• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رد عیسائیت

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
مسیحی اعتراض مسلم جواب

کیا شیعہ کا قرآن الگ ہے ؟ کیا شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں ؟ کیا شیعہ کے قرآن میں سورہ ولایہ ہے ؟ الجواب : مسیحی حضرات کی عادت ہے کہ بے بنیاد اعتراض لیکر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں جیسا کہ کراچی کے ایک پادری صاحب کا دعوی تھا مگر خالی دعوی ہی تھا کوئی دلیل نہ تھی حقیقت یہ ہے کہ نہ تو شیعہ کا قرآن کوئی الگ قرآن ہے نہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں نہ شیعہ کے پاس موجود قرآن میں ہمارے قرآن سے زائد کوئی سورہ ولایہ ہے بلکہ شیعہ حضرات کے پاس بھی وہی قرآن ہے جو اہلسنت کا قرآن ہے آپ کے شہر گاوں محلہ میں ضرور شیعہ رہتے ہوں گے ان سے قرآن لیکر آپ تصدیق کرسکتے ہیں ان کی امام بارگاہ جاکر شیعہ کے شائع کردہ قرآن دیکھ سکتے ہیں امامیہ آرگنائزیشن لاہور پاکستان کا شائع کردہ قرآن بازار سے خرید سکتے ہیں بلکہ آپ ایران سے شائع شدہ قرآن بھی دیکھ سکتے ہیں دراصل یہ ایک جھوٹا پراپیگنڈہ ہے کہ شیعہ کا قرآن الگ ہے یا شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیحیوں کی اپنی بائبل الگ الگ ہے چنانچہ کیتھولک کی بائبل الگ ہے پروٹسٹنٹ کی بائبل الگ ہے آرتھوڈوکس کی بائبل الگ ہے ان میں باہم کتابوں کا کم وزیادہ ہونا بعض ابواب کا کم یا زیادہ ہونا باہم آیات کا ایک دوسرے کے خلاف ہونا پایا جاتا ہے اسی طرح یہود کی تورات الگ ہے یہود کے فرقہ سامریہ کی توریت الگ ہے لہذا مسیحی حضرات ہمارا منہ چڑانے کو کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے ہاں بھی شیعہ کا قرآن الگ ہے حالانکہ آج تک کوئی مسیحی شیعہ کا الگ قرآن پیش نہیں کر پایا اور نہ قیامت کی صبح تک پیش کرسکتا ہے مسیحی حضرات یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کیوں کرتے ہیں ؟ دراصل شیعہ حضرات کی کتب میں بعض ایسی من گھڑت روائتیں پائی جاتی ہیں حالانکہ ان روائیتوں کی کوئی حیثیت نہیں خود شیعہ حضرات کے نزدیک بھی ان روائیتوں کی حیثیت ردی کی ٹوکری کے سوا کچھ نہیں ان روائیتوں کی شیعہ کے ہاں وہی حیثیت ہے جو مسیحیوں کے ہاں جعلی انجیلوں کی حیثیت ہے انہی من گھڑت روائیتوں کے سبب شیعہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں ان روائیتوں کی حیثیت ہم یہاں بیان کرتے ہیں تحریف قرآن کے بارے میں اکثر شیعہ روایات ضعیف اور کذاب راویوں سے مروی ہیں ثقہ وصدوق سے نہیں چنانچہ ان روایات میں ایک قابل توجہ سلسلہ سلسلہ روایت احمد بن محمد السیاری پر منتہی ہوتا ہے چنانچہ تحریف قرآن سے مربوط تین سو (300) روایات احمد بن محمد السیاری سے مربوط ہیں اب دیکھنا چاہیے کہ شیعہ کتب رجال میں احمد بن محمد السیاری کا کیا مقام ہے ؟ شیعہ کتب رجال میں اس کا کوئی مقام نہیں چند حوالے پیش خدمت ہیں " وہ ضعیف الحدیث فاسد المذہب غالی اور منحرف ہے " ( قاموس الرجال 1: 403 طبع تہران ؛ رجال نجاشی ص 58 طبع بمبئ ؛ نقد الرجال ص 32 طبع ایران قدیم ؛ معجم رجال الحدیث جلد 2 ص 29 طبع نجف ) ان روایات تحریف میں ایک راوی یونس بن ظبیان کا نام بھی آتا ہے اس شخص کو شیعہ علمائےالرجال نے یوں یاد کیا ہے " یہ نہایت ضعیف ناقابل توجہ غالی کذاب اور احادیث گھڑنے والا ہے ( نقدالرجال ص381 ) تحریف قرآن کے سلسلہ میں ایک راوی منخل بن جمیل الاسدی کوفی کا نام بھی ہے " وہ فاسد الروایہ ، ضعیف غالی اور منحرف ہے " ( دراسات فی الحدیث والمحدثین نقد الرجال ص 354 ) محمد بن حسن بن جمہور بھی ان راویوں میں شامل ہے جس کے بارے میں شیعہ علمائے رجال لکھتے ہیں " ضعیف ، غالی ، فاسد الروایہ ، ناقابل حجت اور فاسد المذہب ہے " (نقدالرجال ص 299 ; رجال نجاشی ص 238 طبع بمبئ ) شیعہ کی معتبر کتب میں ثقہ صدوق راویوں سے متعدد روائتیں موجود ہیں جو قرآن کریم کو لاریب بے عیب اور ناقابل تحریف بلکہ معجزہ قرار دیتی ہیں ہم چند ایسی روائتیں بھی نقل کرینگے جو شیعہ کے ثقہ صدوق راویوں سے مروی ہیں قبل ازیں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ شیعہ کتب میں تحریف قرآن کے متعلق روایات اسلام دشمنوں کی اختراع کردہ ہیں چنانچہ قاضی نوراللہ شوستری جو شیعہ علماء میں ممتاز درجہ رکھتے ہیں اپنی کتاب مصائب النواصب میں لکھتے ہیں " فرقہ شیعہ امامیہ کی طرف جو یہ نسبت کی جاتی ہے کہ وہ قرآن کے محرف ہونے کے قائل ہیں سو جمہور شیعہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں ہے یہ بات ایسے قلیل التعداد ناقابل اعتبار لوگوں کی ہے جن کی کوئی قیمت و پوزیشن شیعوں میں نہیں ہے " شیعہ کتابوں میں ہمیں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی سب سے پہلے قرآن کریم کو جمع کیا بلکہ مکمل مصحف تحریر کیا اور اس وقت تک کوئی دوسرا کام نہیں کیا جب تک قرآن کریم کو. مکمل جمع نہیں کر لیا چنانچہ حضرت علی کے ہاتھ کا چمڑے پر لکھا ہوا قرآن کریم کا ایک قدیم ترین نسخہ انڈیا میں رضا لائبریری رام پور میں محفوظ ہے ایک اور قدیم نسخہ خط نسخ میں حضرت جعفر الصادق کے ہاتھ کا لکھا ہوا اسی لائبریری میں موجود ہے اسی طرح یمن کے قدیم نسائخ قرآنی میں امام یحیی لائبریری میں حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک نسخہ موجود ہے ایران کے قدیم مصاحف میں دارالکتب الرضویہ (مکتبہ استان قدس ) مشہد میں بڑے بڑے چمڑے کے مضبوط اوراق پر سیدنا حسین کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن کریم موجود ہے یہ دوسری صدی ھجری کا مصحف ہے اس کا نمبر 14 ہے اسی لائبریری میں 12_نمبر نسخہ کی کتابت بھی حضرت حسین سے منسوب ہے اسی لائبریری میں 15 نمبر نسخہ کی کتابت حضرت علی بن الحسین بن علی کی طرف منسوب ہے فلسطین کے قدیم مصاحف میں مسجد اقصی کی لائبریری ایک قدیم نسخہ خط کوفی میں موجود ہے جس کے کاتب محمد بن الحسن بن حضرت حسن بن حضرت علی بن ابی طالب ہیں علاوہ ازیں چمڑے پر لکھا ہوا ایک اور نسخہ کوفی رسم الخط کا بھی یہاں موجود ہے جس پر تاریخ رمضان 198 ھ درج ہے ؛ معلوم ہوا کہ حضرت علی اور ان کی اولاد کے ہاتھوں لکھے ہوئے بکثرت مصاحف آج تک موجود ومحفوظ ہیں لہذا شیعیان علی اس کے برعکس کوئی ایسا دعوی کیسے کرسکتے ہیں جبکہ ان کے ہاتھ میں مصحف علی مصحف عبداللہ بن مسعود اور متعدد کوفی نسائخ موجود ہیں اب ہم معتبر شیعہ کتب سے چند ایسی روائتیں نقل کرتے ہیں تاکہ واضح ہو کہ شیعہ کے نزدیک بھی قرآن کریم لاریب اور بے عیب ہے نیز قرآن کریم میں تحریف ممکن نہیں سب سے پہلے تو قرآن کریم کی عظمت اعجاز اور لاریب ہونے پر نہج البلاغہ میں حضرت علی کے متعدد خطبات پیش نظر رکھیے اب ہم شیعہ کی چند معتبر کتب سے کچھ حوالہ جات پیش کرتے ہیں شیخ صدوق لکھتے ہیں " اعتقادنا فی القرآن الذی انزلہ اللہ تعالی علی نبیہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ھو مابین الدفتین وھو فی ایدی الناس لیس باکثر من ذالک ( لی عن قال ) ومن نسب الینا انا نقول انہ اکثر من ذالک فھو کاذب " ( رسالہ اعتقادیہ ص93 مطبوعہ ایران ) یہ الفاظ تو آج سے ایک ہزار سال قبل پیدا ہونے والے شیعہ عالم دین کے ہیں " آیت اللہ ابو القاسم خوئی لکھتے ہیں " جو قرآن آج ہمارے ہاتھ میں ہے وہی مکمل قرآن ہے جو رسول اکرم پر نازل ہوا بہت سے علمائے قرآن نے اس کی تصریح فرمائی ہے جیسا کہ شیخ صدوق شیخ ابو جعفر طوسی نے اپنی تفسیر البیان میں محسن کاشانی نے الوافی ج 5 شیخ جواد بلاغی نے اپنی تفسیر آلاء الرحمن میں وغیرہ وغیرہ " ( البیان فی التفسیر القرآن ص 199 شائع کردہ جامعہ اہلبیت ) . علی میلانی اپنی مشہور کتاب " شیعہ اور تحریف قرآن " میں رقمطراز ہیں " شیعہ امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن میں قطعا تحریف واقع نہیں ہوئی اور موجودہ قرآن بغیر کسی کمی وبیشی کے وہی ہے جو پیغمبر اسلام پر نازل ہوا شیعوں کا یہ عقیدہ آج کی ایجاد نہیں بلکہ ایک ہزار سال پہلے سے لیکر آج تک شیعہ بزرگ علماء اور مشہور شیعہ مولفین نے اس کی وضاحت فرما دی ہے " ( شیعہ اور تحریف قرآن ؟ شائع کردہ مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور ) شیعہ حضرات کی معتبر تفسیر صراط مستقیم میں قرآن کریم کی آیت انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے " ہم قرآن کی حفاظت کرینگے تحریف اور تبدیل سے کمی اور بیشی سے " محمد بن حسن حر عاملی کا شیعہ کے بہت بڑا مقام ہے جو فرقہ امامیہ کے جلیل القدر محدث ہیں وہ بعض معاصرین کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں " جو شخص واقعات اور تواریخ کی چھان بین کرے گا وہ یقینی طور پر جان لے گا کہ قرآن کریم تواتر کے اعلی مرتبے پر پہنچا ہوا ہے ہزاروں صحابہ اس کو حفظ کرتے اور نقل کرتے تھے اور عہد رسالت میں وہ جمع اور مدون ہوچکا تھا "
FB_IMG_1579110740947.jpg
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
مسیحی اعتراض مسلم جواب
نبی کریم (صلی اللہ علیه وسلم ) کے ارادہ خود کشی کا افسانہ ؟
مسیحی حضرات کی عادت ہے کہ ان پر جو اعتراض یہودی حضرات کرتے ہیں وہی اعتراض لیکر مسیحی حضرات اسلام یا پیغمبر اسلام پر کر دیتے ہیں جیسا کہ المسیح کے ایلچی میں کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر یہ اعتراض کیا کہ پہلی وحی کے بعد آپ نے متعدد بار خود کشی کی کوشش کی کیا ایک نبی ایسا کرسکتا ہے ؟ الجواب : بائبل نے انبیاء اور اہل بیت انبیاء کا جو احوال بیان کیا ہے اس کے بعد یہ اعتراض کوئی معنی تو نہیں رکھتا بائبل کے نزدیک تو راست بازوں کے باپ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نعوذباللہ بت تک پوجتے رہے حضرت لوط علیہ السلام نے نعوذباللہ اپنی بیٹیوں سے وہ شرمناک کھیل کھیلا کہ جس کے ذکر سے بھی شرف مجد کانپ جائے حضرت اضحاق حضرت داود حضرت سلیمان سے کیا کچھ ناحق منسوب نہیں کیا ؟ پھر حضرت مریم صدیقہ اور ان کے بیٹے سیدنا مسیح کی کس کس انداز سے بائبل میں توہین کی گئ ہے باوجود اس کے وہ انبیاء سابقین کو نبی مانتے ہیں اور حضرت مسیح کو تو خدائی تک کا درجہ دے رکھا ہے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر معمولی معمولی باتوں کا اعتراض کرتے ہیں ہم ان مسیحی معترضین سے سوال کرتے ہیں کہ شریعت کی کتاب توریت میں کون سا حکم ہے جس میں خود کشی کرنے سے منع کیا گیا ہے حوالہ دیجیے ؟ توریت میں تو کہیں خود کشی کی ممانعت نہیں پھر آئیے عہدنامہ جدید میں حضرت مسیح کی تعلیمات میں بھی ہمیں ایسا کوئی حکم نہیں ملتا کہ حضرت مسیح نے خود کشی کرنے سے منع کیا ہو حضرت مسیح کی تعلیمات میں سرے سے ایسا کوئی حکم موجود ہی نہیں بلکہ عہد نامہ جدید سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ یسوع مسیح نے خود کشی کی اس بات کا ذکر تو ہم آگے چل کر کرینگے فی الحال تو ہم مسیحی معترضین سے سوال کرتے ہیں کہ جب شریعت کا کہیں حکم ہی نہیں خود کشی کی ممانعت میں تو پھر اعتراض کیسا ؟ مقدس پولوس لکھتے ہیں " جہاں شریعت نہیں وہاں گناہ محسوب نہیں ہوتا " (رومیوں 5 : 13) اگر کہیں کہ شریعت اسلامیہ میں تو خود کشی کی ممانعت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ابھی تو پہلی وحی ہی نازل ہوئی تھی لہذا شریعت اسلامیہ میں بھی اس وقت تک ایسا کوئی حکم نہ تھا اس لیے مسیحی معترضین کا اعتراض بنتا ہی نہیں اب آئیے ان احادیث کی طرف جن میں پہلی وحی کا ذکر ہے صحیح بخاری صحیح مسلم وغیرہ حدیث کی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے جن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ صحیح بخاری حدیث نمبر 4750 میں ہے " وٙ فٙتٙرالوٙحیُ فٙتْرةً حٙتّٙی حٙزِنٙ رٙسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " اور کچھ دنوں کے لیے وحی کا آنا بند ہوگیا آپ وحی کے بند ہوجانے کی وجہ سے غمگین رہنے لگے " البتہ ایک ہی ایسی حدیث ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خود کو پہاڑ سے لڑھکانے کی کوشش کرنے کا ذکر ہے اس کا ذکر صحیح بخاری حدیث نمبر 6942 میں کچھ یوں موجود ہے:
وَفَتَرَ الوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ..... فِيمَا بَلَغَنَا ...... حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ، وَتَقِرُّ نَفْسُهُ، فَيَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
اور ایک مدت تک وحی بند ہو گئی ، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے -جیسے کہ ہمیں خبر پہنچی- کہ کئی بار بلند وبالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے اپنے آپ کو لڑھک جائیں، لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے: "ائے محمد آپ اللہ کے برحق رسول ہیں"۔ اور اس کی وجہ سے آپ کا اضطراب تھم جاتا اور نفس کو قرار آجاتا، اور آپ واپس آجاتے۔ پھر جب آپ پر وحی کی بندش طول پکڑجاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لئے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر پھر وہی بات دہراتے-
اصل میں یہ اس طویل روایت کا اگلا حصہ ہے جس میں نبی کریم پر وحی کے نزول کا مکمل واقعہ کیفیت ، جبرائیل کا آنا ، آپ کی گھبراہٹ اور سیدہ خدیجہ کی آپ کو تسلی مرقوم ہے - یہ مشھور روایت ہے جس سے پہلی وحی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اسی روایت کے آخر میں وہ حصہ ہے جس کو بنیاد بنا کر مسیحی حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں -
اص روایت کا آخری حصہ ملاحظہ ہو جس پر معترض نے اعتراض کیا ہے اس کی پہلی سطر میں ہی آپ کو یہ الفاظ ملیں گے :
" فیما بلغنا " ان الفاظ کا مطلب ہے کہ " ہمیں خبر پہنچی " - چونکہ مسیحی حضرات علم حدیث سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں اس لیے بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں فن حدیث میں ان الفاظ کے بعد آنے والی روایت کے حصے کو " بلاغات " کہا جاتا ہے یعنی روایت بیان کر کے راوی اس میں مزید اضافہ کرتا ہے کہ بعض لوگوں سے یہ بات بھی سنی ہے - اس کا مقصد بسا اوقات گزری بات کو تقویت دینا ہوتا ہے اور کبھی کبھی محض اس سے متعلقہ موضوع ہونے کے سبب بیان کر دی جاتی ہے -
اور واضح رہے کہ بلاغات کرنے والے کوئی بھی راوی ہوں ان کی اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ ان کی بات حتمی ہے ، درست ہے اور صحیح ہے - بلکہ مقصود محض یہ ہوتا ہے کہ " اس حوالے سے یہ بات بھی سنی گئی ہے " -
اور قابل غور پہلو ہے کہ امانت و دیانت کا انتہائی خیال رکھتے ہوئے راویان اس کو "فیما بلغنا " جیسے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں تا کہ اصل با سند روایت سے یہ الگ رہے اس کا حصہ نہ گردانا جائے -
اور ان کے بارے میں محدثین کا فیصلہ ہے کہ محض ان بلاغات سے حکم یعنی حجت نہیں پکڑی جا سکتی ، نہ ان کو بلا سند مانا جائے گا ، ہاں جب تک کہ اس کی صحیح سند نہ مل جائے -
اب بخاری کی اس روایت میں "فیما بلغنا" کے بعد آنے والے الفاظ کا فیصلہ تو ائمہ محدثین کے اس اصول پر ہی ہو گیا کہ یہ الفاظ قابل حجت نہیں ہیں - اسے محض سنی سنائی بات کہا جائے گا جس کی کوئی سند نہیں دراصل یہ مخالفین کا طعن ہے جسے راوی نے مخالفین سے سن کر حدیث میں اضافہ کیا ہے
یہ اضافہ کہ "ہم نے یہ بھی سنا ہے " کس نے کیا ہے ؟ - بعض بزرگ جیسا کہ حافظ ابن حجر اس "فیما بلغنا " کو امام زہری کے نام کرتے ہیں - ابن حجر لکھتے ہیں:
"و معنی الکلام ان فی جملہ ما وصل الینا من خبر رسول اللہ فی هذه القصہ و ھو من بلاغات زہری و لیس موصولا ،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ الفاظ زہری کے بلاغات میں سے ہیں موصول روایت نہیں ہے (مکمل سند والی )
جبکہ ابن ملقن اس کو امام زہری کے شاگرد معمر کی طرف منسوب کرتے ہیں ابن ملقن لکھتے ہیں:
"و هذا من بلاغات معمر ، و لم یسندہ و لا ذکر راویہ ، ولا انہ صلی اللہ علیہ وسلم قالہ ،"
یعنی یہ اضافہ معمر کی بلاغات میں سے ہے ، اور جب کہ معمر نے اس کی کوئی سند بیان نہیں کی اور نہ ہی اس کے راویوں کا ذکر کیا ہے ، اور نہ ہی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ رسول نے ایسا کہا ہے
یہاں ابن ملقن کی رائے میں زیادہ وزن ہے کیونکہ نزول وحی کی یہ روایت اور بھی راویان سے بیان ہوئی ہے ، لیکن اس میں یہ اضافہ نہیں ہے - جب کہ زہری کی دوسری اسناد میں بھی یہ اضافہ نہیں ہے - صرف معمر کی سند میں یہ اضافہ مرقوم ہے - اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معمر کا اضافہ ہے جو انہوں نے مخالفین سے سنا اور ذکر کر دیا ، لیکن انہوں نے بھی یہ اہتمام کیا کہ اس کو اصل روایت کا حصہ نہیں بنایا بلکہ "فیما بلغنا " کے ساتھ ذکر کیا -
- اب ہر دو صورت میں نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ حصہ قابل حجت نہیں اور(مسند اور موصول ) روایت سے الگ ہے جو کہ محض مخالفین کا طعن ہے جیسا کہ مخالفین ابوجہل وغیرہ خصوصا ابولہب کی بیوی آپ پر طرح طرح کے طعن کستی رہتی تھی صحیح بخاری کتاب التفسیر سے معلوم ہوتا ہے Sahih Bukhari Hadees # 4950

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَالضُّحَى { 1 } وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى { 2 } مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى { 3 } سورة الضحى آية 1-3 ، قَوْلُهُ : مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3 :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑ گئے اور دو یا تین راتوں کو ( تہجد کے لیے ) نہیں اٹھ سکے۔ پھر ایک عورت ( ابولہب کی عورت عوراء ) آئی اور کہنے لگی۔ اے محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔ دو یا تین راتوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے پاس وہ نہیں آیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى‏» آخر تک یعنی ”قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔“
لہذا راوی کا یہ اضافہ مخالفین کے طعن پر مبنی ہے اب ہم مسیحی حضرات سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ مخالفین کی طعن کو حجت سمجھتے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو پھر مسیحی حضرات حضرت مسیح کی مخالفین کی اس بات کا کیا جواب دینگے کہ " اِبنِ آدم کھاتا پِیتا آیا اور وہ کہتے ہیں دیکھو کھاؤ اور شرابی آدمی۔ محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کا یار! مگر حِکمت اپنے کاموں سے راست ثابِت ہُوئی۔( متی 11: 19) کیا مخالفین کے مبینہ طعن کے سبب مسیحی حضرات یسوع مسیح کو کھاو شرابی اور محصول لینے والوں کا یار سمجھتے ہیں ؟ یا پھر مخالفین نے کہا " انہوں نے جواب میں اس سے کہا کہ اگر یہ بدکار نہ ہوتا تو ہم اسے تیرے حوالے نہ کرتے " (یوحنا 18: 30) کیا خیال ہے مسیحی حضرات اس وجہ سے یسوع مسیح کو بدکار خیال کرتے ہیں ؟ پس جو جواب مبینہ باتوں کا مسیحی حضرات دینگے وہی ہمارا جواب روایت کے الفاظ میں " فیما بلغنا " کے بارے ہے یہ تو ہوا مسیحی معترض کا جواب اب ہم بائبل کے حوالہ سے بتاتے ہیں کہ دراصل خود کشی یسوع مسیح نے کی اُس نے پِھر اُن سے کہا مَیں جاتا ہُوں اور تُم مُجھے ڈُھونڈو گے اور اپنے گُناہ میں مَرو گے۔ جہاں مَیں جاتا ہُوں تُم نہیں آ سکتے۔ پس یہُودِیوں نے کہا کیا وہ اپنے آپ کو مار ڈالے گا جو کہتا ہے جہاں مَیں جاتا ہُوں تُم نہیں آ سکتے؟ اُس نے اُن سے کہا تُم نِیچے کے ہو۔ مَیں اُوپر کا ہُوں۔ تُم دُنیا کے ہو۔ مَیں دُنیا کا نہیں ہُوں۔ (یوحنا 8 : 21) اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں نمبر 1 یا تو یسوع مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لیے جائینگے ( اور یہ بات مسیحی حضرات کو قبول نہیں ) 2 یا یسوع مسیح اپنے آپ کو مار ڈالیں گے - اب آگے یہ ملاحظہ ہو
باپ مُجھ سے اِس لِئے مُحبّت رکھتا ہے کہ مَیں اپنی جان دیتا ہُوں تاکہ اُسے پِھر لے لُوں۔ کوئی اُسے مُجھ سے چِھینتا نہیں بلکہ مَیں اُسے آپ ہی دیتا ہُوں۔ مُجھے اُس کے دینے کا بھی اِختیار ہے اور اُسے پِھر لینے کا بھی اِختیار ہے۔ یہ حُکم میرے باپ سے مُجھے مِلا۔ اِن باتوں کے سَبَب سے یہُودِیوں میں پِھر اِختلاف ہُؤا۔ ( یوحنا 10 : 17 ) بلکہ میں اسے ((یعنی اپنی جان کو) آپ ہی دیتا ہوں " کے الفاظ پر غور فرمائیے یہ خود کشی نہیں تو کیا ہے ؟
FB_IMG_1579111587592.jpg
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
کونسا کلام رب تعلی کا حقیقی تصور عظمت و جلال بتاتا ہے

قرآن:القرآن - سورۃ نمبر 28 القصص
آیت نمبر 88

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ‌ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ۚ كُلُّ شَىۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ‌ؕ لَـهُ الۡحُكۡمُ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞
القرآن - سورۃ نمبر 28 القصص
آیت نمبر 88

ترجمہ:
اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اس ذات کے، حکومت اسی کی ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔
القرآن - سورۃ نمبر 14 ابراهيم
آیت نمبر 19

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍۙ ۞
القرآن - سورۃ نمبر 14 ابراهيم
آیت نمبر 19

ترجمہ:
کیا تمہیں یہ بات نظر نہیں آتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اور ایک نئی مخلوق وجود میں لے آئے۔
القرآن - سورۃ نمبر 35 فاطر
آیت نمبر 16

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍۚ ۞

القرآن - سورۃ نمبر 35 فاطر
آیت نمبر 16

ترجمہ:
اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اور ایک نئی مخلوق وجود میں لے آئے۔
القرآن - سورۃ نمبر 55 الرحمن
آیت نمبر 26

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كُلُّ مَنۡ عَلَيۡهَا فَانٍ‌ ۞
القرآن - سورۃ نمبر 55 الرحمن
آیت نمبر 26

ترجمہ:
اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔
القرآن - سورۃ نمبر 55 الرحمن
آیت نمبر 27

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّيَبۡقٰى وَجۡهُ رَبِّكَ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ‌ۚ ۞
القرآن - سورۃ نمبر 55 الرحمن
آیت نمبر 27

ترجمہ:
اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔
بائبل:لوگوں کی زیادتیاں
6‏1 دنیا میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ اُن کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ‏2 تب آسمانی ہستیوں نے دیکھا کہ بنی نوع انسان کی بیٹیاں خوب صورت ہیں، اور اُنہوں نے اُن میں سے کچھ چن کر اُن سے شادی کی۔ ‏3 پھر رب نے کہا، ”میری روح ہمیشہ کے لئے انسان میں نہ رہے کیونکہ وہ فانی مخلوق ہے۔ اب سے وہ 120 سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔“ ‏4 اُن دنوں میں اور بعد میں بھی دنیا میں دیو قامت افراد تھے جو انسانی عورتوں اور اُن آسمانی ہستیوں کی شادیوں سے پیدا ہوئے تھے۔ یہ دیو قامت افراد قدیم زمانے کے مشہور سورما تھے۔
‏5 رب نے دیکھا کہ انسان نہایت بگڑ گیا ہے، کہ اُس کے تمام خیالات لگاتار بُرائی کی طرف مائل رہتے ہیں۔ ‏6 وہ پچھتایا کہ مَیں نے انسان کو بنا کر دنیا میں رکھ دیا ہے، اور اُسے سخت دُکھ ہوا۔ ‏7 اُس نے کہا، ”گو مَیں ہی نے انسان کو خلق کیا مَیں اُسے رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔ مَیں نہ صرف لوگوں کو بلکہ زمین پر چلنے پھرنے اور رینگنے والے جانوروں اور ہَوا کے پرندوں کو بھی ہلاک کر دوں گا، کیونکہ مَیں پچھتاتا ہوں کہ مَیں نے اُن کو بنایا۔“
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین نے کہا اے محمد! اپنے رب کا نسب بیان کریں تو اس وقت یہ سورت نازل ہوئی.
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‌ ۞
آپ کہہ دیجیے کہ : اللہ ایک ہے.
اَللّٰهُ الصَّمَدُ‌ ۞
اللہ بےنیاز ہے.
لَمۡ يَلِدۡ ۙ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ ۞
نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے.
وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ۞
اور اس کا ہمسر کوئی نہیں۔
(مستدرک حاکم :ص540،ج2)
مسیحی حضرات کے خدا کا نسب نامہ!
متّی 1:1 یِسُوع مسِیح اِبنِ داؤد اِبنِ ابرہام کا نسب نامہ متّی 1:2 ابراہام سے اِضحاق پَیدا ہُؤا اور اِضحاق سے یَعقُوب پَیدا ہُؤا اور یَعقُوب سے یہُوداہ اور اُس کے بھائِی پَیدا ہُوئے۔ متّی 1:3 اور یہُوداہ سے فارص اور زارح تمر سے پَیدا ہُوئے اور فارص سے حصرون پَیدا ہُؤا اور حصرون سے رام پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:4 اور رام سے عمینداب پَیدا ہُؤا اور عمینداب سے نحسون پَیدا ہُؤا اور نحسون سے سلمون پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:5 اور سلمون سے بوعز راحب سے پَیدا ہُؤا اور بوعز سے عوبید رُوت سے پَیدا ہُؤا اور عوبید سے یسّی پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:6 اور یسّی سے داؤد بادشاہ پَیدا ہُؤا۔ اور داؤد سے سلیمان اُس عَورت سے پَیدا ہُؤا جو پہلے اُوریاہ کی بِیوی تھی۔ متّی 1:7 اور سلیمان سے رحُبِعام پَیدا ہُؤا اور رحُبِعام سے ابیاہ پَیدا ہُؤا اور ابیاہ سے آسا پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:8 اور آسا سے یہُوسفط پَیدا ہُؤا اور یہُوسفط سے یُورام پَیدا ہُؤا اور یُورام سے عُزّیاہ پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:9 اور عُزّیاہ سے یُوتام پَیدا ہُؤا اور یُوتام سے آخز پَیدا ہُؤا اور آخز سےحِزقیاہ پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:10 اور حِزقیا سے منسّی پَیدا ہُؤا اور منسّی سے امُون پَیدا ہُؤا اور امُون سے یُوسیاہ پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:11 اور گِرفتار ہوکر بابُل جانے کے زمانے میں یُوسیاہ سے یکُونیاہ اور اُس کے بھائِی پَیدا ہُوئے۔ متّی 1:12 اور گِرفتار ہوکر بابُل جانے کے بعد یکُونیاہ سے سیالتی ایل پَیدا ہُؤا اور سیالتی ایل سے زرُبّابُل پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:13 اور زرُبّابُل سے ابیہُود پَیدا ہُؤا اور ابیہُود سے اِلیاقیِم پَیدا ہُؤا اور اِلیاقیِم سے عازور پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:14 اور عازور سے صدوق پَیدا ہُؤا اور صدوق سے اخیم پَیدا ہُؤا اور اخیم سے اِلیہُود پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:15 اور اِلیہُود سے اِلیعزر پَیدا ہُؤا اور اِلیعزر سے متّان پَیدا ہُؤا اور متّان سے یَعقُوب پَیدا ہُؤا۔ متّی 1:16 اور یَعقُوب سے یُوسُف پَیدا ہُؤا۔ یہ اُس مریم کا شوہر تھا جِس سے یِسُوع پَیدا ہُؤا جو مسِیح کہلاتا ہے۔
 
Top