• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے پہلے رفع یدین کیا پھر چھوڑدیا - کیا یہ روایت صحیح ہے؟

شمولیت
نومبر 07، 2013
پیغامات
76
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
47
عینی حنفی نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ: "حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو رکوع کررت اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے وقت رفع یدینکرتے دیکھا تو آپ نے اسے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے پہلے کیا اور چھوڑ دیا۔"
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,473
پوائنٹ
791
عینی حنفی نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ: "حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو رکوع کررت اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے وقت رفع یدینکرتے دیکھا تو آپ نے اسے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے پہلے کیا اور چھوڑ دیا۔"
السلام علیکم ورحمۃْ اللہ وبرکاتہْ
علامہ بدر الدین محمود عینی حنفی (المتوفى: 855 ھ) ۔۔ البنایہ شرح ھدایہ ۔۔ میں لکھتے ہیں :
هو ما نقله البعض «أن ابن الزبير رأى رجلا يرفع يديه في الصلاة عند الركوع وعند رفع الرأس من الركوع فقال له: لا تفعل فإن هذا شيء فعله رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثم تركه» ( البنایۃ ج 2 ص 258 )
یعنی :
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو رکوع کرتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے وقت رفع یدین
کرتے دیکھا تو آپ نے اسے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے پہلے کیا اور چھوڑ دیا۔
"
اور دلچسپ بات یہ کہ خود ہی مشہور محدث امام ابن جوزیؒ کا اس روایت پر تبصرہ اور نقد بھی نقل کرتے ہیں :
قال ابن الجوزي في " التحقيق ": زعمت الحنفية أن أحاديث الرفع منسوخة بحديثين رووا.
أحدهما: عن ابن عباس - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قال: «كان رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يرفع يديه كلما ركع وكلما رفع، ثم صار إلى افتتاح الصلاة ترك ما سوى ذلك» .
والثاني: رووه «عن ابن الزبير أنه رأى رجلا يرفع يديه من الركوع فقال: مه فإن هذا شيء فعله رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثم تركه»
وهذان الحديثان لا يعرفان أصلا، وإنما المحفوظ عن ابن عباس وابن الزبير - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - خلاف ذلك فأخرج أبو داود عن ميمون، لكن أنه رأى ابن الزبير وصلى بهم يشير بكفيه حين يقوم وحين يركع وحين يسجد، قال: فذهبت إلى ابن عباس فأخبرته بذلك فقال: إن أحببت أن تنظر إلى صلاة رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فاقتد بصلاة عبد الله بن الزبير،
ولو صح ذلك لم يصح دعوى النسخ؛ لأن شرط الناسخ أن يكون أقوى من المنسوخ.


یعنی ابن الجوزی ؒ اپنی کتاب ( التحقیق فی احادیث الخلاف ) میں لکھتے ہیں کہ :
" حنفیہ کا دعوی ہے کہ رفع الیدین ان دو حدیثوں سے منسوخ ہوگیا ،
ایک تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت جس میں وہ فرماتے ہیں کہ : نبی اکرم ﷺ نماز میں ہر جگہ جھکتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے ، پھر بعد میں صرف افتتاح الصلاۃ والا رفع الیدین باقی رہا باقی سب جگہ چھوڑ دیا "
اور رفع الیدین کی منسوخی کی دوسری روایت یہ پیش کرتے ہیں کہ :
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو رکوع کرتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے وقت رفع یدین
کرتے دیکھا تو آپ نے اسے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے پہلے کیا اور چھوڑ دیا۔
امام ابن جوزی ؒ فرماتے ہیں : یہ دونوں روایتیں معروف نہیں ( منکر ہیں )
کیونکہ جناب ابن عباس و سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہما سے ان دونوں روایتوں کے خلاف رفع الیدین کرنے کی احادیث مروی ہیں ،
امام ابوداود ؒ نے ( سنن میں ) جناب میمون مکی سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت اور رکوع کرنے کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ( یعنی رفع یدین کیا )، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور جا کر میں نے ان کو ابن الزبیر کا ( نماز میں اس طرح کرنا ) بتایا تو انہوں نے کہا: اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھنا چاہتے ہو تو عبداللہ بن زبیر کی نماز کی پیروی کرو۔ (سنن ابوداود 739 )
تو اگر ( ابن الزبیر و ابن عباس کی ) یہ روایت صحیح ہے تو رفع الیدین منسوخ ہونے کا دعوی بالکل غلط ہے ،
کیونکہ ناسخ کیلئے شرط یہ ہے کہ وہ منسوخ سے زیادہ قوی ہو ۔ "

امام ابن جوزی ؒ کا یہ بیان نقل کرکے علامہ عینیؒ بے بسی سے جان چھڑاتے ہوئے لکھتے ہیں :
قلت: قوله: لا يعرفان أصلا لا يستلزم عدم معرفة أصحابنا هذا ودعوى النافي ليست بحجة على المثبت وأصحابنا أيضا ثقات لا يرون الاحتجاج بما لم يثبت عندهم صحته،؛
یعنی ابن الجوزی ؒ کا یہ کہنا کہ یہ دونوں حدیثیں معروف نہیں ، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہمارے علماء بھی ان کی معرفت نہیں رکھتے تھے ،
اور نفی کرنے والے کا دعویٰ مثبت پر حجت نہیں ہوتا ( ( ٭حالانکہ حنفیہ نے ان احادیث کو باسند ثابت نہیں کیا )
آگے لکھتے ہیں ہمارے اصحاب ثقات ہیں ، جس روایت کی صحت ان کے ہاں ثابت نہ ہو اس سے احتجاج نہیں کرتے "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام الذہبیؒ ۔۔ تنقیح التحقیق ۔۔ میں ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے تحت لکھتے ہیں:
وَهَذَانِ منكرٌ من القَوْل، وَمن شَرط النَّاسِخ أَن يكونَ فِي قُوَّة الْمَنْسُوخ، ثمَّ الْمَحْفُوظ عَن ابْن عَبَّاس، وَابْن الزبير الرفعُ.
یعنی :( ایسی بے بنیاد روایت سے ) نسخ کا یہ دعویٰ انتہائی غلط ہے ، ناسخ کیلئے شرط ہے کہ وہ کم از کم منسوخ کی قوت والی ہو ۔۔ اور دوسری بات یہ کہ سیدنا ابن عباس و سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے رفع یدین کرنے کی روایت محفوظ ہے ۔ انتہی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تو یہ حقیقت ہے اس روایت کی جو علامہ عینی نے نقل فرمائی،
جس کی نہ کوئی اسناد ، نہ حدیث کی کسی کتاب میں اس کا وجود ،
 
Last edited:
Top