• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رضاعت !

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,090
ری ایکشن اسکور
6,752
پوائنٹ
1,069
حرمت پيدا كرنے كى غرض سے دودھ پلانا :

ميرى بيوى اس كى بہن يعنى ميرى سالى دونوں حاملہ ہيں ( ميرى سالى كو پتہ چلا ہے كہ اس كے پيٹ ميں بچى ہے ) دونوں بہنوں كى نيت ہے كہ اگر اللہ نے مجھے بيٹا ديا تو ميرے بيٹے اور اس بچى كو دونوں دودھ پلائيں تا كہ ميرا بيٹا اپنى خالہ كى بيٹيوں كے ساتھ خلوت كر سكے برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس مسئلہ كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

آپ كى بيوى كے ليے اپنى بھانجى كو دودھ پلانے ميں كوئى حرج نہيں، اور اسى طرح آپ كى سالى كے ليے آپ كے بيٹے كو دودھ پلانے ميں بھى كوئى حرج نہيں، اگر پانچ رضعات يعنى پانچ بار دودھ دو برس كى عمر ميں پلايا گيا تو وہ بچى آپ اور آپ كى بيوى كى سارى اولاد كى رضاعى بہن بن جائيگى، اور آپ كا بيٹا اپنى خالہ اور اس كے خاوند كى سارى اولاد كا رضاعى بھائى بن جائيگا.

دو شرطيں پائى جائيں تو رضاعت سے حرمت ثابت ہو جائيگى:

پہلى شرط:

پانچ يا اس سے زائد رضعات ہوں؛ كيونكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں وارد ہے وہ بيان كرتى ہيں:

" قرآن مجيد ميں دس معلوم رضعات نازل كى گئى تھيں جن سے حرمت ثابت ہوتى ہے، پھر انہيں پانچ رضعات سے منسوخ كر ديا گيا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1452 ).

دوسرى شرط:

يہ رضاعت دو برس كى عمر ميں ہو ( يعنى بچے كى دو برس كى عمر كے دوران ہو ) كيونكہ عبد اللہ بن زبير رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" رضاعت وہى ہے جس سے انتڑياں بھر جائيں "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1946 ) صحيح الجامع حديث نمبر ( 7495 ).

امام بخارى رحمہ اللہ صحيح بخارى ميں باب باندھتے ہوئے كہتے ہيں:

" اس شخص كے قول كے بارہ ميں باب جو كہتا ہے كہ دو برس كے بعد رضاعت نہيں، كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے: دو مكمل سال جو رضاعت مكمل كرنا چاہے "

آپس ميں حرمت پيدا كرنے كے ليے بچوں كو دودھ پلانے ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ يہ ايك مباح مقصد ہے، اور بعض اوقات اس كى ضرورت بھى ہوتى ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابو حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كى بيوى كو حكم ديا تھا كہ وہ سالم كو دودھ پلا دے تا كہ وہ اس كا محرم بن جائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

http://islamqa.info/ur/111404
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,090
ری ایکشن اسکور
6,752
پوائنٹ
1,069
پستان سے منہ لگا كر دودھ پينا حرمت كے ليے شرط نہيں :

ميرا ايك بچہ ہے اور ميرى بہن كى بچى ہے ميں اپنے بيٹے كو اپنى بہن كا دودھ پلانا چاہتى ہوں تا كہ وہ آپس ميں رضاعى بھائى بن جائيں، اور ان كے ليے ايك دوسرے سے ملنا ميں كوئى حرج نہيں رہے اور آسانى سے ايك دوسرے كے پاس جاسكيں.

تو كيا اس كے ليے پستان سے منہ لگا كر دودھ پينا شرط ہے يا كہ دودھ نكل كر بچے كو پلايا جا سكتا ہے، اور اگر وہ كسى علاقہ ميں ہو تو فريج ميں محفوظ كر كے اسے پلايا جا سكتا ہے يا نہيں ؟


الحمد للہ:

اول:

بہن يا بھائى يا كسى دوسرے كے بيٹے كو دودھ پلانے ميں كوئى حرج نہيں؛ تا كہ وہ دودھ پلانے والى عورت اور اس كے بچوں كے ليے محرم بن سكے اور ان كا ايك دوسرے كے پاس جانا آسان ہو.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا جسے چاہتيں كہ وہ ان كے پاس آيا جايا كرے تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا جنہيں اپنے پاس آنا پسند كرتيں ان كے متعلق اپنى بھتيجيوں اور بھانجيوں كو حكم ديتى كہ وہ انہيں دودھ پلائيں تا كہ وہ ان كے پاس آ سكيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2061 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

دوم:

حرمت ثابت كرنے والى رضاعت پستان سے منہ لگا كر دودھ پينے پر موقوف نہيں، بلكہ اگر كسى برتن ميں ڈال كر بچے كو پلا ديا جائے تو بھى اس سےحرمت ثابت ہو جاتى ہے، جمہور علماء كرام كے ہاں معتبر يہى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں: اور ناك كے ذريعہ دودھ پلانا اور پستان كو منہ لگائے بغير بچے كے حلق ميں دودھ ڈال دينا بھى رضاعت كى طرح ہى ہے.

السعوط: ناك كے ذريعہ خوراك دينا، اور الوجور: حلق ميں دودھ ڈالنے كو كہتے ہيں.

اور ان دونوں طريقوں سے حرمت ثابت ہونے كى روايت ميں اختلاف ہے: دونوں روايتوں ميں صحيح ترين يہى ہے كہ اس سے بھى اسى طرح حرمت ثابت ہو جاتى ہے جس طرح رضاعت سے ثابت ہوتى ہے.

شعبى اور ثورى اور اصحاب الرائے كا يہى قول ہے، اور حلق ميں ڈالنے كے متعلق امام مالك بھى يہى كہتے ہيں.

اور دوسرى روايت يہ ہے كہ: اس سے حرمت ثابت نہيں ہوتى، ابو بكر نے يہى اختيار كيا ہے، اور داود كا يہى مسلك ہے، اور عطاء خراسانى ناك كے ذريعہ دودھ كى خوراك لينے كے متعلق كہتے ہيں يہ رضاعت نہيں، بلكہ اللہ تعالى اور اس كے رسول نے رضاعت سے حرمت ثابت كى ہے.

اس كى حرمت كى دليل عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كى يہ روايت ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" رضاعت وہى ہے جس سے ہڈى پيدا ہو اور گوشت بنے "

اسے ابو داود نے روايت كيا ہے.

اور اس ليے بھى كہ يہ اس طريقہ سے بھى دودھ وہى پہنچتا ہے جہاں رضاعت كے ليے پہنچتا ہے، اور اس طرح خوراك لينے سے بھى گوشت بنتا اور ہڈى بنتى ہے جس طرح پستان سے رضاعت ميں پيدا ہوتى ہے، اس ليے اسے حرمت ميں بھى برابر ہونى چاہيے " انتہى بتصرف

ديكھيں: المغنى ( 8 / 139 ).

سوم:

حرمت كے ليے رضاعت ميں شرط يہ ہے كہ پانچ رضاعت ہوں اور بچہ دو برس كى عمر سے تجاوز نہ كرے.

اور يہاں پانچ رضاعت كا حساب اس طرح لگايا جائيگا كہ برتن ميں دودھ ڈال كر بچے كو پانچ مختلف اوقات ميں پلايا جائے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب دودھ ايك ہى بار برتن ميں نكال ليا جائے يا پھر كئى بار نكالا جائے اور پھر اسے پانچ اوقات ميں بچے كو پلايا جائے تو يہ پانچ رضاعت ہونگى، اور اگر ايك ہى وقت ميں پلا ديا جائے تو يہ ايك شمار ہو گى، كيونكہ بچے كے پينے كا اعتبار ہو گا، اور اسى سے حرمت ثابت ہو گى، اس ليے اس كا متفرق اور اجتماع كے فرق كا اعتبار كريں " انتہى

ديكھيں: الكافى ( 5 / 65 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب

http://islamqa.info/ur/119567
 
Top