• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دین حنیف اور حنفی؟

شمولیت
جون 23، 2011
پیغامات
187
ری ایکشن اسکور
977
پوائنٹ
86
درج ذیل چھ پوسٹس یہاں سے غیر متعلق ہونے کی وجہ سے منتقل کی گئی ہیں۔ انتظامیہ

بھائی علمائے اکرام سے گذارش ہے کہ دی گئی آیت
ﻭَ ﺍَﻥۡ ﺍَﻗِﻢۡ ﻭَﺟۡﮩَﮏَ ﻟِﻠﺪِّﯾۡﻦِ ﺣَﻨِﯿۡﻔًﺎ ۚ ﻭَ ﻟَﺎ ﺗَﮑُﻮۡﻧَﻦَّ ﻣِﻦَ ﺍﻟۡﻤُﺸۡﺮِﮐِﯿۡﻦَ ﴿۱۰۵﴾ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﮐﮧ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﺮ ﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﯾﻦ ﭘﺮ ﺣﻨﯿﻒ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺖ ﮨﻮ ﺷﺮﮎ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ )ﯾﻮﻧﺲ
کی کھول کر وضاحت کریں کہ دین حنیف سے مراد ابراھیم علیہ السلام کا یکطرفہ دین ہے یا کہ ابوحنیفہ کا دین حنفی ہے
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
بھائی علماۓ اکرام سے گذارش ہے کہ دی گئی آیت کی کھول کر وضاحت کریں کہ دین حنیفا سے مراد ابراھیم علیہ السلام کا یکطرفہ دین ہے یا کہ ابوحنیفہ کا دین حنفی ہے
اگر کوئی ان سے مراد حنفی مذہب لیتا ہے، تو یہ قرآن کریم کی صریح معنوی تحریف ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے تعصّبات سے حفظ وامان میں رکھیں!
 
شمولیت
جون 23، 2011
پیغامات
187
ری ایکشن اسکور
977
پوائنٹ
86
اگر کوئی ان سے مراد حنفی مذہب لیتا ہے، تو یہ قرآن کریم کی صریح معنوی تحریف ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے تعصّبات سے حفظ وامان میں رکھیں!
اکثر حنفی بھائی بطور دلیل یا ڈھال کہ طور پہ یہ آیت پیش کرتے ہیں اور یہاں حنیفا کو الگ کلر سے ھائی لائٹ کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے ممکن ہو میں غلط بھی ہوں
وللہ اعلم
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,404
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
بھائی جان احناف کامقصد بھی یہی ہے۔جیسا کہ وہ یہاں خود اس کوتسلیم کرچکے ہیں ۔دیکھیں اس اقتباس کو
السلام علیکم
مزید یہ کہ میں نے حدیث پیش کردی ہے جس سے “حنفی “ نام دکھادیا ہے ۔ لیکن آپ نبی پاک کی حدیث سے اپنی جماعت کا نام نہیں دکھاسکے ۔ ہاں امتیوں کے اقوال ضرور دکھائے ہیں۔
“حنفی“ نام مینے حدیث مبارکہ سے دکھادیا ہے اور “گمراہ فرقے“ کانام آپ ابھی تک نا قرآن سے دکھاسکے
حضور کوئی دلیل اس عزیم الشان سوال پر ؟
وَ اَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اوریہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر حنیف ہو کر اور مت ہو شرک والوں میں
(یونس)
شکریہ
یہاں خود اقرار بھی کرلیا۔
السلام علیکم مسٹر گڈ مسلم
مسٹر گڈ مسلم میرا مقصد یہ دکھانا ہی تھا جو آپ سمجھے ہیں یعنی حنفی نام قرآن سے دکھانے کا
شکریہ
تو پھر آپ کہا
بھائی علماۓ اکرام سے گذارش ہے کہ دی گئی آیت کی کھول کر وضاحت کریں کہ دین حنیفا سے مراد ابراھیم علیہ السلام کا یکطرفہ دین ہے یا کہ ابوحنیفہ کا دین حنفی ہے
تو اس پر انس بھائی نے ایک بات کہی
بھائی علماۓ اکرام سے گذارش ہے کہ دی گئی آیت کی کھول کر وضاحت کریں کہ دین حنیفا سے مراد ابراھیم علیہ السلام کا یکطرفہ دین ہے یا کہ ابوحنیفہ کا دین حنفی ہے
اگر کوئی ان سے مراد حنفی مذہب لیتا ہے، تو یہ قرآن کریم کی صریح معنوی تحریف ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے تعصّبات سے حفظ وامان میں رکھیں!
پھر آپ نے کہا
اگر کوئی ان سے مراد حنفی مذہب لیتا ہے، تو یہ قرآن کریم کی صریح معنوی تحریف ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے تعصّبات سے حفظ وامان میں رکھیں!
اکثر حنفی بھائی بطور دلیل یا ڈھال کہ طور پہ یہ آیت پیش کرتے ہیں اور یہاں حنیفا کو الگ کلر سے ھائی لائٹ کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے ممکن ہو میں غلط بھی ہوں
وللہ اعلم
اب آپ پر بھی واضح ہوجانا چاہیے کہ احناف کا اس طرح کی آیات واحادیث پیش کرنا اور پھر موجود حنیف لفظ کو ہائی لائٹ کرنے کامقصد کیا ہے ۔ان کا مقصد وہی ہے جس کے بارے میں انس بھائی نے کہہ دیا کہ یہ معنوی تحریف ہے۔
نوٹ
مزید تفصیل ان کے اقرار کی آپ یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں پوسٹ نمبر33 اور پوسٹ نمبر35
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,964
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

میرا خیال ہے کہ انتطامیہ نے یہ تھریڈ اہل حدیث کا آغاز - تاریخ و حقائق قبل از وقت مقفل کردیا ہے کیونکہ سہج صاحب نے یہاں اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قرآن اور حدیث میں معنوی تحریف کی ہے جس کا جواب دیا جانا حد سے زیادہ ضروری تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہ بحث اس غیر متعلقہ تھریڈ میں شروع ہوگئی ہے۔ میری انتطامیہ سے گزارش ہے کہ یہاں شروع ہونے والی بحث متعلقہ تھریڈ میں منتقل کردے اور یہاں مجھے موضوع سے متعلق سہج صاحب کو جواب دینے دیں۔ شکریہ
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
بھائی علماۓ اکرام سے گذارش ہے کہ دی گئی آیت کی کھول کر وضاحت کریں کہ دین حنیفا سے مراد ابراھیم علیہ السلام کا یکطرفہ دین ہے یا کہ ابوحنیفہ کا دین حنفی ہے
اگر کوئی ان سے مراد حنفی مذہب لیتا ہے، تو یہ قرآن کریم کی صریح معنوی تحریف ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے تعصّبات سے حفظ وامان میں رکھیں!


اکثر حنفی بھائی بطور دلیل یا ڈھال کہ طور پہ یہ آیت پیش کرتے ہیں اور یہاں حنیفا کو الگ کلر سے ھائی لائٹ کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے ممکن ہو میں غلط بھی ہوں
وللہ اعلم


بھائی جان احناف کامقصد بھی یہی ہے۔جیسا کہ وہ یہاں خود اس کوتسلیم کرچکے ہیں ۔دیکھیں اس اقتباس کو
یہاں خود اقرار بھی کرلیا۔
تو پھر آپ کہا
تو اس پر انس بھائی نے ایک بات کہی

پھر آپ نے کہا
اب آپ پر بھی واضح ہوجانا چاہیے کہ احناف کا اس طرح کی آیات واحادیث پیش کرنا اور پھر موجود حنیف لفظ کو ہائی لائٹ کرنے کامقصد کیا ہے ۔ان کا مقصد وہی ہے جس کے بارے میں انس بھائی نے کہہ دیا کہ یہ معنوی تحریف ہے۔
نوٹ
مزید تفصیل ان کے اقرار کی آپ یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں پوسٹ نمبر33 اور پوسٹ نمبر35
ماشاء اللہ موضوع کے عین مطابق باتیں ہورہی ہیں

اسے کہتے ہیں آئیں بائیں شائیں کرنا اور اصل بات سے توجہ ہٹانا ۔۔۔۔ بھائی لوگو ۔۔۔اگر "دین حنیف" پسند نہیں تو الگ تھریڈ بنائیں اور اسمیں اسی آیت پر اپنے خیالات بلکہ تقلیدی خیالات کا اظہار فرمائیے۔ اور انتظامیہ دیہان رکھے کہ ایسی غیر متعلقہ باتیں کرکے " کھڑے ہو کر پیشاب کرنا خاص مقامات اور حالات کے ساتھ متعلق سنت ہے " کے فرمان سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ۔

شکریہ
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,964
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
412
جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے اور جھوٹ کی شناعت و خباثت اس وقت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جب یہ جھوٹ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا جائے۔ لیکن انتہائی بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ جھوٹ کی یہی خبیث ترین صورت احناف کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ انہی ناپسندیدہ ہتھکنڈوں کے ذریعے یہ حنفی مذہب کا دفاع کرتے ہیں۔ سہج صاحب نے اہل حدیث کا آغاز۔تاریخ و حقائق نامی دھاگے میں ایک حدیث پیش کی:

عن أبي أمامة قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سرية فمر رجل بغار فيه شيء من ماء وبقل فحدث نفسه بأن يقيم فيه ويتخلى من الدنيا فاستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إني لم أبعث باليهودية ولا بالنصرانية ولكني بعثت بالحنيفية السمحة والذي نفس محمد بيده لغدوة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها ولمقام أحدكم في الصف خير من صلاته ستين سنة " . رواه أحمد

پھر سہج صاحب نے اس حدیث کا ترجمہ کرکے نتیجہ اس طرح پیش کیا ہے۔
دیکھا شاھد صاحب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ؟ ““ بلکہ میں تو دین حنیفہ دے کر بھیجا گیا ہوں جو ایک آسان دین ہے““ اب آپ کو یہ بتادوں ابوحنیفہ کو ابوحنیفہ کیوں کہتےہیں “حنیف“ کا مطلب ہے “سچا“ اور “حق کی طرف مائل“ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا نام ہے نعمان رحمہ اللہ ۔ لیکن دنیا میں کم افراد ہی ابوحنیفہ کا اصل نام جانتے ہیں ، جانتے ہیں صرف “لقب“یعنی ابو حنیفہ ۔
سہج صاحب نے انتہائی مضحکہ خیز انداز سے ایک ایسی بات حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس کا اشارہ تک حدیث میں موجود نہیں بلکہ سہج صاحب نے اپنے اکابرین کی سنت دہراتے ہوئے حدیث کے معنوں میں صریحا تحریف کی ہے اور تحریف کرتے وقت نبی علیہ السلام کا یہ ارشاد بھی بھول گئے کہ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

حدیث میں معنوی تحریف کی پہلی مثال:
حدیث میں لفظ بقول سہج صاحب دین حنیفہ استعمال ہوا ہے لیکن سہج صاحب جس دیوبندی مسلک پر کاربند ہیں وہ دین نہیں ہے دین تو صرف اسلام ہے بلکہ دیوبندیت یا حنفیت تو صرف ایک مذہب ہے۔ پس سہج صاحب نے دین سے مذہب مراد لے کر حدیث میں پہلی معنوی تحریف کی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگر دین حنیفہ سے مراد حنفی دین ہے تو امام ابوحنیفہ کی پیدائش سے پہلے مسلمان کس دین پر عمل پیرا تھے؟

حدیث میں معنوی تحریف کی دوسری مثال:
حدیث میں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ حنیفہ یا حنیف ہے جبکہ سہج صاحب کا مذہب حنفی ہے یہ دونوں بالکل الگ الگ الفاظ ہیں حنیفہ یا حنیف میں ’’ف‘‘ سے پہلے ’’ی‘‘ موجود ہے اس کے برعکس حنفی میں ’’ف‘‘ سے پہلے ’’ن‘‘ ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل علیحدہ الفاظ ہیں۔ پس سہج صاحب نے حنیفہ یا حنیف کو حنفی بتا کر حدیث میں دوسری معنوی تحریف کی۔

سہج صاحب نے اس عبارت میں کچھ جھوٹ بھی بولے ہیں۔دیکھئے:

سہج صاحب کا پہلا جھوٹ:
سہج صاحب نے ابوحنیفہ کو نعمان بن ثابت کا لقب بتایا ہے جبکہ ابوحنیفہ نعمان بن ثاب کی کنیت تھی یہ بات ایک معمولی پڑھا لکھا بھی جانتا ہے۔

سہج صاحب کا دوسرا جھوٹ:
سہج صاحب نے ابوحنیفہ کے معنی بتاتے ہوئے صرف حنیفہ کے معنی ’’حق کی طرف مائل‘‘ بتائے ہیں جبکہ ابو کا لفظ دانستہ چھوڑدیا ہے۔ اگر ابوحنیفہ میں ابو کا کچھ بھی معنی نہیں تو حنفی اپنے امام کو ابوحنیفہ کے بجائے صرف حنیفہ کیوں نہیں کہتے؟ ایک عام مسلمان بھی اس بات کو جانتا ہے کہ ابو کے معنی والد کے ہیں اور ابوحنیفہ کے معنی ’’حنیفہ کے والد‘‘ ہیں۔ حنیفہ نعمان بن ثابت کی بیٹی تھیں جنھیں جب انہوں نے بادشاہ ہارون الرشید کے نکاح میں دیا تو نعمان بن ثابت اپنے نام کے بجائے اپنی کنیت ابوحنیفہ سے مشہور ہوگئے۔ اگر حنفی غیرت مند ہوتے تو خود کو نعمان بن ثابت کی طرف منسوب کرکے نعمانی کہلاتے لیکن انہوں نے اپنے امام کے بجائے ان کی بیٹی کی طرف نسبت کرکے حنفی کہلانے میں فخر محسوس کیا۔

سہج صاحب کا تیسرا جھوٹ:
سہج صاحب لکھتے ہیں:
مزید یہ کہ میں نے حدیث پیش کردی ہے جس سے “حنفی “ نام دکھادیا ہے ۔
یہ سہج صاحب کا ایک اور سیاو جھوٹ ہے کیونکہ حدیث میں تو حنفی لفظ موجود نہیں اگر ہے تو دکھا دیں۔

سہج صاحب نے لکھا:
کیونکہ امام صاحب سے پہلے کسی نے دین کو “مدون“ نہیں کیا تھا ۔
دین تو قرآن و حدیث کا نام ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین نے قرآن میں کہا کہ آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔ کیا اللہ نے حنفی مذہب کو مکمل کیا؟؟؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے جو قرآن اور احادیث لکھواتے تھے کیا وہ حنفی مذہب تھا؟؟؟ کیا ابوحنیفہ نے قرآن و حدیث کو جمع کیا تھا؟ امام ابوحنیفہ کا مذہب ان کی رائے ہے جس کے بارے میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: نہ ان کی رائے کام کی ہے نہ حدیث (مناقب الشافعی للرازی، ص١٤٢)

امام ابوحنیفہ کی جس رائے کو سہج صاحب دین کہہ رہے ہیں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حیثیت ہے امام ابوحنیفہ کے دین کی!

سہج صاحب نے حنفی مذہب کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی ایک آیت بھی پیش کی ہے:
وَ اَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اوریہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر حنیف ہو کر اور مت ہو شرک والوں میں
(یونس)

یہ بھی قرآن کی معنوی تحریف ہے اس پر بھی وہی اشکالات وارد ہوتے ہیں جن کا تذکرہ میں نے اوپر کیا ہے۔ جب ابوحنیفہ کی پیدائش نہیں ہوئی تھی اور اس وقت جب وہ خود طالب علم تھے اور مجتہد نہیں تھے بلکہ خود اپنے استاد کے مقلد تھے اس وقت اور اس سے پہلے مسلمانوں نے اللہ کے اس حکم پر کیسے عمل کیا تھا؟؟؟ کیونکہ اس وقت نہ حنفی تھے نہ فقہ حنفی اور نہ ہی ابوحنیفہ۔
 

sahj

مشہور رکن
شمولیت
مئی 13، 2011
پیغامات
458
ری ایکشن اسکور
657
پوائنٹ
110
جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے اور جھوٹ کی شناعت و خباثت اس وقت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جب یہ جھوٹ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا جائے۔ لیکن انتہائی بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ جھوٹ کی یہی خبیث ترین صورت احناف کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ انہی ناپسندیدہ ہتھکنڈوں کے ذریعے یہ حنفی مذہب کا دفاع کرتے ہیں۔ سہج صاحب نے اہل حدیث کا آغاز۔تاریخ و حقائق نامی دھاگے میں ایک حدیث پیش کی:

عن أبي أمامة قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سرية فمر رجل بغار فيه شيء من ماء وبقل فحدث نفسه بأن يقيم فيه ويتخلى من الدنيا فاستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إني لم أبعث باليهودية ولا بالنصرانية ولكني بعثت بالحنيفية السمحة والذي نفس محمد بيده لغدوة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها ولمقام أحدكم في الصف خير من صلاته ستين سنة " . رواه أحمد

پھر سہج صاحب نے اس حدیث کا ترجمہ کرکے نتیجہ اس طرح پیش کیا ہے۔


سہج صاحب نے انتہائی مضحکہ خیز انداز سے ایک ایسی بات حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس کا اشارہ تک حدیث میں موجود نہیں بلکہ سہج صاحب نے اپنے اکابرین کی سنت دہراتے ہوئے حدیث کے معنوں میں صریحا تحریف کی ہے اور تحریف کرتے وقت نبی علیہ السلام کا یہ ارشاد بھی بھول گئے کہ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

حدیث میں معنوی تحریف کی پہلی مثال:
حدیث میں لفظ بقول سہج صاحب دین حنیفہ استعمال ہوا ہے لیکن سہج صاحب جس دیوبندی مسلک پر کاربند ہیں وہ دین نہیں ہے دین تو صرف اسلام ہے بلکہ دیوبندیت یا حنفیت تو صرف ایک مذہب ہے۔ پس سہج صاحب نے دین سے مذہب مراد لے کر حدیث میں پہلی معنوی تحریف کی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگر دین حنیفہ سے مراد حنفی دین ہے تو امام ابوحنیفہ کی پیدائش سے پہلے مسلمان کس دین پر عمل پیرا تھے؟

حدیث میں معنوی تحریف کی دوسری مثال:
حدیث میں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ حنیفہ یا حنیف ہے جبکہ سہج صاحب کا مذہب حنفی ہے یہ دونوں بالکل الگ الگ الفاظ ہیں حنیفہ یا حنیف میں ’’ف‘‘ سے پہلے ’’ی‘‘ موجود ہے اس کے برعکس حنفی میں ’’ف‘‘ سے پہلے ’’ن‘‘ ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل علیحدہ الفاظ ہیں۔ پس سہج صاحب نے حنیفہ یا حنیف کو حنفی بتا کر حدیث میں دوسری معنوی تحریف کی۔

سہج صاحب نے اس عبارت میں کچھ جھوٹ بھی بولے ہیں۔دیکھئے:

سہج صاحب کا پہلا جھوٹ:
سہج صاحب نے ابوحنیفہ کو نعمان بن ثابت کا لقب بتایا ہے جبکہ ابوحنیفہ نعمان بن ثاب کی کنیت تھی یہ بات ایک معمولی پڑھا لکھا بھی جانتا ہے۔

سہج صاحب کا دوسرا جھوٹ:
سہج صاحب نے ابوحنیفہ کے معنی بتاتے ہوئے صرف حنیفہ کے معنی ’’حق کی طرف مائل‘‘ بتائے ہیں جبکہ ابو کا لفظ دانستہ چھوڑدیا ہے۔ اگر ابوحنیفہ میں ابو کا کچھ بھی معنی نہیں تو حنفی اپنے امام کو ابوحنیفہ کے بجائے صرف حنیفہ کیوں نہیں کہتے؟ ایک عام مسلمان بھی اس بات کو جانتا ہے کہ ابو کے معنی والد کے ہیں اور ابوحنیفہ کے معنی ’’حنیفہ کے والد‘‘ ہیں۔ حنیفہ نعمان بن ثابت کی بیٹی تھیں جنھیں جب انہوں نے بادشاہ ہارون الرشید کے نکاح میں دیا تو نعمان بن ثابت اپنے نام کے بجائے اپنی کنیت ابوحنیفہ سے مشہور ہوگئے۔ اگر حنفی غیرت مند ہوتے تو خود کو نعمان بن ثابت کی طرف منسوب کرکے نعمانی کہلاتے لیکن انہوں نے اپنے امام کے بجائے ان کی بیٹی کی طرف نسبت کرکے حنفی کہلانے میں فخر محسوس کیا۔

سہج صاحب کا تیسرا جھوٹ:
سہج صاحب لکھتے ہیں: یہ سہج صاحب کا ایک اور سیاو جھوٹ ہے کیونکہ حدیث میں تو حنفی لفظ موجود نہیں اگر ہے تو دکھا دیں۔

سہج صاحب نے لکھا:

دین تو قرآن و حدیث کا نام ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین نے قرآن میں کہا کہ آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔ کیا اللہ نے حنفی مذہب کو مکمل کیا؟؟؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے جو قرآن اور احادیث لکھواتے تھے کیا وہ حنفی مذہب تھا؟؟؟ کیا ابوحنیفہ نے قرآن و حدیث کو جمع کیا تھا؟ امام ابوحنیفہ کا مذہب ان کی رائے ہے جس کے بارے میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: نہ ان کی رائے کام کی ہے نہ حدیث (مناقب الشافعی للرازی، ص١٤٢)

امام ابوحنیفہ کی جس رائے کو سہج صاحب دین کہہ رہے ہیں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حیثیت ہے امام ابوحنیفہ کے دین کی!

سہج صاحب نے حنفی مذہب کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی ایک آیت بھی پیش کی ہے:
وَ اَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اوریہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر حنیف ہو کر اور مت ہو شرک والوں میں
(یونس)

یہ بھی قرآن کی معنوی تحریف ہے اس پر بھی وہی اشکالات وارد ہوتے ہیں جن کا تذکرہ میں نے اوپر کیا ہے۔ جب ابوحنیفہ کی پیدائش نہیں ہوئی تھی اور اس وقت جب وہ خود طالب علم تھے اور مجتہد نہیں تھے بلکہ خود اپنے استاد کے مقلد تھے اس وقت اور اس سے پہلے مسلمانوں نے اللہ کے اس حکم پر کیسے عمل کیا تھا؟؟؟ کیونکہ اس وقت نہ حنفی تھے نہ فقہ حنفی اور نہ ہی ابوحنیفہ۔

جناب شاہد نزیر صاحب کی یہ پوسٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ جناب کس درجہ کے غیر مقلد ہیں ۔
افسوس کی بات ہے کہ یہ شاہد صاحب اپنے اکابرین کے بھی دشمن ہیں جو اپنی جماعت کے غیر مقلدین کے ٹولے کو نصیحتیں کرتے کرتے مرگئے لیکن یہ پھر بھی نہیں مانتے ۔
""جماعت اہلحدیث کو حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی روحانی بددعا لے کر بیٹھ گئی ہے ، ہر شخص ابوحنیفہ ابوحنیفہ کہہ رہا ہے ، کوئی بہت ہی عزت کرتا ہے تو امام ابوحنیفہ کہہ دیتا ہے ۔۔۔"ص١٣٦
""دوسرے لوگوں کو شکایت ہے کہ اہلحدیث ،حضرات ائمہ اربعہ کی توہین کرتے ہیں بلاوجہ نہیں ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے حلقہ میں عوام اس گمراہی میں مبتلا ہورہے ہیں اور ائمہ اربعہ کے اقوال کا تزکرہ حقارت کے ساتھ بھی کرجاتے ہیں ، یہ رجحان سخت گمراہ کن اور خطرناک ہے اور ہمیں سختی کے ساتھ اس کو روکنے کی کوشش کرنی چاھئیے "۔ص٨٧
(حضرت مولانا داؤد غزنوی رحمہ اللہ علیہ ، ترتیب و تحریر سید ابوبکر غزنوی)

مزید جو تحریف کے الزامات نافض کئیے ہیں جناب نے ان کی بنیاد قائم کی ہے اس بات پر
ابو کے معنی والد کے ہیں اور ابوحنیفہ کے معنی ’’حنیفہ کے والد‘‘ ہیں
جناب شاہد صاحب آپ نے ثابت کردیا کہ ابو کا معنی باپ ہے۔ اور وہ بھی حنیفہ کا ۔ سبحان اللہ کیا بات ہے آپ کی ۔ تو پھر آپ جو فلسفہ یہاں جھاڑ رہے ہیں اسکے مطابق جواب دے دیجئے ان سوالوں کا
ابوھریرہ کا کیا مطلب بنا ؟ بلی کا والد؟جبکہ ان کا کوئی ہریرہ نام کی اولاد نہیں تھی؟
ابو بکر کا کیا مطلب بنا ؟بکر کے والد؟جبکہ ان کے کوئی بکر نام کی اولاد نہیں تھی


سوچ سمجھ کرلیجئے گا جناب شاہد صاحب اور لازم ہے کہ تقلید کریں کسی کتاب کی یا کسی اپنے سے اچھے مولوی کی جو آپ کو ان سوالوں کے جوابات سمجھا سکے ۔آپ جو بھی جواب دینا چاہیں وہ دیجئے گا لیکن میں یہاں ابوحنیفہ کا جو مطلب سمجھا ہوں وہ بتادیتا ہوں ۔
ابوحنیفہ کا مطلب حنیفہ کے ابو نہیں ہے بلکہ حنیفہ والا ہے یعنی ابو کا مطلب والد نہیں بلکہ والا ہے ،ویسے ہی جیسے ابو ھریرہ ہے یعنی بلی کا باپ نہیں بلکہ بلی والا اور ابوبکر کا مطلب بکر کے والد صاحب بھی نہیں ہے بلکہ پہل کرنے والا یا نیکی میں سب سے زیادہ پہل کرنے والا ، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں بھی آپ رضی اللہ عنہ نے سب سے پہل کی ۔ یعنی "ابو" کا مطلب والد نہیں بلکہ "والا" ہے ۔
” ابوبکر“ یہ صدیق اکبر کانام اور کنیت نہیں بلکہ وصف ہے۔ ایسے ہی ”ابوحنیفہ“ نام اور کنیت نہیں؛ بلکہ ان کا وصف ہے۔ ابوبکر اسے کہتے ہیں جو ہر نیک کام میں پہل کرے ایسے ہی ابوحنیفہ ملت حنیف دین حنیف والے کو کہتے ہیں۔
یہ کہنا غلط ہے بھائی شاہد کہ حنیفہ ابو حنیفہ کی بیٹی تھی ، یہ جھوٹ اور کذب بیانی کے علاوہ کچھ نہیں یا پھر ہوسکتا ہے آپ کو کوئی مغالطہ لگ گیا ہو؟ ۔ ۔ اب یہ آپ بتادیجئے گا کہ آپ نے ابوحنیفہ کی کنیت کیسے لی؟

باقی یہ تحقیق آپ تمام غیر مقلدین کیجئے اور اللہ کو گواہ بناکر خود سمجھئے کہ جب امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بیٹی تھی ہی نہیں تو پھر انہیں ابوحنیفہ کیوں کہا جاتا ہے ؟

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من اراد ان یعرف الفقہ فلیلزم ابا حنیفۃ و اصحابہ فان الناس کلھم عیال علیہ فی الفقہ
"جوشخص فقہ حاصل کرنا چاہے وہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کو لازم پکڑے کیونکہ تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے خوشہ چیں ہیں
۔
(تاریخ بغداد، ج١٣)

محمد بن اسحاق ابن ندیم نے اپنی الفہرست میں لکھاہے:
العلمُ بَرًّا وبحرًا وشرقاً وغرباً بُعدًا و قُرباً تَدْوِینُہ رضی اللہ عنہعلم
بروبحر میں، مشرق ومغرب میں ،قریب اور بعیدمیں سے اس کو ”امام اعظم“ نے مدون کیا۔

امام ابن مبارک رحمہ اللہ کاقول ہے:
اَفْقَہُ الناسِ اَبُوحنیفةَ
لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ ابوحنیفہ ہیں۔


امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ان ابا حنیفۃ کان اماما"۔
(تذکرہ:۵/۱۶۰)
"بے شک ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام تھے۔"

حضرت سفیان بن عینہ رحمہ اللہ المتوفی ١٩٨ کہتے ہیں:
"اوّل من صیرنی محدثا ابوحنیفۃ"۔
(الجواہر نقلاً عن ابن خلکان:۱/۱۰۳)
جسں نے سب سے پہلے مجھے محدث بنایا ابوحنیفہ رحمہ اللہ تھے۔

جلنے بھننے کی ضرورت نہیں جناب شاہد صاحب صبر کیجئے اور غور سے پڑھئیے بلکہ بار بار پڑھئیے گا اوپر جو مناقب بیان کئے ہیں اکابرین امت نے انہیں ۔ اور کوشش کیجئے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بغض آپ کے اندر سے ختم ہوجائے ، اپنا امام بے شک نہ مانیں لیکن احناف کے امام کا احترام کیجئے ان شاء اللہ ، اللہ تعالٰی آپ کے احترام کی بدولت آپ کو وہ دولت ایمانی سے مزید نوازے گا ۔
آخر میں آپ سے گزارش کرنی ہے کہ جب صحیح بخاری نہیں تھی تو حدیثیں کہاں تھیں ؟؟جب ائمہ حدیث امام بخاری ،امام مسلم ، امام ترمذی ، امام ابوداود ، امام نسائ ، امام ابن ماجہ وغیرهم نہیں تھے اور نہ ان کی کتابیں تھیں ، تو اس وقت اهل اسلام حدیث کی کن کتابوں سے رہنمائی حاصل کرتے تھے ؟؟ اور آج کل کے غیر مقلد یعنی جماعت اهل حدیث والے کہاں تھے ؟؟ اور اک دلچسپ سوال بھی پیش خدمت کرتا ہوں جواب بے شک نہیں دیجئے گا ۔ صحیح بخاری کے تقریباً ہر صفحے پر "مقلد راویوں" کی احادیث موجود ہیں ۔ تو کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک آپ تمام وہ احادیث مانتے اور پیش کرتے رہے ہیں جو معاذ اللہ "مشرک راویوں" نے بیان کی ہیں ؟
ان باتوں کا جواب آپ حاصل کرلیں ۔ انشاء اللہ آپ کو یہ بھی سمجھ آجائے گی کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پہلے دین پر کیسے عمل ہوتا تھا ۔

والسلام
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,404
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من اراد ان یعرف الفقہ فلیلزم ابا حنیفۃ و اصحابہ فان الناس کلھم عیال علیہ فی الفقہ
"جوشخص فقہ حاصل کرنا چاہے وہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کو لازم پکڑے کیونکہ تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے خوشہ چیں ہیں
۔
(تاریخ بغداد، ج١٣)

محمد بن اسحاق ابن ندیم نے اپنی الفہرست میں لکھاہے:
العلمُ بَرًّا وبحرًا وشرقاً وغرباً بُعدًا و قُرباً تَدْوِینُہ رضی اللہ عنہعلم
بروبحر میں، مشرق ومغرب میں ،قریب اور بعیدمیں سے اس کو ”امام اعظم“ نے مدون کیا۔

امام ابن مبارک رحمہ اللہ کاقول ہے:
اَفْقَہُ الناسِ اَبُوحنیفةَ
لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ ابوحنیفہ ہیں۔


امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ان ابا حنیفۃ کان اماما"۔
(تذکرہ:۵/۱۶۰)
"بے شک ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام تھے۔"

حضرت سفیان بن عینہ رحمہ اللہ المتوفی ١٩٨ کہتے ہیں:
"اوّل من صیرنی محدثا ابوحنیفۃ"۔
(الجواہر نقلاً عن ابن خلکان:۱/۱۰۳)
جسں نے سب سے پہلے مجھے محدث بنایا ابوحنیفہ رحمہ اللہ تھے۔
ان سب اقوال کا مدلل اور تفصیلی جواب پہلے دیا جاچکا ہے ۔جس کا جواب ابھی تک مقلدین نے نہیں دیا۔مناقب امام ابی حنیفہ رحمہ اللہ کی تفصیل جاننے کےلیے اس کتاب کے صفحہ نمبر74 سےصفحہ نمبر80 تک کا مطالعہ کریں۔ اور امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے فضائل پر لکھی گئی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر جاننے کےلیے یہاں کلک کریں۔
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,964
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
412
جناب شاہد نزیر صاحب کی یہ پوسٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ جناب کس درجہ کے غیر مقلد ہیں ۔
افسوس کی بات ہے کہ یہ شاہد صاحب اپنے اکابرین کے بھی دشمن ہیں جو اپنی جماعت کے غیر مقلدین کے ٹولے کو نصیحتیں کرتے کرتے مرگئے لیکن یہ پھر بھی نہیں مانتے ۔
""جماعت اہلحدیث کو حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی روحانی بددعا لے کر بیٹھ گئی ہے ، ہر شخص ابوحنیفہ ابوحنیفہ کہہ رہا ہے ، کوئی بہت ہی عزت کرتا ہے تو امام ابوحنیفہ کہہ دیتا ہے ۔۔۔"ص١٣٦
""دوسرے لوگوں کو شکایت ہے کہ اہلحدیث ،حضرات ائمہ اربعہ کی توہین کرتے ہیں بلاوجہ نہیں ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے حلقہ میں عوام اس گمراہی میں مبتلا ہورہے ہیں اور ائمہ اربعہ کے اقوال کا تزکرہ حقارت کے ساتھ بھی کرجاتے ہیں ، یہ رجحان سخت گمراہ کن اور خطرناک ہے اور ہمیں سختی کے ساتھ اس کو روکنے کی کوشش کرنی چاھئیے "۔ص٨٧
(حضرت مولانا داؤد غزنوی رحمہ اللہ علیہ ، ترتیب و تحریر سید ابوبکر غزنوی)
عجیب بات ہے ایک طرف آپ ہمیں غیرمقلد بھی کہتے ہیں اور دوسری طرف ہم پر ہمارے علماء کے اقوال بطور حجت بھی پیش کرتے ہیں! آخر اس دوغلے پن اور منافقت سے دیوبندی کب باز ائینگے؟
جماعت اہل حدیث کو ابوحنیفہ کی بددعا کے کر بیٹھ گئی یہ داؤد غزنوی رحمہ اللہ کی رائے ہے جس سے ہمیں اتفاق نہیں اگر ایسا ہی ہوتا تو محدیثین کرام تمام کے تمام جنھوں نے ابوحنیفہ پر شدید ترین جرح کی کبھی فلاح نہیں پاتے اور ناکام و نامراد ہوتے۔ لیکن محدیثین کی کوششوں کی کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ ابوحنیفہ کے بارے میں کسی ثقہ شخص کی گواہی پیش کرنا اور اس پر اپنے عقیدہ و عمل کی بنیاد رکھنا درست ہے۔ اور محدیثین سے ابوحنیفہ کی مذمت ثابت ہے لہٰذا داؤد غزنوی کا خیال غلط ہے۔جہاں تک داؤد صاحب کی اس بات کا تعلق ہے کہ اہل حدیث ائمہ اربعہ کی توہین کرتے ہیں اس بارے میں ہمارا خیال ہے کہ یہ دیوبندیوں کے تقلیدی ہاتھوں کی صفائی ہے۔اور اگر یہ الفاظ ثابت بھی ہوں تو اس لئے درست نہیں کہ ابوحنیفہ کے علاوہ ائمہ ثلاثہ کی توہین پر مبنی کوئی مائی کا لال کسی معتبر اہل حدیث عالم کی ایک بھی عبارت پیش نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ائمہ اربعہ کی توہین کا الزام غلط ہے۔ صرف ابوحنیفہ کے بارے میں ثقہ محدیثین کی گواہیاں پیش کرنے کی وجہ سے اہل حدیث پر ابوحنیفہ کی گستاخی کا الزام لگایا جاتا ہے۔اگر اس الزام کو تسلیم کیا جائے تو تمام محدیثین و ائمہ کو گستاخ ماننا پڑے گا۔ جوکہ ممکن نہیں اس لئے اہل حدیث پر ابوحنیفہ کی توہین کا الزام بھی جھوٹا ہے۔

جناب شاہد صاحب آپ نے ثابت کردیا کہ ابو کا معنی باپ ہے۔ اور وہ بھی حنیفہ کا ۔ سبحان اللہ کیا بات ہے آپ کی ۔ تو پھر آپ جو فلسفہ یہاں جھاڑ رہے ہیں اسکے مطابق جواب دے دیجئے ان سوالوں کا
ابوھریرہ کا کیا مطلب بنا ؟ بلی کا والد؟جبکہ ان کا کوئی ہریرہ نام کی اولاد نہیں تھی؟
ابو بکر کا کیا مطلب بنا ؟بکر کے والد؟جبکہ ان کے کوئی بکر نام کی اولاد نہیں تھی
جناب والا آپ ہمیں اپنی طرح جاہل نہ سمجھیں۔ ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں اور جس جگہ جس لفظ کے جو معنی بنتے ہیں بیان کئے جاتے ہیں۔ ابوحنیفہ کا معنی حنیفہ والا نہیں بلکہ حنیفہ کا والد ہے۔ چلیں آپ ہماری بات نہ مانیں اور نہ ہی ہم آپ کی مانتے ہیں جس شخص کی یہ کنیت یا بقول آپکے لقب ہے اسی سے (ابوحنیفہ) سے اس کے معنی ثابت کردیں کہ ابوحنیفہ سے مراد حنیفہ والا ہے یا حنیفہ کا والد۔ کیونکہ جس کا لقب یا جس کی کنیت ہے وہی اپنے لقب یا کنیت کے معنی بہتر جانتا ہوگا یا کہ آپ؟

لیکن میں یہاں ابوحنیفہ کا جو مطلب سمجھا ہوں وہ بتادیتا ہوں ۔
ابوحنیفہ کا مطلب حنیفہ کے ابو نہیں ہے بلکہ حنیفہ والا ہے یعنی ابو کا مطلب والد نہیں بلکہ والا ہے ،ویسے ہی جیسے ابو ھریرہ ہے یعنی بلی کا باپ نہیں بلکہ بلی والا اور ابوبکر کا مطلب بکر کے والد صاحب بھی نہیں ہے بلکہ پہل کرنے والا یا نیکی میں سب سے زیادہ پہل کرنے والا ، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں بھی آپ رضی اللہ عنہ نے سب سے پہل کی ۔ یعنی "ابو" کا مطلب والد نہیں بلکہ "والا" ہے ۔
” ابوبکر“ یہ صدیق اکبر کانام اور کنیت نہیں بلکہ وصف ہے۔ ایسے ہی ”ابوحنیفہ“ نام اور کنیت نہیں؛ بلکہ ان کا وصف ہے۔ ابوبکر اسے کہتے ہیں جو ہر نیک کام میں پہل کرے ایسے ہی ابوحنیفہ ملت حنیف دین حنیف والے کو کہتے ہیں۔
محترم آپ بارہا وضاحت کرچکے ہیں کہ آپ جاہل ہیں اس لئے لفظ ابوحنیفہ سے آپ نے جو سمجھا ہے آپ ہمیں سمجھانے کی کوشش نہ کریں اور اپنے ان جاہلانہ خیالات کو اپنے پاس رکھیں۔ آپ ہمیں ابوحنیفہ کا مطلب اپنے امام سے ہی سمجھا دیں یا پھر دیگر ائمہ ثلاثہ جو ابوحنیفہ کے بعد آئے ان سے اس نام کا مطلب سمجھا دیں یا کسی ایک ہی محدث سے یا اسماء رجال کی کسی ایک کتاب سے جس میں ابوحنیفہ کا ترجمہ موجود ہے ہمیں اس لفظ کے وہ معنی بتادیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ آپ کی جاہلانہ سمجھ ہم پر حجت نہیں ہے اور نہ ہی اس بحث میں آپ کی دلیل بن سکتی ہے۔

لنے بھننے کی ضرورت نہیں جناب شاہد صاحب صبر کیجئے اور غور سے پڑھئیے بلکہ بار بار پڑھئیے گا اوپر جو مناقب بیان کئے ہیں اکابرین امت نے انہیں ۔ اور کوشش کیجئے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بغض آپ کے اندر سے ختم ہوجائے ، اپنا امام بے شک نہ مانیں لیکن احناف کے امام کا احترام کیجئے ان شاء اللہ ، اللہ تعالٰی آپ کے احترام کی بدولت آپ کو وہ دولت ایمانی سے مزید نوازے گا ۔
اپنی پسند کی چیز تو آپ نے پیش فرمادی لیکن اکابرین امت نے ابوحنیفہ کے جو مسالب بیان کئے ہیں انہیں کیوں آپ نے چھپا لیا جو کہ جھوٹے مناقب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور ثابت شدہ بھی ہیں۔ ابوحنیفہ کا بغض میرے اندر نہیں ہے میں تو صرف ائمہ حدیث کے اقوال اور گواہیوں کا ناقل ہوں۔ ابوحنیفہ کا بغض (آپکے نزدیک یہ بغض ہے جبکہ میرے نزدیک تو محدیثین کی سچی گواہی ہے) تو امام احمد بن حنبل اور امام بخاری وغیرہ میں تھا آپ انہیں لعنت ملامت کریں۔

آخر میں آپ سے گزارش کرنی ہے کہ جب صحیح بخاری نہیں تھی تو حدیثیں کہاں تھیں ؟؟جب ائمہ حدیث امام بخاری ،امام مسلم ، امام ترمذی ، امام ابوداود ، امام نسائ ، امام ابن ماجہ وغیرهم نہیں تھے اور نہ ان کی کتابیں تھیں ، تو اس وقت اهل اسلام حدیث کی کن کتابوں سے رہنمائی حاصل کرتے تھے ؟؟ اور آج کل کے غیر مقلد یعنی جماعت اهل حدیث والے کہاں تھے ؟؟
جس وقت امام بخاری، امام مسلم وغیرہ نہیں تھے اور انکی مرتب کردہ حدیث کی کتابیں نہیں تھیں اس وقت بھی یہی احادیث موجود تھیں جو آج بخاری، مسلم اور دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں۔ اور صحابہ کرام اولین محدیثین تھیں جنھیں یہ روایات زبانی یاد تھیں اور ان کے پاس لکھی ہوئی بھی موجود تھیں اور جب احادیث موجود تھیں تو اسلام کے اولین دور سے اس پر عمل پیرا اہل حدیث بھی موجود تھے۔والحمداللہ

لیکن جب ابوحنیفہ کی پیدائش نہیں ہوئی تھی اس وقت نہ مقلدین کا وجود تھا اور نہ فقہ حنفی کا۔ لیکن قرآن و حدیث کا وجود تھا اور مسلمان اس پر عمل پیرا تھے تحقیق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن و حدیث میں موجود لفظ حنیف سے سہج صاحب جو ابوحنیفہ کا گھڑا ہوا حنفی مذہب مراد لے رہے ہیں وہ مطلب مردود ہے۔ سہج صاحب پہلے ابوحنیفہ کی قبل از پیدائش فقہ حنفی کا ثبوت فراہم کریں اس کے بعد اپنا یہ جاہلانہ استدلال پیش کریں۔

اور اک دلچسپ سوال بھی پیش خدمت کرتا ہوں جواب بے شک نہیں دیجئے گا ۔ صحیح بخاری کے تقریباً ہر صفحے پر "مقلد راویوں" کی احادیث موجود ہیں ۔ تو کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک آپ تمام وہ احادیث مانتے اور پیش کرتے رہے ہیں جو معاذ اللہ "مشرک راویوں" نے بیان کی ہیں ؟
اس دلچسپ بلکہ مضحکہ خیز سوال کا جواب حاٍضر ہے۔ بھائی بات یہ ہے کہ ان روایوں کو مقلد قرار دینا آپ کی کذب بیانی ہے۔ ہمارا آپ سے مطالبہ ہے کہ بخاری کے جو جو راوی آپ کے نزدیک مقلد ہیں ان میں سے صرف پانچ کا اپنا قول پیش فرمادیں جس میں انہوں نے اپنے مقلد ہونے کی صراحت کی ہو۔ اگر آپ ا س میں کامیاب ہوگئے تو ہم آپ کی بات تسلیم کرلینگے۔ لیکن نہ تیر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔

انشاء اللہ آپ کو یہ بھی سمجھ آجائے گی کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پہلے دین پر کیسے عمل ہوتا تھا ۔
امام ابوحنیفہ سے پہلے مسلمان صرف قرآن و حدیث پر عمل پیرا تھے اور تقلید کی بدعت اور فقہ حنفی کی نحوست سے امن میں تھے۔ اور تب سے لے کر آج تک انہیں نیک بخت مسلمانوں کی اولاد قرآن و حدیث کی پابند ہے جسے آپ اہل حدیث کے نام سے پہچانتے ہیں۔

آخر میں اصل موضوع سے متعلق عرض ہے کہ حنفی اور حنیف، ابوحنیفہ اور حنیفا میں زمین آسمان کا فرق ہے یہ سارے الفاظ مختلف ہیں جن کے معنی میں بھی فرق ہے جیسا کہ میں نے پچھلی پوسٹ میں بھی اس کی وضاحت کی ہے۔ اگر سہج صاحب اپنے استدلال کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ قرآن و حدیث سے حنفی اور ابوحنیفہ کے الفاظ دکھائیں۔ ورنہ موصوف اپنے اکابرین کی طرح قرآن و حدیث میں تحریف کا کارنامہ تو سرا نجام دے ہی چکے ہیں جس کا بدلہ ان کو اور ان کے اکابرین کو اللہ کے ہاں خوب ملے گا۔ ان شاء اللہ
 
Top