• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زمان و مکان میں سفر

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207

بڑی ہی عجیب اصطلاح ہے یہ..
زمان ومکان..
شاید یہ سطور لکھنے تک بھی ہماری حواسِ خمسہ کبھی اس اصطلاح کی عادی نہ ہوسکی حالانکہ یہ ایک خالصتاً علمی اصطلاح ہے جو 1905ء سے مستعمل ہے..
یقیناً تاریخ پڑھنے میں آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور نا ہی یہاں طباعت کی غلطیوں کا کوئی امکان ہے، یہ اصطلاح واقعی ایک صدی سے زائد عرصہ سے مستعمل ہے..
اُس سال مشہورِ زمانہ سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے ایک نیا علمی نظریہ پیش کیا جسے طبیعات اور ریاضی میں انقلابی حیثیت حاصل ہوئی اور جسے “خصوصی نظریہ اضافیت” کا نام دیا گیا..
اس نظریہ میں شاید پہلی بار آئن سٹائن نے یہ عجیب وغریب اصطلاح استعمال کی..
زمان ومکان..
آسان لفظوں میں اس اصطلاح کا مطلب ہے زمان ومکان میں ایک ساتھ سفر کرنا..
اس اصطلاح نے سائنسدانوں کے خیال کو ایک ایسی نئی جہت بخشی جہاں آئن سٹائن کے نظریہ سے پہلے کوئی نہیں پہنچ سکا تھا..
اس زمانے میں صرف زمان میں سفر ہی ایک ایسا سائنس فکشن تھا جسے لندن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انگریز صحافی اور ادیب “ہربرٹ جارج ویلز” نے اپنی شہرہ آفاق تخلیق “ٹائم مشین” میں 1895ء میں متعارف کرایا تھا..
اس کہانی میں ویلز کا ہیرو اپنی عجیب مشین کے ذریعے مستقبلِ بعید میں چلا جاتا ہے جسے مصنف نے ایک انتہائی مثالی معاشرے کے طور پر بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا جہاں لوگ بڑے امن وسکون سے ایک خوبصورت دنیا میں رہتے ہیں جس کے چاروں طرف باغ، خوبصورت نہریں اور دولت کے انبار ہیں، لیکن ہیرو زمین کے نیچے ایک اور بالکل مختلف دنیا دریافت کرتا ہے جس کے رہائشی درندے دن رات اوپر کی دنیا کو قائم رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں جو درحقیقت ان کی خوراک کے لیے ایک کھیت کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو اغواء کرکے انہیں جانوروں کی طرح کھا جایا کرتے تھے..
اس تصویر نے انیسویں صدی کے آخر کی دنیا کو ڈرا دیا اور بیک وقت حیران بھی کردیا، خاص طور سے جبکہ ویلز نے سب سے پہلے صنعتی معاشروں میں مزدوروں کی برتری کی طرف شارہ کیا..
اور سب سے پہلے ٹائم مشین کا ذکر بھی..
ایک ایسی معجزاتی مشین جس نے ویلز کے زمانے سے لے کر آج تک کے ادیبوں کو حیران کر رکھا ہے، یہ مشین ہی ایسی ہے، اس میں ایک حیران کن خوبی ہے، یہ زمانے کو چیرتے ہوئے ایک لمحے میں آپ کو کسی بھی زمانے میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے..
ویلز کے بعد ادیبوں اور فنکاروں کا تخیل گویا پھٹ پڑا، اور ایسے ہی تخیلات کے انبار لگنے لگے اور عوام نے بھی اس تصور کے مزے لینے شروع کردیے اور..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اور پھر اچانک دنیا کے سامنے خصوصی نظریہ اضافیت نمودار ہوا اور آئن سٹائن نے یقینی ریاضیاتی کلیوں سے اپنی نئی اصطلاح وضع کی، جس نے ہماری آنکھیں کھول کر رکھ دیں اور اس سے پہلے دنیا جو کچھ جانتی تھی اس میں ایک بنیادی تبدیلی کر ڈالی..
پہلی بار آئن سٹائن نے ہمارے جانے پہچانے ابعاد طول، عرض اور اونچائی میں ایک چوتھا بعد شامل کردیا جس کی طرف اس سے پہلے کبھی کسی کی توجہ نہیں گئی تھی..
زمان..
اپنے عظیم نظریے میں جس نے اس کے دور کے سائنسدانوں کو حیرت زدہ کردیا تھا آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ زمان زندگی کا ایک بنیادی بعد ہے، وہ بھی ریاضی اور طبیعات کے تمام تر سنجیدہ قیاسات میں.. چنانچہ دیگر تمام ابعاد کی طرح اس میں بھی آگے اور پیچھے کی طرف سفر کیا جاسکتا ہے..
اور یہی بات سائنسدانوں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی حیرت کا باعث تھی..
نئے نظریے کے ساتھ زمان میں سفر کی ویلز کی کہانی محض خیال نہیں رہی تھی.. بلکہ علمی اور منطقی ہوگئی تھی..
جہاں کچھ سائنسدانوں کو یہ تصویر پسند نہیں آئی وہیں اس خیال نے ادیبوں کے لیے ایک نئی سوچ کا در گویا وا کردیا اور انہوں نے ایسی کہانیوں کے انبار لگا دیے جن میں کوئی ماضی میں جا کر واقعات میں تبدیلیاں کردیتا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل کا حال متاثر ہوتا ہے..
جب 1915ء میں عمومی نظریہ اضافیت پیش کرکے آئن سٹائن نے سائنسدانوں کو اپنے نظریے اور خِرد مندی کا قائل کرلیا تھا اس وقت ادباء اس خیال کو با قاعدہ اپنا چکے تھے، زمان میں سفر کا خیال، وہ اس کے ممکن ہونے پر ایمان لے آئے تھے بلکہ اس کا خواب بھی دیکھنے لگے تھے اور اس کا شدت سے دفاع بھی کرنے لگے تھے..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
زمان یا وقت میں سفر کا خیال ہی ایسا ہے، یہ انسان کو اپنا حال، مستقبل بلکہ شاید دنیا کا مستقبل بھی بدلنے کی ہلکی سی امید فراہم کرتا ہے..
اور چونکہ ہر عمل کا ردِ عمل ضروری ہوتا ہے جو بالکل عمل کی قوت کے مساوی ہوتا ہے اور اس کی سمت کا عکس ہوتا ہے، کچھ سائنسدانوں نے ایک عکسی خیال اپنایا اور وقت میں سفر کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے اسے پاگل پن قرار دیا..
انکاری سائنسدانوں نے ایک علمی اور فلسفیانہ نظریہ کا سہارا لیا جسے انہوں نے “وجوہیت” کا نام دیا..
اس نظریے کے مطابق دنیا ایک واحد یونٹ ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ماضی میں جاکر کوئی تبدیلی کرتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، اس کے نتیجے میں ایک لا متناہی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کے ساتھ ساری دنیا کی تاریخ بدل کر رہ جائے گی، اس سے مستقبل میں خود اس کی اپنی بقاء خطرے میں پڑجائے گی..
اور پھر کسی کے مستقبل کے واقعات میں تبدیلی کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونے کا مطلب ہے کہ وہ ایسی صلاحیتوں کا مالک ہے جو کسی انسان کو چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی..
فرض کریں کہ ایک سائنسدان کا خیال ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بہت برے اثرات تھے اور یہ سب ہٹلر اور اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوا، چنانچہ اس نے ٹائم مشین کا استعمال کرتے ہوئے ماضی کا سفر کیا اور اس سے پہلے کہ ہٹلر نازی پارٹی کی قیادت کا منصب سنبھالتا اسے قتل کردیا، تو کیا معاملہ اس حد تک رک جائے گا؟!
نا ممکن..
دوسری عالمی جنگ کا نہ ہونا ساری دنیا کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا.. دنیا کا توازن، اس کی آبادی اور اس کی علمی صلاحیتیں سب مضطرب ہوجائیں گی، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ ٹائم مشین جس کے ذریعے اس نے ماضی کا یہ سفر کیا اس کے لیے دستیاب نہیں ہوگی کیونکہ اس زمانے کے لحاظ سے وہ ابھی ایجاد ہی نہیں ہوئی چنانچہ اس کی واپسی نا ممکن ہوجائے گی اور پھر ماضی کی یہ تبدیلی حال پر کس طرح اثر انداز ہوگی اور…
اور اس طرح ہم ایک عجیب وغریب کھوکلے دائرے میں بے سروپا گھومتے رہ جاتے ہیں جس کا نا تو کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے اور نا ہی اسے سمجھا جاسکتا ہے اور نا ہی اس کے ہونے پر کبھی یقین ہی کیا جا سکتا ہے..
اور پھر کیا ہو اگر کوئی دوسرا جاکر ہٹلر کو بچا لے..؟!
اور تیسرا جاکر اسے روس جلا وطن کردے..؟!
اس طرح ساری تاریخ گویا مذاق بن کر رہ جائے گی جس کی خالقِ کائنات یقیناً کبھی بھی اجازت نہیں دے گا..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اس سب کا مطلب ہے کہ یہ خیال دراصل خیال ہی ہے جس کا حقیقی دنیا میں وقوع پذیر ہونا نا ممکن ہے..
آئن سٹائن وقت میں سفر کے حامیوں اور مخالفین کی یہ ساری گفتگو اور گرم مناظرے خاموشی سے بغیر کسی کے حق میں ایک لفظ کہے سنتا رہا.. کیونکہ اس کا نظریہ ان سب بکواسیات سے ما وراء تھا..
کیونکہ وہ صرف وقت نہیں بلکہ وقت یعنی زمان اور مکان میں ایک ساتھ سفر کی بات کر رہا تھا..
اس کا مطلب سمجھنے کے لیے وقت میں سفر کے خیال کو ترک کرنا ہوگا اور اپنی توجہ فضاء میں سفر پر مرکوز کرنی ہوگی..
جی ہاں.. کائناتی فضاء میں اور یہی آئن سٹائن کا مطلب تھا، اس کا نظریہ فضاء میں ایسے دور دراز مقامات تک سفر کی راہ ہموار کرنے آیا تھا جہاں جانے کا کبھی کسی انسان نے سوچا تک نہیں تھا..
زمان و مکان میں ایک ساتھ سفر کے ذریعے..
انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں علمِ فلک کی ترقی نے ستاروں کے سفر پر نکلنے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے ایک نا امید سی اصطلاح متعارف کروائی..
نوری سال کی اصطلاح..
اس اصطلاح کا مطلب ہے وہ مسافت جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے..
تو کیا آپ اس مسافت کا تصور کر سکتے ہیں جو روشنی اس جنونی رفتار میں پورے ایک سال کے اندر طے کرے گی..؟!
یہ سولہ ارب ستر کروڑ چار لاکھ میل ہے.. یعنی کوئی پچیس ارب آٹھ سو اٹھارہ کلو میٹر ہے..
کیا یہ عدد آپ کو کچھ زیادہ بڑا لگا؟!
تو پھر حیرت کی مزید مقدار لینے کے لیے تیار ہوجائیے کیونکہ یہ عظیم مسافت ہماری کہکشاں سے باہر کے ستاروں کو ناپنے کا صرف ایک فلکیاتی یونٹ ہے..
تو اگر کوئی ستارہ ہم سے ایک فلکیاتی یونٹ دور ہو یعنی ایک نوری سال دور ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک خاص خلائی جہاز کی ضرورت ہوگی جو روشنی کی رفتار میں ایک سال تک بغیر رکے اور ایک لمحے کے لیے بھی اپنی رفتار کم کیے بغیر چلتا رہے..
یہ امکان ریاضیاتی اور منطقی دونوں طرح سے نا ممکن معلوم ہوتا ہے..
تو تیار ہوجائیے کیونکہ ہم اس مجوزہ ستارے تک اس سے بہت کم وقت میں پہنچ سکتے ہیں وہ بھی روشنی کی رفتار میں سفر کیے بغیر..
اور یہ بات قطعی طور پر علمی ہے..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
جس وقت آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت میں زمان ومکان متعارف کرایا اس وقت زمان ومکان میں سفر ایک نا ممکن اور غیر منطقی سی بات تھی..
لیکن آئن سٹائن نے ہمارے سامنے ایک اور دلچسب اصطلاح رکھ دی جسے اس نے “زمان کا پھیلاؤ” کا نام دیا..
آئن سٹائن کے نظریے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک خلاباز اپنے خلائی جہاز میں روشنی کی رفتار سے ایک ایسے سیارے کے سفر پر نکل جائے جو ہم سے ایک نوری سال دور ہو اور پھر واپس زمین پر آجائے تو وہ دیکھے گا کہ وہ دو سال جو اس نے سفر میں گزارے وہ زمین کے زمانے کے حساب سے نصف صدی بن گئے..
مزید وضاحت کے لیے ہم فرض کرتے ہیں کہ اس خلاباز کا ایک جڑوا بھائی بھی ہے اور اس سفر کی شروعات میں دونوں کی عمر بیس سال ہے تو جب خلاباز اپنے سفر سے واپس زمین پر آئے گا تو اس کی عمر بائیس سال جبکہ اس کے بھائی کی عمر ستر سال ہوگی..!!!
اس کی وضاحت کچھ اس طرح کی جاسکتی ہے کہ گھڑی کی سوئیاں اس وقت سے منسلک ہوجائیں گی جس میں خلائی جہاز سفر کر رہا ہوگا یعنی وہ اسی رفتار سے چلیں گی جبکہ زمین پر موجود ساکن گھڑی پہلے کی طرح زمین اور سورج کے گرد گردش کی رفتار سے منسلک رہے گی..
اگر آپ کو یہ پیچیدہ تر معاملہ سمجھ نہیں آیا ہے تو پھر آپ دیگر تمام نظریات کی طرح سائنسدانوں پر اعتماد کرنے پر اکتفا کیجیے کیونکہ وہ اسے ایک صدی پہلے ریاضیاتی اور عملی طور پر ثابت کر چکے ہیں..
بہر حال یہ نظریہ زمان ومکان میں سفر کی طرف پہلا اشارہ تھا، لیکن آئن سٹائن کے نظریے نے ایک اور امر کی طرف بھی اشارہ کیا جو زمان ومکان میں سفر کے ضمن میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
سیاہ شگافوں کی طرف سفر..
سیاہ شگاف (بلیک ہول) کی اصطلاح اتنی پرانی نہیں ہے، اسے سب سے پہلے امریکی فلکیات دان جان وہیلر نے دو صدی پہلے پیش کیے گئے ایک پرانے نظریے کو بیان کرنے کے لیے 1969ء میں استعمال کیا..
یہ پرانا نظریہ 1793ء کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے..
اس زمانے میں ارضیات دان جان مچل نے بتایا کہ بعض ستارے بہت زیادہ کثافت کے حامل ہیں جس کی وجہ سے ان کی تجاذب کی قوت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار حاصل نہیں کرسکتی، اس وجہ سے انہیں دیکھنے والے کو وہ خلا میں ایک سیاہ دھبے کی طرح نظر آئے گا..
جان مچل نے اسی پر اکتفا کیا اور معاملے کی زیادہ گہرائی میں نہیں گیا، شاید اپنے زمانے کے کم تر فلکیاتی معلومات اور کم تر علمی سہولیات کی وجہ سے..
پھر نظریہ اضافیت ایک نئی علمی وضاحت لیے کر آیا کہ روشنی بالکل سیدھی لائن میں نہیں چلتی جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں بلکہ کسی بڑی کثافت کے حامل ستارے کے پاس سے گزرتے وقت خم کھا جاتی ہے..
اور پھر جب ستارے کی کثافت اپنی حدوں کو چھونے لگتی ہے تو وہ روشنی کو خم دینے کی بجائے شدت اپنی طرف کھینچتے ہوئے نگل جاتا ہے..
اور چونکہ روشنی ستارے کی عظیم تر کشش سے بچ نکلنے میں ناکام رہتی ہے چنانچہ وہ ہم تک نہیں پہنچتی، اس لیے ہمارے مشاہدے کے لیے صرف ایک سیاہ شگاف ہی آن بچتا ہے جو چھوٹا بڑا ہوسکتا ہے..
کائنات کی ایک عجیب چیز کے طور پر سیاہ شگافوں نے سالوں تک سائنسدانوں کو اپنی طرف متوجہ کیے رکھا..
اور پھر ایک نیا نظریہ نمودار ہوا..
اس نظریے کے مطابق سیاہ شگاف جو کچھ اپنے مرکز کی طرف کھینچتے اور نگلتے ہیں وہ ان کے اندر فنا نہیں ہوتا بلکہ کسی ایک سمتی سرنگ سے گزرتے ہوئے ایک سفید شگاف کے ذریعے کسی دوسری کائنات میں جا نکلتا ہے..
یہ نظریہ علمی حلقوں میں کسی دھماکے سے کم نہیں تھا..
اس کا قطعی مطلب یہ تھا کہ سیاہ شگاف کو عبور کرنے سے ہم زمان ومکان کے ذریعے کائنات کے کسی دوسرے دور دراز علاقے میں جا نکلیں گے..
ایک ایسا علاقہ جو ہم سے ہزاروں یا شاید کروڑوں نوری سال دور واقع ہو..
اور یہ کسی معجزے سے کم نہیں..
ایک خلائی جہاز جو سیاہ شگاف سے گزرے گا وہ زمان ومکان کے ذریعے کائنات کے بہت دور دراز علاقوں میں جا پہنچے گا..
ایسی کہکشاؤں کی طرف جن کا مشاہدہ ہم ان کے فنا ہونے کے کڑوڑوں سال بعد بھی نہیں کرسکتے..
اس نظریے کی خوبی اس بات میں ہے کہ یہ اس لا متناہی کائنات میں ہمیں دور دراز ستاروں کی طرف سفر کے لیے ایک حیران کن اور یقینی حل فراہم کرتا ہے..
تو سب سے پہلا سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر سائنسدانوں نے یہ سب دریافت کر لیا ہے تو وہ دور دراز ستاروں کی طرف مشن روانہ کیوں نہیں کرتے..؟!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اس کا جواب بہت آسان ہے..
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے اب تک جس قدر ترقی کی ہے وہ ایک ایسا طاقتور خلائی جہاز بنانے سے قاصر ہے جو کسی سیاہ شگاف تک پہنچ کر اس کے اندر سے گزرنے کی کوشش کر سکے، کیونکہ اس کے لیے عظیم تر توانائی کی ضرورت ہوگی، سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ اس توانائی کا دس لاکھ گنا ہے جتنی توانائی امریکہ پورے ایک سال میں صرف کردیتا ہے..
یہ بتانے کی یقیناً ضرورت نہیں کہ فی زمانہ اتنی توانائی کا حصول نا ممکن امر ہے..
دوسری بات یہ ہے کہ سائنسدان اس لا متناہی کائنات میں اس مقام کا تعین نہیں کر سکتے جہاں ہمارا وہ خیالی خلائی جہاز جا نکلے گا.. حالانکہ وہ کچھ سفید شگافوں کے مقام کا تعین کر سکتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ کون سا سفید شگاف کائنات کے کس حصے میں کون سے سیاہ شگاف کا مخرج ہے..
تیسری وجہ دوسری وجہ سے مربوط ہے، جو خلائی جہاز سیاہ شگاف سے گزر کر کائنات کے کسی حصے میں پہنچے گا وہ سیاہ شگاف کی کشش کے علاقے میں پہنچتے ہی زمین سے کسی قسم کا رابطہ قائم نہیں کر سکے گا کیونکہ کوئی بھی سگنل چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ اس کی عظیم کشش سے کبھی چھوٹ نہیں پائے گا..
اور جب خلائی جہاز مخرج سے دوسری طرف جا نکلے گا تو وہ اس وقت ہم سے ہزاروں یا شاید کروڑوں نوری سال دور ہوگا چنانچہ زمین کی طرف بھیجے گئے کسی بھی سگنل کو زمین تک پہنچنے میں لاکھوں کروڑوں نوری سال درکار ہوں گے..
اور اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ ہمیں ہمارے اس خیالی خلائی جہاز کے نکلنے کے مقام کا علم ہے اور ہم نے اپنے تمام تر طاقتور ٹیلی سکوپ اس مقام پر مرکوز کر رکھے ہیں جو ہم سے دس لاکھ نوری سال کی دوری پر واقع ہے تو ہمیں اپنے خلائی جہاز کو دیکھنے کے لیے دس لاکھ نوری سال انتظار کرنا ہوگا کیونکہ یہی وہ وقت ہے جو جہاز کی تصویر روشنی کی رفتار سے ہم تک پہنچنے میں صرف کرے گی..
اور انسان نے اتنی عمرِ دراز کہاں پائی ہے..
آپ نے دیکھا کہ کتنی وجوہات کی بنا پر یہ نا ممکن ہے..؟!
لیکن جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اس سے سائنسدان مایوس نہیں ہوئے، بلکہ وہ پہلے سے زیادہ شدت سے علمی اور منطقی حل تلاش کرنے میں لگ گئے..
ابتداء میں حل بہت آسان معلوم ہوا..
جب ہمارا خیالی خلائی جہاز اپنے مجوزہ مقام پر پہنچے گا تو اسے چاہیے ہوگا کہ وہ پہنچتے ہی اپنے مقام سے قریب ایک ایسے سیاہ شگاف کی تلاش میں لگ جائے جو ایسے سفید شگاف پر ختم ہوتا ہو جو ہماری زمین سے قریب ہو..
یعنی پہنچنے کے راستے کی طرح واپسی کے راستے کی تلاش، چنانچہ واپسی کے اس راستے کے ذریعے ہمارا خلائی جہاز زمین تک سگنل بھیجنے کے قابل ہوگا اور تحقیق کاروں کو اپنی دریافتیں بتا سکے گا..
اس حالت میں سگنل خلائی جہاز کی ہم سے حقیقی دوری کے حساب سے نہیں بلکہ اس وقت کے حساب سے پہنچے گا جو جہاز نے سفر کے لیے صرف کیا..
یہ زمان ومکان میں سفر کی ایک ادنی سی تصویر ہے..
ایک ایسی تصویر جس سے سائنسدانوں کا ایک گروہ یہ سوچتے ہوئے پوری طرح سے مطمئن ہے کہ حل گویا عقلمندی کی پلیٹ پر پڑا ہوا مل گیا ہے..
لیکن سائنسدانوں کا ایک دوسرا گروہ اس حل سے کبھی مطمئن نہیں ہوا، ان کے مطابق یہ حل ایسے اندازوں پر مبنی ہے جن کی کبھی تصدیق نہیں کی جاسکتی..
کیا ہو اگر خلائی جہاز کو عکسی سیاہ شگاف نہ ملے تو..؟!
اور پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ خلائی جہاز سیاہ شگافوں پر مشتمل علاقے میں ہی جا نکلے گا..؟!
اور اگر اترنے کے مقام پر موجود سیاہ شگاف کائنات کے کسی دوسرے حصے میں لے گیا تو..؟!
جب یہ دونوں فریق اپنا اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنے کے لیے شدید تر بحث ومباحثہ میں مصروف تھے، ایسے میں ایک تیسرا فریق حیران کن دریافت لے کر نمودار ہوا..
ایسی دریافت جس نے تمام تر قیاس آرائیوں کو ہلا کر رکھ دیا..
شدت سے..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
بیسویں صدیں کی اسی کی دہائی میں امریکی سینما نے سائنس فکشن کا ایک بہترین اور یادگار سلسلہ بعنوان “مستقبل کی طرف واپسی” پیش کیا جسے سٹیفن سپلبرگ نے ڈائرکٹ کیا تھا..
اس سلسلے میں نوجوان ہیرو “مارٹی” ایک کار کے ذریعے وقت میں ماضی اور مستقبل کا سفر کرتا ہے تاکہ اپنے خاندان کی حالت بدل سکے، اپنے والد کو بچا سکے اور بعد میں اپنے بچوں کو بھی..
فلم کی کامیابی کا ایک حصہ سینما ٹیکنالوجی کو جاتا ہے جبکہ زیادہ تر حصہ اس مرکزی خیال کو جاتا ہے جس کے تحت ایک انسان وقت کا سفر کر کے ماضی میں جاکر واقعات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے..
تاہم یہ بات یقینی ہے کہ جسے بھی یہ سلسلہ اور اس کا مرکزی خیال پسند آیا اس نے اسے خیالِ محض سے زیادہ حیثیت نہیں دی..
لیکن حیرت انگیز طور پر آج کے دور میں سائنسدانوں کا یہ خیال نہیں ہے..
کچھ سال پہلے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے بتایا کہ کائنات میں کچھ ایسی سرنگیں موجود ہیں جنہیں انہوں نے ورم ہول کا نام دیا..
انہوں نے بتایا کہ ان سرنگوں سے جو بھی گزرے گا وہ ان سے داخل ہونے کی تاریخ سے پہلے نکلے گا..
یعنی وہ زمان میں سفر کر کے ماضی میں پہنچ جائے گا..
اس حیران کن دریافت سے وقت میں ماضی کا سفر محض خیال نہیں رہا بلکہ ایک علمی حقیقت بن گیا ہے جس کے ماننے والے اور اسے ثابت کرنے والے دونوں موجود ہیں..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
کوئی فلکیات دان جب کسی ایسے ستارے کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے جو ہم سے سو نوری سال دور ہو تو وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ دراصل یہ دیکھ رہا ہے کہ ستارہ ایک سو نوری سال پہلے کیسا تھا نا کہ وہ اب کیسا نظر آتا ہے..
اس طرح وہ علمی طور پر ستارے کا ماضی دیکھ رہا ہوتا ہے نا کہ حال..
ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک سو نوری سال کی دوری پر واقع ایک سیارے پر کوئی عاقل مخلوق رہتی ہے اور ہمارے پاس ایسے طاقتور ٹیلی سکوپ ہیں کہ ہم اس کی سطح تک کا جائزہ لے سکتے ہیں اس طرح ہم اپنے حال میں اس ستارے میں ہوئے ماضی کے واقعات دیکھ رہے ہوں گے گویا ہم ان کی تاریخ کا جائزہ لے رہے ہوں گے..
اور یہ – کچھ لچک کے ساتھ – وقت میں سفر کی ہی ایک نوعیت ہے..
اور علمی طور پر یہ زمان ومکان میں ایک ساتھ سفر کے مترادف ہے..
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
جب ورم ہول دریافت ہوئے تو بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک بار پھر وجوہیت کو بطور دلیل پیش کر کے کسی انسان کے ماضی میں جانے کو نا ممکن قرار دیا گیا چاہے اس کی کتنی ہی علمی توجیہ کیوں نہ ہو..
یہاں شاید معاملے کو سلجھانے کی غرض سے ایک نیا نظریہ پیش کیا گیا..
نئے نظریے کے مطابق ماضی کے مسافر کی حیثیت ایک معائنہ کار کی ہوگی نا کہ حصہ دار کی..
یعنی وہ ماضی کو پوری تفصیل کے ساتھ دیکھ سکے گا جس طرح ہم ٹی وی پر کوئی پرانی فلم دیکھتے ہیں..
لیکن وہ واقعات میں دخل اندازی نہیں کر سکے گا..
بلکہ وہ سرے سے ماضی کو مادی صورت میں ہی نہیں پائے گا بلکہ اسے صرف ہزاروں لاکھوں سال پہلے ہوئے واقعات کی روشن تصویریں ہی نظر آئیں گی..
اور پھر ان سرنگوں کے ذریعے ماضی کا سفر صرف ایک نظریاتی معاملہ ہے، کیونکہ ان سے گزرنے کے لیے لازم ہے کہ مسافر کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہو جو کہ عمومی نظریہ اضافیت کے تحت بلکہ خصوصی کے تحت بھی نا ممکن ہے..
دونوں نظریات کے تحت جوں جوں رفتار بڑھے گی جسم (مادہ) کا وزن بھی بڑھتا چلا جائے گا اور جب وہ روشنی کی رفتار کو پہنچے گا اس وقت وہ لا متناہی وزن کا حامل ہوچکا ہوگا جس کا مطلب ہے کہ اسے دھکیلنے کے لیے بھی لا متناہی طاقت کی ضرورت ہوگی..
اور دونوں باتیں قطعی نا ممکن ہیں..
چنانچہ پریشان ہونے، غصہ اور اعتراض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ وقت میں سفر نظریاتی طور پر ممکن ہے مگر عملی طور پر نا ممکن ہے..
 
Top