• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دور جدید کے محقیقین کے من پسند ترجمے

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
530
ری ایکشن اسکور
2,182
پوائنٹ
171
السلام علیکم محترم علماء کرام ایک صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے اس آیت مبارکہ کا ترجمہ ایسا کیا
اویزوجھم ذکرانا واناثا
اور یا جوڑ بناکر دیتے ہیں ان کو مذکر اور موءنث یعنی کچھ انسانوں کو اللہ تعالی ایسے پیدا کردیتے ہیں جو مذکر بھی ہوتے ہیں اور موءنث بھی اور بقول ان صاحب کےحضرت مریم علیہا السلام ایسی ہی تھی (نعوذ باللہ ) ا
یہ صاحب چونکہ حدیث کو مانتے نھیں غالبا اور نا کسی مفسر کو تو گرامر کے لحاظ سے اس ترجمے کی تغلیط کیسی ہوگی ؟؟؟ واذاالنفوس زوجت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے نا کہ جب نفوس کو ملایا
جایگا اب اگر وہ زوجت کے ترجمے کی طرح اویزوجہم کا ترجمہ وہ یہ کرے کہ ملاکر دیتاہے ان کو اور ذکران بروزن فعلان بضم الفاء وسکون العین کا وزن تو ثلاثی مجرد کے اوزان میں بھی ہے نا اسی طرح اناث بروزن فعال بکسرالفاء بھی ثلاثی مجرد کی مصادر کے اوزان میں موجود ہے تو اگر وہ یہ کہیں کہ یہ دونوں الفاظ یھاں مصدری معنی پر ہے تو پورا ترجمہ یہ بنیگا کہ یا ملاکردیتا ہے ان کو مذکر اور موءنث یعنی ایک ایسا انسان جو مذکر بھی ہو اور موءنث بھی ہو توگرامر کے لحاظ سے اس کا جواب کیا ہوگا؟؟ کیا یہ ترجمہ یا حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں یہ خیال صحیح ہے ؟؟ براے مہربانی مجلس علماء سے رہنمائی کا درخواست ہے
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
السلام علیکم محترم علماء کرام ایک صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے اس آیت مبارکہ کا ترجمہ ایسا کیا
اویزوجھم ذکرانا واناثا
اور یا جوڑ بناکر دیتے ہیں ان کو مذکر اور موءنث یعنی کچھ انسانوں کو اللہ تعالی ایسے پیدا کردیتے ہیں جو مذکر بھی ہوتے ہیں اور موءنث بھی اور بقول ان صاحب کےحضرت مریم علیہا السلام ایسی ہی تھی (نعوذ باللہ ) ا
یہ صاحب چونکہ حدیث کو مانتے نھیں غالبا اور نا کسی مفسر کو تو گرامر کے لحاظ سے اس ترجمے کی تغلیط کیسی ہوگی ؟؟؟ واذاالنفوس زوجت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے نا کہ جب نفوس کو ملایا جایگا

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
وہ لوگ خود ﴿ وإذا النفوس زوجت ﴾ ۔۔۔ سورۃ التکویر کا ترجمہ کر رہے ہیں:
کہ ’’جب نفوس کو ملایا جائے گا۔‘‘
گویا زوجت کا مطلب ’ملانا‘ ہوا۔

اب اگر وہ زوجت کے ترجمے کی طرح اویزوجہم کا ترجمہ وہ یہ کرے کہ ملاکر دیتاہے ان کو اور ذکران بروزن فعلان بضم الفاء وسکون العین کا وزن تو ثلاثی مجرد کے اوزان میں بھی ہے نا اسی طرح اناث بروزن فعال بکسرالفاء بھی ثلاثی مجرد کی مصادر کے اوزان میں موجود ہے تو اگر وہ یہ کہیں کہ یہ دونوں الفاظ یھاں مصدری معنی پر ہے تو پورا ترجمہ یہ بنیگا کہ یا ملاکردیتا ہے ان کو مذکر اور موءنث یعنی ایک ایسا انسان جو مذکر بھی ہو اور موءنث بھی ہو توگرامر کے لحاظ سے اس کا جواب کیا ہوگا؟؟
سورۃ التکویر کی طرح یہاں بھی ﴿ أو يزوجهم ذكرانا وإناثا ﴾ ۔۔۔ سورة الشورىٰ کا ان کا کیا گیا ترجمہ
کہ ’’یا ملا کر دیتا ہے ان کو مذکر اور مؤنث‘‘
بالکل صحیح ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں ملی جلی اولاد (لڑکے اور لڑکیاں) دونوں دیتے ہیں)

اصل گڑبڑ تو ’یعنی‘ کے بعد ہے کہ (یعنی ایک ایسا انسان جو مذکر بھی ہو اور موءنث بھی ہو یعنی ہیجڑا) اور واضح سی بات ہے کہ ’یعنی‘ کے بعد کی یہ تشریح تو ان کی ذاتی ہے، جو قرآن کریم کے کسی جملہ کا ترجمہ نہیں ہے۔

تو یہ تشریح کیسے درست ہوسکتی ہے؟ جبکہ وہ اس آیت کریمہ کے سیاق وسباق کے بھی بالکل مخالف ہے۔ اس آیت کریمہ کا سیاق وسباق دیکھئے:
﴿ لِلَّـهِ مُلكُ السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ ۚ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشاءُ إِنـٰثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشاءُ الذُّكورَ‌ ٤٩ أَو يُزَوِّجُهُم ذُكر‌انًا وَإِنـٰثًا ۖ وَيَجعَلُ مَن يَشاءُ عَقيمًا ۚ إِنَّهُ عَليمٌ قَديرٌ‌ ٥٠ ﴾ ۔۔۔ سورة الشورىٰ
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے (صرف) بیٹیاں دیتا ہے (سيدنا لوط﷤ کی طرح) اور جسے چاہتا ہے (صرف) بیٹے دیتا ہے (سیدنا ابراہیم﷤ کی طرح) (49) یا انہیں ملا کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی (سیدنا محمدﷺ کی طرح) اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے (سیدنا یحییٰ﷤ کی طرح)، وه بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے (50)

ان آیات میں غور کریں تو اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور اولاد دینا بھی صرف اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ اس بات کا تو سب کو علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شے کے دو جوڑے بنائے ہیں: ﴿ وَمِن كُلِّ شَىءٍ خَلَقنا زَوجَينِ لَعَلَّكُم تَذَكَّر‌ونَ ٤٩ ﴾ ۔۔۔ سورة الذاريات اسی طرح انسانوں میں بھی دو جنسیں ہیں: مرد اور عورت
اب اولاد یا نہ دینے کے اعتبار سے کل چار صورتیں بنتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ذکر فرمائی ہیں:
1۔ بعض کو اللہ تعالیٰ صرف مؤنث اولاد دیتے ہیں۔
2۔ بعض کو صرف مذکر اولاد
3۔ بعض کو مذکر مؤنث دونوں قسم کی اولاد ملتی ہے۔
4۔ جبکہ بعض محروم رہ جاتے ہیں۔
اور ان سب کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی حکمت - جو اللہ کو ہی معلوم ہے - پنہاں ہے۔ فتبارك الله أحسن الخالقين

اس سیاق وسباق میں کسی طور پر مخنث کا معنیٰ نہیں نکلتا۔

سورۃ الشوریٰ کی ان آیات 49 اور 50 کی جو وضاحت میں نے ترجمہ میں بریکٹوں کے درمیان کی ہے، وہی تفسیر شروع سے آج تک مفسرین کرتے آئے ہیں، جس پر تمام تفاسیر شاہد ہیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
واذاالنفوس زوجت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے نا کہ جب نفوس کو ملایا
جایگا اب اگر وہ زوجت کے ترجمے کی طرح اویزوجہم کا ترجمہ وہ یہ کرے کہ ملاکر دیتاہے ان کو اور ذکران بروزن فعلان بضم الفاء وسکون العین کا وزن تو ثلاثی مجرد کے اوزان میں بھی ہے نا اسی طرح اناث بروزن فعال بکسرالفاء بھی ثلاثی مجرد کی مصادر کے اوزان میں موجود ہے تو اگر وہ یہ کہیں کہ یہ دونوں الفاظ یھاں مصدری معنی پر ہے تو پورا ترجمہ یہ بنیگا کہ یا ملاکردیتا ہے ان کو مذکر اور موءنث یعنی ایک ایسا انسان جو مذکر بھی ہو اور موءنث بھی ہو توگرامر کے لحاظ سے اس کا جواب کیا ہوگا؟؟
ان حضرات نے صحیح ترجمہ
(کہ ملا کر دیتا ہے ان کو مذکر اور مؤنث)
کر کے ’یعنی‘ کے بعد جو تشریح کی ہے کہ اس سے مراد ہیجڑے لينا قرآن کریم کے سیاق وسباق اور تمام مفسرین کی مخالفت کے علاوہ بھی بالکل واہیات اور غلط تفسیر ہے۔

کیونکہ جیسا کہ میں نے پچھلی پوسٹ میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شے کے دو جوڑے بنائے ہیں:
وَمِن كُلِّ شَىءٍ خَلَقنا زَوجَينِ لَعَلَّكُم تَذَكَّر‌ونَ ٤٩ ۔۔۔ سورة الذاريات
حَتّىٰ إِذا جاءَ أَمرُ‌نا وَفارَ‌ التَّنّورُ‌ قُلنَا احمِل فيها مِن كُلٍّ زَوجَينِ اثنَينِ وَأَهلَكَ إِلّا مَن سَبَقَ عَلَيهِ القَولُ وَمَن ءامَنَ ۚ وَما ءامَنَ مَعَهُ إِلّا قَليلٌ ٤٠ ۔۔۔ سورۃ هود
فَأَوحَينا إِلَيهِ أَنِ اصنَعِ الفُلكَ بِأَعيُنِنا وَوَحيِنا فَإِذا جاءَ أَمرُ‌نا وَفارَ‌ التَّنّورُ‌ ۙ فَاسلُك فيها مِن كُلٍّ زَوجَينِ اثنَينِ وَأَهلَكَ إِلّا مَن سَبَقَ عَلَيهِ القَولُ مِنهُم ۖ وَلا تُخـٰطِبنى فِى الَّذينَ ظَلَموا ۖ إِنَّهُم مُغرَ‌قونَ ٢٧ ۔۔۔ سورة المؤمنون
وَهُوَ الَّذى مَدَّ الأَر‌ضَ وَجَعَلَ فيها رَ‌وٰسِىَ وَأَنهـٰرً‌ا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرٰ‌تِ جَعَلَ فيها زَوجَينِ اثنَينِ ۖ يُغشِى الَّيلَ النَّهارَ‌ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَـٔايـٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّر‌ونَ ٣ ۔۔۔ سورة الرعد


اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی بھی صرف اور صرف دو جنسیں ہی بنائی ہیں، فرمانِ باری ہے:
يـٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِ‌جالًا كَثيرً‌ا وَنِساءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذى تَساءَلونَ بِهِ وَالأَر‌حامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كانَ عَلَيكُم رَ‌قيبًا ١ ۔۔۔ سورة النساء
أَيَحسَبُ الإِنسـٰنُ أَن يُترَ‌كَ سُدًى ٣٦ أَلَم يَكُ نُطفَةً مِن مَنِىٍّ يُمنىٰ ٣٧ ثُمَّ كانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّىٰ ٣٨ فَجَعَلَ مِنهُ الزَّوجَينِ الذَّكَرَ‌ وَالأُنثىٰ ٣٩ أَلَيسَ ذٰلِكَ بِقـٰدِرٍ‌ عَلىٰ أَن يُحـِۧىَ المَوتىٰ ٤٠ ۔۔۔ سورة القيامة
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوجَينِ الذَّكَرَ‌ وَالأُنثىٰ ٤٥ ۔۔۔ سورة النجم


مخنث یا ہیجڑے کو انسانوں کی تیسری جنس شمار کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔
اصل میں جس طرح اللہ تعالیٰ ہی صحت دینے والے ہیں اسی طرح وہی بیمار کرنے والے ہیں۔ جس کو چاہے صحیح سالم پیدا فرما دیں، جس کو چاہے لولا لنگڑا، مادر زاد اندھا یا کسی اور مرض کے ساتھ پیدا فرمادیں۔ جس کو چاہیں معمول سے زیادہ اعضاء کے ساتھ پیدا فرما دیں اور جس کو چاہیں معمول سے کم اعضاء کے ساتھ پیدا فرما دیں۔
یہ تو اللہ کی مرضی اور مشیت ہے، یہ ان کے فیصلے ہیں، جن کے پیچھے کیا حکمت ہے، یہ صرف اور صرف اللہ ہی جانتے ہیں۔

مخنث یا ہیجڑا وہ ہوتا ہے جو حقیقت میں یا تو مرد ہوتا ہے لیکن اس میں کچھ نسوانی اعضاء زائد ہوتے ہیں یا حقیقت میں عورت ہوتی ہے جس میں بعض مردانہ اعضاء زیادہ ہوتے ہیں جو بیماری کی ایک صورت ہے نہ کہ تیسری جنس۔ جیسے بعض لوگ دو چہروں یا دیگر اعضاء کی کمی یا بیشی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ہم کبھی بھی انہیں الگ جنس شمار نہیں کرتے ہیں بلکہ اسے بیماری کی ایک صورت سمجھتے ہیں۔

بالکل یہی معاملہ ہیجڑوں کا بھی ہے۔ ان میں جو صفات زیادہ ہوں گی، ان کی اصل جنس وہی شمار ہوگی۔

واللہ تعالیٰ اعلم!
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
کیا یہ ترجمہ یا حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں یہ خیال صحیح ہے ؟؟
سیدہ مریم کو مخنّث کہنا (نعوذ باللہ) سراسر افتراء علی اللہ ہے، فرمانِ باری ہے:
إِذ قالَتِ امرَ‌أَتُ عِمرٰ‌نَ رَ‌بِّ إِنّى نَذَر‌تُ لَكَ ما فى بَطنى مُحَرَّ‌رً‌ا فَتَقَبَّل مِنّى ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ ٣٥ فَلَمّا وَضَعَتها قالَت رَ‌بِّ إِنّى وَضَعتُها أُنثىٰ وَاللَّـهُ أَعلَمُ بِما وَضَعَت وَلَيسَ الذَّكَرُ‌ كَالأُنثىٰ ۖ وَإِنّى سَمَّيتُها مَر‌يَمَ وَإِنّى أُعيذُها بِكَ وَذُرِّ‌يَّتَها مِنَ الشَّيطـٰنِ الرَّ‌جيمِ ٣٦ ۔۔۔ سورة آل عمران
ان آیات کریمہ سے صراحت سے ثابت ہے کہ سیدہ مریم مکمل خاتون تھیں اور ان میں مردانہ صفات نہیں تھیں۔

سیدہ مریم میں مردانہ صفات کا دعویٰ کرنے کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اکثر منکرین حدیث چونکہ مغربی مستشرقین سے اتنا مرعوب ہوتے ہیں کہ وہ ان کے اعتراضات کا جواب نہیں دے پاتے، لہٰذا بجائے علم حاصل کرنے کیلئے وہ ان کی مرعوبیت میں وحئ الٰہی کا ہی انکار کر دیتے ہیں۔
اسی طرح مستشرقین معجزوں کا بھی انکار کرتے ہیں کہ ان کو سائنسی طور پر ثابت کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا جو بھی چیز ان کے حواس سے ما وراء ہوتی ہے وہ اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ یہی معاملہ ہمارے ان کرم فرماؤں کا ہے۔ یہ بھی ان کی مرعوبیت میں ایسی تمام چیزوں سے انکار کر دیتے ہیں۔

سیدنا عیسیٰ﷤ کی پیدائش چونکہ معجزانہ طور پر بغیر باپ کے صرف سیدہ مریم سے ہوئی ہے تو جو لوگ معجزات کو تسلیم نہیں کرتے انہوں نے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی یہ توجیہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے کہ سیدہ مریم میں مردانہ صفات بھی تھیں (والعیاذ باللہ)

اگر بفرض محال یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے تو کیا پھر بھی یہ معجزہ نہیں ہوگا ؟!! ۔۔۔

اسے کہتے ہیں:
فر من المطر وقام تحت الميزاب
بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوگیا۔

الله تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,806
پوائنٹ
376
السلام علیکم محترم علماء کرام ایک صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے اس آیت مبارکہ کا ترجمہ ایسا کیا
اویزوجھم ذکرانا واناثا
اور یا جوڑ بناکر دیتے ہیں ان کو مذکر اور موءنث یعنی کچھ انسانوں کو اللہ تعالی ایسے پیدا کردیتے ہیں جو مذکر بھی ہوتے ہیں اور موءنث بھی اور بقول ان صاحب کےحضرت مریم علیہا السلام ایسی ہی تھی (نعوذ باللہ ) ا
یہ صاحب چونکہ حدیث کو مانتے نھیں غالبا اور نا کسی مفسر کو تو گرامر کے لحاظ سے اس ترجمے کی تغلیط کیسی ہوگی ؟؟؟ واذاالنفوس زوجت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے نا کہ جب نفوس کو ملایا
جایگا اب اگر وہ زوجت کے ترجمے کی طرح اویزوجہم کا ترجمہ وہ یہ کرے کہ ملاکر دیتاہے ان کو اور ذکران بروزن فعلان بضم الفاء وسکون العین کا وزن تو ثلاثی مجرد کے اوزان میں بھی ہے نا اسی طرح اناث بروزن فعال بکسرالفاء بھی ثلاثی مجرد کی مصادر کے اوزان میں موجود ہے تو اگر وہ یہ کہیں کہ یہ دونوں الفاظ یھاں مصدری معنی پر ہے تو پورا ترجمہ یہ بنیگا کہ یا ملاکردیتا ہے ان کو مذکر اور موءنث یعنی ایک ایسا انسان جو مذکر بھی ہو اور موءنث بھی ہو توگرامر کے لحاظ سے اس کا جواب کیا ہوگا؟؟ کیا یہ ترجمہ یا حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں یہ خیال صحیح ہے ؟؟ براے مہربانی مجلس علماء سے رہنمائی کا درخواست ہے
ایسے لوگوں سے پہلے حدیث منوانا چاہیے۔ کیونکہ وہ جو نہیں مان رہے وہ زیادہ بڑا مسئلہ ہے اس سے جو وہ مان رہے ہیں۔
جب تک وہ حدیث اور منہج اہل حدیث نہ مان لیں اس قسم کی چیزیں ان سے منوالینا مشکل بھی ہے اور اگر منوا بھی لے جائیں تو بے فائدہ۔
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
530
ری ایکشن اسکور
2,182
پوائنٹ
171
انکار حدیث کا فتنہ بھت تیزی سے پھیل رہاہے ان لوگوں کو سمجھانا بھی مشکل ھوتا ھے اس کیلیے علماء کو چاھیے کہ لوگوں کی تربیت کریں تاکہ ان کی پروپیگنڈے سے عوام الناس محفوظ رہے
 
Top