• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دور حاضر کے چند مخصوص فتنے اور ہماری ذمہ داریاں

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
15
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
20
بسم اللہ الرحمن الرحیم

دور حاضر کے چند مخصوص فتنے اور ہماری ذمہ داریاں​

ابومعاويه شارب بن شاكرالسلفي​

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم أما بعد:

محترم قارئین!

یہ اکیسویں صدی فتنوں کا دور ہے اور یہ فتنے پہلے ادوار کی بنسبت بہت خطرناک ہیں ابھی ایک فتنہ ختم ہوتا ہی نہیں کہ دوسرا سراٹھالیتاہے،گویا کہ آج کل دنیا ’’ دارالفتن ‘‘بن چکی ہے،ہمارے نبی اکرم ﷺ نے پہلے ہی اس امت کو ان فتنوں سے آگاہ کردیاتھا اور بتلادیا تھا کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ دنیامیں بس فتنہ ہی فتنہ باقی رہ جائے گا،جیسا کہ سیدنا معاویہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” لَمْ یَبْقَ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّابَلَاءٌ وَفِتْنَۃٌ “ (رواہ ابن ماجہ: 4035،وصححہ الالبانیؒ) دنیا میں صرف فتنہ اور آزمائش ہی باقی رہ جائے گی،اسی وجہ سے اللہ کے حبیب ﷺ نے ہمیں چودہ سوسال پہلے ہی حکم دے دیا ہے کہ اے مسلمانو سنو! ” بَادِرُوْابِالْأعْمَالِ فِتَنًاکَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤمِنًاوَیُمْسِیْ کَافِرًا،أوْیُمْسِیْ مُؤمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًایَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا “ فتنے تاریک رات کے حصوں کی طرح چھاجانے والے ہوں گے،ان سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو ان فتنوں میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا،یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، وہ دنیوی سازوسامان کے عوض اپنا دین بیچ دیں گے۔(مسلم:118)

فرمان نبوی پر غورکرنے سے یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ آج وہ دن آہی چکاہے،ہرطرف فتنوں اور آزمائشوں کا دور دورہ ہے،ہرچیز میں،ہرکام میں فتنہ پایاجاتاہے،کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں فتنہ نہ ہو گھر ہویابازار،مسجد ہو یاپھر مدرسہ ہرجگہ فتنہ،فتنہ،فتنہ!!!ہرچہارسوفتنہ جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ” وَتَظْھَرُالْفِتَنُ “ اور ہرچہارجانب فتنوں کا ظہورہوگااتناہی نہیں بلکہ ہر گھر میں فتنہ ہوگا جیسا کہ فرمان نبوی ﷺ ہےاسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کے محلات میں سے ایک محل پر چڑھے اور صحابۂ کرامؓ سے پوچھا کہ کیا تم وہ دیکھ رہے ہوجو میں دیکھ رہا ہوں؟صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” فَاِنِّیْ لَأرَی الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُیُوْتِکُمْ کَوَقْعِ الْقَطْرِ“ میں فتنوں کو تمہارے گھروں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتادیکھ رہاہوں۔ (بخاری:7060)اتناہی نہیں بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے لئے ہرگھرمیں فتنہ موجود رہے گا جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ” فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ أھْلِہِ وَمَالِہِ وَجَارِہِ “ انسان کے لئے اس کے اہل وعیال میں،اس کے مال میں اور اس کے آس پڑوس میں فتنہ وآزمائش ہے۔(بخاری:1895)

آئیے سب سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ فتنہ کا معنی ومفہوم کیا ہے؟

(1) فتنہ کا معنی ومفہوم:فتنہ کا لفظی معنی امتحان اور آزمائش ہے اور اصطلاحی مفہوم امام جرجانیؒ بیان کرتے ہیں کہ وہ چیز جس کے ذریعے انسان کی اچھی یابری حالت واضح ہورہی ہو۔(المفردات للراغب،ص:371)

امام مناویؒ فرماتے ہیں کہ فتنے سے مراد وہ معاملہ ہے جو انسان کے باطنی امور کو ظاہر کردے۔(التوقیف علی مھمات التعریف،ص:251)

(2) قرآن مجید کے اندر رب العالمین نے فتنے کے تقریبا پندرہ معانی ومفاہیم بیان کیے ہیں:

(1) فتنہ بمعنی آزمائش:’’ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُونَ ‘‘ کیالوگوں نے یہ گمان کررکھاہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیرآزمائے ہوئے ہی چھوڑدیں گے۔(العنکبوت:2)

(2) فتنہ بمعنی لوگوں کی ایذارسانی: ’’ ثُمَّ إِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُواْ مِن بَعْدِ مَا فُتِنُواْ ثُمَّ جَاھَدُواْ وَصَبَرُواْ إِنَّ رَبَّکَ مِن بَعْدِھَا لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ جن لوگوں نے فتنوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھرجہادکیااورصبرکاثبوت دیابیشک تیراپروردگاران کی باتوں کے بعد انہیں بخشنے والااور مہربانیاں کرنے والاہے۔(النحل:110)اسی طرح دوسری جگہ فرمان باری تعالی ہے ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُولُ آمَنَّا بِاللَّہِ فَإِذَا أُوذِیَ فِیْ اللَّہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللَّہ ﴾ اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن جب اللہ کی راہ میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذادہی کو اللہ تعالی کے عذاب کی طرح بنالیتے ہیں۔(العنکبوت:10)

(3) فتنہ بمعنہ گمراہی: ﴿ فَإِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ ، مَا أَنتُمْ عَلَیْہِ بِفَاتِنِیْنَ ﴾ یقین مانوکہ تم سب اور تمہارے معبودان باطل کسی ایک کوبھی بہکا گمراہ نہیں کرسکتے۔(العنکبوت:161-162)

(4) فتنہ بمعنی دنیاوی عذاب: ﴿ فَلْیَحْذَرِالَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ ﴾ سنوجولوگ حکم رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہناچاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔(النور:63)

(5) فتنہ بمعنی صراط مستقیم سے روکنا: ﴿ وَلَاتَتَّبِعْ أھْوَاءَھُمْ وَاحْذَرْھُمْ أنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَعْضِ مَاأنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ﴾ اے نبی ﷺ آپ ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجئے اور ان سے ہوشیاررہئے کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھرادھرنہ کردیں۔(المائدہ:49)

(6) فتنہ بمعنی کفرو شرک: ﴿ وَقَاتِلُوھُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّٰہِ ﴾ اور تم ان سے اس حد تک لڑوکہ ان میں شرک نہ رہے اور دین اللہ ہی کاہوجائے۔ (الأنفال:39،البقرۃ:193) ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد شرک ہے۔

(7) فتنہ بمعنی حق کا باطل کے ساتھ اشتباہ پیداہونا: ﴿ وَالَّذیْنَ کَفَرُواْ بَعْضُھُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ إِلاَّ تَفْعَلُوہُ تَکُن فِتْنَۃٌ فِیْ الأَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ﴾ کافرآپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ،اگرتم نے ایسانہ کیا توملک میں فتنہ ہوگااورزبردست فساد ہوجائے گا۔(الانفال:73)یعنی جس طرح دنیا میں کافرایک دوسرے کے دوست وحمایتی ہیں اسی طرح اگر تم نے بھی ایمان کی بنیاد پر ایک دوسرے کی حمایت اور کافروں سے عدم موالات نہ کی تو پھربڑافتنہ اور فساد ہوگا،اور وہ یہ کہ مومن اور کافر کے باہمی اختلاط اور محبت وموالات سے دین کے معاملے میں اشتباہ اور مداہنت پیداہوگی۔(تفسیر احسن البیان:503)

(8) فتنہ بمعنی گمراہی: ﴿ وَمَنْ یُّرِدِاللّٰہُ فِتْنَتَہُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہُ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ﴾ اور جسے اللہ گمراہ کردے تو آپ اس کے لئے اللہ کی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختارنہیں۔(المائدہ:41)

(9) فتنہ بمعنی عقائد میں فساد والحاد: ﴿ ھُوَالَّذِیَ أَنزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُّحْکَمَاتٌ ھُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِھَاتٌ فَأَمَّا الَّذِیْنَ فیْ قُلُوبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَاء الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء تَأْوِیْلِہِ وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الألْبَابِ ﴾ وہی اللہ تعالی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں ،فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے،حالانکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالی کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لاچکے ،یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقل مند حاصل کرتے ہیں۔(اٰل عمران:7)

(10) فتنہ بمعنی آگ سے جلانا: ﴿ یَوْمَ ھُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ ، ذُوْقُوْافِتْنَتَکُمْ ھٰذَاالَّذِیْ کُنْتُمْ بِہِ تَسْتَعْجِلُوْنَ ﴾ ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پرتپائے جائیں گے ،اپنی فتنہ پردازی کا مزہ چکھو،یہی ہے جس کی تم جلدی مچارہے تھے۔(الذاریات:13-14)اسی طرح اصحاب الاخدود کے واقعے کے ضمن میں فرمان باری تعالی ہے ﴿ إِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوبُوا فَلَھُمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ﴾ بے شک کہ جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتو ں کو ستایا(مراد آگ میں جلایا)پھر توبہ نہ کی توان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذب ہے۔(البروج:10)

(11) فتنہ بمعنی قتل وقید: ﴿ وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ الأَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُواْ مِنَ الصَّلاَۃِ إِنْ خِفْتُمْ أَن یَفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِنَّ الْکَافِرِیْنَ کَانُواْ لَکُمْ عَدُوّاً مُّبِیْناً ﴾ اور جب تم سفرمیں جارہے ہوتوتم پر نمازوں کے قصرکرنے میں کوئی گناہ نہیں،اگرتمہیں ڈرہوکہ کافرتمہیں ستائیں گے،یقیناکافرتمہارے کھلے دشمن ہیں۔(النساء:101)

(12) فتنہ بمعنی لوگوں کے درمیان اختلا ف وانتشار اورعداوت ونفرت پیداکرنا: ﴿ لَوْ خَرَجُواْ فِیْکُم مَّا زَادُوکُمْ إِلاَّ خَبَالاً ولأَوْضَعُواْ خِلاَلَکُمْ یَبْغُونَکُمُ الْفِتْنَۃَ ﴾ اگر یہ(مرادمنافق)تم میں مل کر نکلتے بھی توتمہارے لئے سوائے فساد اور کوئی چیز نہ بڑھاتے بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑاتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں رہتے۔(التوبۃ:47)

(13) فتنہ بمعنی حجت ومعذرت: ﴿ وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ ، ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُھُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ﴾ اور وہ وقت بھی یادکرنے کے قابل ہے جس روز ہم ان تمام خلائق کو جمع کریں گے،پھرہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء جن کے معبود ہونے کا تم دعوی کرتے تھے کہاں گئے؟پھر وہ اپنے شرک کی معذرت پیش کرتے ہوئے یہی کہیں گے کہ واللہ ! ہم مشرک ہی نہ تھے۔(الأنعام:22-23)

(14) فتنہ بمعنی مسلط کرنا: ﴿ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ﴾ اے ہمارے پردگار ہم کو ان ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنایعنی مسلط نہ کر۔(یونس:85)

(15) فتنہ بمعنی نفاق ومعاصی: ﴿ وَلَکِنَّکُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْکُمُ الْأَمَانِیُّ حَتَّی جَاء أَمْرُ اللَّہِ وَغَرَّکُم بِاللَّہِ الْغَرُورُ ﴾ (جس دن منافق مردوعورت ایمان والوں سے کہیں گے کہ کیا ہم دنیامیں تمہارے ساتھ نہیں تھے تووہ کہیں گے کہ ہاں تھے تو سہی)لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسارکھاتھااورانتظارمیں ہی رہے اورشک وشبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھایہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچااور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے میں ہی رکھا۔(الحدید:14)

(3) فتنوں کے مقاصد:قرآن مجید کے مطالعہ سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کے دومقاصد ہیں:

(1) اللہ کا ازل سے یہ دستور رہا ہے کہ کبھی مصائب وآلام سے دوچارکرکے اور کبھی دنیاکے وسائل فراواں سے بہروہ ورکرکے،کبھی صحت وفراخی کے ذریعے سے اور کبھی تنگی وبیماری کے ذریعے سے ،کبھی تونگری دے کر اور کبھی فقروفاقہ میں مبتلاکرکے آزماتاہے،جیساکہ فرمان باری تعالی ہے ﴿ وَنَبْلُوکُم بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَإِلَیْنَا تُرْجَعُون ﴾ اور ہم بطورامتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی وبھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤگے۔(الانبیاء:35)

(2) سچے اور جھوٹے،کھرے وکھوٹے،مومن ومنافق،مسلمان وکافر،نیک وبدکے درمیان فرق واضح کرنے کے لئے جیساکہ فرمان باری تعالی ہے: ﴿ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُون،وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِن قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللَّہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ ﴾ کیالوگوں نے یہ گمان کررکھاہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیرآزمائے ہوئے ہی چھوڑدیں گے،ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچایقینااللہ تعالی انہیں بھی جان لے گاجوسچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں۔ (العنکبوت:2-3)

(4) دورحاضرکے چند مخصوص فتنے:

محترم قارئین!فتنوں کے معانی ومفاہیم اور اغراض ومقاصد کو جاننے کے بعد اب آئیے جانتے ہیں کہ دورحاضر کے چند عظیم اور مخصوص فتنے کیا کیا ہیں:

(1) شوسل میڈیاوانٹرنیٹ کافتنہ:دورحاضر کا ایک بہت بڑافتنہ میڈیا کا ہے چاہے الیکٹرانک میڈیاہویاپرنٹ میڈیاہو یا شوسل میڈیا ہو ،اس میڈیا نے ایسا انقلاب برپاکردیا ہے کہ اب پوری دنیا آپ کے ہاتھ میں ہے،آپ کی آنکھوں کے سامنے آگئی ہے آپ جوچاہیں ،جب چاہیں اور جہاں چاہیں ہرچیز سن سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں چنانچہ جب سے 3جی اور 4جی کا دور شروع ہواہے تواس میڈیا کے ذریعے عریانی وفحاشی،بے غیرتی وبے حیائی کا ایسا طوفان آگیا ہے کہ اللہ کی پناہ!!!ا ب کسی بات کا پردہ نہیں رہا ہرچیز ہرشخص کے لئے جب چاہے جہاں چاہے،چاہے چھوٹاہویابڑا ، بالغ ہو یانابالغ، لڑکا ہو یا لڑکی، مرد ہویا عورت، سب کے لئے اوپن ہے،اور ہرکوئی اس سے جڑناچاہتاہے اورجڑاہواہے بالخصوص شوسل میڈیا سے کہ اس کے بغیر توزندگی دقیانوسی سمجھی جارہی ہے،جو اس سے جڑاہواہے وہ عقلمند اور جونہ جڑاہواسے بیوقوف سمجھاجاتاہے،یہی وہ ہتھیارہے جس نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑاکردیا ہے ،ہراستعمال کرنے والے کے پاس دس دس اکاونٹ ہوتے ہیں جس کے ذریعے جنس مخالف ایک دوسرے کو اپنے جال میں پھنساکر اپنی جنسی آگ کو ٹھنڈاکرتے ہیں!اسی شوسل نیٹ ورک نے آج مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو اپنے والدین کا باغی بنا رکھا ہے اور اسی نیٹ ورک نے آج مسلم لڑکیوں کو ارتداد کے راستے پر لاکھڑا کیا ہے!

فیس بک استعمال کرنے والے نوجوانوں ذراعقل کے ناخن لو!کہیں ایسانہ ہوکہ کل قیامت کے دن آپ کا فیس یعنی چہرہ اس آیت کا مصداق نہ بن جائے ﴿ وَوُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ ،تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ ، أُوْلَئِکَ ھُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ﴾ اور بہت سے چہرے اس دن غبارآلود ہوں گے،جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی وہ یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے۔(العبس:38-42)کہیں ایسا نہ ہوکہ اسی فیس بک کی وجہ سے آپ کا فیس بھی کل اداس ہوجائے ﴿ وَوُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ بَاسِرَۃٌ ، تَظُنُّ أَن یُفْعَلَ بِھَا فَاقِرَۃٌ ﴾ اور کتنے چہراس دن اداس ہوں گے سمجھتے ہوں گے اس کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیاجائے گا۔(القیامۃ:22-25)

اے نوجوانان مسلم کہیں ایسانہ ہوکہ کل بروز قیامت اس فیس بک کے شئیر،لائک اینڈ کمنٹس آپ کے گلے نہ پڑجائے: ﴿ وَکُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَآئِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَاباً یَلْقَاہُ مَنشُوراً،اقْرَأْ کَتَابَکَ کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْباً ﴾ ہم نے ہرانسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگادیا ہے اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلاہوپالے گا، لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے،آج توتو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔(الاسراء:13-14)

آج شوسل میڈیا پر ہرانسان اپنی غلطی پر وکیل اور دوسروں کی غلطیوں کا جج بنابیٹھاہے سب کو دوسروں کی فکر ہے مگر اپنے آپ کی فکر نہیں ہے،نمازکبھی پڑھتے نہیں مگر نماز کے پوسٹ شیئر کرتے رہتے ،مسجد کے بغل میں گھر ہے مگر فرض نماز کے لئے حاضر نہیں ہوتے اور بابری مسجد کی بازیابی کے لئے پوسٹ ڈال کرلکھتے ہیں کہ جو اس کو شیئر نہ کرے وہ مسلمان ہی نہیں یا اس کے مسلمان ہونے میں شک ہے!!

شوسل میڈیافیس بک اور واٹس ایپ پر مسلمانوں کے لئے اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کے لئے ایک مہم بھی چلائی جارہی ہے جس کے اندر ہوتایہ ہے کہ کوئی لڑکی فیس بک یا واٹس ایپ پر مسلم لڑکوں سے دوستی کرتی ہے اور عشق ومحبت کے جال میں پھنساکر اسے وقت دے کر ایک مخصوص مقام پر ملنے کے لئے بلاتی ہے جہاں پر پہلے سے ہی مسلم دشمن شخصیتیں موجود ہوتی ہیں مسلم لڑکا جیسے ہی وہاں پر پہنچتاہے یہ اسے دبوچ لیتے ہیں اور لوجہاد کا نام دے کر اسے بڑی بے رحمی سے قتل کردیتے ہیں پچھلے کچھ سالوں میں راجستھان، مدھ پردیش میں پیش آنے والے واقعات اس کا منہ بولتاثبوت ہیں۔

(2) موبائل کا فتنہ:نماز ومسجد کے تمام حدوں کو توڑنے والا یہی وہ آلہ ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہے،موبائل آج کی مصروف زندگی کا ایک ایسالازمی جز وبن چکا ہے کہ نماز کے دس یا پندرہ منٹ کے لئے بھی اسے الگ کرناممکن نہیں رہا،ہر نماز میں کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور ہی موبائل کی آواز سے لوگوں کی نماز میں خلل پڑتا ہے ،جس سے نہ نماز میں خشوع وخضوع رہتاہے اور نہ ہی لذت وسرور ،بعض حضرات موبائل کا کال سننے کے لئے اس قدر مضطرب اور بے چین ہوتے ہیں کہ وہ عمدا موبائل بند نہیں کرتے اور وائبریشن موڈمیں رکھتے ہیں اوراگردوران نماز موبائل وائبریٹ ہواتوساتھ میں یہ بھی وائبریٹ ہوناشروع کردیتے ہیں ! گویا(اقبال کے شعرمیں لفظی ترمیم کے ساتھ)

میں جو سربسجدہ ہواکبھی تو زمیں سے آنے لگی یہ صدا

ترادل تو ہے موبائل آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں​

اب حال ایسا ہے کہ کسی ایک مسجد میں نہیں ہر مسجد میں ، کسی ایک نما ز میں نہیں ،ہرنماز میں ،صرف ایک بارنہیں،کئی کئی بار موبائل کی آوازوں سے نماز میں خلل پڑتاہے لیکن کہیں سے صدائے احتجاج بلند نہیں ہوتی،اسی کے برعکس اگر کبھی خدانخواستہ امام وخطیب کسی مصروفیت کی وجہ سے وقت پرحاضر نہ ہوسکے یانیند کا غلبہ ہونے کی وجہ سے کبھی فجرمیں اٹھ نہ سکے یاکبھی نمازیاقرأت میں کمی وبیشی ہوجائے تو سارے مصلیان مسجد کو سرپراٹھالیتے ہیں المیہ صرف موبائل کی رنگ ٹونوں کا نہیں بلکہ موبائلوں میں جومیوزک وفحش گانے بھرے ہوتے ہیں۔العیاذباللہ ۔۔۔اور ان سب کو لانے والے مسجد کے اندر خود مسلمان نمازی ہوتے ہیں ۔

(3) علماء کی صحبت ونگرانی کے بغیرگوگل وانٹرنیٹ وصرف کتابوں سے علم حاصل کرنے کا فتنہ: امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ شخص جو قرآ ن وحدیث کی دلیل کے بغیر علم حاصل کرتا ہے اس کی مثال رات کے وقت جنگل سے سوکھی لکڑیاں جمع کرنے والے کی مانند ہے ،وہ اپنی لکڑیاں کا گٹھاجب اٹھاتاہے تو بسااوقات کوئی سانپ بھی لپٹاہواآجاتاہے جو اس کوڈس لیتاہے اور اس شخص کو اس سانپ کا علم ہی نہیں ہوتا۔

اسی طرح امام حافظ ابن حجرؒ نے اپنے بیٹے کی نصیحت کی کہ اے میرے بیٹے تم کتابی علماء سے بچ کے رہنا کیونکہ یہ شیطان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔

(4) دعاۃ وبرادرس،نیم ملاؤں کافتنہ:ہمارے زمانے میں اہل اسلام کو راہ راست سے ہٹانے اور ورغلانے کے لئے کئی طرح کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں ،ٹی وی کی روشنی سے لے کر موبائل کی اسکرین تک،کتاب کی تحریر سے لے کر منبرومحراب کی تقریر تک ،ہرطرف سے دشمنان دین چومکھی لڑائی لڑرہے ہیں اور اہل اسلام کو ہرطرح کے شکنجوں میں کساجارہاہے ۔

اس میں دشمنان دین کی پیداوار مخلوق بھی نمودار ہورہی ہے ،نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں ،ہرروز کوئی اسکالر،پروفیسر اٹھ کر احکام اسلام اورعقائد کو تختۂ مشق بنائے ہوئے ہے مسلم قوم کو کفار کے کچوکے پہلے ہی زخمی کرچکے ہیں پھر اہل الحادوبدعت کے ہاتھو ان پر نمک پاشی کا ستم !!!الہی اس قوم کا کیا ہوگا۔

اگرکوئی شخص پنچ وقتہ نماز میں پابندی سے حاضرہوتاہے،علمائے کرام یاعلم کے ساتھ کچھ مناسبت رکھتاہے تووہ اپنے آپ کومفکردین اورمجدداسلام سمجھنے لگتا ہے،چنانچہ اسے علمائے دین سے نفرت ہونی لگتی ہے اور ہرجگہ اپنی بڑائی میں اہل علم کی تنقیص کرتاپھرتاہے، اورخودکوملائکہ مقربین میں سے خیال کرنے لگتاہے،یہ اس دورکاسب سے بڑافتنہ ہے،کل تک جو کلب اینڈ پب میں گٹاربجارہے تھے آج سب سے بڑے داعی کہلاتے ہیں ،کل تک جو جھاڑو بیچا کرتے تھے آج ٹی وی اسکرین پر مفتی کے لقب سے ملقب کئے جاتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں آپﷺ نے پیشین گوئی کی تھی کہ’’ اِتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا جُھَّالًا فَسُئِلُوْا فَأفْتَوْابِغَیْرِعِلْمٍ فَضَلُّوْاوَأضَلُّوْا ‘‘ لوگ جاہلوں کواپناراہنما بنالیں گے ان سے مسئلے دریافت کئے جائیں گے اور وہ بغیرعلم کےفتوے دے کر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔(بخاری:98)نیز ان کے عادات واطوار کا ذکر ذرا حبیب کائنات کی زبانی سنیں کہ ’’ قَوْمٌ یَسْتَنُّوْنَ بِغَیْرِ سُنَّتِیْ وَیَھْدُوْنَ بِغَیْرِ ھَدْیِیْ تَعْرِفُ مِنْھُمْ وَتُنْکِرُ ‘‘ میرےبعد ایک قوم ہوگی جومیرے طریقے سے ہٹ کرکوئی اورطریقے اپنائیں گے اور میرے علاوہ کسی اور کی رہنمائی لیں گے،تو ان کی کچھ چیزوں کوپہچان لے گا اورکچھ کا انکارکریگا،اور ان میں ایسے لوگ بھی منظر عام پرآئیں گے جو انسانوں کے قالب میں ہوں گے مگر ان کے دل شیطانی ہوں گے۔راوئ حدیث کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا توآپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ نَعَمْ فِتْنَۃٌ عَمْیَاءُ صَمَّاءٌ عَلَیْھَادُعَاۃٌ عَلَی أبْوَابِ جَھَنَّمَ مَنْ أجَابَھُمْ اِلَیْھَاقَذَفُوْہُ فِیْھَا ‘‘ ہاں اندھادھندفتنہ ہوگا،اور اس میں ایسے لوگ ہوں گے کہ گویا کہ وہ جہنم کے دروازوں پرکھڑے داعی ہیں،جوآدمی ان کی بات مانے گا وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے،میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ’’ صِفْھُمْ لَنَا ‘‘ ایسے لوگوں کی صفات بیان فرمادیجئے؟تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ ھُمْ مِنْ جَلْدَتِنَاوَیَتَکَلَّمُوْنَ بِألْسِنَتِنَا ‘‘ وہ ہماری نسل کے ہوں گے اور ہماری طرح باتیں کریں گے،میں نے کہاکہ اے اللہ کے رسول ﷺ ’’ فَمَاتَأمُرُنِیْ اِنْ أدْرَکَنِیْ ذٰلِکَ ‘‘ اگر ایسا زمانہ مجھے پالے تو میرے لئے آپ کا کیا حکم ہے؟تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ تَلْتَزِمُ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاِمَامَھُمْ ‘‘ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے حکمران کو لازم پکڑے رکھنا،امیر کی بات سننااور ماننااگرچہ تیری پٹائی کردی جائے اور تیرمال لوٹ لیاجائے پھر بھی ان کی بات سننااور اطاعت کرنا۔(الصحیحۃ للألبانی:2739)

محترم قارئین!!

ان مصلحین ودعاۃ کی جماعتوں میں جوآج کل فتنے رونماہورہے ہیں نہایت ہی خطرناک ہیں مثلا:

(1) مصلحت اندیشی کافتنہ: یہ فتنہ آج کل خوب برگ وبارلارہاہے،کوئی دینی یاعلمی خدمت کی جائے اس میں پیش نظر دنیاوی مصالح رہتے ہیں۔

(2) ہردلعزیزی کافتنہ: جوبات کہی جاتی ہے اس میں یہ خیال رہتاہے کہ کوئی بھی ناراض نہ ہو سب خوش رہیں ۔

(3) اپنی رائے پر اصرار:ہم جوکررہے ہیں وہی صحیح ہے باقی سب غلط ہیں۔

(4) حب شہرت کا فتنہ:کوئی دینی یاعلمی کام کیاجائے آرزویہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دادوتحسین کے نعرے بلندہوں۔

(5) قرآن وحدیث کو چھوڑکر غیروں کی کتابوں سے تبلیغ کرنا۔

(6) عوام کو علماء سے نفرت دلانااور ان کی تذلیل کرنا:آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ لَیْسَ مِنْ أُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَاوَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَاوَیَعْرِفْ لِعَالِمِنَاحَقَّۃُ ‘‘ وہ شخص میری امت میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کا احترام نہ کرے اور ہمارے چھوٹے پر ترس نہ کھائے اور ہمارے عالموں کے حق کو نہ جانے۔(مسند احمد:22807،وحسنہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترھیب:101)

(7) دعوت وتبلیغ کے نام پر عوام الناس سے پیسہ لے کر بے تحاشافضول خرچی کرتے ہوئے مہنگے سے مہنگے اسٹیج اینڈ لائٹنگ کا انتظام وانصرام کرنا۔

(5) تنظیم سازی کا فتنہ:چند اشخاص کسی بات پر کیا متفق ہو گئے یاکسی جماعت سے ذرااختلاف رائے ہوگیا ایک نئی جماعت کی تشکیل ہوگئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ومدرسہ ہی الگ بنالیتے ہیں،مسجدوں میں فتنہ کھڑاکردیتے ہیں،مسجدوں میں نماز پڑھنا،آناجاناہی بند،جماعتی سطح پر گھرگھرجاکرلوگوں کو اکساتے ہیں ، پمفلیٹ تقسیم کرتے ہیں،کل تک جن کے ساتھ نماز پڑھتے تھے آج انہیں کے اوپر کفرونفاق کا فتوی لگاتے ہیں۔

(5) فتنوں کے دورمیں ہماری ذمہ داریاں:

برادران اسلام! جیسا کہ ابھی آپ نے دورحاضر کے کچھ عظیم اور مخصوص فتنوں کے بارے میں پڑھا اور جانا مذکورہ بالا تمام فتنوں کو پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن ودماغ کے اندر اب یہ بات آئے گی کہ جب اتنے بڑے بڑے فتنے ہیں تو اس سے بچنے کی راہیں کیا ہیں؟ہم ان فتنوں سے کیسے بچ سکتے ہیں؟تو آئیے اب اس بارے میں جانتے ہیں کہ فتنوں سے بچنے کے ہم کیا کیا کریں اور اس فتنوں بھرے دور میں ہماری ذمہ داریاں کیا کیا بنتی ہیں؟

(1) علم حاصل کریں:بالخصوص فتنوں کے متعلق کیونکہ حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ ’’ کَانَ النَّاسُ یَسْألُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْخَیْرِ وَکُنْتُ أسْأَلُہُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَۃَ أنْ یُدْرِکَنِیْ ‘‘ لوگ آپ ﷺ سے خیرکے بارے میں پوچھتے اور میں آپ ﷺ سے شر کے بارے میں پوچھتا کہ کہیں مجھے آ نہ لے۔ (الصحیحۃ للألبانی:2739)

(2) عقل کاصحیح استعمال کرتے ہوئے اپنی زبان ،ہاتھ پاؤں وغیرہ کی حفاظت کریں: ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ألنَّائِمُ فِیْھَاخَیْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِیْھَاخَیْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُفِیْھَاخَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُّ خَیْرٌ مِنَ الرَّاکِبِ وَالرَّاکِبُ فِیْھَاخَیْرٌ مِنَ الْمُجْرَی ‘‘ فتنوں کا ایسا زمانہ شروع ہوگا کہ اس میں سونے والے لیٹنے والے سے بہترہوگا،لیٹنے والابیٹھنے والے سے بہتر ہوگا،بیٹھنے والاکھڑاہونے والے سےبہترہوگا، کھڑاہونے والاچلنے والے سے بہتر ہوگا،چلنے والاسوار سے بہتر ہوگا اور سوار دوڑنے والے سے بہتر ہوگا،راوئ حدیث نے کہا کہ ’’ فَبِمَ تَأمُرُنِیْ اِنْ أدْرَکْتُ ذٰلِکَ الزَّمَانَ قَالَ أُکْفُفْ نَفْسَکَ وَیَدَکَ وَادْخُلْ دَارَکَ ‘‘ اگر میں ایسازمانہ پالوں تو آپ میرے حق میں کیاحکم دیتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے آپ کو اور اپنے ہاتھ کو قابو میں رکھنا اور اپنے گھرکے اندررہنا،میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کوئی فتنے باز میرے گھرکے اندربھی گھس آیاتومجھے کیاکرناچاہیئے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے کمرے میں داخل ہوجانا ،میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اگروہ میرے کمرے میں گھس آئے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی سجدہ گاہ میں داخل ہوجانا اور اس طرح کرلینا،پھر آپ ﷺ نے دائیں ہاتھ سے کلائی کوپکڑلیااور فرمایا کہ تم یہ مرتے دم تک کہتے رہنا کہ میرا رب اللہ ہے۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:3254)

نیز ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’ سَتَکُوْنُ فِتَنٌ ألْقَاعِدُفِیْھَاخَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْھَاخَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُ فِیْھَاخَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ وَمَنْ یُشْرِفْ لَھَا تَسْتَشْرِفْہُ وَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأَ أوْ مَعَاذاًفَلْیَعُذْبِہِ ‘‘ عنقریب فتنوں کادرودورہ ہوگا،ان میں بیٹھنے والاکھڑاہونے والے سے بہترہوگا،کھڑاہونے والاچلنے والے سے اورچلنے والادوڑنے والے سے بہترہوگا،جو اس فتنے میں جھانکے گا،فتنہ اسے بھی اچک لے گا،اس لئے ایسے حالات میں جو کوئی جہاں جگہ یاپناہ پائے وہاں چلاجائے ۔(بخاری:3601،مسلم:2886)

(3) فتنوں کے دور میں اپنے گھروں کو لازم پکڑیں:ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فتنوں کے دورمیں اپنی کمانیں توڑدینا اور ان کی تانتیں کاٹ دینا ’’ وَألْزِمُوْاأجْوَافَ الْبُیُوْتِ وَکُوْنُوْافِیْھَاکَالْخَیْرِمِنْ اِبْنَیْ آدَمَ ‘‘ اور اپنے گھروں کے اندرہی رہنا اور آدم علیہ السلام کے دوبیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح (جنگ وجدل سے دست کش)ہوجانا۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:1524)

(4) فتنوں کے دور میں لوگوں کو چھوڑکر اپنی آخرت کی فکرکریں:ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عبداللہ بن عمروؓ اس وقت تیراکیابنے گا جب تو گھٹیااور ادنی درجے کے لوگوں میں باقی رہ جائے گا، ان کے عہدوپیمان اور امانت ودیانت میں کھوٹ پیداہوجائے گی ،وہ اختلاف وافتراق میں پڑجائیں گے اور وہ اس طرح خلط ملط ہوجائیں گے، پھر آپ ﷺ نے اشارہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کردیا ،میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ’’ مَا تَأمُرُنِیْ ‘‘ آپ مجھے ایسے حالات میں کیا حکم دیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ عَلَیْکَ بِخَاصَتِکَ وَدَعْ عَنْکَ عَوَامَھُمْ ‘‘ اپنی آخرت کی فکر کرنا اور عوام الناس کے معاملات میں نہ پڑنا۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:206)

(5) فتنوں سے بچنے کی مخصوص دعاؤں کا اہتمام کریں:ہرمسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہروقت فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے رہیں جیساکہ زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے تمام صحابۂ کرامؓ سے کہا کہ ’’ تَعَوَّذُوْابِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَاظَھَرَمِنْھَاوَمَابَطَنَ قَالُوْانَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَاظَھَرَمِنْھَاوَمَابَطَنَ ‘‘ (صحیح مسلم:5112) آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب ہرظاہروباطن فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو تو صحابۂ کرامؓ نے کہا کہ ہم سب تمام ظاہر وباطن فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں !اور خود اللہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺکو یہ تعلیم دی کہ ’’ یَامُحَمَّدُ! اِذَاصَلَّیْتَ فَقُلْ: أللّٰھُمَّ اِنِّیْ أسْألُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاِذَا أرَدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ ‘‘ اے محمدﷺ! جب آپ نماز پڑھ لیں تو یہ دعاپڑھا کریں: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں اور برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کا سوال کرتاہوں اورجب تو اپنے بندوں کو فتنوں میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کئے بغیر میر ی روح کو قبض کرلینا۔ (جامع الترمذی:3234/3233،وصححہ الالبانیؒ)

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ سعدؓ اپنے بچوں کودرج ذیل کلمات ایسے ہی سکھاتے جس طرح سے ایک معلم بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور کہتے کہ ’’ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنْھُنَّ دُبُرَ الصَّلَاۃِ ‘‘ بے شک آپ ﷺسلام پھیرتے ہی ان چیزوں سے پناہ مانگاکرتے تھے ’’ أَللّٰھُمَّ اِنَّ أعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأعُوْذُبِکَ أنْ أُرَدَّ اِلَی أرْذَلِ الْعُمُرِوَأعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَأعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‘‘ (بخاری:2610)

(6) عبادتوں کا اہتمام کریں اورزیادہ سے زیادہ نیک اعمال بجالائیں:آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ ألْعِبَادَۃُ فِی الْھَرْجِ کَھِجْرَۃِ اِلَیَّ ‘‘ فتنوں کے دور میں عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے کہ میری طرف ہجرت کرنا۔(مسلم:2948)کیونکہ جب فتنوں کا دوردورہ ہو ،حق وباطل کی کشمکش ہو ،لوگ انتہائی مظرب وپریشان ہوں تو ایسے حالات میں کم ہی لوگ اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ،چنانچہ ان غفلت کے دوران جو شخص عبادت میں مشغول ہوگا وہ فتنوں کے شر سے محفوظ رہے گا،جیساکہ آپ ﷺ کافرمان ہے کہ انسان کے لئے اس کے اہل وعیال میں، اس کے مال میں اور اس کے پڑوسیوں میں فتنہ وآزمائش ہے ’’ تُکَفِّرُھَا الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ ‘‘ اور ان فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ نماز،روزہ اور صدقہ وخیرات ہیں۔ (بخاری:1895)

نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ بَادِرُوْابِالْأعْمَالِ خِصَالًااِمْرَۃَ السُّفَھَاءِ وَکَثْرَۃَ الشُّرْطِ وَقَطِیْعَۃَالرَّحِمِ وَبَیْعَ الْحُکْمِ وَاسْتِخْفَافًابِالدَّمِ وَنَشْأَ یَتَّخِذُوْنَ الْقُرْآنَ مَزَامِیْرَ یُقَدِّمُوْنَ الرَّجُلُ لَیْسَ بِأفْقَھِھِمْ وَلَاأعْلَمِھِمْ مَایُقَدِّمُوْنَہُ اِلَّالِیُغَنِّیَھُمْ ‘‘ تم چھ چیزوں کے آنے سے پہلے جلدی جلدی نیک اعمال کرلو!احمق لوگوں کی حکمرانی،پولیس کی کثرت، قطع رحمی،فیصلے کو رشوت کے بدلے میں بیچنا،خون بہانے کو ہلکا سمجھنااور ایسے نوخیز بچوں کا آناجو قرآن مجید کو راگ گانا بنالیں گے،لوگ ان میں سے ایک کو اس لئے امام نہیں بنائیں گے وہ سب سے زیادہ سمجھ دار اور سب سے بڑاعالم ہوگا،بلکہ اس لئے کہ وہ ان کے سامنے قرآن کا گاکرپڑھے گا۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:979)

(7) دین پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اس کی نشرواشاعت کریں:کیونکہ آپ ﷺکافرمان ہے کہ فتنوں کے دورمیں دین پر عمل کرنا مشکل ہوجائے گاجیسا کہ سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’ یَأتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ ألصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلَی دِیْنِہِ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ ‘‘ لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اپنے دین پر صبر کرنے والا دہکتے ہوئے انگارے کو مٹھی میں بندکرنے والے کے مترادف ہوگا۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:957) نیز ابوواقد لیثیؓ بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ اِنَّھَاسَتَکُوْنُ فِتَنَۃ ٌ ‘‘ عنقریب فتنے ہوں گے ،صحابۂ کرام نے کہاکہ اے اللہ کے رسول ﷺ ’’ کَیْفَ لَنَایَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺأوْکَیْفَ نَصْنَعُ؟قَالَ تَرْجِعُوْنِ اِلَی أمْرِکُمْ الْأوَّلِ ‘‘ ہم کیسے ہوں یا کیاکریں؟ توآپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے پہلے معاملے کی طرف پلٹ آنا۔یعنی دین اسلام کو قائم کرنا۔(ألصحیحۃ للألبانیؒ:3165) اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ اِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ أیَّامَ الصَّبْرِ لِلْمُتَمَسِّکِ فِیْھِنَّ بِمَاأنْتُمْ عَلَیْہِ أجْرُ خَمْسِیْنَ مِنْکُمْ ‘‘ تمہارے بعد صبر کے ایام آنے والے ہیں ،ان میں جو شخص اس دین کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا جس پر تم قائم ہوتو اسے تم میں سے پچاس افراد کے برابر اجر ملے گا۔ (الصحیحۃ للألبانیؒ:494)

(8) کتاب اللہ وسنت رسول ﷺکی اتباع کریں:فتنوں کے دور میں لوگوں کوفتنوں سے بچانے والی تاقیامت صرف اور صرف قرآن وسنت کی راہ ہے،یہی وہ راہ ہے جس کو لازم پکڑنے والا کبھی بھی فتنوں کا شکار نہ ہوگا جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: ﴿ قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْنٌ،یَھْدِیْ بِہِ اللّہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُھُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَھْدِیْھِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم ﴾ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اورواضح کتاب آچکی ہے،جس کے ذریعے سے اللہ تعالی انہیں جورضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتاہے اوراپنی توفیق سے اندھیروں سےنکال کرنورکی طرف لاتاہے اور راہ راست کی طرف ان کی رہبری کرتاہے ۔(المائدہ:15-16) اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ فَاِنَّہُ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَی اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الْمَھْدِیِّیْنَ الرَّاشِدِیْنَ تَمَسَّکُوْا بِھَاوَعَضُّوْاعَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ ‘‘ یعنی یقین جانوکہ تم میں سے جوکوئی شخص میرے بعد زندہ رہے گاوہ بہت زیادہ اختلاف کودیکھے گا پس تم ایسی صورت میں میری سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے کومضبوطی کے ساتھ نواجذوالے دانتوں لازم پکڑلینا۔ (ابوداؤد:4607وصححہ الالبانیؒ) نیز فرمایاکہ اے لوگو!میری باتوں کو اچھی طرح سمجھ لو میں نے یقینا اللہ کا دین آپ تک پہنچادیااور میں تم میں ایسی چیز چھوڑکرجارہاہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھام لیاتو کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور وہ ہے کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔(السنۃ للمروزی:68)

(9) توبہ واستغفار کولازم پکڑیں:یعنی فتنوں کے دور میں صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع ہونا اور اپنے تمام گناہوں پر اس کے سامنے ندامت وشرمندگی کی اظہار کرتے ہوئے اس سے استغفار طلب کرناجیساکہ اللہ کا فرمان ہے ﴿ وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ﴾ اور اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دینے والانہیں جو استغفار کررہے ہوں۔(الانفال:33) دوسری جگہ فرمایا ﴿ فَلَوْلا إِذْ جَاءھُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُھُمْ وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ ﴾ پھر جب ان پر ہمارا عذاب آیاتو وہ کیوں نہ گڑگڑائے؟مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے انہیں ان کے اعمال خوبصورت بناکر دکھلادئے۔(الأنعام:43)

(10) صبرکریں:مختلف آزمائشوں اور فتنوں کو برداشت کرتے ہوئے ثابت قدمی اور استقامت کامظاہرہ کریں کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ اِنَّ السَّعِیْدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنُ ،اِنَّ السَّعِیْدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنُ ،اِنَّ السَّعِیْدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنُ وَلَمَنِ ابْتُلِیَ فَصَبَرَ فَوَاھَا ‘‘ خوش نصیب ہے وہ شخص جسے فتنوں سے بچالیاجائے،خوش نصیب ہے وہ شخص جسے فتنوں سے بچالیاجائے،خوش نصیب ہے وہ شخص جسے فتنوں سے بچالیاجائے،لیکن جو ان میں مبتلاکردیاگیا اور اس نے صبرکا مظاہرہ کیا تو اس کے کیاہی کہنے۔(ابوداؤد:4263وصححہ الالبانیؒ)

اخیرمیں اللہ سے دعاگوہوں کہ یاارحم الراحمین،یاحی وقیوم اس فتنے بھرے دورمیں ہم مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت فرمااورہرظاہروباطن فتنوں سے محفوظ رکھ۔آمین ۔


کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 
Top