکا زندیق ہے۔ )
سیدنا ولید بن عقبہ بن ابی معیط:

اہل علم نے الولید بن عقبہ کا نسب کچھ اس طرح ذکر فرمایا ہے:
﴿الولید بن عقبة بن ابی معیط اٴبان بن ابی عمرو ذکوان بن اٴمیة بن عبد شمس بن عبد مناف الاموی﴾
سیدنا ولید بن عقبہ اور ان کے بھائی عمارة ’’الفتح‘‘ کے دن ایمان لائے۔
(الاصابة لابن حجر رقم ۹۴۵۸، الاستیعاب لابن عبدالبر رقم ۲۷۵۹، اسد الغابة لابن اثیر رقم ۵۴۷۵)
ولید بن عقبہ کا وہ واقعہ جن کے سبب بعض مطعون نے انہیں فاسق قرار دیا:
امام احمد بن حنبل نے اس واقعہ کو تفصیلاً اپنی مسند میں ذکر فرمایا ہے:
سیدنا حارث بن فرار فزاعی فرماتے ہیں؛

﴿قال: قدمت علی رسول اللہ ﷺ فدعانی الی الاسلام ، فدخلت فیہ، واٴقررت بہ۔۔۔﴾ (مسند احمد بن حنبل ،ج ۳۰، ص ۴۰۳، رقم الحدیث ۸۴۵۹)
ترجمہ: (میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی جو میں نے منظور کر لی اور مسلمان ہوگیا۔ پھر آپ نے زکوة کی فرضیت سنائی میں نے اس کا بھی اقرار کیا اور کہا کہ میں واپس اپنی قوم کے پاس جاتا ہوں اور ان میں سے جو ایمان لائیں اور زکوة ادا کریں میں ان کی زکوة جمع کرتا ہوں۔ اتنے اتنے دنوں کے بعد آپ میری طرف کسی آدمی کو بھیج دیں میں اس کے ہاتھ جمع شدہ مال زکوة آپ کی خدمت میں بھجوادوں گا۔ سیدنا حارث نے واپس آکر یہی مال زکوة جمع کیا جب وقت مقررہ گزر چکا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی قاصد نہ آیا تو آپ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا یہ تو نا ممکن ہے کہ اللہ کے رسول اپنے وعدے کے مطابق اپنا آدمی نہ بھیجیں ۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ ہم سے ناراض نہ ہوگئے ہوں؟ اور اس بنا پر آپ نے اپنا کوئی قاصد مال زکوة لینے کے لیے نہ بھیجا ہو، اگر آپ متفق ہوں تو ہم اس مال کو لے کر خود ہی مدینہ منورہ چلیں اور آپ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ یہ تجویز طے پاگئی اور یہ حضرات اپنا مال زکوة لے کر چل کھڑے ہوئے۔ ادھر سے رسول اللہ ﷺ ولید بن عقبہ کو اپنا قاصد بنا کر بھیج چکے تھے۔ لیکن یہ حجرات راستے میں ہی ڈر کے مارے لوٹ آئے اور یہاں آ کر کہہ دیا کہ حارث نے زکوة بھی روک لی اور میرے قتل کے درپے ہوئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور کچھ آدمی حارث کی تنبیہ کے لیے روانہ فرما دیے۔ مدینے کے قریب راستے میں ہی اس مختصر سے لشکر نے حضرت حارث کو پالیا۔ سیدنا حارث نے پوچھا آخر کیا بات ہے؟ تم کہاں اور کس کے پاس جا رہے ہو؟ انہوں نے آپ کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد ولید کو زکوة نہ دی بلکہ انہیں قتل کر نا چاہا۔ حارث نے فرمایا قسم ہے اس رب کی جس نے محمد ﷺ کو سچا بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے اسے دیکھا نہ وہ میرے پاس آیا، چلو میں تو خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں۔ یہاں جو آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا تم نے زکوة بھی روک لی اور میرے آدمی کو قتل کرنا چاہا۔ آپ نے جواب دیا ہر گز نہیں یا رسول اللہﷺ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے انہیں دیکھا ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس آئے، بلکہ قاصد کو نہ دیکھ کر اس ڈر کے مارے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھ سے ناراض نہ ہوگئے ہوں اور اسی وجہ سے قاصد نہ بھیجا ہو میں خود حاضر خدمت ہوا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا۔۔۔۔۔۔ Č۝﴾
(الحجرات: ۶)

اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔۔۔۔ حکیم تک نازل ہوئی۔
مندرجہ بالا حدیث سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ قرآن مجید میں جو ’’فاسق ‘‘ کہا گیا ہے وہ ولید بن عقبہ کو کہا گیا ہے۔ ۔۔ یہ بات کئی وجوہات کی بناء پر غلط ہے۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعہ مسند احمد کے حوالے سے نقل کیا جاتا ہے ، اس کی سند کمزور ہے جس کی دو وجوہات ہیں:
سند میں محمد بن سابق ہے جو ضعیف ہے۔
دینار کے والد عیسٰی مجھول ہے۔
محمد بن سابق التمیمی:
قال یحییٰ بن معین : ضعیف۔
قال ابو حاتم لا یحتیج بہ۔
وقال یعقوب بن شیبة : ولیس ممن یوصف بالضبط للحدیث۔
(تھذیب التھذیب ،ج۷، ص۱۶۳، تھذیب الکمال للمزی،ج۲۵،ص۶۳۳، تاریخ الکبیرللبخاری الترجمة ۳۱۲، الجرح والتعدیلالترجمة ۱۵۲۸)

ان تصریحات سے واضح ہوا کہ محمد بن سابق متکلم ہیں۔

دینار الکوفی والد عیسٰی مولی عمرو بن الحارث بن ضرار:

عیسٰی کے والد دینا الکوفی مجہول ہیں ان کے حالات محدثین رحمہم اللہ نے ذکر نہیں کیے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
﴿مجمول: تفرد بالروایة عنہ ابنہ عیسٰی بن دینار، ولم یوثقہ سوی ابن حبان، لذالک ذکرہ الذھبی فی المیزان﴾ (تحریر تقریب التھذیب، ج۱، ص۳۸۶)
یعنی عیسٰی کے باب دینار مجھول ہیں، سوائے ابن حبان کے کسی نے ان کی توثیق نہیں کی، اسی لیے ذھبی نے انہیں میزان میں ذکر فرمایا ہے اور نام کے ذکر کے بعد کچھ نہ لکھا جو اس بات پر واضح دلیل ہے کہ دینار امام ذھبی کے نزدیک بھی مجھول ہیں اور جہاں تک تعلق ہے امام ابن حبان کی تو انہوں نے بسا اوقات تساھل سے کام لیا ہے جس کو اہل علم بخوبی جانتے ہیں، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ابن حبان نے صرف وہاں ان کے نام کو ذکر فرمایا ہے فقط۔
(الثقات لابن حبان رقم ۲۵۸۹)
لہٰذا دینار الکوفی مجھول ہیں، شعیب ارنووط نے بھی انہیں مجھول کہا ہے اور مزید فرماتے ہیں ’’قال ابن المدینی لا اعرف‘‘۔ (حاشیة مسند احمد ،ج۳۰،ص۴۰۵)
بالکل اسی طرح ایک اور روایت امام طبرانی نے اپنی کتاب معجم الکبیر میں ذکر فرمائی ، لیکن اس کی سند میں محمد بن سابق ہیں اور عیسٰی بن دینار جن پر کلام گزر چکا ہے۔
(معجم الکبیر للطبرانی، ج۳، رقم الحدیث ۳۳۹۵)
ایک اور روایت معجم الکبیر میں موجود ہے، لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔سند میں یعقوب بن حمید بن کاسب ہے، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ امام ھیثمی نے مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں:
﴿رواہ الطبرانی باسنادین فی احدھما یعقوب بن حمید بن کاسب وثقة ابن حبان وضعہ الجمہور وبقیة رجالہ ثقات﴾ (مجمع الزوائد،ج ۷، ص۱۱۰)
ترجمہ: (اس روایت کو امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ ذکر فرمائی ہیں ان میں ایک یعقوب بن حمید کی روایت ہے جسے ابن حبان نے ثقہ اور جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔)
یعقوب بن حمید کے بارے میں امام حاتم فرماتے ہیں’’ضعیف الحدیث‘‘۔
امام نسائی فرماتے ہیں ’’لیس بشئ ، لیس بثقة‘‘۔
﴿وقال الدوری عن ابن معین: لیس بشئ لیس بثقة﴾
(تھذیب التھذیب ،ج۹، ص۴۰۷)
لہٰذا یعقوب بن حمید کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔
اس کے علاوہ امام البیھقی نے بھی اس روایت کو ’’السنن الکبری ‘‘ میں ذکر فرمایا ہے، مگر اس کی سند میں الحسین بن حسن بن عطیہ العوفی ہیں۔ ان کے باپ دادا ضعیف ہیں۔ لہٰذا اکثر روایات میں ضعف موجود ہے۔ بالفرض اگر یہ روایت حسن درجے تک بھی پہنچ جائے تب بھی اس روایت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ آیت ’’ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاءَكُمْ ‘‘ سیدنا ولید کے لیے نازل ہوئی یہ ہر گز ثابت نہیں ہوتا ۔ کیونکہ آیت مبارکہ میں ولید کا نام نہیں لیا گیا کہ انہیں فاسق قرار دیا جائے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔ امام الرازی فرماتے ہیں:
﴿ان اللہ تعالیٰ لم یقل انی انزلتھا لکزا، والنبی ﷺ لم ینقل عنہ انہ بین ان الایة وردت لبیان ذالک فحسب ۔۔۔﴾ (التفسیر الکبیر، ج۲۷، ص۱۰۲)
ترجمہ: (یقیناً اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ( یہ آیت ’’يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاءَكُمْ ۔۔۔الآیة‘‘) ولید بن عقبہ کے لیے نازل کی ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ سے یہ منقول ہے۔)
اگر غور کیا جائے اور اس ماحول کی طرف دیکھا جائے تو بغور مطالعہ اور دقیق نظر رکھنے والے کو یہ بات واضح معلوم ہو جائے گی کہ ولید کے علاوہ دوسرے صحابہ کو بھی تحقیق کے احکامات کی طرف توجہ دلانا مقصود تھی۔ کیونکہ عین ممکن ہوتا کہ مسلمانوں کو یا مسلمانوں کے قاصد کو کوئی بھاری نقصان پہنچتا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ نئے جو مسلمان ہو رہے تھے ان کے لیے کسی زبردست شر کا کوئی پہلو سامنے آتا۔ بالغرض آیت مبارکہ عام ہے۔ لہٰذا اس نے تمام شر اور نقصانات کے پہلو کے دروازے بند کر دیے۔۔۔۔ اب مندرجہ بالا آیت کو صرف صحابی رسول ولید پر چسپاں کرنا ظلم ہے اور ہم جانتے ہیں کہ صحابہ سارے کے سارے ہدایت یافتہ ہیں اور فاسق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿۔۔۔۔۔۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ۔۔۔۔۔۔۔ Č۝﴾ (المنافقون: ۶)
ترجمہ: (بے شک اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔)
غور طلب بات ہے کہ فاسق گمراہ ہوتا ہے، اور صحابی رسول ہدایت یافتہ ہوتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی شخص کو قرآن نے ہدایت والا بھی کہا اور اسی کو فاسق بھی؟؟؟ اسی لیے امام الرازی فرماتے ہیں: ’’ولید پر فسق کا بہتان لگانا وھم، خطا اور بدگمانی کا نتیجہ ہے۔ (التفسیر الکبیر، ج۲۸،ص۱۰۳)
اس واقعہ پر غور کرنے سے ایک اور بات بھی واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا ولید بن عقبہ نے غلط بیانی سے ہرگز کام نہیں لیا، بلکہ ان کو اجتھاد میں غلطی ہوگئی۔
ابن عادل الحنبلی فرماتے ہیں:

﴿کان بینہ وبینھم عداوة فی الجاھلیة فلما سمع بہ القول تلقوہ تعظیما لامر رسول اللہ ﷺ فحثہ الشیطان انھم یریرون قتلہ۔۔۔﴾ (اللباب، ج۱۷،ص۵۳۰)
سیدنا ولید بن عقبہ اور اس قبیلہ والوں کے درمیان (جن سے ولید کو زکوٰة وصول کرنے کا حکم دیا گیا ) جاہلیت میں عداوت تھی، جب انہوں نے ولید سے ملاقات کرنی چاہی نبی ﷺ کے حکم کی تعظیم میں تو شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ یہ لوگ ولید کو قتل کر دیں گے۔۔۔۔۔
لہٰذا یہ وہ سبب ہے جس کی وجہ سے صحابی کو اجتہاد میں غلطی ہوئی، حالانکہ ان لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ان کا استقبال کرنا چاہا۔ مگر انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ لوگ ان کے قتل کے درپے ہیں۔ جب یہ لوگ (بنی مصطلق )نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم! ہم ہر گز ان کے قتل کے درپے نہ تھے۔ (احکام القرآن للقرطبی ،ج۸،ص۲۲۴)
اس تمام گفتگو اور دلائل سے یہ بات واضح ہوئی کہ اولین ان روایات میں ضعف ہے۔۔۔ نمبر ۲ ۔ اگر کچھ محدثین نے تصریح کی ہے صحت کی تب بھی طعن کرنے والوں کا مقصد حل نہیں ہوتا۔ کیونکہ سیدنا ولید بن عقبہ نے جو اجتہاد کیا تھا اس میں غلطی واقع ہوئی اور اجتہاد کی غلطی سے آدمی فاسق ہر گز نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے اجتہاد میں اجر کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
﴿اذا احکم الحاکم فاجتھد ثم اصاب فلہ اجران، اذا حکم فاجتھد ثم اٴخطاٴ فلہ اجر۔﴾ (صحیح البخاری، کتاب الاعتصام، رقم الحدیث ۷۳۵۲)
ترجمہ: (جب حاکم اجتہاد کرے اگر صحیح اجتہاد ہوگا تو دو گنا اجر ہوگا اگر خطا ہوگی تو ایک اجر ہوگا۔ )
لہٰذا یہ ولید بن عقبہ کا اجتہاد تھا اور وہ ایک اجر عنداللہ لینے میں کامیاب ہوئے۔ ہر صاحب ایمان کو صحابہ کرام سے محبت رکھنی چاہیے اور اپنے گمان کو آئینہ کی طرح صاف و شفاف رکھنا چاہیے۔ یہی ایمان کا تقاضہ ہے۔
ولید بن عقبہ کے بارے میں ایک روایت کا جائزہ:

﴿۔۔۔ عن ابن موسی ، عن الولید عقبة: لما فتح النبی ﷺ مکة جعل اھلہ مکة یجسیئونہ بصیانھم فیمسح رودسھم ولم یمسح راسی ولم یمنعہ الا اٴن امی خلقتنی بخلوق ما ادری کیف ھو؟﴾ (التاریخ الاوسط للبخاری، ج۱، ص۶۰۵)
ترجمہ: (ولید بن عقبہ فرماتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو اھل مکہ اپنے بچوں کو نبی کریم ﷺ کے پاس لاتے اور آپ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور آپ نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا۔۔۔۔)
اس روایت سے بعض مطعون لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بچپن میں بھی ولید بھی عقبہ پر شفقت کا ہاتھ نہیں پھیرا۔
یہ روایت بھی پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتی ، کیونکہ سند میں ابو مسی الھمدانی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عبداللہ الھمدانی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبداللہ ابو موسیٰ الھمدانی ہے اور وہ مجھول ہے۔ لہٰذا یہ روایت بھی منکر اور مضطرب ہے۔
(تفصیل کے لیے: الضعفاء الصغیر للبخاری، رقم ۱۹۹، الضعفاء للعقیلی ۳۱۹/۷، الجرح والتعدیل رقم ۲۱۹۹)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیدنا ولید بن عقبہ ان الزامات اور اتہامات سے بری ہیں، جو زبردستی ان کی چمکتی پیشانی پر لگائے گئے ہیں۔ الحمدللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام صحابہ کی عزت اور توقیر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
قدمتُ على رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فدعاني إلى الإسلامِ فدخلتُ فيه وأقررتُ به فدعاني إلى الزكاةِ فأقررتُ بها وقلتُ يا رسولَ اللهِ أرجعُ إلى قومي فأدعوهم إلى الإسلامِ وأداءِ الزكاةِ فمن استجابَ لي جمعتُ زكاتَهُ فيُرسلُ إليَّ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ رسولًا إبانَ كذا وكذا ليأتيكَ ما جمعتُ من الزكاةِ فلمَّا جمعَ الحارثُ الزكاةَ ممَّن استجابَ له وبلغَ الإبانَ الذي أرادَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أن يبعثَ إليه احتبسَ عليهِ الرسولُ فلم يأتِهِ فظنَّ الحارثُ أنه قد حدثَ فيه سخطةٌ من اللهِ عزَّ وجلَّ ورسولِهُ فدَعَا بسرواتِ قومِهِ فقال لهم إنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان وَقَّتَ لي وقتًا يُرسلُ إليَّ رسولَهُ ليَقبضَ ما كان عندي من الزكاةِ وليس من رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ الخُلْفُ ولا أرَى حَبْسَ رسولِه إلا من سخطةٍ كانت فانطَلِقوا فنأْتِي رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ وبعثَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ الوليدَ بنَ عقبةَ على الحارثِ ليَقبضَ ما كان عندَهُ ممَّا جمعَ من الزكاةِ فلمَّا أن سارَ الوليدُ حتى بلغَ بعضَ الطريقِ فَرَقَّ فرجعَ وأَتَى رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقال يا رسولَ اللهِ إنَّ الحارثَ منعني الزكاةَ وأرادَ قَتْلِي فضربَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ البَعْثَ إلى الحارثِ فأَقْبَلَ الحارثُ بأصحابِه حتى إذا استقبلَ البَعْثَ وفَصَلَ من المدينةِ لَقِيَهُم الحارثُ فقالوا هذا الحارثُ فلمَّا غَشِيَهُم قال لهم إلى من بُعِثْتُمْ قالوا إليكَ قال ولِمَ قالوا إنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان بعثَ إليكَ الوليدَ بنَ عقبةَ فزعمَ أنكَ منعتَهُ الزكاةَ وأردتَ قتلَه قال لا والذي بعثَ محمدًا بالحقِّ ما رأيتهُ بَتَّةً ولا أتاني فلمَّا دخلَ الحارثُ على رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قال منعتَ الزكاةَ وأردتَ قتلَ رسولي قال لا والذي بعثكَ بالحقِّ ما رأيتهُ ولا أتاني وما أقبلتُ إلا حين احْتُبِسَ عليَّ رسولُ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ خشيتُ أن تكونَ كانت سخطةً من اللهِ عزَّ وجلَّ ورسولِهُ قال فنزلتْ الحجراتُ { يَا أَيُّهَا الذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ } إلى هذا المكانِ { فَضْلًا مِنَ اللهِ وَنِعْمِةً وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيم ٌ}
الراوي: الحارث بن ضرار الخزاعي المحدث:الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 7/232
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح


قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعاني إلى الإسلام فأقررت به ودخلت فيه ودعاني إلى الزكاة فأقررت بها وقلت يا رسول الله أرجع إلى قومي وأدعوهم إلى الإسلام وأداء الزكاة فمن استجاب لي جمعت زكاته فيرسل إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم رسولا لإبان كذا وكذا ليأتيك ما جمعت من الزكاة فلما جمع الحارث الزكاة ممن استجاب له وبلغ الإبان الذي أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يبعث إليه احتبس الرسول فلم يأته فظن الحارث أنه قد حدث فيه سخطة من الله عز وجل ورسوله صلى الله عليه وسلم فدعا سروات قومه فقال لهم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان وقت [ لي ] وقتا يرسل إلي رسوله ليقبض ما كان عندي من الزكاة وليس من رسول الله صلى الله عليه وسلم الخلف ولا أرى حبس رسوله إلا من سخطة كانت فانطلقوا فنأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم وبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الوليد بن عقبة [ إلى الحارث ] ليقبض ما كان عنده مما جمع من الزكاة فلما أن سار الوليد حتى بلغ بعض الطريق فرق فرجع فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال [ يا رسول الله ] إن الحارث منعني الزكاة وأراد قتلي فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم البعث إلى الحارث فأقبل الحارث بأصحابه إذ استقبل البعث وفصل من المدينة فلقيهم الحارث فقالوا هذا الحارث فلما غشيهم قال لهم إلى من بعثتم قالوا إليك قال ولم قالوا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان بعث إليك الوليد بن عقبة فزعم أنك منعته الزكاة وأردت قتله قال لا والذي بعث محمدا بالحق ما رأيته البتة ولا أتاني فلما دخل الحارث على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال منعت الزكاة وأردت قتل رسولي قال لا والذي بعثك بالحق ما رأيته بتة ولا أتاني وما احتبست إلا حين احتبس علي رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم خشيت أن يكون كانت سخطة من الله عز وجل ورسوله قال فنزلت الحجرات { يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين } إلى هذا المكان { فضلا من الله ونعمة والله عليم حكيم }
الراوي: الحارث بن ضرار الخزاعي المحدث:الهيثمي - المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 7/111
خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات


صحابہ پرستی میں صحیح حدیث کا انکار
قرآنی آیت کا نزول زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی ہوا تھا اور آپ نے جو صحابی کی تعریف بیان کی اس کے تحت تو اس آیت میں کسی صحابی کو ہی فاسق کہا جارہا ہے
اس طرح تو قرآن کا بھی انکار
 

کیلانی

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 24، 2013
پیغامات
347
ری ایکشن اسکور
1,110
پوائنٹ
127
یہ بات درست ہےکہ تمام صحابہ معتبرترین اورنیک خصلت تھے لیکن واضح رہےکہ صحابہ سے انفرادی حیثیت سے غلطیاں ہوتی رہتی تھی اس کئی ایک مثالیں موجودہیں اور علمانےجوفرمایاہےکہ صحابہ تمام کےتمام عادل ہیں یعنی وہ معتبر اور نیک ہیں تو یہ بحثیت مجموع ہے۔چناچہ ایک جماعت ہونےکےلحاظ سےتو وہ تمام عادل ہیں ۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
صحابہ پرستی میں صحیح حدیث کا انکار
قرآنی آیت کا نزول زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی ہوا تھا اور آپ نے جو صحابی کی تعریف بیان کی اس کے تحت تو اس آیت میں کسی صحابی کو ہی فاسق کہا جارہا ہے
اس طرح تو قرآن کا بھی انکار
یہ آپ کی مغالطہ دہی کی کوشش نہیں تو غلط فہمی ضرور ہے۔ اس اعتراض کا بہترین جواب ایک منکر حدیث کے اعتراض کے جواب میں کفایت اللہ بھائی دے چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک آپ بھی منکر حدیث ہی ہیں۔ لہٰذا آپ پر یہ جواب بالکل فٹ ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

منکر حدیث کو تو انکار حدیث کے ساتھ ساتھ قران کا بھی انکار کردینا چاہئے ۔
کیونکہ منکر حدیث نے جو منطق پیش کی ہے عین اسی منطق کی رو سے قرانی تعلیمات بھی مشکوک ہیں ۔

کیونکہ قران ہی میں ہے کہ :
{ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ }
اگر وه تم(صحابہ)جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے والا ہے[البقرة: 137]۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے صحابہ کے ایمان کو معیار قرار دیا تو جب صحابہ ہی مشکوک ہیں تو پھر قران نے انہیں معیار کیسے قرار دیا ؟؟؟
اب کیا اس آیت کا انکار کردیں ؟؟


دراصل منکرین حدیث ’’صحابی‘‘ کے لغوی معنی اور اصطلاحی معنی میں فرق نہیں کرتے ۔
لغوی اعتبار سے ابن ابی بھی صحابی ہے لیکن اصطلاحی معنی میں وہ صحابی نہیں ہے۔

اصول حدیث میں جب ’’صحابی‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا تو اصطلاحی معنی میں ہوتا ہے یعنی ایسی شخصیت جس نے ایمان کی حالت میں اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہو اور ایمان ہی کی حالت میں اس کی وفات ہوئی ۔

اس تعریف کے مطابق راویان حدیث میں ان لوگوں کو صحابی کہا ہی نہیں جائے گا جو منافق ہوں گے ۔
بالفاظ دیگر احادیث کی سند میں موجود جن رواۃ کو صحابی کہا جاتا ہے انہیں اصطلاحی معنی میں صحابی کہا جاتا ہے ۔

یعنی تحقیق کے بعد صحابی کی تعریف پر جو پورا اترے اصول حدیث میں اسی کو صحابی کہا جائے گا تو اصول حدیث میں کسی کو صحابی کہہ دیا گیا تو گویا کہ اس بات کی تحقیق کی گئی ہے کہ اس نے ایمان کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے اور ایمان ہی کی حالت میں اس کی وفات ہوئی ۔

منکرین حدیث یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ محدثین نے ’’صحابی‘‘ کی ایک خاص تعریف پیش کی ہے اور اس تعریف کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ جو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گیا وہ صحابی ہے بلکہ ایمان کی حالت میں صحبت اور اسی پر وفات شرط ہے ۔ پھر اسی کا نام تو تحقیق ہے ۔

منکرین حدیث کا اعتراض اس وقت بجا ہوتا جب محدثین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے ہرشخص کو ’’صحابی‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ، لیکن معاملہ ایسا نہیں بلکہ محدثین نے ’’صحابی‘‘ کے لئے ایسے شرائط بیان کئے ہیں جن سے منافقین ان میں گڈ مڈ نہیں ہوسکتے۔ اور اسی کانام تو تحقیق ہے پھر اب اس کے بعد اور کون سی تحقیق درکار ہوگی ۔

اس کو مثال سے یوں سمجھیں محدثین ’’ثقہ‘‘ کہہ کر راوی کے عادل وضابط ہونے کو مراد لیتے ہیں۔
اب کوئی اعتراض کرے کہ ثقہ راوی کی بھی تحقیق ہونی چاہئے کیونکہ وہ بھی غیر عادل ہوسکتا ہے یا غیرضابط ہوسکتا ہے ۔ تو یہ بالکل بے تکا اعتراض ہے کیونکہ اصول حدیث کی اصطلاح میں ’’ثقہ‘‘ کہا ہی اسی شخص کو جاتا ہے جو عادل اورضابط ہو ۔

یہی معاملہ صحابی کا ہے کہ اصول حدیث میں صحابی کہا ہی اسی شخصیت کو جاتا ہے جس کا ایمان معلوم ہو۔
آپ کے اعتراضات اگرچہ سمجھنے کی نیت سے نہیں ہوتے ہیں۔ پھر بھی امید ہے کہ ایک لاجیکل بات کو تسلیم کرنے کی ہمت کر سکیں گے اور آئندہ فقط لفظ صحابی کی بنیاد پر کسی پر اعتراض نہیں کریں گے۔ آپ کا اعتراض تب درست ہوگا جب آپ کسی ایسے خاص شخص کا منافق ہونا ثابت کر دیں جو اہل سنت کے نزدیک صحابی اور عادل کا درجہ رکھتا ہو۔ ایسی کوئی مثال پیش کیجئے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ ورنہ آپ کا اعتراض نامعقول ہے۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
ویسے تو قرآن کی گواہی کے بعد کسی اور گواہی کی حاجت نہیں رہنی چاہئے تھی لیکن پھر بھی نہ مانے والوں کے لئے قرآن کے بعد اصح ترین کتاب یعنی صحیح بخاری کی گواہی فاسق پر حد بھی جاری ہوئی
حضرت عثمان نے عبیداللہ بن عدی بن خیارسے فرمایا
ترجمہ از داؤد راز
" جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم انشاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر (گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔"
الراوي: عبيدالله بن عدي بن الخيار المحدث:البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3872
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
ویسے تو قرآن کی گواہی کے بعد کسی اور گواہی کی حاجت نہیں رہنی چاہئے تھی لیکن پھر بھی نہ مانے والوں کے لئے قرآن کے بعد اصح ترین کتاب یعنی صحیح بخاری کی گواہی فاسق پر حد بھی جاری ہوئی
حضرت عثمان نے عبیداللہ بن عدی بن خیارسے فرمایا
ترجمہ از داؤد راز
" جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم انشاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر (گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔"
الراوي: عبيدالله بن عدي بن الخيار المحدث:البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3872
کیا آپ کوئی حوالہ دے سکتے ہیں کہ یہ حد فاسق ہونے کی وجہ سے جاری کی گئی تھی؟
صحیح بخاری کی پوری حدیث کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حد کی وجہ یہ تھی کہ ان پر شراب نوشی کا الزام تھا۔ پوری حدیث یہ رہی:

حدیث نمبر 3872:
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، ‏‏‏‏حدثنا هشام، ‏‏‏‏أخبرنا معمر، ‏‏‏‏عن الزهري، ‏‏‏‏حدثنا عروة بن الزبير، ‏‏‏‏أن عبيد الله بن عدي بن الخيار، ‏‏‏‏أخبره أن المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث قالا له ما يمنعك أن تكلم خالك عثمان في أخيه الوليد بن عقبة وكان أكثر الناس فيما فعل به‏.‏ قال عبيد الله فانتصبت لعثمان حين خرج إلى الصلاة فقلت له إن لي إليك حاجة وهى نصيحة‏.‏ فقال أيها المرء، ‏‏‏‏أعوذ بالله منك، ‏‏‏‏فانصرفت، ‏‏‏‏فلما قضيت الصلاة جلست إلى المسور وإلى ابن عبد يغوث، ‏‏‏‏فحدثتهما بالذي قلت لعثمان وقال لي‏.‏ فقالا قد قضيت الذي كان عليك‏.‏ فبينما أنا جالس معهما، ‏‏‏‏إذ جاءني رسول عثمان، ‏‏‏‏فقالا لي قد ابتلاك الله‏.‏ فانطلقت حتى دخلت عليه، ‏‏‏‏فقال ما نصيحتك التي ذكرت آنفا قال فتشهدت ثم قلت إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم وأنزل عليه الكتاب، ‏‏‏‏وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وآمنت به، ‏‏‏‏وهاجرت الهجرتين الأوليين، ‏‏‏‏وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورأيت هديه، ‏‏‏‏وقد أكثر الناس في شأن الوليد بن عقبة، ‏‏‏‏فحق عليك أن تقيم عليه الحد‏.‏ فقال لي يا ابن أخي أدركت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت لا، ‏‏‏‏ولكن قد خلص إلى من علمه ما خلص إلى العذراء في سترها‏.‏ قال فتشهد عثمان فقال إن الله قد بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب، ‏‏‏‏وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وآمنت بما بعث به محمد صلى الله عليه وسلم‏.‏ وهاجرت الهجرتين الأوليين كما قلت، ‏‏‏‏وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبايعته، ‏‏‏‏والله ما عصيته ولا غششته حتى توفاه الله، ‏‏‏‏ثم استخلف الله أبا بكر فوالله ما عصيته ولا غششته، ‏‏‏‏ثم استخلف عمر، ‏‏‏‏فوالله ما عصيته ولا غششته، ‏‏‏‏ثم استخلفت، ‏‏‏‏أفليس لي عليكم مثل الذي كان لهم على قال بلى‏.‏ قال فما هذه الأحاديث التي تبلغني عنكم فأما ما ذكرت من شأن الوليد بن عقبة، ‏‏‏‏فسنأخذ فيه إن شاء الله بالحق قال فجلد الوليد أربعين جلدة، ‏‏‏‏وأمر عليا أن يجلده، ‏‏‏‏وكان هو يجلده‏.‏ وقال يونس وابن أخي الزهري عن الزهري أفليس لي عليكم من الحق مثل الذي كان لهم‏.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیارنے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبد الر حمن بن اسود بن عبد یغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا تم اپنے ماموں (امیرالمؤمنین) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے، (ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو حضرت عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا)، عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیرخواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں خدا کی پنا ہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فا رغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبد یغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جودیا تھا، سب میں نے بیان کر دیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس (بلانے کے لیے) آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیرخواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیاتھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں (ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لئے آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر (شراب نوشی کی) حد قائم کریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنوا ری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر (ابتداء ہی میں) لبیک کہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم انشاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر (گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اورزہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔


اس واقعہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایک نصرانی نے اسلام قبول کیا، لیکن قبول اسلام کے بعد بھی شراب نوشی کرتا رہا، چونکہ ہو ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا تھا، لہٰذا لوگوں نے ولید رضی اللہ عنہ پر بھی شراب نوشی کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا تھا اور جھوٹے گواہوں کی ظاہری گواہی کی بنا پر ان پر حد جاری ہوئی تھی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے:

حضرت عثمان نے کوفہ میں ولید بن عقبہ کو گورنر مقرر کر دیا تھا۔ طبری۔ 26H/3/1-285

ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی محبوب ترین شخصیت تھے اور ان کے کردار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پانچ سال تک گھر کا دروازہ نہیں لگایا تاکہ کسی سائل کو ان تک رسائی میں مشکل نہ ہو۔ جب کوفہ میں باغی تحریک نے قدم جمانے شروع کیے تو ان کے بعض لوگوں نے ایک شخص ابن حیسمان الخزاعی کو قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ گورنر کے پاس پیش ہوا اور صحابی ابو شریح رضی اللہ عنہ کی گواہی پر فیصلہ ہوا جو واقعے کے عینی شاہد تھے۔ ولید نے معاملے کو حضرت عثمان کے پاس لکھ بھیجا جنہوں نے قصاص میں قاتلوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا اور اس سزا کو نافذ کر دیا گیا۔ اب ان قاتلوں کے باپوں اور دیگر وارثوں نے گورنر کے خلاف محاذ بنا لیا۔ حضرت ولید رضی اللہ عنہ دعوتی ذہن رکھتے تھے اور غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے تھے۔ ان کی دعوت سے ایک عیسائی شاعر ابو زبید نے اسلام قبول کیا تھا اور اکثر ان کے ساتھ رہتا تھا۔ باغیوں نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ ابو زبید کے ساتھ مل کر شراب پیتے ہیں۔ انہوں نے پورے شہر میں یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔

جب یہ بات بیت المال کے سربراہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: "جو ہم سے کوئی عیب چھپائے، ہم اس کی پردہ دری نہیں کرتے اور اس کی ٹوہ نہیں لگاتے۔"طبری۔ 30H/3/1-309
ولید نے اس پر انہیں بلا کر سرزنش کی کہ آپ کا جواب مناسب نہ تھا۔ ایسا جواب تو مشتبہ افراد کے بارے میں دیا جاتا ہے، جبکہ میرا معاملہ تو آپ کے سامنے ہے۔ اس پر ان کے مابین کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔ باغیوں میں سے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شکایت کی تو آپ نے فرمایا: "تم بدگمانی کرتے ہو اور مسلمانوں میں غلط باتیں پھیلاتے ہو اور بغیر اجازت کے چلے آتے ہو، واپس چلے جاؤ۔" ان لوگوں نے اب سازش تیار کی اور چونکہ ولید کے گھر پر دروازہ نہ تھا، اس وجہ سے رات کے وقت ان کی انگوٹھی چرا لائے اور مدینہ آ کر باقاعدہ مقدمہ پیش کیا کہ ہم نے ولید رضی اللہ عنہ کو شراب نوشی کرتے دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ان کی انگوٹھی اتار لائے اور انہیں علم نہیں ہو سکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ولید کو طلب کیا اور ان سے فرمایا: "جھوٹے گواہ کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اے میرے بھائی! تم صبر کرو۔" اس کے بعد انہوں نے ولید پر شراب کی سزا نافذ کی کیونکہ عدالت میں فیصلہ ظاہری گواہی پر ہوتا ہے۔ طبری۔ 3/1-314

طبری ہی کی ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب نوشی کا یہ واقعہ سر تا سر جھوٹ تھا اور محض حضرت ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کروانے کے لیے گھڑا گیا تھا۔ کوفہ کے یہ شرپسند اسی طرح سے حضرت عمر کے زمانے میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما پر بدکاری کی تہمت لگوا کر انہیں معزول کروانے کی کوشش کر چکے تھے۔


یہ تو ہوا آپ کےا عتراض کا جواب۔

اب ایک اصولی بات بھی نوٹ کر لیجئے کہ جس کی جانب کیلانی صاحب نے بھی توجہ دلائی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عصمت کا عقیدہ ہمارا نہیں ہے۔ ان سے انفرادی غلطیاں صادر ہوئی ہیں۔ اور ان پر حد جاری ہوئی ہے۔ وہ عام انسان ہی تھے۔ اور ان پر حد جاری ہو جانا، ہرگز ان کی صحابیت کے منافی بات نہیں۔ اس سے فقط اتنا ثابت ہوتا ہے کہ ان سے قصور ہوا اور اس کی انہیں دنیا میں سزا دی گئی۔ اس سے ان کا نفاق ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
کیا آپ کوئی حوالہ دے سکتے ہیں کہ یہ حد فاسق ہونے کی وجہ سے جاری کی گئی تھی؟
صحیح بخاری کی پوری حدیث کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حد کی وجہ یہ تھی کہ ان پر شراب نوشی کا الزام تھا۔
جب آپ یہ اعتراف فرما چکے کہ شراب نوشی کی بناء پر یہ حد جاری ہوئی تو کیا آپ شراب نوشی کو آپ فسق نہیں مانتے ؟


اس واقعہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایک نصرانی نے اسلام قبول کیا، لیکن قبول اسلام کے بعد بھی شراب نوشی کرتا رہا، چونکہ ہو ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا تھا، لہٰذا لوگوں نے ولید رضی اللہ عنہ پر بھی شراب نوشی کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا تھا اور جھوٹے گواہوں کی ظاہری گواہی کی بنا پر ان پر حد جاری ہوئی تھی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے:
حضرت عثمان نے کوفہ میں ولید بن عقبہ کو گورنر مقرر کر دیا تھا۔ طبری۔ 26H/3/1-285
ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی محبوب ترین شخصیت تھے اور ان کے کردار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پانچ سال تک گھر کا دروازہ نہیں لگایا تاکہ کسی سائل کو ان تک رسائی میں مشکل نہ ہو۔ جب کوفہ میں باغی تحریک نے قدم جمانے شروع کیے تو ان کے بعض لوگوں نے ایک شخص ابن حیسمان الخزاعی کو قتل کر دیا۔ یہ مقدمہ گورنر کے پاس پیش ہوا اور صحابی ابو شریح رضی اللہ عنہ کی گواہی پر فیصلہ ہوا جو واقعے کے عینی شاہد تھے۔ ولید نے معاملے کو حضرت عثمان کے پاس لکھ بھیجا جنہوں نے قصاص میں قاتلوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا اور اس سزا کو نافذ کر دیا گیا۔ اب ان قاتلوں کے باپوں اور دیگر وارثوں نے گورنر کے خلاف محاذ بنا لیا۔ حضرت ولید رضی اللہ عنہ دعوتی ذہن رکھتے تھے اور غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے تھے۔ ان کی دعوت سے ایک عیسائی شاعر ابو زبید نے اسلام قبول کیا تھا اور اکثر ان کے ساتھ رہتا تھا۔ باغیوں نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ ابو زبید کے ساتھ مل کر شراب پیتے ہیں۔ انہوں نے پورے شہر میں یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔
جب یہ بات بیت المال کے سربراہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: "جو ہم سے کوئی عیب چھپائے، ہم اس کی پردہ دری نہیں کرتے اور اس کی ٹوہ نہیں لگاتے۔"طبری۔ 30H/3/1-309
ولید نے اس پر انہیں بلا کر سرزنش کی کہ آپ کا جواب مناسب نہ تھا۔ ایسا جواب تو مشتبہ افراد کے بارے میں دیا جاتا ہے، جبکہ میرا معاملہ تو آپ کے سامنے ہے۔ اس پر ان کے مابین کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔ باغیوں میں سے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شکایت کی تو آپ نے فرمایا: "تم بدگمانی کرتے ہو اور مسلمانوں میں غلط باتیں پھیلاتے ہو اور بغیر اجازت کے چلے آتے ہو، واپس چلے جاؤ۔" ان لوگوں نے اب سازش تیار کی اور چونکہ ولید کے گھر پر دروازہ نہ تھا، اس وجہ سے رات کے وقت ان کی انگوٹھی چرا لائے اور مدینہ آ کر باقاعدہ مقدمہ پیش کیا کہ ہم نے ولید رضی اللہ عنہ کو شراب نوشی کرتے دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ان کی انگوٹھی اتار لائے اور انہیں علم نہیں ہو سکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ولید کو طلب کیا اور ان سے فرمایا: "جھوٹے گواہ کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اے میرے بھائی! تم صبر کرو۔" اس کے بعد انہوں نے ولید پر شراب کی سزا نافذ کی کیونکہ عدالت میں فیصلہ ظاہری گواہی پر ہوتا ہے۔ طبری۔ 3/1-314
طبری ہی کی ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب نوشی کا یہ واقعہ سر تا سر جھوٹ تھا اور محض حضرت ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کروانے کے لیے گھڑا گیا تھا۔ کوفہ کے یہ شرپسند اسی طرح سے حضرت عمر کے زمانے میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما پر بدکاری کی تہمت لگوا کر انہیں معزول کروانے کی کوشش کر چکے تھے۔
یہ تو ہوا آپ کےا عتراض کا جواب۔
اب ایک اصولی بات بھی نوٹ کر لیجئے کہ جس کی جانب کیلانی صاحب نے بھی توجہ دلائی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عصمت کا عقیدہ ہمارا نہیں ہے۔ ان سے انفرادی غلطیاں صادر ہوئی ہیں۔ اور ان پر حد جاری ہوئی ہے۔ وہ عام انسان ہی تھے۔ اور ان پر حد جاری ہو جانا، ہرگز ان کی صحابیت کے منافی بات نہیں۔ اس سے فقط اتنا ثابت ہوتا ہے کہ ان سے قصور ہوا اور اس کی انہیں دنیا میں سزا دی گئی۔ اس سے ان کا نفاق ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔
ماشاء اللہ کیا بات ہے قرآنی آیات اور صحیح احادیث کو صحابہ پرستی میں نہیں مانا اور تاریخ طبری پر ایمان لے آنا کہ جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس میں واقعات کو بالاسناد ذکر کیا گیا ہے
اب جب آپ نے تاریخی کتب کی ریت ڈال ہی دی ہے آپ کی خدمت میں تاریخ ابن کثیر سے حوالہ پیش ہے

ابن کثیر سن 30 ھجری کے حالات اور واقعات کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ
اس سال حضرت عثمان بن عفان نے حضرت ولید بن عقبہ کو کوفہ سے معزول کردیا اور حضرت سعید بن العاص کو اس کا امیر مقرر کیا ان کی معزولی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اہل کوفہ کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھادی پھر مڑ کر ( بڑی ڈھٹائی سے ) کہا کہ تم کو اس سے ذیادہ پڑھا دوں پھر ایک شخص نے کہا کہ ہم آپ کی وجہ سے آج تک ذیادت میں ہیں
تاریخ ابن کثیر جلد ہفتم صفحہ 206
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
جب آپ یہ اعتراف فرما چکے کہ شراب نوشی کی بناء پر یہ حد جاری ہوئی تو کیا آپ شراب نوشی کو آپ فسق نہیں مانتے ؟

ایک بنیادی بات نوٹ کیجئے۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رشوت لینے اور رشوت دینے والا جہنمی ہے۔
حدیث کے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جو تارک صلوٰۃ ہے وہ کافر ہے۔
یہ کہنا ممکن ہے کہ جھوٹ بولنا نفاق کی نشانی ہے۔۔ علی ھذا القیاس۔۔

یہ عمومی بات ہے۔
لیکن ہم کسی کو رشوت لیتے دیکھ کر اسے "جہنمی" قرار نہیں دے سکتے۔
کسی شخص کو جان بوجھ کر نماز چھوڑتے دیکھیں، تو اسے "کافر" قرار نہیں دے سکتے۔
کسی کو جھوٹ بولتے سنیں، تو اسے منافق نہیں کہہ سکتے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی قسم غیر معین ہے۔ اور غیر معین طور پر لعنت، تکفیر وغیرہ جائز ہے۔
دوسری قسم معین تکفیر یا معین لعنت کی ہے۔ جو بہت سی شرائط اور موانع کے ازالہ کے بعد ہی جائز و درست ہو سکتی ہے۔

مفصل وضاحت اور دلائل کے لئے یہ دھاگا ملاحظہ کیجئے:
تکفیر غیر معین اور تکفیرمعین کیا ہے؟ فتنہ تکفیر کی حقیقت!

اگر آپ کو اس سے اختلاف ہے تو اہل تشیع کی اپنی کتب سے ایسے حوالہ جات پیش کئے جا سکتے ہیں جن سے آپ کے اصول پر خود (نعوذباللہ) اہل بیت پر اسی قسم کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی شخصیت کا کوئی قصور، ان کا کوئی گناہ اٹھائیے اور جھٹ سے بس اس پر نفاق، کفر یا لعنت وغیرہ کی تشہیری مہم شروع کر دیجئے۔

ماشاء اللہ کیا بات ہے قرآنی آیات اور صحیح احادیث کو صحابہ پرستی میں نہیں مانا اور تاریخ طبری پر ایمان لے آنا کہ جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس میں واقعات کو بالاسناد ذکر کیا گیا ہے
اب جب آپ نے تاریخی کتب کی ریت ڈال ہی دی ہے آپ کی خدمت میں تاریخ ابن کثیر سے حوالہ پیش ہے
سبحان اللہ۔
کیا آپ کو حضرت ولید بن عقبہ کا نام قرآن میں مل گیا ہے؟ آپ قرآن میں ان کا نام دکھا دیجئے اور وہ آیت پیش کر دیں کہ جس میں انہیں منافق کہا گیا ہو۔ جس آیت کو اہل تشیع پیش کرتے ہیں، اس کا جواب اس دھاگے کی پہلی پوسٹ میں دیا جا چکا ہے۔ آپ واقعی دلیل سے بات کرنا چاہتے ہیں، تو پہلی پوسٹ کا جواب عنایت کیجئے، جن کے جوابات بار بار دئے جا چکے ہوں فقط انہی الزامات اور اعتراضات کو پیش کرنے سے کیا حاصل؟

رہی صحیح احادیث کی بات، تو صحیح بخاری کی جو روایت آپ نے پیش کی ہے، اس میں فقط انہیں کوڑے کی سزا دیا جانا مذکور ہے اور وہ ہمیں بالکل قبول ہے۔ ہاں، آپ کو ضرور تکلیف ہوئی ہوگی کہ انہیں جھوٹی گواہی کی بناء پر کوڑوں کی سزا ہوئی۔ اگر آپ کسی صحیح حدیث سے ثابت کر دیں کہ گواہی جھوٹی نہیں تھی اور وہ واقعی شراب پیا کرتے تھے، تو بھی کوئی بات ہے۔ جب ایسا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں تو ہم پر صحیح حدیث کے انکار کا اعتراض کرنا غلط ہے۔ آپ صحیح حدیث چھوڑئیے تاریخی روایات سے ہی ثابت کیجئے کہ وہ واقعی شراب پیا کرتے تھے اور یہ کہ ان پر لگایا جانے والا الزام جھوٹا نہیں سچا تھا۔۔۔!


ابن کثیر سن 30 ھجری کے حالات اور واقعات کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ
اس سال حضرت عثمان بن عفان نے حضرت ولید بن عقبہ کو کوفہ سے معزول کردیا اور حضرت سعید بن العاص کو اس کا امیر مقرر کیا ان کی معزولی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اہل کوفہ کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھادی پھر مڑ کر ( بڑی ڈھٹائی سے ) کہا کہ تم کو اس سے ذیادہ پڑھا دوں پھر ایک شخص نے کہا کہ ہم آپ کی وجہ سے آج تک ذیادت میں ہیں
تاریخ ابن کثیر جلد ہفتم صفحہ 206
یہ آپ کی عجیب فطرت ہے کہ آپ ایک بات پوری کئے بغیر نئی باتیں مسلسل شروع کرتے جاتے ہیں۔ غالباؐ اس کے پیچھے وجہ یہ ہوتی ہے کہ آپ جواب ملنے کے بعد اپنے اعتراضات کی نامعقولیت سے واقف ہو جاتے ہیں اور اس کو تسلیم کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، واللہ اعلم۔

چار رکعات والے قصہ کی بھی داستان سن لیجئے۔
پہلی بات تو یہ کہ یہ انہی دو گواہان کی کارستانی ہے جنہوں نے حضرت ولید رضی اللہ عنہ پر شراب کی تہمت لگائی تھی۔ اور یہ دونوں گواہ ان کینہ پروروں اور بغض رکھنے والوں میں سے تھے جن کی خیانت اور حقد کی شہادت بار بار مل چکی تھی۔ نیز گواہی میں صلاة کا ذکر اصلاً موجود ہی نہیں ہے چہ جائیکہ دو یا چار رکعت کا ذکر ہو۔
اس واقعہ میں صلاة کی زیادتی کا معاملہ عجیب ہے ۔ یہ خبر حضین بن منذر سے منقول ہے کہ جس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید رضی اللہ عنہ پر حد لگائی یہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے پاس تھے ۔ امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ،ملاحظہ کریں:
(صحیح مسلم کتاب الحدود، باب حد الخمر (کتاب:29 باب: 8 حدیث: 38 (1707)).
چنانچہ روایت میں یہ بات نہیں ہے کہ گواہوں نے اس بات کی گواہی دی ہو کہ ولید رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز دورکعت پڑھائی پھر کہا: کیا اور پڑھاؤں؟ بلکہ ایک نے شراب پینے کی گواہی دی اور دوسرے نے قے کرنے کی ۔ رہی بات دو رکعت صلاة صبح اور کلمۂ( أزیدکم) کی تو یہ حضین کا کلام ہے اور یہ شاہد نہیں تھے اور نہ ہی مزعومہ حادثہ کے وقت کوفہ میں تھے ۔ پھر اس معروف انسان پر تہمت کے اس عنصر کی انھوں نے سند نہیں بیان کی ہے اور تعجب کی بات ہے کہ صحیح مسلم کی یہی روایت حضین ہی سے مروی ہوکر مسند احمد میں تین جگہ وارد ہے اور حضین سے صحیح مسلم میں جس نے روایت کی ہے مسند احمد کی تینوں روایتوں میں اسی نے روایت کی ہے ۔ پہلی اور دوسری روایت میں صلاة کا ذکر نہیں (١/٨٢،١٤٠،ط۔١، ٢/٢٦٤،١١٨٤،ط۔٢) شاید ان کے بعد کسی راوی نے یہ محسوس کیا کہ صلاة کی بات گواہوں کی بات نہیں۔ اس لئے اس نے حد لگائے جانے کے ذکر پر اکتفا کیا۔ مسند احمد کی تیسری روایت (١/١٤٤،١٤٥،ط ۔١، ٢/١٢٢٩ ،ط۔٢)میں حضین کی زبانی یہ مذکور ہے کہ ولید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو صبح کی صلاة چار رکعت پڑھائی اور یہ چیز خود حضین کی زبانی آئی ہوئی صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے لہٰذا کسی ایک روایت میں تحریف ہے جس کا سبب اﷲ ہی کو معلوم ہے ۔ دونوں حالتوں میں صلاة کا ذکر حضین نے کیا ہے اور یہ خود شاہد نہیں ہیں ، نہ ہی انھوں نے کسی شاہد سے روایت کی ہے لہٰذا ان کی بات کے اس حصہ کا کوئی اعتبار نہیں۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
چلیں اس بات کو شروع سے کرتے ہیں
(محمد حسین میمن)

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ Č۝﴾ (الحجرات: ۶)
ترجمہ: (اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔)

اس آیت کی تفاسیر اہل سنت
تفسیر ابن کثیر
وقد ذكر كثير من المفسرين أن هذه الآية نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط

تفسير القرطبي

إن هذه الآية نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط

تفسير البغوي

الآية ، نزلت في الوليدبن عقبة بن أبي معيط

تفسير الطبري

وذكر أن هذه الآية نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط

ان تمام سنی مفسرین نے معین کردیا ہے کہ اس آیت کا نزول ولید بن عقبہ کے لئے ہوا

اس آیت کے تفسیر میں مسند احمد کی روایت پیش کی جاتی ہے انھیں آپ نے ضعیف کہا ہے جبکہ ناصر الدین البانی صاحب نے السلسلة الصحيحة میں اس حدیث کو پیش کیا ہے اور اس پر صحیح کا حکم لگایا ہے

قدمتُ على رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فدعاني إلى الإسلامِ فدخلتُ فيه وأقررتُ به فدعاني إلى الزكاةِ فأقررتُ بها وقلتُ يا رسولَ اللهِ أرجعُ إلى قومي فأدعوهم إلى الإسلامِ وأداءِ الزكاةِ فمن استجابَ لي جمعتُ زكاتَهُ فيُرسلُ إليَّ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ رسولًا إبانَ كذا وكذا ليأتيكَ ما جمعتُ من الزكاةِ فلمَّا جمعَ الحارثُ الزكاةَ ممَّن استجابَ له وبلغَ الإبانَ الذي أرادَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أن يبعثَ إليه احتبسَ عليهِ الرسولُ فلم يأتِهِ فظنَّ الحارثُ أنه قد حدثَ فيه سخطةٌ من اللهِ عزَّ وجلَّ ورسولِهُ فدَعَا بسرواتِ قومِهِ فقال لهم إنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان وَقَّتَ لي وقتًا يُرسلُ إليَّ رسولَهُ ليَقبضَ ما كان عندي من الزكاةِ وليس من رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ الخُلْفُ ولا أرَى حَبْسَ رسولِه إلا من سخطةٍ كانت فانطَلِقوا فنأْتِي رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ وبعثَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ الوليدَ بنَ عقبةَ على الحارثِ ليَقبضَ ما كان عندَهُ ممَّا جمعَ من الزكاةِ فلمَّا أن سارَ الوليدُ حتى بلغَ بعضَ الطريقِ فَرَقَّ فرجعَ وأَتَى رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقال يا رسولَ اللهِ إنَّ الحارثَ منعني الزكاةَ وأرادَ قَتْلِي فضربَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ البَعْثَ إلى الحارثِ فأَقْبَلَ الحارثُ بأصحابِه حتى إذا استقبلَ البَعْثَ وفَصَلَ من المدينةِ لَقِيَهُم الحارثُ فقالوا هذا الحارثُ فلمَّا غَشِيَهُم قال لهم إلى من بُعِثْتُمْ قالوا إليكَ قال ولِمَ قالوا إنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان بعثَ إليكَ الوليدَ بنَ عقبةَ فزعمَ أنكَ منعتَهُ الزكاةَ وأردتَ قتلَه قال لا والذي بعثَ محمدًا بالحقِّ ما رأيتهُ بَتَّةً ولا أتاني فلمَّا دخلَ الحارثُ على رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قال منعتَ الزكاةَ وأردتَ قتلَ رسولي قال لا والذي بعثكَ بالحقِّ ما رأيتهُ ولا أتاني وما أقبلتُ إلا حين احْتُبِسَ عليَّ رسولُ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ خشيتُ أن تكونَ كانت سخطةً من اللهِ عزَّ وجلَّ ورسولِهُ قال فنزلتْ الحجراتُ { يَا أَيُّهَا الذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ } إلى هذا المكانِ { فَضْلًا مِنَ اللهِ وَنِعْمِةً وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيم ٌ}
الراوي: الحارث بن ضرار الخزاعي المحدث:الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 7/232
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح

http://dorar.net/enc/hadith?skeys=إِنْ+جَاءَكُمْ+فَاسِقٌ+بِنَبَأٍ+فَتَبَيَّنُوا+أَنْ+تُصِيبُوا+قَوْمًا+بِجَهَالَةٍ+فَتُصْبِحُوا+عَلَى+مَا+فَعَلْتُمْ+نَادِمِينَ+&xclude=&t=*°ree_cat0=1

ترجمہ: (یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اللہ نے اسے معلوم کر لیا پس ان پر سکونت نازل کر دی اور انہیں بدلے میں ایک قریبی فتح عطا فرمائی۔)
یہ آیت کریمہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی اور بقول آپ کے
سیدنا ولید بن عقبہ اور ان کے بھائی عمارة ''الفتح'' کے دن ایمان لائے۔
اس کے باوجود اس آیت کو ولید بن عقبہ کے حق میں پیش کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی
اس تمام گفتگو اور دلائل سے یہ بات واضح ہوئی کہ اولین ان روایات میں ضعف ہے۔۔۔ نمبر ۲ ۔ اگر کچھ محدثین نے تصریح کی ہے صحت کی تب بھی طعن کرنے والوں کا مقصد حل نہیں ہوتا۔ کیونکہ سیدنا ولید بن عقبہ نے جو اجتہاد کیا تھا اس میں غلطی واقع ہوئی اور اجتہاد کی غلطی سے آدمی فاسق ہر گز نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے اجتہاد میں اجر کا مستحق قرار دیا جاتا ہے
کیا نعوذباللہ یہ اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھا کہ ولید بن عقبہ نے اجتہاد کیا تھا اگر معلوم ہوتا تو آیت اس طرح ہوتی کہ جب کوئی مجتہد تمہارے پاس خبر لائے ۔۔۔۔الخ انا للہ وانا الیہ راجعون

تم فرماؤ اسے تو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چُھپی بات جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
الفرقان: 6

( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
چلیں آپ معین طور پر کسی کو فاسق کہنے کے لئے شرائط کے بھی قائل ہوئے اور شراب اور چار رکعات والے قصوں میں جھوٹی گواہی کے بھی۔ اب آتے ہیں قرآن کی آیت سے آپ کےا ستدلال کی جانب۔

اس آیت کی تفاسیر اہل سنت
تفسیر ابن کثیر
وقد ذكر كثير من المفسرين أن هذه الآية نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط

تفسير القرطبي

إن هذه الآية نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط

تفسير البغوي

الآية ، نزلت في الوليدبن عقبة بن أبي معيط

تفسير الطبري

وذكر أن هذه الآية نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط

ان تمام سنی مفسرین نے معین کردیا ہے کہ اس آیت کا نزول ولید بن عقبہ کے لئے ہوا


آپ کو سارے اصول سمجھانے پڑ رہے ہیں۔
پہلی بات یہ نوٹ کیجئے کہ کسی مفسر یا چند مفسرین کا قرآن کی تفسیر میں کچھ لکھ دینا اسے ہم پر حجت نہیں بنا دیتا۔ خصوصاً جبکہ معاملہ ایک صحابی کے عادل یا فاسق ہونے کا ہو۔ اگر آپ اس سے متفق نہیں تو اہل تشیع کی کتب تفاسیر سے کچھ نادر و نایاب واقعات پیش کر کے آپ کا مؤقف جاننے کی جسارت کرنا چاہوں گا۔

دوسری بات یہ کہ ان مفسرین کا آیت کا شان نزول ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے لئے بیان کرنے کی وجہ مسند احمد کی روایت تھی۔ اور اس روایت کے بارے میں بادلائل ثابت کیا گیا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ لہٰذا جب یہ روایت ہی ہم پر حجت نہیں ہے تو اس روایت سے استدلال کرنے والے علماء، مفسرین ، فقہاء وغیرہ بالاولیٰ ہم پر حجت قرار نہیں دئے جا سکتے۔

اس آیت کے تفسیر میں مسند احمد کی روایت پیش کی جاتی ہے انھیں آپ نے ضعیف کہا ہے جبکہ ناصر الدین البانی صاحب نے السلسلة الصحيحة میں اس حدیث کو پیش کیا ہے اور اس پر صحیح کا حکم لگایا ہے
محدثین میں کسی روایت کی تصحیح و تضعیف میں اختلاف ہو جانا عام ہے۔ اصل چیز ان کے دلائل ہیں۔ البانی صاحب رحمہ اللہ سے اس حدیث کی تصحیح نقل کرنا ہر گز مفید نہیں جب تک کہ راویوں پر بیان کردہ اعتراضات کو دور نہ کر دیا جائے۔ اور اس روایت کے ضعیف ہونے کی کئی وجوہات اوپر نقل کی جا چکی ہیں۔

ترجمہ: (یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اللہ نے اسے معلوم کر لیا پس ان پر سکونت نازل کر دی اور انہیں بدلے میں ایک قریبی فتح عطا فرمائی۔)
یہ آیت کریمہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی اور بقول آپ کے
سیدنا ولید بن عقبہ اور ان کے بھائی عمارة ''الفتح'' کے دن ایمان لائے۔
اس کے باوجود اس آیت کو ولید بن عقبہ کے حق میں پیش کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی
یہ آپ کا ایک اور بہتان ہے۔
یہ آیت کسی نے بھی ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے حق میں پیش نہیں کی ہے۔
بلکہ بالعموم تمام صحابہ کی فضیلت میں پیش کی گئی ہے۔

کیا نعوذباللہ یہ اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھا کہ ولید بن عقبہ نے اجتہاد کیا تھا اگر معلوم ہوتا تو آیت اس طرح ہوتی کہ جب کوئی مجتہد تمہارے پاس خبر لائے ۔۔۔۔الخ انا للہ وانا الیہ راجعون


مقصد یہ تھا کہ قرآن کی آیت کا شان نزول خاص ہو سکتا ہے لیکن معنی اور مفہوم کے اعتبار سے وہ اپنے عموم پر ہی ہوتی ہیں، انہیں شان نزول کے ساتھ ہی مخصوص کرنا درست نہیں۔
کہا یہ گیا تھا کہ اگر برسبیل تنزل مان لیا جائے کہ یہ آیت حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی بھی ہو، تب بھی قرآن نے اس میں عمومی حکم بیان کیا ہے کہ جب بھی کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کرنی چاہئے۔ یہ ضروری نہیں کہ واقعہ کی بنیاد بننے والے صحابی ہی کو فاسق کہا جا رہا ہو۔ بلکہ یہاں ایک عمومی حکم بیان کیا گیا ہے۔ اگر آپ اختلاف کرتے ہیں تو یہ آیت ملاحظہ کیجئے:


فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿١٧﴾
سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے

یہاں بھی حقیقی فاعل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اسے اپنی جانب منسوب فرما رہے ہیں۔ فعل کسی کا نسبت کسی کی جانب۔

آپ حضرات کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ یا تو مخالف مفہوم کشید کرتے ہیں، اور یا پھر کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جمع کر کے بھان متی کا کنبہ جوڑنا چاہتے ہیں۔ جس بے دردی سے ادھر ادھر کی چند باتوں کو لے کر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پانے والے، جہاد میں شریک رہنے والے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر زبان درازیاں کرتے ہیں۔ آپ کے اصول پر تو اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں بھی غلیظ ذہنیت رکھنے والے نامناسب کلمات کہہ سکتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے قرآن کی یہ آیات:

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا. لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا[الفتح: ۱، ۲]
بے شک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح دی تاکہ اللہ تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے
فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ [محمد: ۱۹]
پس جان لو کہ سوائے الله کے کوئی معبود نہیں اور اپنے اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگیئے اور الله ہی تمہارے لوٹنے اور آرام کرنے کی جگہ کو جانتا ہے
اہل تشیع کے اصول پر اگر یہاں فتح مبین میں شامل اہل بیت اور خود رسول اللہ ﷺ کو نعوذباللہ ، ثم نعوذباللہ گناہ گار قرار نہیں دیا جا سکتا تو فقط صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر یہ زبان درازیاں کیوں؟ آپ بالا آیات کی تاویلات کرتے ہیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہی رویہ کیوں کر نہیں اپناتے؟
 
Top