• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تجویز سائل کو سوال جواب سیکشن میں مزید پوسٹ کرنے کی اجازت کیوں نہیں؟

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

پہلے سوال جواب سیکشن میں سوال کرنے والے شخص کو متعلقہ دھاگے میں مزید پوسٹس کرنے کی اجازت ہوتی تھی جس میں کافی سہولت تھی کیونکہ سائل بعض اوقات مفتی کے جواب سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا بلکہ اسے مزید استفسار کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر اس قانون میں مناسب ترمیم کر لی جائے تو بہتر ہے۔ جزاک اللہ
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
یہ واقعی اچھا فیچر تھا۔ بدقسمتی سے نئے فورم سافٹ ویئر میں یہ سہولت میسر نہیں کہ ہم فقط موضوع شروع کرنے والے کو اس دھاگے میں جواب کی اجازت دے سکیں۔ اس وقت پرمیشن کی صورت یہ ہے کہ یا تو ہر شخص جواب دے سکتا ہے اور یا کوئی بھی جواب نہیں دے سکتا۔
اس پر ہم نے پہلے ہی زین فورو والوں کو مستقبل کے ورژن میں اس کی سپورٹ ڈالنے کی درخواست کر دی ہے۔ دیکھیں شاید وہ لوگ اسے جلد شامل کرتے ہیں یا نہیں۔

اس دوران اگر جواب میں کوئی تشنگی محسوس ہو تو مفتی صاحب کو بذریعہ ذاتی گفتگو درخواست کی جا سکتی ہے۔ اور وہ اگر مناسب سمجھیں گے تو آپ کا سوال / اعتراض بمعہ جواب خود ہی اوپن فورم پر پیش کر دیں گے۔

والسلام
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,789
پوائنٹ
722
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
یہ واقعی اچھا فیچر تھا۔ بدقسمتی سے نئے فورم سافٹ ویئر میں یہ سہولت میسر نہیں کہ ہم فقط موضوع شروع کرنے والے کو اس دھاگے میں جواب کی اجازت دے سکیں۔ اس وقت پرمیشن کی صورت یہ ہے کہ یا تو ہر شخص جواب دے سکتا ہے اور یا کوئی بھی جواب نہیں دے سکتا۔
شاکر بھائی مجھے تو یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ سوالات کے سیکشن میں ایک بار سوال پوچھنے کے بعد مزید کچھ پوچھنے کی گنجائش نہیں ہے۔
اس سے جواب دینے میں بڑی آسانی ہوگی کیونکہ میرا تجربہ ہے کئی بار سوال وجواب نے بحث کی صورت اپنالی ہے اور ہمیں بڑی عاجزی سے بحث کو روکنے کی اپیل کرنی پڑتی تھی ۔ اوراسی مصیبت کے سبب کبھی کبھار ایک ہی سوال میں اتنا وقت لگ جاتا تھا دوسرے کئی سوالات جوابات سے محروم رہتے تھے۔
اب ان شاء اللہ سوالات سیکش میں سائلین کو زیادہ انتظار نہیں کرنا ہوگا کیونکہ بحث سے نجات ملی۔

اورحقیقت میں ہرجگہ تحریری سوال وجواب کا یہی اصول ہوتا کہ ایک بار سوال آتا ہے اور ایک ہی بار جواب دیا جاتاہے۔
اس لئے تحریری سوال وجواب میں یہی اصول ہونا چاہئے ، اور بار بار استفسار کے خواہشمند حضرات ایسے افراد کو سے رابطہ کریں جن سے تقریری بات ہوسکے۔
امید ہے کہ احباب صبر سے کام لیں گے۔
بارک اللہ فیکم
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
کفایت اللہ بھائی جان، آپ اگر پہلے بتا دیتے تو پرانے فورم پر بھی یہ پابندی لگائی جانی ممکن تھی۔ لیکن چلیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس فیچر کا نہ ہونا، اس کے ہونے کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہے۔۔!
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

میرے نزدیک تو میری تجویز درست بلکہ بہت بہتر ہے اسکی کچھ وجوہات بھی ہیں اس کے ساتھ شاکر بھائی کی مجبوری بھی اپنی جگہ درست ہے پھر کفایت اللہ بھائی کی مشکلات بھی بالکل معقول ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر سائل مفتی سے بحث کرنا شروع کردے تو مفتی کو زیادہ وقت دینا پڑتا ہے لیکن اس کا فائدہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کے تمام پہلووں کی وضاحت ہوجاتی ہے جس سے مسئلہ نکھر جاتا ہے اور دیگر پڑھنے والوں کو بھی تسلی و تشفی ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات سائل سوال کرتا ہے لیکن مفتی کا اس پر جو جواب آتا ہے وہ اسے مطلوب نہیں ہوتا کیونکہ وہ سوال درست طور پر نہیں کرپایا ہوتا پھر اپنے سوال کو درست کرتا ہے تو اسے اپنا مطلوبہ جواب مل جاتا ہے۔ پھر بعض مرتبہ سائل ایک سوال کرتا ہے اور اس پر مفتی کے جواب سے اسی سوال کا کوئی دوسرا پہلو اس کے ذہن میں آتا ہے اور وہ اسے متعلقہ مقام پر ہی پوچھ لیتا ہے جس کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سائل کو ملتے جلتے سوالوں کے لئے بار بار دھاگے قائم نہیں کرنے پڑتے اور پڑھنے والوں کو بھی ایک ہی مقام پر ایک جیسے لیکن تھوڑے مختلف سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔

اب جیسے میں نے کفایت اللہ بھائی اور رفیق طاہر بھائی سے کالا خضاب سے متعلق ایک سوال کیا جو اصل میں ایک مجہول شخص کی تحقیقات پر مبنی ہے اب اسکا جو جواب رفیق طاہر اور کفایت اللہ بھائی نے دیا وہ جواب اس شخص تک پہنچا دیا گیا ہے لیکن وہ شخص اس کا جواب الجواب لکھ رہا ہے جب وہ جواب مجھ تک پہنچے گا تو کیا میں اس کے لئے ایک اور نیا دھاگہ قائم کرونگا؟ کیا بہتر نہیں ہوگا وہ بحث ایک ہی مقام پر ہو تاکہ سائل اور قاری کسی نتیجہ پر پہنچ سکے؟
 

ideal_man

رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
258
ری ایکشن اسکور
497
پوائنٹ
79
السلام علیکم


سوال و جواب کے سیکشن میں ایسی صورت جہاں بحث کا اندیشہ ہو وہاں مزید سہولت کی گنجائش مناسب نہیں ۔
لیکن سائل جب کوئی سوال کرتا ہے تو اسے امید ہوتی ہے کہ شرعی دلیل کے ساتھ اسے جواب دیا جائے گا، اور مفتی صاحبان اس بات کو یقینی بنائے کہ جواب شرعی دلیل کے ساتھ ہو۔


شاہد نذیر کی بات سے بھی میں متفق ہوں اگر سائل کی مراد حاصل ہونے تک اسے بات کا اختیار دیا جائے تو اس سے ایک یقینی فائدہ یہ ہوگا کہ اسے اعتماد رہے گا کہ جو علم حاصل ہورہا ہے وہ دلیل اور اعتماد کی بنیاد پر ہورہا ہے اس کا دل مطمئن ہوگا، ورنہ آج کل تو ہر شخص مفتی اور محدث بناہوا ہے اگر سائل کو مزید اس مسئلہ میں وضاحت کی ضرورت محسوس ہوئی تو نیم حکیم خطرہ جان کے مصداق عام بحث ومباحثہ میں وہ چلا جائے گا اور وہاں ہر کوئی مفتی بن کر بات کرے گا تو حشر کیا ہونا ہے یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
لہذا اگر سائل کی ضرورت کو پوری کردی جائے ایک ممکنہ حد تک تو میرے خیال میں زیادہ بہتر ہوگا۔
ہاں جہاں محسوس ہو کہ یہاں سوال کا مقصد بحث و مباحثہ ہے تو اسے متعلقہ سیکشن میں شفٹ کردیا جائے۔ اور معذرت کرلی جائے۔
شکریہ
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,505
پوائنٹ
191
فتوی یا سوال جواب ایک ایسا سیکشن ہے جہاں بحث کی اجازت نہیں ہوتی ۔ میرے خیال میں کفایت اللہ صاحب کا موقف درست ہے ۔ سوال کرتا تو آسان ہوتا ہے لیکن اس کو جواب دینے میں جو محنت درکار ہوتی ہے وہ اہل علم حضرات بہتر جانتے ہیں ۔ اگر ان سیکشن پر بحث مباحثہ کی اجازت دی گئی اگر چہ مختصرا ہی ہو تو جو دیگر سوالات ہیں ان کا جواب کون دے گا
میری سوچ کے مطابق کچھ اہل علم فتاوی یا جواب سوال کے سیکشن کے ساتھ مخصوص ہونے چائہے جو صرف حق کے متلاشیوں کو شرعیت کے مطابق جواب دیتے جائیں جہاں تک دیگر سیکشن کا تعلق ہے تو ان کی نگرانی کے لئیے الگ اہل علم ہونے چاہئيں جو سوالات کرنے والوں کی تسلی کردیں یا اگر کوئی غلط مسلک یا غلط فرقہ کا ممبر اگر شرعی امور کے بارے میں شک و شبہات پیدا کرتا ہے تو وہ مناسب جواب دیں اور وہ بحث عامیوں پر نہ چھوڑ دیں ۔ کیوں کہ عامیوں کی بحث عموما غلط نتائج پر پہنچادیتی ہے
 
Top