1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دین میں جبر نہیں؟

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏دسمبر 10، 2019۔

  1. ‏دسمبر 10، 2019 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم علماء کرام
    السلام علیکم

    قران کی آیت جس کا مفہوم ہے کہ "دین میں جبر نہیں "یعنی کسی کو زبردستی مسلمان بنانا جائز نہیں ہے ۔ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مسلمان جب کسی ملک پر حملہ کرتے تھے تو تین آپشن ہوتے تھے ، مسلمان ہونا، جزیہ دینا یا پھر جنگ۔
    تو کیا یہ جبر کے زمرے میں نہیں آئے گا ۔
    مسلمان ہونے کی دعوت دینا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن نہ ہونے پر جزیہ یاجنگ کا آپشن سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت کریں۔
    @مقبول احمد سلفی
    @خضر حیات
     
  2. ‏دسمبر 10، 2019 #2
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,301
    موصول شکریہ جات:
    363
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    لااکراہ فی الدین کا تعلق اہل کتاب اور مجوسی سے ہے یعنی ان پر اسلام کے لئے جبر نہیں کیا جائے گا اگر وہ جزیہ دینے کا آمادہ ہوجائیں جیساکہ سورہ سے پتہ چلتا ہے ۔

    قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ [التوبة: 29]
    ترجمہ: ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ شے کو حرام نہیں جانتے نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔
    اور اہل کتاب ومجوسی کے علاوہ کفارومشرکین پر اسلام پیش کیا جائے گا ، اگر وہ نہ مانیں تو ان سے قتال کیا جائے گا کیونکہ اللہ نے یہی دین دنیا والوں کے لئے پسند کیا ہے اور اس کے ماسوا ادیان کو اسلام نے منسوخ کردیا ہے ۔
    مشرکین سے اس وقت تک قتال کیا جائے گا جب تک کہ وہ اسلام نہ قبول کرلیں ، اللہ کا فرمان ہے :

    فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [التوبة: 5]
    ترجمہ: پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو انہیں گرفتار کروان کا محاصرہ کرلو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جابیٹھو ، ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہیں چھوڑ دو یقیناً اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
    اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    أُمِرْتُ أنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حتَّى يَشْهَدُوا أنْ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وأنَّ مُحَمَّدًا رَسولُ اللَّهِ، ويُقِيمُوا الصَّلَاةَ، ويُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذلكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وأَمْوَالَهُمْ إلَّا بحَقِّ الإسْلَامِ، وحِسَابُهُمْ علَى اللَّهِ.{ صحيح البخاري:۲۵}
    ترجمہ: مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

    شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے یہی مفہوم بیان کیا ہے ان کی بات تفصیل سے یہاں دیکھ سکتے ہیں ۔
     
  3. ‏دسمبر 11، 2019 #3
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم مقبول صاحب
    السلام علیکم
    آپ کے جواب سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے دنیا میں صرف مسلمان آزاد رہ سکتے ہیں ۔ باقی ادیان کے لوگ اس وقت تک محفوظ ہوں گے جب تک جزیہ دیتے رہیں بصورت دیگر ان کو ختم کر دیا جائے گا۔یعنی جو مسلمان نہیں وہ آزاد نہیں ہے۔
    پھر اس بات کو سمجھائیں کہ اسلام امن کا پیغام کیسے دے رہا ہے۔میں تو اس میں مزید الجھ گیا ہوں۔
     
  4. ‏دسمبر 12، 2019 #4
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,301
    موصول شکریہ جات:
    363
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    وعلیکم السلام
    الجھنے کا مقام نہیں ہے ، اسلام بالکل صاف ستھرا ، نہایت واضح اور پرامن دین ہے ، سب کے لئے ، پوری انسانیت کے لئے ۔
    اللہ نے ہمیں فطری دین دیا ہے اور شریعت محمدیہ نے سابقہ تمام شریعتوں کو منسوخ قرار دیا اور ہمارے لئے اللہ نے دین اسلام کو پسند وراضی فرمایا ہے۔ بت پرستوں کے پاس کوئی دین نہیں ہے ، کفر ومعصیت اور شرک کی نجاست ہے ، ان کو دنیا میں اپنے حال پر کیسے چھوڑا جائے گا؟ کیا ان کے حق میں بہتر نہیں ہے کہ وہ اسلام کے پاکیزہ تعلیمات کا متبع بن جائے ؟
    ان کے حق میں اور انسانیت کے حق میں بت پرستوں کا نجاست پہ قائم رہنا بہتر ہے یا پھر اسلام میں داخل ہونا یا پھر مارنا دیا جانا؟
    اس بات کو مثال سے یوں سمجھیں کہ ایک بدمعاش شخص ہے وہ لوگوں کو تکلیف پہنچاتا، زنا کرتا اور شراب پیتا ہے ، اس شخص کا قید کیا جانا اس کے اور سماج کے حق میں بہتر ہے یا اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جانا؟ ظاہر سی بات ہے کہ اس کا قید ہونا بہتر ہے ۔ اسی طرح بت پرستوں سے قتال تاکہ وہ پاکیزہ دین کی طرف آجائے یا قتل کردیا جائے ہراعتبار سے بہتر ہے ، گویا کافروں سے جہاد وقتال بھی فردومعاشرہ کے لئے بطورامن ہی ہے ۔ قتال کے ساتھ ساتھ اسلام کی ساری تعلیمات امن وسلامتی کا مظہر ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 12، 2019 #5
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم انتہائی معذرت کے ساتھ
    اگرہندوستان میں ہندو مذہب کے نام پر مسلمانوں پر زندگی تنگ کر رہے ہیں تو پھر ہمیں ان پر کیوں اعتراض ہے ۔ وہ بھی اپنی دین کی ترویج کررہے ہیں ۔ ہندوستان ہندؤں کا مرکز ہے جیسے ہمارا مرکز مکہ مدینہ ہے ۔
    ہم اپنے مرکز میں کسی غیر مسلم کو برداشت نہیں کرتے تو پھر ان سے شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
     
  6. ‏دسمبر 12، 2019 #6
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,301
    موصول شکریہ جات:
    363
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    تعجب ہے آپ ایسی بات کررہے ہیں جو ہندوستان کا کافر بھی نہیں کہتا سوائے بی جے پی کے ۔ کیا ہندوستان بی چے پی کا ہے ؟ بالکل نہیں بلکہ وہاں رہنے والے تمام ادیان کے ماننے والوں کا ہے۔ اگر ہندوستان مسلمانوں کا بھی ہے تو بے جے پی کا موجودہ بل کیپ آئین کے خلاف ہے ، اس بل کے خلاف مسلمانوں کو کھڑا ہونا چاہئے تاکہ آئین کے مطابق انہیں ان کا حق مل سکے ۔
    اہل ایمان کے خلاف کافروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے ، اللہ کا فرمان ہے :
    وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ (ابراهيم:13)
    ترجمہ: کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں ملک بدر کر دیں گے یا تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ ۔ تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہی غارت کر دیں گے ۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی ہوا اور اللہ تعالی نے پھر وہی مکہ اپنے نبی کو عنایت فرمائی ۔
     
  7. ‏دسمبر 12، 2019 #7
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم میں لاجک کی بات کررہا ہوں۔ آپ کی تحریر سے جو اخذ کررہا ہوں وہ بیان کیا ہے۔

    آپ ان اقتباسات کو دیکھیں۔ میں اب تک یہی سنا پڑھا تھا کہ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لئے راستے چنے۔ لیکن آپ کی تحریر یہ کہتی ہے کہ اگر مسلمان انتہائی طاقتور ہوجائیں تو دنیا میں جتنے غیر مسلم ہیں ان کو اسلام ، جزیہ یا جنگ میں سے ایک آپشن لینا پڑے گا۔
    اگر کوئی ملک یا گروہ مسلمانوں کے خلاف سازش کر رہا ہے یا جنگی تیاری کررہا ہے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس کو سبق سکھایا جائے ، جب ایک ملک کے شہری اپنے ملک میں امن سے رہ رہے ہیں تو کیا ان پر بھی یہی قانون نافذ ہوگا۔
    آپ جو بات کہہ رہے ہیں اس کی کوئی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے مل سکتی ہےکہ آپ نے خطہ عرب سے باہر نکل کر انہی بنیادوں پر کسی سے جنگ کی ہو۔
     
  8. ‏دسمبر 13، 2019 #8
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    و علیکم السلام و رحمت الله

    جب دو آپشن موجود ہیں تو یہ جبر نہ ہوا - یعنی غیر مسلم یا تو جنگ کریں یا دوسری صورت میں قابض مسلمان حکمران کو جزیہ دیں - اگر ایک آپشن ہوتی یعنی "مسلمانوں سے صرف جنگ" تو تب یہ دین میں جبر ہوتا- یہ تو بلکہ غیر مسلموں کے لئے الله رب العزت کی طرف سے ایک رعایت ہے -

    ہم مسلمانوں پر بھی الله رب العزت کی طرف سے زکوۃ ادا کرنا فرض قرار دیا گیا ہے - کیا کوئی سچا مسلمان اس کو جبر کہتا ہے ؟؟ کبھی نہیں-

    تو پھر غیر مسلم کے لئے جزیہ دینا دین میں جبر کیسے ہو گیا ؟؟
     
  9. ‏دسمبر 13، 2019 #9
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,613
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    جنگ اور امن کی اسلامی تعریف غیر اسلامی تعاریف سے بالکل جداگانہ ھے ، کسی بھی اسلامی حکم کا خواہ وہ امن سے ھو یا جنگ سے ، کا موازنہ دنیاوی نقطۂ نظر سے کرنا بھی درست نہیں ۔

    موجودہ دور میں تو دنیا ایٹم بم برسا کر بھی جمہوری اور امن پسند تو ھے ہی ، ساتھ ہی دوست بھی ھے ۔ کس کی مجال ھے جو شک بھی کر پائے ! معاملہ جب اسلامی ھو ، اللہ کے احکامات اور انکی تعمیل و تکمیل کا ھو تو ہر کس و ناکس کو کھٹک ھوتی ھے ، انمیں وہ بھی ہیں جنہوں نے خود پر لیبل اسلامی لگا رکھے ہیں یا کم ازکم نام ھم سے رکھ لیئے ہیں ۔
     
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  10. ‏دسمبر 13، 2019 #10
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    197
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اسلام جزیہ کا حکم تو دیتا ہے لیکن ساتھ ہی غیر مسلم کو اس بات کا بھی حق دیتا ہے کہ وہ اسلامی حکومت میں جزیہ کے عوض امن و امان کے ساتھ رہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری مسلم حکومت کی ہے اور جو سہولیات مسلم حکومت میں ایک مسلمان کو حاصل ہے وہی اس غیر مسلم کو بھی حاصل ہیں سوائے چند خصوصی احکام کے، لیکن یہ اس صورت میں ہوگا جب اہل کتاب و مجوس کی طرح تمام کافر بھی چاہیں بت پرست ہی کیوں نا ہوں جزیہ کے احکام میں شامل ہوں
    آج دنیا کی شاید ہی کوئی حکومت ہو جو اپنی رعایا سے جزیہ نا لیتی ہو؟ بس فرق نام کا ہے وہ جزیہ کی بجائے اس کو ٹیکس کے نام پر وصول کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو تو جمہوری یا کافر حکومتوں میں زکات کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے، لیکن اس کو کوئی ظلم جبر نہیں کہتا بلکہ اس کو سب جائز مانتے ہیں تو پھر جزیہ پر اعتراض کیوں؟ جبکہ جزیہ موجودہ بہت سارے ٹیکسیز کے مقابلے سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں