• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمضان المبارک کے احکام و مسائل

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
کفارہ:
بلا عذر شرعی روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے۔ یہ طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ یہ بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو (بیک وقت) کھانا کھلائے ۔(بخاری)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
افطاری میں جلدی:
آنحضرت ﷺ نے فرمایا: لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَّا عَجَّلُوْا الْفِطْرَ۔ جب تک لوگ افطاری میں جلدی کریں بھلائی میں رہیں گے ۔(بخاری و مسلم)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
افطاری کس چیز سے مسنون ہے:
حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
آنحضرت ﷺ نمازِ مغرب سے قبل تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے۔ تر نہ ہوتیں تو خشک سے۔ یہ بھی میسر نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیتے ۔(ابو داؤد، ترمذی )
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
دعا بوقت افطار:
اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ(ابوداؤد)’’اے اللہ! میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیئے سے افطار کیا۔ ‘‘
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
شیخ فانی:
اگر کسی مرد اور عورت پر ایسا بڑھاپا آگیا ہے کہ اب طاقتور اور تندرست ہونے کی توقع نہیں تو وہ روزہ نہ رکھیں۔ روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے ۔(قرآن مجید، بخاری)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
حاملہ اور مرضعہ :
(الف) حاملہ اور مرضعہ کو اگر خوف ہو کہ روزہ سے بچہ کو نقصان پہنچے گا تو اس کو بھی روزہ نہ رکھنے کی رُخصت ہے۔
(ب) روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور ممکن ہو تو بعد میں قضائی بھی دے۔
(دودھ پلانے والی (الف) ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ (ب) ابن کثیر )
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
نمازِ تراویح:

آٹھ رکعت سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ بخاری شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت (آٹھ تراویح تین وتر) سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے ابی بن کعبؓ اور تمیم داریؓ کو حکم فرمایا کہ ماہِ رمضان المبارک میں لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں ۔(موطا امام مالک و مشکوۃ)
(الف) علامہ عینیؒ حنفی فرماتے ہیں:
اِحْدٰی عَشَرَۃَ رَکْعَۃً وَّھُوَ اخْتِیَارُ مَالِکٍ لِّنَفْسِہ۔ ’’ کہا جاتا ہے کہ تراویح گیارہ رکعت ہے۔ امام مالکؒ نے اپنے لئے اسی کو پسند فرمایا۔‘‘(عمدۃ القاری)
(ب) علامہ جلال الدینؒ سیوطی لکھتے ہیں:
عَنْ مَالِکٍ اَنَّہ قَالَ الَّذِیْ جَمَعَ عَلَیْہِ النَّاسَ ُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَحَبُّ اِلَیَّ وَھُوَ اِحْدٰی عَشَرَۃ رَکْعَۃً۔ ’’امام مالکؒ نے فرمایا، نمازِ راویح کی وہ عداد جس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں کو جمع کیا تھا وہ مجھے زیادہ محبوب ہے، اور وہ گیارہ رکعت ہیں۔(المصابیح فی صلوۃ التراویح)
اسی بنا پر حنفی مذہب کے مسلمہ بزرگ ملا علی قاریؒ حنفی فرماتے ہیں: فَاِنَّہ صَلّٰی بِھِمْ ثَمَانِ رَکْعَاتٍ وَّالْوِتْرَ (موقات جلد ۲ صفحہ ۱۷۴۔ ’’نبی ﷺ نے صحابہؓ کو آٹھ رکعت تراویح اور وتر پڑھائے۔‘‘
مولانا انور شاہؒ دیو بندی حضت عائشہ صدیقہؓ کی مذکورہ بالا حدیث کے متعلق لکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔
فِیْہِ تَصْرِیْحٌ اَنَّہ حَالُ رَمَضَانَ فَاِنَّ السَّائِلَ سَأَلَ عَنْ حَالِ رَمَضَانَ وَغَیْرِہ کَمَا ِنْدَ التِّرْمِذِیِّ وَمُسْلِمٍ وَّلَا مَنَاصَ مِنْ تَسْلِیْمِ اَنَّ تَرَاوِیْحَہ عَلَیْہِ الصَّلَامُ کَانَتْ ثَمَانِیَۃَ َرَکَعَاتٍ وَلَمْ یَثْبُتْ فِیْ رِوَایَۃٍ مِّنَ الرِّوَایَاتِ اَنّ التَّرَاوِیْحَ وَالتَّھَجُّدَ عَلٰیحِدَۃٍ فِیْ َمَضَانَ۔(عرف الشذی ص ۳۰۲)
یعنی اِس حدیث میں تصریح ہے کہ یہ رمضان کے بارے میں ہے۔ کیونکہ سائل نے (حضرت عائشہؓ سے) رمضان، غیر رمضان دونوں حال کا سوال کیا تھا اور ہمارے لئے یہ تسلیم کئے بغیر چارہ ہی نہیں کہ نبی ﷺ کی نمازِ تراویح آٹھ رکعت تھیں اور یہ بھی کسی روایت سے ثابت نہیں ہوا کہ نبی ﷺ نے رمضان شریف میں تہجد اور تراویح علیحدہ علیحدہ پڑھی ہوں۔ ‘‘
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
نمازِ وتر:

نمازِوتر کی عداد ایک سے نو تک ہے۔(بصیغۂ واحد ترمذی وغیرہ میں موجود ہے)
پڑھنے کے مختلف طریقے ہیں۔
1۔ہر دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے اور تیسری رکعت علیحدہ پڑھے۔
2۔تین وتر کے دو طریقے ہیں
(الف) دو دو رکعت پڑھ کر ساتویں رکعت پڑھے۔
(ب) سات اکٹھے، تو درمیان میں تشہد نہ پڑھے۔
3۔پانچ وتر ایک سلام سے پڑھے۔ درمیان میں تشہد کے لئے بیٹھنا منع ہے۔
4۔نو کا صرف ایک طریقہ ہے کہ، آٹھویں رکعت پر التحیات پڑھنے کے لئے بیٹھے، سلام نہ پھیرے نویں رکعت پر التحیات پڑھ کر سلام پھیرے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
دُعائے قنوت:
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، مجھے نبی ﷺ نے وتروں میں پڑھنے کے لئے یہ دُعا سکھائی۔
اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وعَافِنَا فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنَا فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لَنَا فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ َبَارَکْتَ رَبَّنَا وتَعَالَیْتَ نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ وَصَلَّی اللہُ عَلَی النَبِّی (سنن کبریٰ بیہقی جلد ۲ ص ۲۱۰)
 
Top