• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زبیر علی زئی کے اصول جمہوریت پر بحث ونقد

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
102
پوائنٹ
77
زبیر علی زئی کے مضمون النصر الربانی پر نقد تقریبامکمل ہوچکاہے،پہلے سوچاتھاکہ زبیر علی زئی کے جرح وتعدیل کے باب میں جمہوری نظریہ پر تفصیل سے لکھوں ،جس سے اس نظریہ کابودا پن معلوم ہو، لیکن مضمون کی طوالت کے خوف سے اس کو الگ اورمناسب زمرہ میں تھریڈ اوپن کررہاہوں۔
زبیر علی زئی کی کتابیں جہاں تک میں نے پڑھی ہیں اورسمجھی ہیں،اس کا مفاد یہ ہے کہ جرح وتعدیل میں وہ دونوں طرف کی گنتی دیکھتے ہیں جدھر افراد زیادہ ہوگئے، وہ جمہور کا موقف قرارپایا اور جدھر کم ہوگئے وہ جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے وہ موقف مردور قرارپایا۔
فورم کے وہ حضرات جن کو اصول حدیث سے کچھ مس یالگائویااس فن سے محبت ہے،ان سے پوچھناہے کہ اس اصول کو وہ کیااورکیساسمجھتے ہیں اورکیا وہ خودبھی اسی نظریہ پر عمل پیراہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
شمولیت
ستمبر 06، 2017
پیغامات
96
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
65
رحمانی صاحب جمهور کا اصول هر جگه صحیح نهیں هے.
بعض اوقات جرح مفسر وغیره مفسر بهی دیکهی جاتی هے جسکی تفصیل انوار البدار کے مقدمه میں موجود هے. اور صحیح بهی یه هی هے اسکو همارے شیخ ارشاد الحق اثری صاحب نے بهی صحیح جانا خبیب احمد صاحب وغیره نے بے بهی بهرحال صحیح یه هی هے جسکا میں نے ذکر کیا.
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
57
السلام علیکم! صرف یہ دیکھ لیاجانا کہ ایک راوی کوکثیر تعداد نے قبول کیا اور قلیل تعداد نے رد کیا ہے، درست نہیں ہوگا۔ ایک راوی کو پرکھنے کے لئے یہ دیکھنا پڑےگا کہ اس کے معاصرین یا قریب ترین زمانے کے لوگ اس کے بارےمیں کیا کہتے ہیں، پھر اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ نقاد حضرات محدثین کی اس بارے میں کیا رائے ہے جو اس راوی کے بعد کے نزدیکی ادوار میں گزرے ہیں۔اس کے علاوہ کئی محدثین نے مختلف راویوں کی احادیث کا تجزیہ بھی کیا ہے، ان کی رائے کو بھی ایک مضبوط حیثیت حاصل ہو گی۔
 
Top