• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رد اہل تشیع 2: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا اصل محرک

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
رد اہل تشیع 1: قرآن مجید کی شہادتیں صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت میں

حضرت ابوبکر صاحب (رضی اللہ عنہ) کے اسلام لانے کا اصل محرک


اہل تشیع کے اعتراضات: ماخوذ از تنزیہہ الامامیہ


جناب رسول خدا ﷺ نے ابھی تک اعلانِ نبوت بھی نہیں فرمایا تھا کہ جناب ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کی سفر تجارت کے سلسلہ میں شام جاتے ہوئے بحیرہ راہب سے ملاقات ہوئی۔ اس نے رسمی احوال پرسی کے بعد یہ پیش گوئی کی کہ عنقریب تم میں ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اور تکالیف شاقہ برداشت کرنے کے بعد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا، تم اس کی تصدیق کرنا، کیونکہ اس نبی کے بعد زمامِ اقتدار تمہیں ملے گی۔ (ملاحظہ ہو: سیرت جلیہ 1، ص 310، تاریخ الخلفاء:230، صواعق محرقہ : 45)

1۔ چونکہ ابوبکر صاحب کو راہب کی بات پر پختہ یقین تھا۔ اس لیے جب آنحضرت ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور حصول اقتدار اور عروس حکومت سے ہمکنار ہونے کے لیے تمام تر تکالیف کو بطیب ِ خاطر برداشت کیا۔
2۔ خلیفہ صاحب کے قلبی مرض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ شرک تم میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی چلتا ہے۔ (در منثور:54، کنزالعمال ج2 ص 166)
3۔ نیز آنحضرت ﷺ نے یہ فرما کر کہ ابوبکر کی سبقت اسلامی کا بھانڈا بھی چوراہے پر پھوڑا ہے ۔
"ماسبقکم ابوبکر بصوم والا صلوٰۃ الا بشیءوقرنی قلبہ"
یعنی ابوبکر نے روزہ رکھنے، نماز پڑھنے میں تم پر سبقت حاصل نہیں کی ، بلکہ ایک ایسی چیز کی وجہ سے کی ہے جو ان کے دل میں راسخ تھی، یعنی بحیرا راہب کی پیشینگوئی۔
نہاں کئے ماند آن رازے کزد سازند محفلہا

جواب: تحفہ حسینیہ: از ابوالحسنات محمد اشرف السیالوی
ڈھکو صاحب نے قرآن مجید اور ارشادات رسول اللہ ﷺ اور ارشادات ائمہ جو اصحاب ثلاثہ کے اخلاص پر دلالت کرتے ہیں، ان کے مقابل اور معارض اقوال پیش کر کے حضرت شیخ الاسلام کے استدلال کا توڑ پیش کرنا چاہا ہے اور اس میں ترتیب خلافت کو ہی ملحوظ رکھ کر اپنے قلبی بغض کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت جلیہ اور صواعق محرقہ میں مرقوم روایت بجا مگر اس سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ وہ ڈھکو صاحب کی اپنی افتاد طبع ہے۔ اس قول میں کوئی ایسی دلالت تو کجا اشارہ بھی موجود نہیں ہے اور اسی کشید کردہ بلکہ فرض کردہ مقصد کو مدنظر رکھ کر تیسری دلیل بھی تیار کر لی ہے۔ لہٰذا ڈھکو صاحب کے استدلال کا دارومدار دو امور پر ہوا ، ایک اپنے مفروضہ پر اور دوسرا ایک حدیث پر۔ اب ہم ذیل میں اس استدلال کی عقلی اور نقلی حیثیت کو واضح کرتے ہیں اور فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں:

1۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ آیا قرآن مجید کے آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ کے مقابل سیرت طیبہ کی روایت سے خود ساختہ اور تراشیدہ مطلوب پیش کرنا ، کسی بااصول عالم دین بلکہ مسلمان کے نزدیک قابل قبول ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے دلائل کے مقابلہ میں جوابی طور پر دلائل پیش کرتے وقت قوت کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اگر دلیل وزنی ہوگی تو مستدل کا موقف وزنی ہوگا اور برابر درجہ کی ہونگی تو دونوں احکام موقوف اور معلق ہو کر رہ جائیں گے اور کمزور دلیل بلکہ شبہ پیش کیا جائے گا تو طفلانہ حرکت اور مجنونانہ گپ قرار پائے گی۔ اس پس منظر میں دیکھو تو شیخ الاسلام قرآن مجید کی آیات کا خلاصہ اور مغز پیش کر رہے ہیں۔ اور ڈھکو صاحب ایسی روایت جس میں قطعاً ان کے مدعا پر کسی پہلو سے دلا لت موجود ہی نہیں بلکہ صرف اپنا مزعومہ اور مفروضہ ہے جس کو صرف طفلانہ بلکہ مجنونانہ حرکت ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

2۔ دلیل وہ ہونی چاہئے جو دعویٰ اور مدلول کو مستلزم ہو اور عقلاً تحقق دلیل کے بعد مدلول کا متحقق نہ ہونا باطل ہو ، لیکن اس روایت میں اس طرح کا کوئی استلزام موجود نہیں۔ یہ خبر سن کر حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ، ہو سکتا ہے خلوص سے ایمان لائے ہوں اور راہب کی خبر کے ہر دو حصوں کا یقین کیا ہو کہ محمد ﷺ ، اللہ تعالیٰ کے بر حق رسول ہیں اور میں ان کی زندگی میں وزیر و مشیر اور بعد از وصال خلیفہ اور نائب ہوں گا۔ جب یہ احتمال موجود ہے ، بلکہ دلائل کتاب و سنت کی روشنی میں متعین ہے، تو دوسرے احتمال کی وجہ ترجیح تو کجا، اس کا تصور بھی کوئی با ہوش اور عقلمند نہیں کر سکتا، اس کے تحت پہلی صورت کو رد کیونکر کیا جا سکتا ہے اور کم از کم اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال والے عقلی قاعدہ کے تحت با عزت انسان کو اپنے استدلال سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ جب اس کے استدلال میں دوسرا احتمال موجود ہو چہ جائیکہ جب دوسرا احتمال ہی متعین ہو۔

تذییل: یہی حال تیسری دلیل کا بھی ہے (کہ جناب ابوبکر نے اسی چیز کی وجہ سے سبقت کی ہے جو ان کے دل میں راسخ ہے۔)
(الف)۔ کیونکہ ظاہر ہے دل میں حرص و لالچ بھی ہوا کرتا ہے اور ایمان و اخلاص بھی اور عشق و محبت بھی۔ جب دونوں احتمال موجود ہیں تو ازروئے عقل و دیانت یہ استدلال بھی لغو اور باطل ٹھہرا۔
(ب)۔ تحریف معنوی اور ستم بالائے ستم: ڈھکو صاحب نے اپنی جان پر ظلم یہ کیا ہے کہ حدیث رسول ﷺ میں تحریف معنوی کر دی ہے۔
"ماسبقکم ابوبکر بصوم ولا بصلوۃ الابشیء و قرفی قلبہ"
جس کا صحیح ترجمہ تو یہ تھا کہ تم سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہ روزہ کے ذریعے سبقت لے گئے ہیں اور نہ نماز کے سبب سے، لیکن اس چیز کی وجہ سے جو ان کے دل میں راسخ ہے۔

یعنی ان کی سبقت اہل اسلام پر مسلم ہے۔ مگر سبب اس کا کثرت صوم و صلوٰۃ نہیں، بلکہ یہ تو اعمال ظاہرہ ہیں اور وہ سبب ان کے دل سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن ڈھکو صاحب نے طالب علموں کے سامنے شرمندگی کا خوف کیے بغیر اپنی مرضی کا ترجمہ داغ دیا۔ طلبہ جانتے ہیں کہ جس چیز کی سبقت مراد ہو اس پر الیٰ داخل کیا جاتا ہے۔ کما قال تعالیٰ: سابقوا الیٰ مغفرۃ من ربکم۔ الآیۃ۔۔ نہ کہ اس پر باء داخل کی جاتی ہے جو کہ سببیت پر دلالت کرتی ہے لیکن اگر یہ معنی کرتے جو قواعد کے مطابق ہیں تو قلبی بغض کا اظہار نہیں ہو سکتا تھا ، اس لیے شرم خلق اور شرم خدا سے بے نیاز ہو کر یہ ترجمہ کر دیا۔

الغرض جب اس میں بھی احتمال ہے کہ وہ شی ء ایمان و یقین کامل اور اخلاص اکمل ہو ، تو استدلال باطل ہو گیا۔ بلکہ یہی احتمال متعین ہے کیونکہ تمام اہل اسلام پر سبقت طلب جاہ اور حرص سلطنت سے تو ثابت نہیں ہو سکتی، بلکہ ایمان و اخلاص کامل اور حب صادق سے ، کیونکہ اعمال ظاہرہ مجسمے ہوا کرتے ہیں اور یقین محکم اور حب صادق اور عشق کامل، ان کی جان اور ان کے پر پرواز ہوا کرتے ہیں جو سبقت کا موجب بنتے ہیں۔ قال الحافظ الشیرازی:
آنجا کہ زاہداں بہ ہزار اربعین رسند
مست شراب عشق بیک آہ میر سد

(ج)۔۔ علاوہ ازیں یہ تیسری دلیل ڈھکو صاحب کی پہلی دلیل کی فرع ہے جب اس کے پرخچے فضاء آسمانی میں بکھرے ہوئے ہر آنکھ والے کو نظر آ جائیں گے تو اس کا فیصلہ وہ خود کر لیں گے۔

3۔ بحیرا راہب نے جو کچھ آپ کو بتلایا تھا اس میں نبی اکرم ﷺ کا نبی آخر الزمان ہونا بھی داخل تھا اور سب اہل کتاب کا ان کی راہ میں آنکھیں بچھائے ہونا بھی۔ اگر آپ کو اس کی بات سن کر اپنے وزیر اور خلیفہ ہونے کا یقین آ گیا تھا تو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا یقین کیونکر نہ ہوا اور جب آپ کو اس کی خوشخبری کے تحت دونوں امر کا یقین ہو گیا تو اس سے آپ کے خلوص پر اعتراض کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔ مثلاً ہمیں یقین ہے کہ آپ کی غلامی میں آ کر جنت ملے گی اور حور و غلمان اور نہ ختم ہونے والی زندگی ، تو کیا ہمارا ایمان صرف اس لالچ کے تحت ہوگا لہٰذا عنداللہ اس کا اعتبار ہی نہیں ہوگا؟ نعوذباللہ من ذالک۔ جب یہ بشارت ہمارے اخلاص میں مخل نہیں، تو وہ بشارت حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے اخلاص میں کیونکر خلل انداز ہو سکتی ہیں۔

4۔ نبی اکرم ﷺ ملک عرب کے مالک بن چکے ہوتے یا آپ کے لیے حالات ساازگار ہوتے تو پھر تو اس توہم کی کوئی گنجائش ہو سکتی تھی۔ لیکن مکی زندگی کے تیرہ سال انتہائی پر آشوب تھے۔ پھر مدنی زندگی میں کبھی جنگ بدر، کبھی جنگ احد اور کبھی خندق وغیرہ، علاوہ ازیں وطن سے بے وطن ہونا، گھر بار سے الگ ہونا اورکفار کی طرف سے زد و کوب کیا جانا (جس کو خود ڈھکو صاحب نے تقیہ نہ کرنے کے خوفناک انجام کے تحت ذکر کیا ہے)، قریبی رشتہ داروں بلکہ اولاد کے ساتھ جنگ و جدال صرف اس موہوم امید پر کون برداشت کر سکتا ہے ۔ اگر دل میں حلاوت ایمان گھر نہ کر چکی ہو اور عشق نبوی کے شراب نے مست بنا کر دنیا کی ہر تکلیف کو سہل نہ کر دیا ہو تو ایسے مصائب و شدائد کبھی برداشت نہیں ہو سکتے۔

5۔ راہب نے جس وزارت اور خلافت کی خبر دی تھی وہ ذاتی رائے اور نجوم و رمل کے علم پر مبنی تھی یا اللہ تعالیٰ کی منزل کتب میں ازلی فیصلہ اور محیط علم غیب کی بناء پر؟ صورت اولیٰ میں اس قدر جزم اور یقین کس کو آ سکتا ہے بالخصوص ان مشکل اور تکلیف دہ احوال میں اور دوسری صورت میں اخلاص کی نفی نہیں ہو سکتی ورنہ خود نبی اکرم ﷺ کی ذات پر بھی یہی فتویٰ لگے گا کیونکہ ولادت شریفہ کے وقت سے لے کر اعلان نبوت سے پہلے تک مختلف رھبان اور احبار آپ کی نبوت اور رسالت کی خبریں دیتے رہے اور اس وجہ سے آپ کو جناب ابوطالب نے سفر تجارت میں شام کی طرف لے جاتے وقت راہ سے واپس کر دیا تھا کیونکہ راہب نے آپ سے کہا تھا کہ یہ پیغمبر آخر الزمان ہیں اور مجھے ان کے متعلق یہود کی بدباطنی اور دشمنی کا خطرہ ہے اور اس قسم کے بے شمار واقعات کتب سیرت میں موجود ہیں تو کیا یہاں بھی اس قسم کے توہم کی گنجائش ہوگی؟

مضمون ابھی جاری ہے۔ ازراہ کرم تکمیل تک تبصرہ جات سے گریز کریں۔ شکریہ
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
6۔ اگر یہ خلافت ظالمانہ تھی تو راہب کو بطور بشارت اورمژدہ اس کو ذکر کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہو سکتا تھا۔ اور نہ اس کے حصول کے لیے کوشش کرنے کی ترغیب دینے کی کوئی وجہ ہو سکتی تھی اور اگر اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام اور عطیہ کے طور پر تھی تو اس سے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا اعزاز و اکرام ظاہر ہے کہ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل ان کی خلافت کا اعلان ملائکہ اور جنوں میں کیا گیا۔ آدم علیہ السلام کے اس فرزند ارجمند کی خلافت کا اعلان بھی ان کی پیدائش سے قبل آسمانی کتابوں اور رسل و انبیاء علیھم السلام کی زبانی کرایا گیا اور مقدر کی بات ہے کہ پہلی امتوں کا بھی اس پر ایمان اور اعتقاد ہے لیکن یہ بدقسمت لوگ محمد عربی ﷺ کے حلقہ غلامی میں داخل ہونے کے مدعی ہو کر اس پستی میں گرے ہیں کہ اس عظیم خلافت پر ایمان نہیں لاتے بلکہ اس کے انکار کو جزو ایمان بلکہ عین ایمان تسلیم کرتے ہیں۔

7۔ نیز یہ بھی واضح ہو گیا کہ یہ محض شورائی خلافت نہیں تھی بلکہ اس کے فیصلے اللہ تعالیٰ کے ازلی کلام میں ہو چکے تھے اور کتب سابقہ میں بھی ، ہاں البتہ زبان خلق نقارہ خدا کے تحت اس اجماع و اتفاق نے اس ازلی فیصلہ پر مہر تصدیق لگا دی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کو یہ خلافت پسند نہیں تھی تو اس کے اعلان کرا کرا کر اور لالچ دلا کر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کون سی مہربانی کا اظہار کر رہا تھا؟ جو برحق خلیفہ ہے اس کا اعلان نہ ہو اور کسی کتب سماوی میں نام نہ ہو اور جو ناحق ہیں ان کی خلافت کا ہر دور میں اعلان ہو اور ہر ایک کا اس پر ایمان ہو ۔ آخر یہ خدائے عادل کے عدل کے کہاں تک مطابق اور موافق ہے اور اگر ان کی خلافت کا ذکر بھی تھا تو لازماً ان کو بھی علم ہوگا ورنہ علم میں ناقص ہونا لازم آئے گا اور عالم ماکان وما یکون ہونے کے خلاف، جو کہ عقیدہ روافض ہے۔ تو آپ کے اخلاص پر بھی حرف آ سکتا ہے ، صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیوں؟ پھر ایسے لالچی لوگوں کے ذریعے اسے نبی اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت کو سہارا دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ کیا وہ خود اور حضرت علی کافی نہیں تھے؟

8۔ چلئے ڈھکو صاحب ، آپ کے ادعاء باطل کے مطابق ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تو یہ حرص اور لالچ تھا، لہٰذا مشکلات بھی برداشت کر لیں اور بظاہر اسلام بھی لے آئے ۔ مگر دوسرے مہاجرین و انصار کو کس نے مجبور کیا؟ اس راہب کی بشارت نے؟ یا ابوبکر کی افواج اور سپاہ نے؟ ان کا اخلاص اور صدق دل سے اسلام لانا قرآن سے ثابت ہے۔ اور علی الخصوص انصار کا ایثار کہ اپنے شہر میں آنے والے مسلمانوں کو ہی اپنا خلیفہ اور سردار بنا لیا تو آخر ان کو کس نے مجبور کر لیا تھا ۔ کم از کم وہ اپنے علاقہ میں تو اپنی حکومت قائم کر لیتے اور دنیا میں ایسا کون سا دشمن عقل و دین ہوگا جو دین بھی گنوائے اور دنیا بھی گنوائے۔ اگر انصار نے تقاضائے دین کے برعکس ہی کرنا تھا تو آپ خلیفہ اور حاکم بنتے یا پھر دنیا کو نظر انداز کرتے اور دین کو برقرار رکھتے اور جو صحیح خلیفہ تھا، اس کی خلافت کو تسلیم کرتے۔ الغرض واضح ہو گیا کہ راہب کی خبر نے اصحاب رسول ﷺ کو تو مجبور نہیں کیا تھا، انہوں نے جو فیصلہ دیا وہ اپنی مرضی سے دیا، لہٰذا یہ خلافت حق تھی اور عنداللہ اسی کا فیصلہ تھا اور اسی صدیق کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھوانا چاہتا تھا۔ اس لیے اس کے اعلانات پہلے سے ہی کرا دئے گئے اور تمام اہل اسلام مہاجرین اور انصار کر آپ کی خلافت پر متفق کر دیا۔

9۔ مہاجرین کا اخلاص قول باری تعالیٰ یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا سے واضح ہے اور ارشاد خداوندی: الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنااللہ، سے ظاہر ہے اور ان سب کے امام و پیشوا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ٹھہرے تو ان کے اخلاص میں کیا شک و شبہ ہو سکتا ہے نیز مہاجرین کو اولٰئک ھم الصادقون فرمایا گیا اور انصار کو اولئک ھم المفلحون ۔ جب کہ صدیق اکبر صادقین اور مفلحین کے بھی امام و پیشوا تو پھر ان کے اخلاص اور صدق دلی پر کسی کافر کو بھی شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔

10۔ راہب نے آ کے خواب کہ "چاند طلوع ہوا اور اس کا ایک ٹکڑا مکہ شریف کے ہر گھر میں گرا اور پھر وہ مکمل ہو کر آپ کی گود میں آ گیا" کی تعبیر بیان کی تھی۔ یہ شیطانی تو ہو نہیں سکتا کیونکہ اس میں نبوی عظمت کا اظہار تھا اور آپ کے فیوض کے عموم کا بیان۔ لہٰذا یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ترغیب تھی اور حضور اکرم ﷺ کی غلامی میں لانے کی تدبیر، جس میں نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دخل اور نہ راہب کا۔ کیونکہ اگر آپ کو خواب نہ آتا تو نہ تعبیر پوچھتے اور نہ ہی خلافت حقہ کے غصب ہونے کا راستہ کھلتا۔ لہٰذا حضرت صدیق کی ذات اقدس پر ناراض ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے متعلق فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے روافض کے عقیدہ پر کاری ضرب لگانے میں دلچسپی کیوں ہے؟ اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل کی راہ میں روڑے اٹکانے کا خیال کیوں؟
تلک عشرۃ کاملۃ فھا توا برھانکم ان کنتم صادقین

فائدہ: ڈھکو صاحب کی بنیادی دلیل کا حال دیکھ کر اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب اصل کی حالت یہ ہے تو فرع کی کیا ہوگی۔ یعنی تیسری دلیل کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تم پر صرف اس چیز کی وجہ سے سبقت لے گیا ہے جو اس کے دل میں راسخ ہو چکی ہے یعنی بحیرا راہب کی پیش گوئی کی وجہ سے حکومت کا حرص، لیکن اس شبہ کا بھی علمی تجزیہ ہو جائے تو بہتر ہوگا۔

مضمون ابھی جاری ہے۔ ازراہ کرم تکمیل تک تبصرہ جات سے گریز کریں۔ شکریہ
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
قرآن مجید نے غلامان مصطفیٰ ﷺ کے متعلق فرمایا:

والسباقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان
یہاں بھی سبقت کا لفظ ہے تو اس سے اخروی درجات مراد ہیں اور ایمان و استسلام میں سبقت مراد ہے اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ ان سابقین کے ایک اہم اور مقدم رکن ہیں۔ لہٰذا حدیث شریف میں بھی ان کی اس سبقت کا ذکر ہے اور اس کی بنیادی وجہ اور حقیقی سبب کا جس نے ان کو سابقین کا بھی رئیس اور سردار بنا دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
الا ان الیوم مضمار ا و غداً السباق والسبقۃ الجنۃ (نھج مع الشرح الحدیدی جلد 2 ص91)
یعنی آج ریاضت و مشقت ہے اور کل سبقت ہے اور وہ جنت ہے۔
2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہما کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
فکنتم فیمن دخل فی ھذا الدین اما رغبۃ واما رھبۃ فکنتم فیمن دخل فی ھذا الدین اما رغبۃ واما رھبۃ علی حین نازاھل السبق بسبقھم وفاز المھاجرون الاولون بفضلہم (شرح حدیدی ص210)
تم ان لوگوں میں سے تھے جو اس دین میں رغبت کی وجہ سے داخل ہوئے یا خوف کی وجہ سے ۔ جس وقت کہ سبقت لے جانے والے اپنی سبقت کی وجہ سے کامیاب ہو چکے تھے اور مہاجرین اولین اپنے فضل و مرتبہ کی وجہ سے۔
جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں بھی سبقت سے مراد وہی سبقت ہے جو موجب فوز و فلاح ہے اور ضامن ترقی درجات اور یہی تحقیق لفظ سبق کی امام راغب نے ذکر کی ہے۔
السبق لاحراز الفضل و التبریز و علی ذلک (والسباقون السابقون) الخ (مفردات ص 222)
لہٰذا ڈھکو صاحب کا یہ شبہ بیت عنکبوت سے بھی کمزور تر ہے۔

مؤلف کا دوسرا شبہ اور اس کا جواب:
ڈھکو صاحب نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف روئے سخن ہونے کی وجہ سے آپ کو مورد الزام ٹھہرا لیا اور ان کے دل کی مرض کی تشخیص کا دعویٰ کر دیا حالانکہ دیگر دلائل کتاب و سنت کے مقابل اس شبہ کا سہارا لینا بے سود ہے۔ جو ان کے اخلاص پر صریح الدلالت ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں چند امور توجہ طلب ہیں۔

1۔ بسا اوقات ایک اہم ہستی کی طرف روئے سخن کیا جاتا ہے، لیکن مراد دوسرے لوگ ہوتے ہیں اور اس خطاب کا مقصد دوسروں کے دلوں میں اس حکم کی اہمیت کا راسخ کرنا ہوتا ہے ۔ جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ولا تمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحیوٰۃ الدنیا
آپ آنکھیں بڑھا کر اور اٹھا کر ہرگز نہ دیکھیں ان چیزوں کی طرف جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو عطا کی ہیں حیاۃ دنیویہ کی زینت کے طور پر۔

حالانکہ اس ذات مقدس نے کونین کی نعمتوں کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے فقر و مسکنت کو اختیار فرمایا ہوا تھا، لہٰذا یہاں روئے سخن آپ کی طرف ہے اور مراد دوسرے لوگ ہیں اور یہی معاملہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا ہے۔ لہٰذا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے مرض قلب کی نشاندہی تو اس سے نہیں ہوتی البتہ مؤلف صاحب کے مرض قلب و روح کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔

الشرک اخفی فیکم کا خطاب اگرچہ عام ہے لیکن کبھی عام سے عموم والا معنی مراد نہیں ہوتا بلکہ بعض کا فعل ہوتا ہے، مگر اس کی نسبت سب کی طرف کر دی جاتی ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل میں سے بعض نے قتل کا ارتکاب کیا لیکن نسبت سب کی طرف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
واذ قتلتم نفسا فادا رائتم فیھا
اس وقت کو یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا پھر اس قتل کو ایک دوسرے پر ڈالا۔
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
فابدلنا بعد الضلالۃ بالھدی واعطانا البصیرۃ بعد العمی (نھج البلاغہ مصری جلد 1 ص 539)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں گمراہی کے بعد اس کے بدلے ہدایت عطا فرمائی اور دل کے نابینا اور اندھے ہونے کے بعد قلبی بصیرت عطا فرمائی۔

اگر اس کلام کو ظاہر پر رکھو تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی پہلے گمراہ ہونا اور قلبی بصیرت سے محروم ہونا لازم آئے گا، حالانکہ نہ شیعہ اس کے قائل ہیں اور نہ ہی ہم اس کے معتقد ہیں۔
اسی طرح حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے حق میں بھی دوسرے دلائل کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہی تاویل متعین ہوگی ورنہ خطاب عام ہونے کی صورت میں خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس میں داخل ہوں گے اور شرک خفی کا آپ میں بھی سرایت کرنا لازم آئے گا اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اس مضمون کو دوسری روایت میں الشرک فی ھذہ الامۃ اخفی من دبیب النمل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ (مفردات راغب: ص 260)

اور امت میں حضرت علی ، حضرت ابو ذر ، حضرت مقداد اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہم اجمعین بھی داخل ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے مبرا و منزہ ہیں اور خطاب چونکہ امت کے متعلق ہے لہٰذا قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں میں سے کوئی بھی اس شرک خفی میں مبتلا ہو تو آپ کا فرمان بھی صادق ہو جائے گا لیکن صدر اول اور مہاجرین و انصار اور علی الخصوص بدری صحابی ہی اس کا نشانہ بنانے کیوں ضروری ہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ ابن سبا کی قوم اور مجوسیوں کو ان سے تکلیف پہنچی؟

لمحہ فکریہ:وعدہ خلافت ہو تو پھر خطاب کی ضمیر ہونے کے باوجود مصداق حضرت مہدی علیہ السلام بن جائیں گے جیسے کہ تفسیر صافی وغیرہ میں زیر آیت وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملو الصالحات لیستخلفنھم (الآیہ) لکھا ہے کہ اس سے مراد حضرت مہدی علیہ السلام کی امامت و خلافت کا وعدہ ہے اور اگر ریاکاری اور شرک خفی کے بیان میں ضمیر خطاب وارد ہو تو پھر صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات مراد ہوگی ۔ کیا یہ انصاف کا تقاضا ہے یا علم تحقیقی اور شان اجتہادی کا کہ کہیں تو ضمیر خطاب سے ڈیڑھ ہزار سال بعد والے یا اس سے بھی متاخر لوگ مراد ہوں اور کہیں صرف نبی اکرم ﷺ کے تربیت یافتہ اور قریبی صحابی مراد ہوں ، جو مہاجرین اولین میں سے ہوں اور مجاہدین بدر و احد، خندق و خیبر اور غازیان تبوک میں سے، جن کا اخلاص بیسیوں آیات، سینکڑوں احادیث اور ارشادات ائمہ سے مہر نیمروز کی طرح واضح اور عیاں ہو، بریں عقل و دانش بباید گریست۔

3۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اخلاص کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:
کان افضلھم فی الاسلام کما زعمت وانصحھم اللہ ولرسولہ الخلیفۃ الصدیق وخلیفۃ الخلیفۃ الفاروق ولعمری ان مکانھما فی السلام لعظیم و ان المصاب بھما لجرح فی الاسلام شدید ۔۔الخ (شرح ابن میثم بحرانی جلد 3 صفحہ 488)
یعنی ان سب مہاجرین میں سے افضل جیسے کہ تیرا قول اور نظریہ ہے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے لیے خلوص رکھنے والے خلیفہ رسول ابوبکر صدیق ہیں اور ان کے خلیفہ عمر فاروق اور مجھے اپنی حیات کے خالق کی قسم ، ان کا مرتبہ اسلام میں بہت بڑا ہے اور ان کا دنیا سے رخصت ہونا اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان اور نہ مندمل ہونے والا زخم ہے۔
ایک طرف قرآن مجید ان کے اخلاص کی گواہی دے اور دوسری طرف سرور عالم ﷺ ان کے فضائل و مناقب بیان کریں اور خود علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان کو سب سے زیادہ افضل اور مخلص للہ و للرسول قرار دیں اور ان کی جدائی کو اسلام کے قلب و جگر کا نہ مندمل ہونے والا زخم قرار دیں۔ اللہ تعالیٰ اور رسول گرامی ﷺ اور معدن ولایت علی مرتضی سے بڑھ کر کون زیادہ حکیم ہے کہ اس نے تو مرض قلب کی تشخیص کر لی، لیکن ان حضرات کو کچھ پتہ نہ چل سکا۔ نعوذباللہ من ذلک۔

4۔ علاوہ ازیں شرک خفی نام ہے ریاکاری کا اور کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور وہ اندر ہی اندر ترقی کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا طبیب روحانی نے زیر تربیت اپنے غلاموں کو اس کی اہمیت جتلانے کے لیے فرمایا کہ ریاء چیونٹی کی چال میں غیر محسوس طریقہ پر انسان میں سرایت کرتا رہتا ہے لہٰذا اس سے ہوشیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے اور دل کی پاسبانی اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ تربیت اخلاق اور اعلیٰ ترین اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی ترغیب ہے نہ کہ مرض قلب کا اثبات اور اس کے لاعلاج ہونے کا بیان۔ نعوذباللہ من ذلک۔

وہی روایت جس کا ایک جملہ ڈھکو صاحب نے مفید مطلب سمجھ کر لکھ دیا، خود اسی روایت سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ آپ نے فرمایا:
الا ادلک علی شی اذا قلتہ ذھب قلیلہ و کثیرہ۔
کیا میں تجھے ایسا وظیفہ نہ بتلاؤں کہ جب تو اسے پڑھے تو قلیل و کثیر ہر طرح کا شرک دور ہو جائے؟
قل اللھم انی اعوذبک ان اشرک بک وانا اعلم و استغفرک لمالا اعلم (تفسیر درمنثور جلد 4 صفحہ 54)
اس طرح کہا کرو اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس کی کہ تیرے ساتھ شریک کروں دیدہ دانستہ اور میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں اور بخشش طلب کرتا ہوں اس کی جو میں نہیں جانتا۔
تو کس قدر مطلب اور مفہوم واضح ہے کہ طبیب روحانی اپنے مخلص غلام کو تربیت دے رہا ہے اور امکانی صورت کا تدارک بتلا رہا ہے لہٰذا اس صورت میں حضرت صدیق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کا کیا جواز ہے ؟ اور اگر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں شرک تھا تو ان سے ازدواجی مراسم قائم کرنا اور برادرانہ روابط روا رکھنا کیا قرآن مجید کے اس ارشاد کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟
یاایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم
یعنی اے نبی ﷺ ، کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔
اور اسی طرح فرمان باری تعالیٰ کی بھی :
"ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار"
ظالموں کی طرف ادنیٰ میلان اور معمولی رغبت بھی نہ رکھو ورنہ تمہیں دوزخ کی آگ اپنی لپیٹ میں لے لے گی،
اور کون سا مسلمان ہے جو نبی اکرم ﷺ کے حق میں اس خلاف ورزی کو روا رکھے؟

تنبیہ:ڈھکو صاحب نے لفظ شرک مطلق لکھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہاں شرک جلی اور شرک اکبر مراد ہے ۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے ۔ اس میں چیونٹی کی چال کی طرح چلنے کا کیا مطلب؟ بلکہ یہاں ریا مراد ہے جیسے کہ سرور عالم ﷺ کا ارشاد ہے۔
ان یسیر الریاء الشرک
معمولی سی ریاکاری بھی شرک ہے۔
اور ریا کا صدور انسان کو کافر و مشرک شرعی نہیں بناتا لہٰذایہاں بھی ڈنڈی ماری گئی ہے ۔ خود اسی روایت میں یہ تصریح ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
ھل الشرک الامن جعل مع اللہ الھا آخر

اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے عرض کیا:
ھل الشرک الاماعبد من دون اللہ اوما دعی مع اللہ

یعنی کیا شرک تو صرف یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الٰہ اور معبود مانا جائے اور ہم تو آپ کے غلام ہیں اور توحیدر و رسالت کے عقیدہ پر کاربند ہیں تو آپ نے فرمایا نہیں، وہ چیونٹی کی طرح سرایت کرنے والا بھی ہوتا ہے اور وظیفہ بتلاتے ہوئے اس کا اثر بھی یہی بتلایا کہ اس سے قلیل اور کثیر ہر دو شرک دور ہو جائیں گے ۔ حالانکہ شرک جلی تو قلیل نہیں ہو سکتا وہ تو "ان الشرک لظلم عظیم" کا مصداق ہے اور کثیر و عظیم ہی ہے۔ اس صورت میں بھی ڈھکو صاحب کی تشخیص غلط ہو گئی اور اس کی دھاندلی واضح ہو گئی۔ کیونکہ شرک جلی منافی ایمان ہے ، شرک خفی تو ایمان کے منافی نہیں، البتہ کمال صدیقی کے منافی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید میں الاتقی فرمایا ہے:

سیجنبھا الاتقی الذی یوتی مالہ یتزکیٰ
دوزخ کی دہکتی آگ سے وہ شخص ضرور دور رکھا جائے گا جو زیادہ پرہیز گار ہے جو کہ مال کو تزکیہ قلب کے حصول کے لیے راہ خدا میں دیتا ہے ۔

اس آیت کریمہ کے تحت ابو علی طبرسی نے مجمع البیان میں کہا کہ اس سے مراد ابوبکر ہیں:
عن ابن الزبیر قال ان الایۃ نزلت فی ابی بکر لانہ اشتری المما لیک الذین اسلموا مثل بلال وعامر ابن فھیرۃ وغیرھما واعتقھما (مجمع البیان : جلد5 صفحہ 502)
ابن الزبیر سے مروی ہے کہ یہ آیت کریمہ ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے ان غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جو اسلام لا چکے تھے۔ مثلاً حضرت بلال ، عامر بن فہیرہ اور دیگر غلام۔
لہٰذا ایسی ہستی میں قلیل ترین ریا کاری بھی قابل برداشت نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی واضح فرمائی اور اس کا علاج بھی بتلایا۔ اس لیے یہ روایت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خصوصی تربیت اور اعلیٰ تہذیب کی دلیل ہے نہ کہ تنقیص شان کی۔


چشم بد بین کہ برکندہ باد
عیب نما ید ہمزش درنظر

٭٭٭٭٭ تمت ٭٭٭٭٭​
 
Top