• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سانحہ کربلا میں اِفراط و تفریط کا جائزہ ’بعض تسامحات کا تذکرہ‘

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
سانحہ کربلا میں اِفراط و تفریط کا جائزہ

’’ بعض تسامحات کا تذکرہ ‘‘​
مولانا ارشاد الحق اثری​
محترم و مکرم مولانا عبدالرحمٰن مدنی صاحب ................ زاد کم اللہ عزاً و شرفاً
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مزاج گرامی !
’’محدث‘‘ الحمدللہ ہر ماہ باقاعدہ مل رہا ہے بلکہ اس کے وقیع مضامیں کی بنا پر اس کے آنے کا انتظار رہتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی خدمات کوقبول فرمائے اور اس ماہنامہ کے ذریعہ علمی جہاد آپ کررہے ہیں ، اس شرف قبولیت سے نوازے....... آمیں !
گذشتہ ماہ محرم الحرام 1419ھ کے شمارہ 5 میں ایک مضمون کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جسے مولانا عبدالرحمٰن عزیز نے ’’سانحہ کربلا میں افراط و تفریط کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے رقم فرمایا ہے۔ میرا خیال تھا کہ کوئی رجل رشید اس پر توجہ فرمائے گا مگر اس کے بعد شمارہ نمبر 6 موصول ہوا تو یہ خیال خواب ثابت ہوا یا کسی مہربان نے شاید اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اس لیے مجبوراً اپنے احساسات کا اظہار آپ کی خدمت میں ارسال کررہا ہوں۔ اُمید ہے کہ آئندہ شمارہ میں اسے شائع کردیں گے تاکہ اس موضوع سے متعلق ایک دوسرا پہلو بھی قارئین کرام معلوم کرسکیں۔ (اثری)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
جناب محترم!
آپ اور تاریخ و رجال سے دلچسپی رکھنے والے سبھی حضرات اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے مابین پیدا ہونے والے نزاعات ؍مشاجرات کے نتیجہ میں ان میں جو فکری اختلاف پیدا ہوا، ان میں رافضی، خارجی اور ناصبی نظریات اور ان کے اہداف کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ان کے مقابلہ میں اہلسنت ؍اہلحدیث ہی ایک فکر ہے جو بحمداللہ صراط مستقیم پر قائم رہا، جادۂ اعتدال کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور افراط و تفریط کی پگڈنڈیوں سے محفوظ رہا۔
رافضیوں کے برعکس اہل بیت کے ساتھ ساتھ سب صحابہ کرامؓ کا احترام اُن کا جزو ایمان ہے۔ ناصبی جس طرح خاندان نبوت اور ان کے ہم نواؤں کے ساتھ عناد رکھتے تھے یا خارجیوں نے حضرت علیؓ او رحضرت معاویہ وغیرہ کے بارے میں جو طوفان بدتمیزی کھڑا کیا تھا، اہل سنت ان نظریات سے ہمیشہ بیزاری کا اظہار کرتے رہے۔ ایک کے دفاع میں دوسرے کی تنقیص ان کا قطعاً شیوا نہیں رہا۔
مگر سخت حیرت کی بات ہے کہ ’’سانحہ کربلا میں افراط و تفریط کا جائزہ‘‘ پیش کرتے ہوئے خود مولانا عبدالرحمٰن عزیز صاحب شعوری یا غیر شعوری طور پر افراط و تفریط کا شکار ہوگئے او رجب یہ تحریر ’’محدث‘‘ جیسے علمی ماہنامہ میں شائع ہوئی تو گویا یہ سب محدثین رحمہم اللہ کے افکار کی امیں جماعت کے مؤقف کی ترجمان بن گئی، حالانکہ ایسا قطعاً نہیں مثلاً:
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
حضرت حجر بن عدی (صحابی)کو سبائی لیڈر کہا گیا
1۔کہا گیا ہے کہ حضرت حسنؓ کی امیرمعاویہ سے مصالحت ہوئی تو کوفیوں نے حضرت حسنؓ کو ورغلانے کی کوشش کی بلکہ حضرت حسنؓ کی اس مصالحت کو بھی انہوں نے ناگوار سمجھا۔ چنانچہ مولانا عبدالرحمٰن عزیز کے الفاط ہیں:
’’حضرت حسنؓ نے جب اپنے حواریوں سے تنگ آکر حضرت امیر معاویہ سے مصالحت کرکے بیعت خلافت کی تو سبائیوں کو انتہائی ناگوار گزرا۔ ان کی برابر کوشش ہی تھی کہ صلح نہ ہونے پائے چنانچہ سبائی لیڈر حجر بن عدی نے حضرت حسنؓ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو حضرت حسنؓ نے اسے بڑی سختی سے ڈانٹا۔‘‘ (محدث، صفحہ14)
قطع نظر اس کے کہ حضرت حسنؓ نے یہ مصالحت
’’حواریوں سے تنگ آکر کی تھی یا اس کے اور بھی اسباب تھے، مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ جن ’’سبائیوں‘‘
کو یہ مصالحت ناگوار گزری، ان کے جس ’’سبائی لیڈر‘‘ کا نام حجر بن عدی لیا گیا ہے، یہ کون ہے؟
جناب من!
یہ سبائی لیڈر حجر بن عدی صحابی رسول ہیں................. ابن اثیر لکھتے ہیں:
’’وقد علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھو وأخوہ ھانی و شھد القادسیۃ وکان من فضلاء الصحابۃ‘‘ (اسد الغابہ: ج1 ص385)
کہ ’’حضرت حجر اوران کے بھائی ہانی، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وفد کی صورت میں حاضر ہوئے۔جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے اور فضلات صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔‘‘
امام حاکم نے مستدرک ج3 ص468، حافظ ابن حجر نے الاصابہ ج1 ص349، حافظ ذہبی نے سیراعلام النبلاء ج3 ص463، تجرید اسماء الصحابہ ص123، العبر ج ص57، تاریخ الاسلام ج2 ص33، ابن حماد نے شذرات الذہب ج1 ص57، ابن حزم نے جمہرۃ انساب العرب ص426، اور ابن عساکر وغیرہ نے
انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابن سعد نے صحابہ میں ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تابعین میں بھی شمار کیاہے۔
مگر حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’أما أن یکون ظنہ آخر و أما أن یکون ذھل‘‘ کہ انہوں نے یہ کوئی اور راوی سمجھا ہے یا ان سےبھول ہوئی کہ حجر بن عدی کو تابعین میں بھی ذکر کردیا۔
امام بخاری، امام ابوحاتم اور امام ابن حبان نے بلاشبہ انہیں تابعین میں شمار کیا ہے مگر یہ صحیح نہیں جبکہ ابوبکر بن حفص جیسے تابعی ان کے بارے میں
’’حجر بن عدی رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ فرماتے ہیں (الاصابہ)
او رمصعبؓ بن عبداللہ الزبیر جیسے امام بھی انہیں صحابی قرار دیتے ہیں اوراکثر متاخرین کی بھی یہی رائے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ذہبی فرماتے ہیں
’’قال غیر واحد وفد مع أخیہ ھانی‘‘ (السیر) لہٰذا ان پر ’’سبائی لیڈر‘‘ کا الزام اہل سنت کے فکر کی آئینہ دار نہیں۔
اسی ’’جرم‘‘ کی بنا پر مولانا عبدالرحمٰن عزیز نے ان پر ’’ ؓ ‘‘ کی علامت بھی مناسب نہیں سمجھی۔ یہ رویہ بھی بہر نوع غلط ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
حضرت سلیمان ؓ بن صرد خزاعی کو بطور صحابی متعارف نہیں کرایا گیا:
2۔اسی طرح چند سطور بعد مولانا عبدالرحمٰن صاحب لکھتے ہیں:
’’حضرت حسینؓ نے کوفی لیڈر سلیمان بن صرد کو یہ جواب دیا‘‘ (محدث صفحہ 14)
آگے چل کر موصوف اسی سلسلے میں مزید لکھتے ہیں:
’’آخری خطوط کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں کی جانب سے تھے جن میں سے سلیمان بن صرد، شیث بن ابی یزید، عزرہ بن قرن، عمر بن حجاج زیدی، عمر بن تمیمی، حبیب بن نجد، رفاعہ بن شداء او رحبیب بن مظاہر قابل ذکر ہیں۔‘‘ (محدث صفحہ 16)
جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ ان ’’کوفی لیڈروں‘‘ میں جو سرفہرست ’’سلیمان بن صرد‘‘ ہیں، وہ بالاتفاق مشہورصحابی حضرت سلیمانؓ بن صرد خزاعی ہیں۔ صحاح ستہ میں ان سے روایات مروی ہیں۔ اس سلسلے میں زیادہ حوالہ جات کی ضرورت ہی نہیں۔ بلا ریب انہوں نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھے۔ جب ان کی مدد نہ کرسکے تو ندامت کا اظہار بھی کیا۔ ہمیں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ان کوفی لیڈروں میں حضرت سلیمان بن صرد خزاعی معروف صحابی ہیں۔ ان کے اسی ’’جرم‘‘ کی بنا پر مولانا عبدالرحمٰن صاحب نے ان کے نام پر بھی ’’ ؓ ‘‘ کی علامت مناسب نہیں سمجھی۔ یہ روش بہرنوع درست نہیں جس سے ناصبیت کی بو آتی ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
3۔انہی خط لکھنے والوں میں ایک جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب ہے جیسا کہ محدث صفحہ 14 میں ہے
جبکہ یہ بھی صحابہ کرام ؓ میں شمار ہوتے ہیں جنہیں نبی کریمﷺ کا شرف زیارت حاصل ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے الاصابہ (ج1 ص247، 269) میں بیان کیا ہے، مولانا عبدالرحمٰن صاحب نے یہاں بھی ’’ ؓ ‘‘ کی علامت مناسب نہیں سمجھی۔
مشاجرات صحابہ کے بارے میں سلف کے مؤقف سے اہل علم واقف ہیں۔ سلف نے اس بارے گفتگو کی جو ممانعت کی ہے اس کا سبب یہی ہے کہ اس سے احترام و تقدس صحابہ کرامؓ پر حرف آتا ہے اور ان کے بارے میں ناروا زبانیں کھل جاتی ہیں۔ افسوس کہ مضمون کے مذکورہ مقامات سے اسی کی بو آرہی ہے، اسی امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,337
پوائنٹ
995
مقام یزید بن معاویہ امام احمد بن حنبل کی نظر میں:
4۔اسی عنوان کے تحت (بحوالہ خطبات بخاری صفحہ 385) لکھا گیا ہے:
’’امام احمد بن حنبل سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ ’’یزید بن معاویہ سے روایت نہ لی جائے۔‘‘ امام احمد کا دین اور پرہیزگاری میں بڑا بلند مقام ہے اور روایات قبول کرنے میں بڑی احتیاط کرتے ہیں۔ بنابریں امام احمد کی مستند کتاب سے یزید بن معاویہ کی روایت نقل کردینا ہی یزید کی ثقاہت کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب الزہد میں یزید بن معاویہ کا قول نقل کیا ہے کہ یزید اپنے خطبہ میں کہا کرتاتھا (اس روایت کو قاضی ابوبکر ابن العربی نے اپنی مایہ ناز کتاب العواصم من القواصم میں بھی ذکر کیا ہے)
’’جب تم میں سے کوئی بیمار ہو کر قریب المرگ ہوجائے اور تندرست ہوجائے تو وہ غور کرے۔ جوافضل ترین عمل ہوں ان کو لازم پکڑے پھر اپنے کسی بدترین عمل کو دیکھے تو اسے چھوڑ دے۔‘‘
یزید کا یہ قول نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یزید کا مقام امام احمد  کی نگاہ میں بلند تھا یہاں تک کہ اسی کو آپ نے ان زاہد صحابہ او رتابعین میں شمار کیا ہے جن کے اقوال کی پیروی کی جاتی ہے او رجن کے وعظ سے لوگ گناہ چھوڑتے ہیں۔‘‘ (محدث صفحہ 32)
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ امام احمد کے قول کے لیے ’’خطبات بخاری‘‘ پر انحصار کیسے کیا؟ جس بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ ’’امام احمد بن حنبل سے یہ بات منسوب کی گئی ہے............‘‘ یہ بہرحال ’’خطبات‘‘ ہیں۔
واضح رہے کہ امام احمد کی طرف سے یہ ’’منسوب‘‘ ہی نہیں بلکہ امام ابوبکر الخلال نے بھی ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’لا یذکر عنہ حدیث‘‘ (المنتخب من العلل للخلال صفحہ 237 لابن قدامہ) اور حافظ ذہبی نے بھی میزان الاعتدال ج4 صفحہ440 میں ان کا یہی قول ذکر کیا ہے ۔ اسی لیے یہ بات محض فقط ’’منسوب‘‘ نہیں، ایک حقیقت ہے کہ واقعتاً امام احمد کا یہ فرمان ہے۔
رہی یہ بات کہ ’’امام احمد نے کتاب الزہد میں ان کا قول نقل کیا ہے..............‘‘ یہ عبارت العواصم من القواصم صفحہ 370 مترجم سے حرف بحرف نقل کی گئی ہے اور العواصم کے عربی ایڈیشن صفحہ 233 میں یہ عبارت موجود ہے۔ مگر اس کے بعد امام ابن العربی نے جو فرمایا، اسے مولانا عبدالرحمٰن صاحب نے نقل نہیں کیا بلکہ وہ شاید اس سے بے خبر ہیں چنانچہ ان کے الفاظ ہیں:
’’نعم وما أدخلہ إلا فی جملۃ الصحابۃ قبل أن یخرج إلی ذکر التابعین‘‘
جس کا ترجمہ مترجم ہی کے الفاظ میں پڑھ لیجئے......... ’’ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امام احمد نے یزید کو صحابہ میں درج کیا ہے اور اسی کے بعد تابعین کا تذکرہ کیا ہے۔‘‘
مولانا عبدالرحمٰن صاحب جو ’’العواصم‘‘ کے حوالے سے یزید کی پاکدامنی اور اس کے زہد و تقویٰ کی دلیل بیان فرمارہے ہین، وہ ذرا امام ابن العربی کے اس مؤقف کی طرف بھی توجہ دیں کہ امام احمد نے تویزید کو صحابہ میں درج کیا ہے۔ ہم تو اس پر إنا للہ وإنا إلیہ راجعون کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں۔
عہد عثمان غنیؓ میں پیدا ہونے والا یزیدصحابہ میں! ایں چہ بوالعجبی است اور پھر اس قول کا انتساب امام احمد کی طرف ’’ظلمات بعضھا فوق بعض‘‘ کا مصداق ہے۔
امام ابن العربی بلا شبہ بہت بڑے امام، فقیہ اور مفسر گزرے ہین مگر تھے تو انسان ہی ۔ یہ کہنے میں یقیناً ان سے سہو ہوا۔ بالکل اسی طرح یہاں یزید بن معاویہ بن ابی سفیان سمجھنے میں بھی ان سے سہو ہوا۔
اولاً
تو تتبع بسیار کے باوجود کتاب الزہد سے یزید بن معاویہ کا یہ قول نہیں ملا البتہ امام عبداللہ بن مبارک نے کتاب الزہد بروایت نعیم بن حماد صفحہ 39 رقم 156 میں یہی قول ’’أنا حنظلۃ بن أبی سفیان قال نا ابن أبی ملکیۃ قال سمعت یزید بن معاویۃ یقول فی خطبتہ...... الخ‘‘ نقل کیا ہے۔
ثانیاً
یہاں یزید بن معاویہ سے ابن ابی سفیان نہیں بلکہ الکوفی النخعی مراد ہیں جو کہ تابعی تھے اور کوفہ کے عابدین و زاہدین میں ان کا شمار ہوتا تھا جیسا کہ حافظ ابن حجر نے التہذیب ج11 صفحہ 360 ، میں اسی کا تذکرہ کیاہے۔ امام احمد کی کتاب الزہد صفحہ 367، میں ان کے صاحبزادے عبداللہ کے زوائد میں اسی یزید بن معاویہ النخعی کا ایک اور قول بھی ذکر کیاہے۔اس لیے یہاں ابن ابی سفیان مراد لینا بالکل اسی طرح امام ابن العربی کا وہم ہے جیسا کہ یزید بن معاویہ کو صحابی کہنے اور یہ قول امام احمد کی طرف منسوب کرنے میں وہم ہوا۔
انتہائی تعجب کی بات ہے کہ العواصم کے حاشیہ میں علامہ محب الدین الخطیب نے جابجا اپنی آراء کا اظہار کیا ہے مگروہ اس مقام پر امام ابن العربی کی اس فروگذاشت پر خاموشی سے گزر گئے پھر اس کے تراجم اور حواشی لکھنے والے حضرات نے بھی یہاں خاموشی ہی میں عافیت سمجھی۔ معلوم نہیں کیوں؟ یزید کی صفائی میں حقائق سے آنکھیں بند کرکے مکھی پر مکھی مارنا کوئی تحقیقی اور علمی خدمت نہیں۔
ہمارا مقصد یہاں نہ یزید کا دفاع ہے نہ اس کے مثالب و محامد پر بحث مطلوب ہے بلکہ زیر نظر مضمون میں امام احمد کے حوالہ سے یزید کے بارے میں ایک بات ذکر ہوئی بس اس کی حقیقت بیان کرنا ہے۔ إن أرید إلا الإصلاح ما استطعت وما توفیقی إلا باللہ العلی العظیم۔
۔۔۔۔:::::۔۔۔۔۔
 
Top