• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول اﷲ ﷺ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کی آسان اور مختصر تحقیق

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,081
پوائنٹ
1,155
رسول اﷲ ﷺ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کیآسان اور مختصر تحقیق

افادات: فضیلۃ الشیخ محمد رفیق طاہر ترتیب: ابو عبداﷲ آزادؔ​
سیرت نبوی کے حوالے سے یہ بات بہت معرکہ آراء رہی ہے کہ پیارے پیغمبر جناب محمد رسول اﷲﷺ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کیا ہے۔ اگرچہ اس کا علم ہونے یا نہ ہونے سے شریعت کے کسی فریضہ پر کوئی زد نہیں پڑتی، لیکن بعض لوگوں نے اس کو بھی ایک معما بنا کر رکھ دیاہے اور اسی آڑ میں اپنے لیے بعض بدعات وخرافات کی گنجائش نکالی ہوئی ہے۔ تحقیق کے میدان میں جو قول ثابت ہوتا ہے، وہ یہی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحیح تاریخ پیدائش نو (9) ربیع الاول اور تاریخ وفات بارہ (12) ربیع الاول ہی ہے۔

اس تاریخ کی تحقیق نہایت ہی آسان طریقے سے آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس سے قبل چند بنیادی باتیں سمجھنا ضروری ہیں :
1 موجودہ رائج شدہ عیسوی کیلنڈر کے رائج ہونے سے پہلے سال کو 360 دن کا سمجھا جاتا تھا، لیکن سن 47 ق م میں شاہ روم جولیس سیزر کے حکم پر رومی اہل علم نے موسموں کا اندازہ لگانے کے بعد سال کو 365 دن 6گھنٹے یعنی تین سال تک سال 365 دن اور چوتھے سال 366 دن یعنی لیپ کا سال شمار کرنا شروع دیا۔ لیکن سن 8 ق م میں ریاضی دانوں نے یہ تحقیق پیش کی کہ سورج کے گرد زمین کے ایک چکر کی مدت کی مناسبت سے تقریبا 14 منٹ فی سال زیادہ شمار ہوتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے پوری صدی کو لیپ کا سال شمار نہ کرنے کا حکم صادر کر دیا، لیکن سترھویں صدی میں پوپ گریگری سیزدھم نے اس حساب میں بھی غلطی ثابت کرتے ہوئے اور سورج کے گرد زمین کے ایک چکر اور سال کے دورانیے میں مطابقت رہنے کے لیے ہر چوتھی صدی کو لیپ کی صدی قرار دیا ۔جبکہ باقی صدیوں مثلا 1500 اور1700 کی طرح کی صدیوں کے سالوں کو 365 دنوں کا سال شمار کیا جانے لگا۔ اور یہی کیلنڈر آج تک رائج ہے ۔

2 ہجری تقویم کا دارو مدار چاند کی زمین کے گرد گردش پر ہے ۔ ماہرین فلکیات اور ہیٔت دانوں کے بہت محتاط حساب کے مطابق چاند زمین کے گرد ایک چکر 29 دن 12گھنٹے 44 منٹ 2.8 سیکنڈ میں مکمل کرتا ہے۔ یعنی ہجری ماہ کا دورانیہ 29 دن 12گھنٹے 44 منٹ 2.8 سیکنڈ یعنی 29.5305879دن بنتا ہے۔تو ایک ہجری سال کا دورانیہ 29.5305879 ضرب 12 یعنی کل 354.3670555 دن بنتا ہے۔

3 ایک اہم ترین بات ذہن نشیں رہے کہ منازل قمر میں بے ترتیبی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے عام ہجری سالوں اور لیپ کے سالوں میں کوئی خاص ترتیب قائم نہیں رہتی لیکن اتنا ضرور ہے کہ 30ہجری سالوں میں 11 سال لیپ کے ہوتے ہیں یعنی مکمل 355 دنوں کے ۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,081
پوائنٹ
1,155
تاریخ پیدائش کی تحقیق:

ان بنیادی باتوں کو سمجھنے کے بعد اب ہم چلتے ہیں رسول اﷲ ﷺ کی تاریخ پیدائش کی تحقیق کی طرف:
بمطابق قمری تقویم:

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا سال ولادت 53ق ھ (قبل از ہجرت)
محرم الحرام 53ق ھ سے ذوالحجہ 1434 تک کل سال بنے:+531434=1487 سال
ایک ہجری سال کا دورانیہ : 354.3670555 دن
1487سالوں کے کل دن: 354.3670555=1487x526943.8115285 دن
یعنی یکم محرم الحرام سن 53ق ھ تا یکم محرم الحرام 1435ھ کل دن 526943 دن
(اعشاریہ کا جو فرق ہے وہ منازل قمر کی بنا پر ہے)
تو 9 ربیع الاول 53ق ھ تا یکم محرم الحرام 1435ھ کل دن بنے، محرم کے تیس اور صفر کے 29 اور ربیع الاول کے 8 دن نفی کرکے، یعنی-67526943=526876 دن ۔
دنوں کی تعداد بمطابق شمسی تقویم :
9 ربیع الاول سن 53 ق ھ بمطابق 22 اپریل 571ء سے یکم محرم الحرام 1435ھ بمطابق 06 نومبر2013ء تک بننے والے کل دن معلوم کرنے کے لیے :
یکم جنوری تا05 نومبر کل دن = 309 دن
(06نومبر کو شمار نہیں کیا گیا کیونکہ 06نومبر2013ء کو یکم محرم 1435ھ تاریخ تھی اور ہمیں صرف اور صرف ہجری سالوں کے دن شمار کرنا ہیں تاکہ مکمل 1434سالوں کے دن سامنے آسکیں۔)
22 اپریل 571ء سے 31 دسمبر 571ء تک کل دن= 254 دن
یکم جنوری 572ء تا 31 دسمبر 600ء تک کل دن7+10585=365x29لیپ کے دن= 10592دن
یکم جنوری601ء تا 31دسمبر 700ء تک کل دن:24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری 701ء تا 31دسمبر 800ء تک کل دن:25+36500=365x100لیپ کے دن (800 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری801ء تا 31دسمبر 900ء تک کل دن:24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری901ء تا 31دسمبر 1000ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1001ء تا 31دسمبر 1100ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری 1101ء تا 31دسمبر 1200ء تک کل دن: 25+36500=365x100لیپ کے دن (1200 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری1201ء تا 31دسمبر 1300ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1301ء تا 31دسمبر 1400ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1401ء تا 31دسمبر 1500ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری 1501ء تا 31دسمبر 1600ء تک کل دن: 25+36500=365x100لیپ کے دن (1600 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری1601ء تا 31دسمبر 1700ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1701ء تا 31دسمبر 1800ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1801ء تا 31دسمبر 1900ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری 1901ء تا 31دسمبر 2000ء تک کل دن: 25+36500=365x100لیپ کے دن (2000 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری2001ء تا 31دسمبر 2012ء تک کل دن: 3+4380=365x12لیپ کے دن = 4383دن
پس ثابت ہوا کہ 22اپریل571ء تا05دسمبر2013ء تک کل دن526878بنتے ہیں۔
چونکہ9ربیع الاول53ق ھ سے یکم محرم الحرام 1435ھ تک بننے والے دن بحساب قمری تقویم 526876 بنتے ہیں(دو دن کا فرق منازل قمر کی بناء پر ہے۔) تو ثابت ہوا کہ 22اپریل 571ء بمطابق 9ربیع الاول 53 ق ھ رسول اﷲﷺ کی تاریخ پیدائش ہے ۔
اب اس تاریخ پیدائش کا دن معلوم کرنے کے لیے انہی دنوں کو ہفتوں میں تقسیم کریں ۔
یعنی 526878تقسیم7= 75268اور 2(دو دن)
تو 06نومبر 2013ء کو بدھ کا دن تھا۔لہٰذا بدھ سے دو دن پیچھے جائیں توسوموار کا دن بنتا ہے۔ جو کہ مستند احادیث سے ثابت ہے کہ آپﷺ کا یوم پیدائش ہے۔ (مسلم : 1162(
تاریخ وفات کی تحقیق:

بمطابق تقویم قمری:
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا سال وفات11ہجری ہے۔
محرم الحرام11ھ سے ذوالحجہ 1434 تک کل سال بنے:1424=1435-11 سال
ایک ہجری سال کا دورانیہ : 354.3670555 دن
1424سالوں کے کل دن:
504618.687032=1424x354.3670555دن
یعنی یکم محرم الحرام سن11 ھ تا یکم محرم الحرام 1435ھ کل دن: 504618دن
(اعشاریہ کا جو فرق ہے وہ منازل قمر کی بنا پر ہے)
تو12ربیع الاول11 ھ تا یکم محرم الحرام 1435ھ کل دن بنے، محرم کے تیس، صفر کے 29 اور ربیع الاول کے 11دن نفی کرکے، یعنی: 504548=504618-70دن ۔
دنوں کی تعداد بمطابق شمسی تقویم :

12 ربیع الاول سن11 ھ بمطابق 11 جون 632ء سے یکم محرم الحرام 1435ھ بمطابق 06 نومبر2013ء تک بننے والے کل دن معلوم کرنے کے لیے :
یکم جنوری تا05 نومبر کل دن : 309 دن
06) نومبر کو شمار نہیں کیا گیا کیونکہ 06نومبر2013ء کو ہجری تاریخ یکم محرم 1435ھ تھی اور ہمیں صرف اور صرف ہجری سالوں کے دن شمار کرنا ہیں تاکہ مکمل 1424سالوں کے دن سامنے آسکیں۔)
11جون 632ء سے 31 دسمبر 632ء تک کل دن: 204 دن
یکم جنوری 633ء تا 31دسمبر 700ء تک کل دن: 16+24820=365x68لیپ کے دن= 24836دن
یکم جنوری 701ء تا 31دسمبر 800ء تک کل دن:25+36500=365x100لیپ کے دن (800 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری801ء تا 31دسمبر 900ء تک کل دن:24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری901ء تا 31دسمبر 1000ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1001ء تا 31دسمبر 1100ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری 1101ء تا 31دسمبر 1200ء تک کل دن: 25+36500=365x100لیپ کے دن (1200 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری1201ء تا 31دسمبر 1300ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1301ء تا 31دسمبر 1400ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1401ء تا 31دسمبر 1500ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری 1501ء تا 31دسمبر 1600ء تک کل دن: 25+36500=365x100لیپ کے دن (1600 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری1601ء تا 31دسمبر 1700ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1701ء تا 31دسمبر 1800ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری1801ء تا 31دسمبر 1900ء تک کل دن: 24+36500=365x100لیپ کے دن = 36524دن
یکم جنوری 1901ء تا 31دسمبر 2000ء تک کل دن: 25+36500=365x100لیپ کے دن (2000 لیپ کی صدی)= 36525دن
یکم جنوری2001ء تا 31دسمبر 2012ء تک کل دن: 3+4380=365x12لیپ کے دن = 4383دن
پس ثابت ہوا کہ 11جون632ء تا05دسمبر2013ء تک کل دن504548بنتے ہیں۔
چونکہ12ربیع الاول11 ھ تا یکم محرم الحرام 1435ھ تک بننے والے دن بحساب قمری تقویم بھی 504548ہی بنتے ہیں تو ثابت ہوا کہ 11جون 632ء بمطابق 12ربیع الاول11 ھ رسول اﷲ ﷺکی تاریخ وفات ہے ۔
اب اس تاریخ وفات کا دن معلوم کرنے کے لیے انہی دنوں کو ہفتوں میں تقسیم کریں ۔
یعنی 504548تقسیم72078=7 اور 2(دو دن)
تو 06نومبر 2013ء کو بدھ کا دن تھا۔لہٰذا بدھ سے دو دن پیچھے جائیں توسوموار کا دن بنتا ہے۔ جو کہ مستند احادیث سے ثابت ہے کہ آپ کا یوم وفات ہے۔ (بخاری: 680)​
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,081
پوائنٹ
1,155
لیجئے جناب! رسول اﷲﷺ کی تاریخ پیدائش، تاریخ وفات اور یوم پیدائش، یوم وفات کا آسان سا طریقہ تحقیق جس کے ذریعہ سے آپ شمسی یا قمری تقویم میں سے جس تقویم کو چاہیں، اپنا کر صحیح دن اور تاریخ معلوم کر سکتے ہیں ۔
ہماری اس تحقیق کا خلاصہ یہ نکلا کہ رسول اﷲ ﷺ سوموار کے دن 9 ربیع الاول 53سال قبل از ہجرت بمطابق 22 اپریل 571 عیسوی کو اس دنیا میں تشریف لائے ۔ اور 12ربیع الاول 11ہجری بمطابق 11جون 632عیسوی کو وفات پا گئے۔ فداه ابي وامي
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,329
پوائنٹ
800
اتنے لمبے حساب وکتاب کی بجائے صرف تین مہینوں کا حساب کرکے اس بارے میں کچھ رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

تین باتیں ذہن میں رکھیں:

1۔ یہ بات بھی سب کو معلوم ہے اور صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجری مہینہ یا 30 دن کا ہوسکتا ہے یا 29 دن کا۔

2۔ صحیح احادیث مبارکہ کے مطابق یوم عرفہ (9 ذی الحجہ) 10 ہجری - جس دن آیت کریمہ اليوم أكملت لكم دينكم ۔۔۔ الخ نازل ہوئی - كو جمعے کا دن تھا۔ (اور یہ نبی کریمﷺ کی وفات سے تقریباً تین مہینے پہلے کی بات ہے)

3۔ صحیح احادیث مبارکہ کے مطابق نبی کریمﷺ کی وفات بروز سوموار ہوئی ہے۔ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ مہینہ ربیع الاول 11 ہجری تھا۔

البتہ احادیث مبارکہ میں یہ صراحت نہیں ہے کہ تاریخ کونسی تھی؟ 12 ربیع الاول یا کوئی اور؟ مؤرخین میں بھی اس بابت اختلاف ہے۔

درج بالا تینوں مقدموں کو مد نظر رکھا جائے تو چار ضربی عقلی صورتیں معرض وجود میں آتی ہیں:

1۔ ذو الحجہ 10 ہجری، محرم 11 ہجری اور صفر 11 ہجری تینوں مہینوں کو 30، 30 دنوں کا سمجھا جائے

2۔ تینوں مہینوں کو 29، 29 دنوں کا سمجھا جائے

3۔ کسی ایک مہینے کو 30 اور باقی دو کو 29 کا سمجھا جائے

4۔ کوئی دو مہینوں کو 30 اور باقی ایک کو 29 کا سمجھا جائے

ان چاروں صورتوں میں سے کسی ایک کے مطابق بھی 12 ربیع الاول 11 ہجری کو سوموار کا دن نہیں بنتا

تو

پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی تاریخ وفات حتمی طور پر 12 ربیع الاول ہے؟؟؟!
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,220
پوائنٹ
425
اتنے لمبے حساب وکتاب کی بجائے صرف تین مہینوں کا حساب کرکے اس بارے میں کچھ رہنمائی لی جا سکتی ہے۔!
جی محترم بھائی آپ نے واقعی انتہائی آسان اور مختصر حساب بتا دیا اللہ آپ کو جزائے خیر دے امین
محترم ارسلان بھائی نے جو محنت سے حساب یہاں لگایا ہے وہ بھی تاریخ پیدائش کے لئے بڑا عمدہ ہے اللہ انکو بھی جزائے خیر دے امین
 
شمولیت
جولائی 06، 2014
پیغامات
164
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
75
السلام علیکم
مجھے اس سلسلے میں رہنمائی درکار ہے- نبی کریمﷺ کی پیدائش، کس عیسوی سال میں ہوئی؟ مندرجہ بالا تحاریر میں بیان کیا گیا ہے 571 عیسوی-
براہ کرم یہ واضح کیجئے کہ یہ کیسے 571 عیسوی ہوا؟
جزاک الله خیرا
 
Top