• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمضان ڈائری

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ سبحانہ وتعالٰی کی خصوصی رحمت سےہمیں ایک بار پھر سے رمضان المبارک کی رحمتیں سمیٹنے کا سنہری موقع میسر آیا ہے۔والحمدللہ۔اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں رمضان سے کما حقہ فائدہ اٹھانے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
کوئی بھی خاص موقع ہو عید ہو یا رمضان،کہیں شادی بیاہ ہو یا امتحانات حتی کہ روزمرہ کی تفریح کے لیے بھی ہم بہت پہلے سے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔تو کیا رمضان المبارک اس بات کا حقدار نہیں کہ اس کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لیے ہم منصوبہ بندی کریں؟؟

چھوٹے چھوٹے ٹاسک مقرر کر لیجیے۔یہ ایک ٹاسک بھی ہو سکتا ہے اور ایک سے زیادہ بھی:
مثلا اس دفعہ رمضان میں میرا ٹاسک ہے کہ میں تیس احادیث زبانی یاد کروں گی۔
دیگر ٹاسک یہ بھی ہو سکتے ہیں:
2):تیسواں پارہ یا کوئی سورت حفظ کرنا
3)اپنی پسندیدہ سورت کا ترجمہ و تفسیر
4)ہر وقت با وضو رہنا
5)صبح و شام کے اذکار کی پابندی
6)اپنی پسندیدہ چیز صدقہ کرنا
7)سیرت النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر کوئی کتاب پڑھنا
اور یاد رکھیے کہ اللہ سبحانہ وتعالٰی کو مستقل عمل پسند ہے اگرچہ وہ چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو۔
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
رمضان المبارک کا پہلا روزہ اور جمعۃ المبارک۔۔اللہ سبحانہ وتعالٰی نے کئی رحمتیں نازل کر دی تھیں۔مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔خواتین کا ہال اذان سے قبل ہی بھر چکا تھا۔کچھ چہروں پر رعونت،تمسخر اور غرور ٹپکنے لگا:"ہنہ!رمضان کے مسلمان۔۔سارا سال مسجد یاد نہیں آتی اور چلے آتے ہیں رمضان میں بخششیں کروانے۔"
"جنت تو ہم لوگوں کی ہے" کے دعوے کے حامل افراد یہ بھول گئے کہ اللہ سبحانہ وتعالٰی کو جانے یہ بڑائی اور تکبر کے کلمات پسند ہیں یا نہیں؟اگر اللہ ان پر پکڑ لے تو کیا ہو گا؟اگر ہم "عاملۃ ناصبۃ"(عبادات کر کر کے تھک گئے مگر نیت،ریا اور بدعت نے سب ڈبو دیا) بن گئے تو کیا ہو گا؟اگر اللہ نے ان عبادات کو قبول نہ کیا توہم کیا کریں گے؟
جمعۃ المبارک کا ادا کرنا اور اس میں شامل ہونا خواتین کے لیے فرض نہیں مگر ڈھیر ثواب کا باعث ہے۔اگر خواتین غیر رمضان جمعہ کی نماز ادا کرنے مساجد میں نہیں آتیں اور رمضان میں وہ نیکی کی طرف لپکتی ہیں تو ہمیں"فاستبقوا الخیرٰت"(نیکی کے کاموں میں سبقت لے جاؤ) پر غصہ کیوں آتا ہے؟رمضان تو نیکیوں کا سیزن ہے،نیکیوں کی سیل سے ہر ایک کو فائدہ اٹھانا ہے۔

منادی پکار رہا ہے!
یا باغی الخیر اقبل ۔۔۔۔و یا باغی الشر اقصر

(اے نیکی کرنے والے جلدی کر اور اے برائی کرنے والے اب تو رک جا)
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
رمضان حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی درس دیتا ہے!
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں کہ جنہیں تھکاوٹ کے علاوہ کچھ نصیب نہیں ہوتا!
اللھم الرحم علٰی حالنا ولا تجعلنا منھم۔آمین
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
رمضان پاور نیپ!
رمضان المبارک میں عبادات کے معمول کی بنا پر سونے کا وقت بہت کم میسر آتا ہے۔چنانچہ افطار کے بعد اکثر تراویح ادا کرنے کی ہمت نہیں رہتی اور کبھی کبھا ردن میں بھی نیند کے جھونکے غلل ڈالتے ہیں۔
اس سستی اور غنودگی کی کیفیت سے بچنے کا بہترین علاج نیند ہے مگر کس طرح؟؟
دن بھر میں ایک سے دو مرتبہ"پاور نیپ"(وہ نیند جس سے ہمت بندھ سکے)لیں۔ظہر کے بعد،عصر سے پہلے،سحری سے پہلے پاور نیپ کے لیے اچھے اوقات ہیں۔پندرہ سے بیس منٹ کے لیے خیالات سے آزاد ہو کربستر پر لیٹ جائیں۔سو جائیں تو بہت اچھی بات ہے وگرنہ صرف لیٹ جانے سے ہی سکون ملتا ہے۔بسا اوقات دو سے تین منٹ کی نیند یا جھٹکا ہی طبعیت کو فریش کر دیتا ہے۔لیکن خیال رہے کہ الارم سے اٹھ سکتے ہوں یا کوئی الارمی فرد ارد گرد موجود رہے،وگر نہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں))۔خواتین خصوصا امیوں ،طالب علموں کے لیے نہایت مفید ہے۔
اپنی طبعیت کے لحاظ سے وقت بڑھا گھٹا سکتے ہیں۔میرے تجربے کے مطابق جتنا وقت بڑھائیں گے،طبعیت مزید بوجھل ہو گی،مختصر دورانیے کی نیند زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
پیغام ٹی وی کی افطار سپیشل نشریات کون کون دیکھ رہا ہے؟
انتہائی دلچسپ ،اور معلومات افزا سیرت کوئز سیریز ،ڈاکٹر حماد لکھوی حفظہ اللہ کی میزبانی میں!

http://www.paigham.tv/
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
آج سخت گرمی تھی۔پیاس کی شدت کو سورج کی تپش نے بہت بڑھ دیا تھا۔پھر مسلسل بات چیت۔ماعز کو پانی دینے کے لیے فریزر سے برف نکالی۔ٹھنڈک۔۔۔میرے مالک!
میرا جی چاہ رہا تھا کہ پانی پی لوں مگر وہی بات یاد آ گئی۔پیاس بجھنے لگی۔
کچھ دیر بعد بچوں کی پلٹون"پانی پانی۔۔۔ٹھنڈا پانی"کے نعرے لگاتی فریج کے آگے جمع تھی۔دوبارہ سے برف نکالی۔ٹھنڈک۔۔۔
"میرا جی رہا ہے کہ میں بھی پانی پی لوں مگر۔۔۔"میں نے بچوں کو مخاطب کیا۔
"آپ کا روزہ ہے؟"عبدالرحمان سے اشتیاق سے پوچھا۔
"آپ تا روجہ ہے؟"ابوبکر نے بات دہرائی
"جی!"

"الصوم لی وانا اجزی بہ"
" روزہ میرے لیے ہے،میں ہی اس کا بدلہ دوں گا"​
اللہ سبحانہ وتعالٰی سے جزا لینی ہے تو تھوڑی مشقت تو اٹھانی پڑی گی اور یقینا یہ فانی مشقت،اس ابدی مشقت سے ہر لحاظ سے آسان ہے!!
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
پہلی تراویح۔۔مساجد بھری تھیں۔۔مرد،خواتین،بزرگ اور بچے۔۔کچھ تمیز نہ تھی!
دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر نمودار ہو گئی"چار دن ٹھہر کر ان خواتین کی تناسبِ آمد ٹھیک سے معلوم ہوجائے گی"
پانچ سے چھ دن میں حاضری کم ہو گئی۔۔۔
"دیکھ لیجیے۔۔۔میں نے کہا نہ تھا"میں بڑائی سے بولی۔
"السلام علیکم ۔۔رمضان مبارک"
"خیر مبارک"میں ناگواری سے بولی"ہفتے بعد یاد آ گیا کہ رمضان المبارک کا آغاز ہے"ہاتھ آیا موقع میں کیوں ضائع جانے دیتی۔
"جی۔۔جنہیں ہفتے قبل رمضان المبارک کا علم ہو گیا تھا۔۔ان کا حال دیکھ رہا تھا"ضمیر آخر کو میرا ضمیر ہے!"باجی ایک بات پوچھوں؟ماشاء اللہ!اللہ نے آپ کو بہت علم دے رکھا ہے"
"ہاں پوچھو۔۔۔۔"
"مساجد میں فرض نماز ادا کرنا خواتین کے لیے افضل ہے؟"
"جی نہیں گھر میں"
"اچھا۔۔میں سمجھا تھا کہ مسجد میں افضل ہے۔ اور وہ۔۔تراویح فرض ہے ناں؟لوگ پڑھتے ہی نہیں ہیں۔"
“نہیں۔۔ سنت ہے۔۔پڑھ لی تو اجر کبیر۔۔نہ پڑھی تو گناہ نہیں“
"جب خواتین کا مسجد میں آنا لازم ہے نہ تراویح پڑھنا فرض ہے تو لوگ معتوب کیوں ٹھہریں؟؟جن لوگوں کو اللہ نے اس سال استطاعت دے رکھی ہے کہ وہ مسجد میں تراویح پڑھیں۔۔انہیں طنز و تکبر کی بجائے اس بات ڈرنا چاہیے کہ کیا علم اگلے سال وہ گھر میں بھی تراویح ادا نہ کر سکیں"
 
Top