• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دنیا میں اپنے تمام مسائل کا حل ایک عمل۔۔۔کیا ایسا ممکن ہے؟

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,432
پوائنٹ
463
بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

آج جس مسئلے کی طرف میں توجہ دلا رہی ہوں وہ روز بروز اپنے عروج کی حدوں تک پہنچ رہا ہے۔یہ پھیلتا ہوا رجحان دعا اور اذکار کے متعین تعداد کو پڑھنے سے متعلق ہے۔معاشرتی زندگی میں ہمارے 11 مسائل جن میں کاروبار،شادی،خاندانی چپقلش،مذہب،بے سکونی اور دوسرے تیسرے امور میں ان اذکار کو ایک تعداد یا بغیر تعداد کا تعین کیئے پڑھنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔3 سے 4 ماہ میں نے ذاتی مشاہدات کیئے ، اس حوالے سے لوگوں کے پختہ عقیدے دیکھے اور ان کا یہ کامل ایمان تھا کہ اس سے ان کی زندگی کے مسائل حل ہوئے ہیں۔لوگوں کا اس طرف مائل ہونا اس لیے بھی ہے کہ یہ تعویز ، جادو نہیں ہے۔سب سے اہم اہل حدیث گھرانے بھی اس عمل کو قابل تحقیق نہیں سمجھتے اور اس پر عمل پیرا ہیں۔
یہ اذکار اللہ تعالی کے ناموں میں سے کوئی ایک منتخب نام کو 300 یا کم زیادہ کر کے پڑھنا ہے۔
سورت مزمل اور سورت بقرۃ کی 41 دن تلاوت کرنا ہے۔مکمل گارنٹی ہے کہ اکتالیس دن میں مسائلہ حل ہو جائے گا۔واضح رہے کہ یہ اللہ تعالی کے نام ، قرانی آیات اور ثابت شدہ اذکار تعداد متعین کر کے پڑھنے کا عمل ہے۔اس حوالے اسلام سوال جواب پر بھی جوابات دئیے گئے ہیں اور کچھ اور حوالہ جات بھی میرے پاس محفوظ تھے۔جو کہ لیپ ٹاپ میں کچھ فنی خرابی کے باعث اور فی الحال موبائل کے استعمال سے ، میں وہ تحقیق یہاں لگانے سے قاصر ہوں۔معذرت کے ساتھ!
اہل علم سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اس مسئلے پرتوجہ فرمائیں کہ کیا اس طرح پڑھنا جائز ہے؟
ًمیرے علم کی حد تک اور عینی مشاہدہ کی بنا پر سلفی مدارس اور جماعۃ دعوۃ سے منسلک عالم دین اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں سمجھتے۔ایسا کیوں ہے؟؟؟
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
تمام مسنون اذکار کو روز مرہ وظائف میں شامل رکھنا، بعض کا ضرورت کےمطابق چناؤ کرنا اور استغفار کی فضیلت !

اول:


ذکر کی فضیلت اور اسکا شرف دین اسلام میں بالکل واضح ہے، اور اس کی فضیلت کیلئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی ذکر الہی میں مشغول لوگوں کا ذکر اپنے پاس فرماتا ہے، اور ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب :"الوابل الصيب من الكلم الطيب" میں ذکر کرتے ہیں کہ ذکر الہی کے سو سے زیادہ فوائد ہیں، پھر آپ نےبہت سے فوائد شمار کر وائے۔

دوم:


شرعی عمل یہ ہے کہ ذکر الہی کرنے والا شخص اذکار کے تمام الفاظ کو وقتا فوقتا اپنے اذکار میں شامل کرتا رہے، اور کسی ایک پر پابندی کر کے دوسرے اذکار کو نظر انداز مت کرے، تا کہ انسان اللہ کی طرف سے احسان کردہ تمام اذکار کا اجر و ثواب سمیٹ سکے، چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
" کسی شخص کو فضائل اعمال کے بارے میں کوئی حدیث معلوم ہو تو اس پر کم از کم ایک بار ضرور عمل کرے، تا کہ اپنا شمار اس پر عمل کرنے والوں میں کروا سکے، اور مطلق طور پر ترک کرنا مناسب نہیں ہے، بلکہ قدر امکان اس پر عمل کرنا چاہیے" انتہی
"الأذكار" (ص: 8)

سوم:


یہ بات ثابت ہے کہ :
" سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ " ہر چیز کی نماز ہے، اور اسی کی وجہ سے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے؛ چنانچہ امام احمد نے مسند : (6583) میں روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن عمرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (بیشک اللہ کے نبی نوح صلی اللہ علیہ وسلم جب قریب المرگ تھے، تو انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے کہا: "میں تمہیں وصیت کرنے والا ہوں: تمہیں دو چیزوں کا حکم دونگا، اور دو چیزوں سے روکوں گا: میں تمہیں "لَا اِلَہَ اِلَّا اللَّہُ" کا حکم دیتا ہوں؛ کیونکہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں ہوں، اور "لَا اِلَہَ اِلَّا اللَّہُ" دوسرے پلڑے میں ہو تو "لَا اِلَہَ اِلَّا اللَّہُ" والا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک ٹھوس حلقے کی طرح ہوں تو انہیں "لَا اِلَہَ اِلَّا اللَّہُ" پاش پاش کردے، اور "سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ" ہر چیز کی نماز ہے، اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔۔۔ ") البانی رحمہ اللہ نے اسے "سلسلہ صحیحہ": (134) میں صحیح کہا ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین کلام یہی ذکر ہے، چنانچہ مسلم: (2731) میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کیا میں تمہیں اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین کلام کے بارے میں نہ بتلاؤں؟) میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین گفتگو کے بارے میں بتلائیں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


("سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ" اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین چیز ہے)

سائل بھائی کا یہ کہنا کہ: " گناہوں کی وجہ سے انسان کو رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور استغفار سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، اس لئے استغفار کرنا حصولِ رزق کا باعث ہے " یہ بات مفہوم کے اعتبار سے اجمالی طور پر درست ہے، چنانچہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"فرمانِ باری تعالی :

{وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ}
ترجمہ: اور تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو، اور اسی کی طرف رجوع کرو، وہ تمہیں ایک وقت مقررہ تک اچھا فائدہ دے گا، اور ہر فضیلت والا کام کرنیوالے کو فضیلت بھی بخشے گا[هود : 3]

اسی طرح قوم ہود کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:

{وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ}
ترجمہ: اے میری قوم ! تم اپنے رب سے مغفرت مانگو، اور اسی کی طرف توبہ کرو، وہی تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا، اور تمہاری موجودہ قوت میں اضافہ بھی فرمائے گا، لہذا تم مجرم بن کر رو گردانی مت کرو[هود : 52]

بلاشبہ استغفار گناہوں کے مٹانے کا باعث بنتا ہے، اور جب گناہ مٹ جائیں تو اس پر مرتب ہونے والے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں، اور اس طرح انسان وافر رزق، اور ہر مصیبت و پریشانی سے نجات پا لیتا ہے" انتہی
"فتاوى نور على الدرب" (3/299) -ترتیب مکتبہ شاملہ

جبکہ یہ حدیث کہ : (آدمی کو گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے) اسے ابن ماجہ: (4022) نے روایت کیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "ضعیف ابن ماجہ" میں ضعیف قرار دیا ہے۔

چہارم:


بخاری: (6405) اور مسلم: (2691) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص
" سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ " ایک دن میں سو مرتبہ کہے تو اس کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں، چاہے سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں)

چنانچہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ یہ ذکر گناہوں کو مٹا تا ہے، تاہم یہ استغفار کے قائم مقام نہیں ہوسکتا، لہذا توبہ، گناہوں کی بخشش، اور اللہ تعالی سے معافی مانگنے کے موقع پر استغفار کرنا اس ذکر سے افضل ہوگا؛ کیونکہ استغفار کرتے وقت انسان اپنے گناہوں کو تصور میں ضرور لاتا ہے، اسی طرح خوف الہی دل میں محسوس کرتا ہے، اورساتھ میں اللہ سے معافی کی امید بھی ہوتی ہے، چنانچہ یہ ذکر استغفار کی جگہ نہیں لے سکتا؛'

یہی وجہ ہے کہ مسلم : (484) میں عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ :

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ "

[ترجمہ: اللہ تعالی پاک ہے اور اس کی حمد کے ذریعے اسی کی پاکی بیان کرتا ہوں، اللہ تعالی سے بخشش چاہتا ہوں، اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں]

بہت ہی کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : "میں آپ سے عرض کیا:

"یا رسول اللہ! میں آپکو دیکھتی ہوں کہ آپ کثرت کے ساتھ
"سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ "کہتے رہتے ہیں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے میرے رب نے خبر دی ہے کہ میں اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا، چنانچہ جب میں نے وہ علامت دیکھ لی تو میں نے کثرت سے: "سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ " کہنا شروع کر دیا، میں نے یہ دیکھا تھا کہ: (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ )[ترجمہ؛ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے گی] سے مراد فتح مکہ ہے، اور ( وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا)[ترجمہ: اور آپ لوگوں کو دینِ الہی میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھیں گے٭ تو اب اپنے رب کی حمد بیان کر، اور اسی سے بخشش طلب کر، بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا ہے]"



چنانچہ مذکورہ بالا بیان کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
"سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ" کیساتھ استغفار بھی ملایا، لہذا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ محض تسبیح کرتے رہنا استغفار کا قائم مقام نہیں بن سکتا، اور نہ ہی استغفار تسبیح کا قائم مقام بن سکتا ہے؛ بلکہ بندے سے ہر دو امر مطلوب ہیں، ہاں یہ الگ بات ہے کہ حالات کے مطابق ایک دوسرے کو فوقیت مل سکتی ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:


"یہ بہت ہی مفید نکتہ ہے، جس کیلئے انسان کو انتہائی حاذق اور دانشمند ہونا چاہیے، اسی طرح انسان کو اس بات کا ادراک ہو کہ کسی چیز کی مخصوص فضیلت، اور چند حالات کی وجہ سے اسے حاصل ہونے والی عارضی فضیلت میں فرق ہے، اس لئے ہر چیز کو اس کا پورا پورا حق دے، اور ہر عمل مناسب وقت و حالت میں کرے؛ بالکل ایسے ہی جیسے آنکھ کا اپنا مقام ہے، تو پاؤں کا اپنا ہے، اسی طرح پانی کیلئے مخصوص حالت ہے، تو گوشت کیلئے کوئی اور حالت ہے!!

اور مختلف اشیاء کے ماتب کا خیال رکھنے سے ہی امر و نہی کا نظام کامل ترین صورت اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی ہمیں توفیق دے۔

بالکل ایسے ہی جیسے صابن اور اشنان وغیرہ سے کپڑے کو دھونا مخصوص وقت میں مفید ثابت ہوتا ہے، جبکہ خوشبو والی دھونی اور عرق گلاب لگانے کا اپنا ایک وقت ہے، ۔

میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے ایک دن کہا : "کسی اہل علم سے پوچھا گیا ہے کہ: انسان کیلئے تسبیح افضل ہے یا استغفار؟"(آپ کیا فرماتے ہیں)، تو انہوں نے فرمایا: اگر کپڑا پہلے ہی پاک صاف ہو تو خوشبو والی دھونی، اور عرق گلاب اس کیلئے مفید ہوتا ہے، اور اگر کپڑا میلا کچیلا ہو تو صابن و گرم پانی اس کیلئے زیادہ مفید ہیں!!

پھر مجھے انہوں نے فرمایا: "جب ہمارے کپڑے ہی میلے ہیں تو [تسبیح کا کیا فائدہ ، ہمیں استغفار ہی کرنا پڑے گا]"" انتہی
"الوابل الصیب" (232-233)

- واللہ اعلم -آپ رحمہ اللہ کا مقصد یہ تھا کہ: انسان کو ہر وقت و ہر لمحے استغفار کی ضرورت رہتی ہے۔

اس طرح سائل کو چاہیےکہ تسبیح و تحمید سے کنارہ کشی نہ کرے، جیسے کہ پہلے بھی اس بات کا ذکر ہو چکا ہے، وہ انہیں بھی ساتھ میں ملا کر چلے، اور مخصوص حالات کے پیش نظر کسی ایک ذکر کو ترجیح بھی دے سکتا ہے، یہاں سے فقہ العبودیت، اور اعمال کی درجہ بندی کا باب شروع ہو جائے گا۔

استغفار کی فضیلت کے بارے میں مزید جاننے کیلئے سوال نمبر: (104919) کا مطالعہ کریں

اور استغفار کے مختلف الفاظ جاننے کیلئے سوال نمبر: (39775) کا جواب ملاحظہ کریں

اور " سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ " کا معنی جاننے کیلئے سوال نمبر: (104047) کا مطالعہ فرمائیں۔

واللہ اعلم.



الاسلام سؤال وجواب


http://islamqa.info/ur/194733
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
اذكار و دعاؤں ميں معين عدد كى تحديد
اگر شريعت ميں تحديد نہ كى گئى ہو تو كيا اذكار اور دعاؤں كى تحديد كرنا جائز ہے، مثلا يا لطيف ( 29 ) بار اور يا قھار ( 306 ) اور حسبنا اللہ و نعم الوكيل ( 450 ) بار الخ كہنا يا كہ ايسا كرنا صحيح نہيں، كيونكہ كتاب و سنت ميں مجھے تو اس كے استعمال كے جواز كى كوئى دليل نہيں ملى ؟

الحمد للہ:

يہ كلمات اور اذكار اس محدود عدد ميں ذكر كرنے كى كوئى اساس اور دليل نہيں اور نہ ہى صحيح ہيں، غالبا يہ بعض بدعتى قسم كے لوگوں كى بلكہ صوفيوں كى جانب سے تحديد كى گئى ہے وہ اپنى جانب سے اذكار اور ورد كى تحديد كرتے ہوئے كہتے ہيں:

اگر كوئى يہ كلمات اتنى بار پڑھے تو اسے اتنا اجروثواب حاصل ہو گا اور اس كا فلان كام ہو جائيگا، اور اس كى حفاظت ہو گى، اور جو فلاں ورد كريگا اسے اتنے لاكھ نيكياں مليں گى.

يہ معلوم ہونا چاہيے كہ يہ ان امور ميں شامل ہے جن كا وحى كے بغير جاننا ممكن نہيں، اس ميں قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ اذكار اور دعائيں دو قسموں پر مشتمل ہيں:

پہلى قسم:

وہ اذكار جو كتاب و سنت ميں وارد ہيں اور كسى وقت يا جگہ يا حالت كے ساتھ مقيد ہيں، تو يہ قسم اسى طرح ادا كى جائيگى جس طرح وہ وارد ہے اور جس جگہ اور جس وقت اور حالت يا الفاظ ميں بيان ہوا ہے وہيں اور اسى طرح ادا كى جائيگى يا كسى ہيئت ميں آئى ہے وہ بغير كسى كمى و زيادتى كے اسى طرح دعا پڑھى جائيگى.

دوسرى قسم:

ہر وہ دعا اور ذكر جو مطلق ہے اور اسے كسى وقت يا جگہ كے ساتھ مقيد نہيں كيا گيا: اس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

وہ دعا اور ذكر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت اور وارد ہو تو وہى الفاظ ادا كيے جائينگے اور اس كے ليے كوئى وقت يا جگہ يا عدد كى تحديد نہيں كى جائيگى.

دوسرى حالت:

وہ ذكر اور دعا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے تو ثابت نہ ہو بلكہ دعا كرنے والا شخص اپنى جانب سے ادا كرے يا پھر وہ سلف سے منقول ہو تو بندے كے ليے يہ دعا اور ذكر پانچ شروط كے ساتھ جائز ہو گا:

1 - وہ بہتر اور اچھے الفاظ اختيار كرے، كيونكہ يہ بندے كا اپنے رب اور معبود كے ساتھ مناجات كا مقام ہے.

2 - وہ الفاظ عربى معانى كے موافق ہوں.

3 - وہ دعاء كسى بھى شرعى محذور و ممانعت سے خالى ہو، مثلا يہ كہ وہ اللہ كے علاوہ كسى دوسرے سے مدد طلب كرنے وغيرہ پر مشتمل نہ ہو.

4 - وہ مطلقا ذكر اور دعاء ميں سے ہو اسے كسى وقت يا جگہ يا حالت كے ساتھ مقيد نہ كيا جائے.

5 - وہ اسے سنت اور طريقہ نہ بنا لے كہ اس كى مواظبت اور التزام كرے اور تسلسل كے ساتھ ادائيكى كرنا شروع كر دے. اھـ

ماخوذ از كتاب: تصحيح الدعاء للشيخ بكر ابو زيد ( 42 ) كچھ تصرف كے ساتھ.

اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى بنا پر سوال ميں مذكور الفاظ تو شرعى ہيں اور كتاب و سنت ميں وارد ہيں، ليكن انہيں اس تعداد ميں محدود كرنا بدعت ہے جس كا التزام كرنا صحيح نہيں، بلكہ انسان دعاء كے دوران ان صفات كا واسطہ دے كر اپنے رب سے مناجات كرے اور اس كے علاوہ باقى سب اسماء اللہ كے ساتھ دعا مانگے، كسى اسم كے معين عدد اور جگہ كى اپنى جانب سے تحديد مت كرے.

بلكہ جو شريعت ميں مخصوص اور محدود وارد ہو اس پر ہم التزام كريں، اور جو وارد نہيں اسے ہم اپنى جانب سے مخصوص نہيں كر سكتے، كيونكہ يہ مقام نبوت پر تعدى اور ظلم و زيادتى شمار ہو گى.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد

http://islamqa.info/ur/22457
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
یہ اذکار اللہ تعالی کے ناموں میں سے کوئی ایک منتخب نام کو 300 یا کم زیادہ کر کے پڑھنا ہے۔
سورت مزمل اور سورت بقرۃ کی 41 دن تلاوت کرنا ہے۔مکمل گارنٹی ہے کہ اکتالیس دن میں مسائلہ حل ہو جائے گا۔واضح رہے کہ یہ اللہ تعالی کے نام ، قرانی آیات اور ثابت شدہ اذکار تعداد متعین کر کے پڑھنے کا عمل ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
محترمہ بہن جی!
اللہ تعالی کے ذاتی یا صفاتی نام کا معین و غیر معین تعداد میں اس طرح ورد کرنا مثلا

یا اللہ! یا اللہ! یا اللہ!۔۔۔۔
یا رحمن! یا رحمن! یا رحمن!۔۔۔۔۔
اللہ! اللہ! اللہ!۔۔۔۔
یا لطیف! یا لطیف! یا لطیف!۔۔۔۔۔
اس کا کوئی مطلب نہیں بنتا جب تک کہ جملہ مکمل نہ ہو، مثلا
یا اللہ! مجھ پر رحم کر!
یا رحمن! مجھے صحت عطا کر!
اللہ! مجھے کامیابی دے!
دوسری بات یہ کہ اگر غیر مسنون طریقے سے ورد کرنے سے اللہ تعالی کسی مسلمان کے سارے مسائل حل کر بھی دے تو وہ طریقہ پھر بھی بدعت ہی کہلائے گا۔
اللہ تعالی تو بتوں کے آگے سجدے کرنے والے کو بھی دے دیتا ہے۔۔ واللہ اعلم!
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,381
ری ایکشن اسکور
2,696
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کچھ امور ایسے ہیں کہ ان امور سے میں خود کو دور رکھنا ہی مناسب سمجھتا ہوں، یہ دین اسلام و شریعت محمدی میں انتہائی خاص امور ہیں، وہ ہیں، جن جادو اور اس کا علاج، خواب کی تعبیر وغیرہ!
معاملہ یہاں یوں ہے کہ یہاں جس تعلق سے اذکار کا ذکر ہے ، اس میں اذکار کے ذریعہ علاج بھی شامل ہے،
ایک بات تو بالکل درست نہیں، کہ کوئی یہ کہہ دے کہ یہ یہ اذکار یا وہ اذکار اتنی بارکئے جائیں تو
مکمل گارنٹی ہے کہ اکتالیس دن میں مسائلہ حل ہو جائے گا۔
یہ انتہائی سنگین قسم کا دعوی ہے!
اللہ نے کسے کب شفاء دینی ہے یا آزمائش سے نجات دینی ہے ، یہ اللہ ہی جانتا ہے، ایسی گارنٹی دینا کسی بشر کے بس میں نہیں، الا یہ کہ انبیاء ہوں کہ جن پر وحی نازل ہوتی ہے!
 
Last edited:

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,421
پوائنٹ
521
السلام علیکم

مکمل گارنٹی ہے کہ اکتالیس دن میں مسئلہ حل ہو جائے گا۔
جہاں تک میں جانتا ہوں گارنٹی کے حوالہ سے تو ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ کہتے ہیں کہ "اتنی مرتبہ یا اتنے دن اتنی تعداد میں" اگر کوئی پوچھے کہ اگر اتنے دن میں کام نہ ہوا تو پھر یہ کہا جاتا ھے کہ کام ہونے تک جاری رکھیں۔

والسلام
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,383
ری ایکشن اسکور
17,081
پوائنٹ
1,033
سچ تو یہ ہے کہ الله کو ایک ہی بار یاد کر لینا کافی ہے، ایسا نہیں ہے کہ سو مرتبہ الله سے دعا کرے تب ہی دعا قبول ہوگی۔ دل سے الله کو یاد کیجئے الله ضرور قبول کرے گا
 
Top