1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دو اہلحدیث حضرات: کفایت اللہ سنابلی اور زبیر علی زئی صاحبان

'تعارف اراکین' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏جنوری 01، 2019۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جنوری 01، 2019 #1
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    زبیر علی زئی کی درج ذیل کتاب میں انہوں نے کفایت اللہ سنابلی صاحب کو جھوٹا ثابت کیا۔
    اس کی کیا حقیقت ہے؟ (مقالات جلد ششم)
    وضاحت فرما دیں۔
    دونوں اہلحدیث ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔
     
  2. ‏جنوری 02، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کفایت اللہ صاحب ایک عرصے تک زبیر علی زئی صاحب کے مدح سرا رہے، پھر کسی وجہ سے اختلاف ہوا، اور حالات خراب ہوگئے۔ دونوں کی ایک دوسرے کے خلاف تحریریں اسی بعد والے زمانے کی ہیں۔
    بہرصورت ہر مسلک و مذہب کے لوگوں میں ایسا ’مذموم اختلاف‘ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی اس سے سب کو محفوظ رکھے۔
     
    • متفق متفق x 6
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 02، 2019 #3
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و علیکم و رحمت الله -

    میری تحقیق کے مطابق زبیر علی زئی اور کفایت اللہ سنابلی کا اصل جگھڑا مناقب علی و معاویہ اور حسین و یزید رضی اللہ عنھما کے معاملے میں ہی ہے- باقی دوسرے فقہی معملات و عقائد میں دونوں اہل حدیث حضرات کے تقریباً یکساں خیالات و نظریات ہیں -

    زبیر علی زئی ان اہل علم میں سے ہیں جو علی و معاویہ رضی اللہ عنھما کے باہمی و سیاسی اختلاف کے معاملے میں رافضی نظریات و عقائد رکھنے والے اکثر و بیشتر علماء اہل سنّت سے قرب رکھتے نظر آتے ہیں- اگرچہ مجموعی طور پر وہ رافضی افکار و نظریات یعنی بدعات و مشرکانہ عقائد وغیرہ کے ایسے ہی مخالف نظر آتے ہیں جسے باقی اہل سنّت کے علماء و مشائخ ہیں-

    دوسری طرف کفایت اللہ سنابلی ان اہل علم میں سے ہیں جو علی و معاویہ رضی اللہ عنھما کے باہمی و سیاسی اختلاف کے معاملے میں بظاھر نواصب کے عقائد کے نزدیک نظر آتے ہیں- لیکن میرے نزدیک کفایت اللہ سنابلی حقیقت میں ناصبی نہیں ہیں- کیوں کہ مشاجرات صحابہ کرام- خصوصاً و علی و معاویہ رضی اللہ عنھما اور یزید بن معاویہ رحم الله کے باہمی معاملات و واقعیات میں انہوں نے حقیقت نظری سے کام لیا ہے- اور علم جرح و تعدیل کے صحیح استمال سے ان واقعیات و حالات کو پرکھا ہے اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا -

    کہتے ہیں کہ جذباتیت "سچائی و انصاف" کی دشمن ہوتی ہے- زبیر علی زئی نے جذبات میں آکر اپنی تحقیق میں وہی غلطیاں کیں جو مشاجرات صحابہ کے معاملات میں عرصۂ پہلے مولانا مودودی نے کیں تھیں-اور جس کی بنا پر ہی عوام و مشائخ میں ناصبی افکار و نظریات کو ابھرنے کا موقعہ ملا-(و اللہ اعلم)

    بہرحال حق یہی ہے کہ "توبہ" زبیر علی زئی کو کرنی چاہیے تھی نا کہ کیفایت الله صاحب کو کرنی ہے-

    دعا ہے کہ الله زبیر علی زئی کی مغفرت کرے اور سب مسلمانوں کو اپنی سیدھی راہ دیکھاہے (آمین)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 03، 2019 #4
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    291
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    محترم،
    سنابلی صاحب کے انصاف کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں
    اپنی کتاب یزید بن معاویہ پر الزامات کا جائزہ میں موصوف نے ابن زیاد کوحسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے حکم دینے سے بری قرار دیا تھا اورصفحہ ۳۷۳ پر یہ روایت پیش کی عبداللہ بن جعفر کے بیٹوں کا سر لانے والے کے قتل کا ارادہ کر لیا اور اس کا گھر بھی منہدم کروادیا یہ روایت سنابلی صاحب نے اپنی کتاب میں صفحہ ۳۷۳ پریہاں سے شروع کی ہے

    وجيء بنسائه وبناته وأهله، وَكَانَ أحسن شَيْء صنعه أن أمر لهن بمنزل فِي مكان معتزل، وأجرى عليهن رزقا، وأمر لهن بنفقة وكسوة قَالَ: فانطلق غلامان مِنْهُمْ لعبد اللَّه بن جَعْفَر- أو ابن ابن جَعْفَر- فأتيا رجلا من طيئ فلجأ إِلَيْهِ، فضرب أعناقهما، وجاء برءوسهما حَتَّى وضعهما بين يدي ابن زياد، قَالَ: فهم بضرب عنقه، وأمر بداره فهدمت۔

    اور اس کے سنابلی صاحب نے تین حوالے نقل کیے ہیں" تاریخ الطبری، انساب الاشراف البلاذری، بغیۃ الطلب" اور ان تمام کتب سے سنابلی صاحب نے اس روایت کے وہ الفاظ حذف کر دئیے جس میں ابن زیاد نے عمرو بن سعد کو حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنےاور عمرو بن سعد کا ابن زیاد کے پاس حسین رضی اللہ عنہ کے سر لانے کا تذکرہ ہے پوری روایت اس طرح ہے۔

    قَالَ: وَحَدَّثَنِي سعد بن عبيدة، قَالَ: إنا لمستنقعون فِي الماء مع عُمَر بن سَعْد، إذ أتاه رجل فساره وَقَالَ لَهُ: قَدْ بعث إليك ابن زياد جويرية بن بدر التميمي، وأمره إن لم تقاتل القوم أن يضرب عنقك، قَالَ: فوثب إِلَى فرسه فركبه، ثُمَّ دعا سلاحه فلبسه، وإنه عَلَى فرسه، فنهض بِالنَّاسِ إِلَيْهِم فقاتلوهم، فجيء برأس الْحُسَيْن إِلَى ابن زياد، فوضع بين يديه، فجعل ينكت بقضيبه، ويقول: إن أبا عَبْد اللَّهِ قَدْ كَانَ شمط، قَالَ: وجيء بنسائه وبناته وأهله، وَكَانَ أحسن شَيْء صنعه أن أمر لهن بمنزل فِي مكان معتزل، وأجرى عليهن رزقا، وأمر لهن بنفقة وكسوة قَالَ: فانطلق غلامان مِنْهُمْ لعبد اللَّه بن جَعْفَر- أو ابن ابن جَعْفَر- فأتيا رجلا من طيئ فلجأ إِلَيْهِ، فضرب أعناقهما، وجاء برءوسهما حَتَّى وضعهما بين يدي ابن زياد، قَالَ: فهم بضرب عنقه، وأمر بداره فهدمت(تاریخ الطبری5/393)

    ترجمہ: حصین نے بیان کیا کہ سعد بن عبید نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم عمر بن سعد کے ساتھ پانی میں نہا رہے تھے کہ اچانک اس کے پاس ایک شخص آیا اور اس سے سرگوشی کی اور اس نے اسے کہا ابن زیاد نے تمہاری طرف جویریہ بن بدر تمیمی کو بھیجا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ اگر تو نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کی تو وہ تجھے قتل کر دے راوی بیان کرتا ہے کہ وہ اٹھا اور اپنے گھوڑے کے پاس گیا اور اس پر سوار ہو گیا پھر اس نے اپنے ہتھیار منگوا کر پہنے اور اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور وہ لوگوں کے ساتھ ان کی طرف گیا اور انہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی اور حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لاکر اس کے سامنے رکھا گیا اور وہ اپنی چھڑی کو اپ کی ناک پر رکھ کر کہنے لگا بلاشبہ ابو عبداللہ سیاہ و سفید بالوں والے ہیں، راوی بیان کرتا ہے اور اپ کی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل کو بھی لایا گیا راوی بیان کرتا ہے اس نے سب سے اچھا کام یہ کیا کہ ان کے لیے ایک فرد گاہ کا حکم دیا جوا ایک الگ تھلگ جگہ پر تھی اور ان کی رسد جاری کر دی اور ان کے لئے لباس اور اخراجات کا حکم دیا ان میں سے دو لڑکوں نے جو عبداللہ بن جعفر یا ابن ابی جعفر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے آکر طی قبیلہ کے ایک شخص کی پناہ لی تو اس نے ان دونوں کو قتل کر دیا اور ان دونوں کے سر لا کر ابن زیاد کے سامنے رکھ دیئے ابن زیاد نے بھی اسے قتل کرنے کا اردہ کر لیا اور اس کے حکم سے اس کے گھر کو منہدم کردیا گیا۔

    اس میں ہائی لائٹ الفاظ وہ ہیں جہاں سے سنابلی صاحب نے روایت شروع کی ہے اور اس سے پہلے تمام روایت حذف کر دی جس میں ابن زیاد کا عمرو بن سعد حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دینا اور پر ان کا سر لانا ہے ۔
    یہ ہے سنابلی صاحب کا وہ انصاف جس کا دامن انہوں نے نہیں چھوڑا زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اسی طرح کے ۱۰ انصاف نقل کیے ہوں گے۔

    تو کیا خیال ہے توبہ سنابلی صاحب کو ہی کرنی چاہیے۔
     
  5. ‏جنوری 03، 2019 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    لیکن اب یہاں بھی وہی بحث نہ شروع ہوجائے، جو فورم کے ہر تیسرے تھریڈ میں موجود ہے۔
    محمد علی جواد اور دفاع حدیث صاحبان اس موضوع کے کافی دلدادہ محسوس ہوتے ہیں۔
    رہی بات زبیر علی زئی صاحب کا کفایت اللہ صاحب کو جھوٹا وغیرہ کہنا، تو میرے خیال میں یہ سلسلہ درست نہیں۔
    میں نہیں کہتا کہ لوگ علمی و تحقیقی باتوں میں جھوٹ نہیں بولتے، لیکن بہت دفعہ ایسے ہی کسی دوسرے کو جھوٹ و خیانت کا الزام دے دیا جاتا ہے۔
    اس طرح کرکے دیکھا جائے، تو مصنفین و محققین میں سے بہت سارے لوگوں کو جھوٹا ثابت کیا جاسکتاہے۔
    مجلہ الحدیث میں حنفیوں کے جھوٹ چھاپے جاتے تھے، ایک دفعہ قافلہ حق نامی مجلہ دیکھا، انہوں نے اسی قسم کے زبیر علی زئی صاحب کے جھوٹ گنوائے ہوئےتھے۔ یہ کوئی مناسب رویہ نہیں۔
    کفایت اللہ صاحب اور شیخ زبیر علی زئی صاحب میں سے جس کو مرضی آپ حق پر سمجھیں، لیکن اختلاف رائے کی صورت میں جو توہین اور تکذیب و تفسیق وغیرہ منظر عام پر آئی ہے، اس رویے کی حوصلہ افزائی کسی طرف سے بھی نہیں ہونی چاہیے۔
     
    • متفق متفق x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 03، 2019 #6
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    ابحاث میں شخصیات کو متہم نہیں کرنا چاہیئے بلکہ غلط بات کی تصحیح کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

    کیا زبیر علی زئی صاحب کے اعتراضات درست ہیں یا کہ انہوں نے بھی مبالغہ آرائی کی۔
    اگر اعتراضات درست ہیں تو سوچنے کی بات ہے کہ سنابلی صاحب نے ایسا کیوں کیا؟
    اگر اعتراضات غلط ہیں تو کس طرح؟
    بات کو اگر امثال سے واضح کر دیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔
     
  7. ‏جنوری 04، 2019 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آپ لوگ پندرھویں صدی کی بات کر رہے ہیں ،
    میں آپ کو دوسری ہجری صدی کے دو مشہور شخصیات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں :
    امام ابو حنیفہ کے دو مشہور شاگرد یعنی قاضی ابو یوسف اور امام محمد بن حسن کے متعلق
    امام تقی الدین المقریزیؒ لکھتے ہیں :

    وَقَالَ أَبُو نعيم: قَالَ أَبُو يُوسُف: مُحَمَّد بن الْحسن يكذب عَليّ
    قاضی ابو یوسف فرماتے ہیں : محمد بن الحسن مجھ پر جھوٹ بولتا ہے ، (یعنی میرے متعلق جھوٹی باتیں پھیلاتا ہے )
    مختصر الكامل في الضعفاء (تقي الدين احمد بن علی المقريزي (المتوفى: 845 ھ)
    https://archive.org/details/MAL05540/page/n665

    اور امام بخاریؒ نقل فرماتے ہیں کہ :
    وَقَالَ أَبُو نعيم: سَمِعت أَبَا حنيفَة يَقُول: أَبُو يُوسُف يكذب عَليّ.
    وَمرَّة قَالَ: أَلا تعْجبُونَ من يَعْقُوب. . يَقُول مَا لَا أَقُول.

    حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں :ابو یوسف یعقوب میرے نام پر جھوٹ بولتا ہے ،
    اور فرمایا کرتے : کہ لوگو! تمہیں تعجب نہیں ہوتا ۔یہ ابو یوسف میرے نام پر وہ باتیں کرتا ہے جو میں نے نہیں کہی ہوتیں ۔
    التاريخ الصغير للبخاري (طبع مكتبة المعارف الرياض )
    https://archive.org/details/Tarikh_Sagher_Bukhari/page/n576
    اور مختصر الکامل فی الضعفاء
    https://archive.org/details/MAL05540/page/n797
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 04، 2019 #8
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    دوسری صدی کے حضرات کا تصفیہ کون کرے وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاں پہن چکے؟
    اس پر بھی کوئی ثبوت نہیں کہ ایک کا اعتراض دوسرے تک پہنچا کہ نہیں؟
    اگر پہنچا تو اس کا کیا جواب دیا گیا؟
    سنابلی صاحب ابھی زندہ ہیں وہ بتا سکتے ہیں (یا ان سے پوچھا جاسکتا ہے) کہ کیا زبیر علی زئی صاحب کے اعتراضات صحیح ہیں یا غلط؟
    اگر صحیح ہیں تو سنابلی صاحب نے اپنی تصحیح فرما لی؟
    اگر زبیر علی زئی صاحب غلط تھے تو اس پر کیا دلائل ہیں؟

    معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ کی تحریر عالمانہ نہیں عامیانہ ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 07، 2019
  9. ‏جنوری 05، 2019 #9
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    علم و جرح و تعدیل ایک ایسا علم ہے کہ جس میں علماء حق، حتیٰ کہ قرون اولیٰ کے محدثین بھی اکثر اوقات اجتہادی خطاء کا شکار ہوے ہیں- اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ دونوں اطراف یعنی زبیر علی زئی اور سنابلی صاحب سے اجتہادی غلطی ہونا بعید از قیاس نہیں- دونوں حضرات جرح و تعدیل کے طالب علم ہیں- البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اہل بیت اور بنو امیہ کے مشجرات وغیرہ کے معاملے میں سبایت کے زیر اثر متقدمین اور متاخرین میں انتہا درجے کی جذباتیت پائی گئی ہے- اب یہی دیکھ لیں دیکھ لیں کہ زبیر علی زئی صاحب، سنابلی صاحب کی اجتہادی غلطی (اگر وہ واقعی غلطی تھی) کو "صریح جھوٹ" قرار دے رہے ہیں اور ان کو توبہ کرنے کو کہہ رہے ہیں- جو کہ ایک اچھی روش نہیں ہے- جھوٹ تو وہ ہوتا ہے جو جان بوجھ کر غلط بیانی کے طور پر کہا جائے- سنابلی صاحب نے تو روایات کو تحقیق کے بعد ہی صحیح یا ضعیف قرار دیا ہے-

    صحابہ کرام رضوان الله اجمعین معصوم نہیں تھے- ان کے گناہوں کے ذکر کرنا تو ہم مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا- لیکن یہ کیسا انصاف ہے کہ سیدنا معاویہ رضی عنہ کی جید ہستی کو تو ہم ظالم بادشاہ، رشوت خور اور بدعتی بنا کر عوام کے سامنے پیش کریں اور بزور باطل دلائل ان روایات کو صحیح قرار دیں جو ان کی معتبر شخصیت کو داغدار کرتی ہیں- لیکن دوسری طرف اہل بیت کی جھوٹی محبّت میں علی رضی االله عنہ کو مافوق الفطرت انسان اور ان کو ہر سیاسی و انتظامی غلطی سے مبراء قرار دیا جائے- جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے دور خلافت میں ان سے بھی کئی سیاسی و انتظامی غلطیوں کا صدور ہوا - جس کا مسلمانوں کو خمیازہ بھگتنا پڑا - یہی ان کے بیٹے حسین رضی الله عنہ سے ہوا- وہ اپنی عصبیت کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے اور کوفیوں کے دام فریب میں گرفتار ہو کر مظلومانہ شہید ہو ے-

    اب سنابلی صاحب کی طرح اگر کوئی تحقیق کے بعد تاریخی حقائق بیان کرتا ہے (چاہے حقیقت میں وہ غلط ہے یا صحیح)- تو جذباتیت کی رو میں آکر ان کو "جھوٹا قرار دینا میرے خیال میں اخلاقی اعتبار سے کوئی اچھا رد عمل نہیں تھا-

    بہرحال دعا ہے کہ الله رب العزت زبیر علی زئی صاحب کی غلطیوں سے درگزر کرے (آمین)-
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 06، 2019 #10
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و علیکم و رحمت الله -

    مذکورہ روایت کے بارے میں کفایت الله سنابلی صاحب اور زبیر علی زئی صاحب کی تحقیق و تنقید اس تھریڈ میں موجود ہیں- اس کو پڑھ لیں-

    http://forum.mohaddis.com/threads/کیا-یزید-بن-معاویہ-سنت-کو-بدلنے-والے-تھے؟.11409/
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں