• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سترہ کے احکامات

شمولیت
اکتوبر 24، 2016
پیغامات
216
ری ایکشن اسکور
20
پوائنٹ
35
بسم الله الرحمن الرحیم
سب طرح کی تعریفیں الله رب العالمین کے لئے ہیں !
امابعد !
"سترہ کے احکامات "


(١) مصّلی جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو اپنے سامنے پالان (کجاوے ) کی پچھلی لکڑی کے مثل (یعنی تقریباً ٣٠ سینٹی میٹر لمبی )کوئی چیز رکھ لے تاکہ اگر کوئی سامنے سے نکلنا چاہے تو نکل جائے ۔
دلیل درج ذیل ہے :
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَکُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِکُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، ابن نمیر، عمر بن عبید، سماک بن حرب، موسیٰ بن طلحہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نماز ادا کرتے اور جانور ہمارے آگے سے گزرتے ہم نے اس بات کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز اگر تمہارے آگے ہو تو جو بھی تمہارے سامنے سے گزرے تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔
(صحیح مسلم )

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا کَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِذَا لَمْ يَکُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْکَلْبُ الْأَسْوَدُ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا بَالُ الْکَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْکَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنْ الْکَلْبِ الْأَصْفَرِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ الْکَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، یونس، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس کے سامنے بطور سترہ اونٹ کے کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو وہ کافی ہے اور اس کی مثل نہ ہو تو اس کی نماز کو گدھا عورت اور سیاہ کتا منقطع کردیتا ہے راوی کہتا ہے میں نے کہا اے ابوذر سیاہ کتے کی سرخ و زرد کتے سے تخصیص کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے کہا اے بھیجتے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
(صحیح مسلم )

(٢) مصّلی نیزہ ، تیر یا برچھی بھی سامنے گاڑ سکتا ہے ۔
دلائل درج ذیل ہیں : ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَی الْمُصَلَّی وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلَّی بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا

ابراہیم بن منذر، ولید، ابوعمر اوزاعی، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید گاہ کی طرف صبح کو جاتے اور نیزہ ان کے آگے لے کر چلتے اور عید گاہ میں ان کے سامنے نصب کیا جاتا، پھر اس کے سامنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے تھے۔
(صحیح بخاری )

حَدَّثَنَي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ تُرْکَزُ الْحَرْبَةُ قُدَّامَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ ثُمَّ يُصَلِّي

محمد بن بشار، عبدالوہاب، عبیداللہ، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے عید الفطر اور عید قربانی کے دن برچھی گاڑی جاتی پھر اس کے سامنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے۔
(صحیح بخاری )

(٣) اپنی سواری کو سامنے بٹھا کر بھی نماز پڑھی سکتا ہے ۔
دلیل درج ذیل ہے : -
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي إِلَی بَعِيرِهِ وَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ

صدقہ بن فضل، سلیمان بن حبان، عبیداللہ، نافع روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو اپنے اونٹ کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(صحیح بخاری )

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا قُلْتُ أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتْ الرِّکَابُ قَالَ کَانَ يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَی آخِرَتِهِ أَوْ قَالَ مُؤَخَّرِهِ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ

محمد بن ابی بکر مقدمی بصری، معتمر بن سلیمان، عبیداللہ بن عمر، نافع، ابن عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری کو عرضاً بٹھا دیتے تھے اور اس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھتے تھے (نافع کہتے ہیں) میں نے کہا، کیا آپ نے دیکھا ہے کہ جب سواریاں چلنے لگتیں (تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے؟) بولے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کجاوے کو لے لیتے تھے، پھر اس کے پچھلے حصے کی طرف (یا یہ کہا کہ) اس کے موخر (کی طرف) نماز پڑھ لیتے اور ابن عمر بھی یہی روایت کرتے ہیں
(صحیح بخاری )

(٤) کوئی بھی مصلِّی کے سامنے سے ہر گز نہ گزرے ، اگر کوئی شخص مصلی اور سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو مصلی کو چاہیے کہ اسے روک دے ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے (لیکن سامنے سے نکلنے نہ دے ) : -

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يُصَلِّي إِلَی شَيْئٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَأَرَادَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ أَبُو سَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ فَنَظَرَ الشَّابُّ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْهِ فَعَادَ لِيَجْتَازَ فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَشَدَّ مِنْ الْأُولَی فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلَ عَلَی مَرْوَانَ فَشَکَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَی مَرْوَانَ فَقَالَ مَا لَکَ وَلِابْنِ أَخِيکَ يَا أَبَا سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ إِلَی شَيْئٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

ابومعمر، عبدالوارث، یونس، حمید بن ہلال، ابوصالح، ح، آدم بن ابی ایاس، سلیمان بن مغیرہ، حمید بن ہلال عدوی، ابوصالح وسمان روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوسعید خدری (رض) کو جمعہ کے دن دیکھا کہ وہ کسی چیز کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ رہے تھے، پس ایک نوجوان نے جو (قبیلہ) بنی ابی معیط سے تھا، یہ چاہا کہ ان کے آگے سے نکل جائے، تو حضرت ابوسعید (رض) نے اس کے سینہ میں دھکا دیا، لیکن اس نوجوان نے کوئی راستہ نکلنے کا ماسوائے ان کے آگے کے نہ دیکھا تو پھر اس نے چاہا کہ نکل جائے، ابوسعید (رض) نے پہلے سے زیادہ سخت اسے دھکا دیا، اس پر اس نے ابوسعید کی بے حرمتی کی، اس کے بعد وہ مروان کے پاس گیا اور ابوسعید (رض) سے جو معاملہ ہوا تھا، اس کی مروان سے شکایت کی اور اس کے پیچھے (پیچھے) ابوسعید (بھی) مروان کے پاس گئے، تو مروان نے کہا کہ اے ابوسعید تمہارا اور تمہارے بھتیجے کے درمیان کیا معاملہ ہے، ابوسعید نے کہا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو، جو اسے لوگوں سے چھپالے پھر کوئی شخص اس کے سامنے سے نکلنا چاہے تو اسے چاہئے کہ اسے ہٹا دے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لئے کہ وہ شیطان ہی ہے۔
(صحیح بخاری )

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِکُمْ شَيْئٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبَی فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبَی فَليُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَکَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَکَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنْ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَی فِرَاشِکَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْکُرْسِيِّ لَنْ يَزَالَ عَلَيْکَ مِنْ اللَّهِ حَافِظٌ وَلَا يَقْرَبُکَ شَيْطَانٌ حَتَّی تُصْبِحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَکَ وَهُوَ کَذُوبٌ ذَاکَ شَيْطَانٌ

ابو معمر عبدالوارث یونس حمید بن ہلال ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کے سامنے سے نماز پڑھتے میں کوئی گزرے تو وہ اسے روک دے اگر نہ مانے تو پھر روکے اور اگر پھر بھی نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ (گزرنے والا) شیطان ہے اور عثمان بن ہیثم عوف محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت کے لئے مقرر فرمایا ایک آنے والا میرے پاس آیا اور دونوں ہاتھ بھر کے غلہ لینے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے چلوں گا پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی (اس میں یہ بھی تھا) پھر اس نے کہا جب تم اپنے بستر پر سونے کے لئے جاؤ اور آیۃ الکرسی پڑھ لو تو اللہ تعالیٰ برابر تمہاری حفاظت فرماتا رہے گا اور شیطان صبح تک تمہارے پاس بھی نہ پھٹکے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ ہے تو جھوٹا مگر اس نے یہ بات سچ کہی اور وہ شیطان تھا۔
(صحیح بخاری )

(٥) امام کا سترہ اس کے مقتدیوں کے لئے کافی ہے :-

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًی إِلَی غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ

عبداللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ میں اپنی گدھی پر سوار آیا، اس وقت میں قریب البلوغ تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دیوار کے علاوہ کسی دوسری چیز کا سترہ (آڑ) قائم تھی، میں صف کے کچھ حصہ کے سامنے سواری کی حالت میں گذر گیا اور پھر اتر کر گدھی کو میں نے چھوڑ دیا، تو وہ چرنے لگی اور میں خود (نماز) کی صف میں شامل ہوگیا (لیکن میرے اس فعل کو دیکھ کر) کسی نے مجھے منع نہ کیا۔
(صحیح بخاری )

حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ خَرَجَ اِلَيْنَا النَّبِیُّصَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ فَأُتِيَ بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّی بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرَّانَ مِنْ وَرَائِهَا

آدم، شعبہ، عون بن ابی جحیفہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ کہتے تھے، کہ دوپہر کے وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم لوگوں کے پاس تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے وضو کا پانی حاضر کیا گیا، آپ نے وضو فرمایا اور ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی، اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نیزہ قائم کردیا گیا تھا، عورت اور گدھے اس کے پیچھے سے گذر رہے تھے۔
(صحیح بخاری )


الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق بات کو پڑھنے ، سمجھنے ، اسے دل سے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے !
آمین یا رب العالمین
والحمد للہ رب العالمین
 

mrs khan

مبتدی
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
9
امام کا سترہ مقتدی کے لئے کافی ہے میں بخاری کی جو پہلی حدیث دی ہے اسکا نمبر بتا دیجیے مہربانی ہوگی
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
امام کا سترہ مقتدی کے لئے کافی ہے میں بخاری کی جو پہلی حدیث دی ہے اسکا نمبر بتا دیجیے مہربانی ہوگی
(صحیح بخاری)
حدیث نمبر:
493
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عبد الله بن عباس، انه قال:" اقبلت راكبا على حمار اتان وانا يومئذ قد ناهزت الاحتلام، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس بمنى إلى غير جدار، فمررت بين يدي بعض الصف، فنزلت وارسلت الاتان ترتع، ودخلت في الصف فلم ينكر ذلك علي احد".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ اس زمانہ میں بالغ ہونے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ لیکن دیوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ تھی۔ میں صف کے بعض حصے سے گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
امام کا سترہ مقتدی کے لئے کافی ہے میں بخاری کی جو پہلی حدیث دی ہے اسکا نمبر بتا دیجیے مہربانی ہوگی
(صحیح بخاری)
حدیث نمبر:
493
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ اس زمانہ میں بالغ ہونے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ لیکن دیوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ تھی۔ میں صف کے بعض حصے سے گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔
 

mrs khan

مبتدی
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
9
حدیث کا جملہ "بالغ ہونے والا تھا" ۔ ۔ ۔۔ یعنی ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے ۔ ۔۔ تو ایسے میں یہ حدیث اس موضوع کو کوَر کرلے گی؟ کیا کوئ اور صحیح حدیث یا اثر ہے امام کا سترہ مقتدی کے لئے کافی ہونے پہ؟؟
 

mrs khan

مبتدی
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
9
اس حدیث کی تشریح میں بھی یہی لکھا ہے کہ حدیث باب سے مطابقت نہیں رکھتی
 

mrs khan

مبتدی
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
9
اس حدیث کی تشریح میں بھی یہی لکھا ہے کہ حدیث باب سے مطابقت نہیں رکھتی
 

اٹیچمنٹس

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
اس حدیث کی تشریح میں بھی یہی لکھا ہے کہ حدیث باب سے مطابقت نہیں رکھتی
حدیث ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں جوانی کے قریب پہنچا ہوا تھا جب گدھی پر سوار ہو کر نماز کے لیے آیا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ منیٰ میں دیوار کے علاوہ (کسی اور سترے) کی طرف رخ کر کے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نمازیوں کی صف کے ایک حصے کے سامنے سے گزرا اور اتر گیا۔ پھر میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود نماز کی صف میں شامل ہو گیا لیکن کسی نے مجھ پر اس سلسلے میں کوئی اعتراض نہ کیا۔حدیث حاشیہ:
1۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے دیوار کے علاوہ کوئی اور سترہ تھا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں کھڑے لوگوں کے سامنے سے گزرے تو کسی نے اعتراض نہ کیا کیونکہ وہ سب سترے کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے،اس لیے کسی کے اعتراض کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،نفی جدار کا فائدہ تبھی ہے جب کسی دوسری چیزکا سترہ تسلیم کیا جائے بصورت دیگر یہ نفی لغو ٹھہرے گی،لیکن حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ،جوتراجم سے احادیث کی مطابقت پیدا کرنے میں بڑے ماہر ہیں،اس مقام پر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال محل نظر ہے کیونکہ اس میں صراحت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سترے کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے بلکہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پربایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:"سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان۔"اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے الی غیر جدار کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سترے کے بغیر نماز پڑھ رہے تھے۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مزید لکھا ہے کہ ہم نے کتاب العلم میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مؤقف کی تائید میں روایت بزار بھی ذکر کی تھی۔( فتح الباری 739/1۔ ) مسند بزار ے حوالے سے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ روایت بایں الفاظ نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اورآپ کے آگے کوئی چیز بطور سترہ نہ تھی۔( فتح الباری 226/1۔) 2۔یہ سب باتیں اگرچہ بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہیں لیکن اگرحدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ حدیث میں الی غیر جدار کے الفاظ ہیں اور لفظ غیر ہمیشہ صفت کے لیے آتا ہے،اس لیے تقدیری عبارت یوں ہوگی:(يصلي بالناس بمنى إلى غير جدار)یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں دیوار کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا رہے تھے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول بھی یہی تھا کہ آپ جب کھلی فضا میں نماز پڑھاتے تو سترہ قائم فرمالیتے تھے،اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ کا معمولات نبوی کے مطابق وہی مفہوم مراد لینا بہترہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سمجھاہے،نیز ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمارہے ہیں کہ میرے اس عمل پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔یہ بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل ہے کیونکہ جب سترہ قائم تھا تو کسی کے لیے اعتراض کا موقع ہی نہیں تھا۔اس روایت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ عینی لکھتے ہیں:" اس حدیث کی عنوان سے بایں طور مطابقت ہے کہ الی غیر جدار کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں سترہ تھا کیونکہ غیر کا لفظ ہمیشہ صفت کے لیے آتا ہے۔تقدیری عبارت یوں ہو گی کہ"دیوار کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف" وہ چیز لاٹھی بھی ہوسکتی ہے،نیز بھی ہوسکتا ہے ،ان کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہوسکتی ہے۔"( عمدۃ القاری 569/2۔) شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اس حدیث کے متعلق شرح تراجم بخاری میں یوں رقم طراز ہیں:"اس عنوان سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض یہ ہے کہ امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔اگر کوئی امام کےسترے کی موجودگی میں مقتدیوں کے آگے سےگزر جائے تو وہ گناہگار نہیں ہوگا۔اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا الی غیر جدار کے معنی الی غیر سترۃ کرنا صحیح نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے سامنے دیوار کے علاوہ کوئی اور سترہ تھا اگرچہ وہ نیزہ یا برچھا وغیرہ ہوکیونکہ آپ کے احوال کے تتبع سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحرا وغیرہ میں نماز پڑھتے تو آپ کے سامنے نیزہ گاڑا جاتا تھا،اسی لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے استدلال میں اشکال پیداہوگیا ہے کیونکہ کسی شخص کے انکار نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سترے کی طرف تھی اور قوم کا سترہ وہی ہوتا ہے جو امام کاسترہ ہو۔اس حدیث کا ظاہری مفہوم یہی ہے،اسے خوب سمجھ لو۔یہ توجیہ بھی ممکن ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول الی غیر سترۃ سے مراد یہ ہوکہ دیوار کے سترے کے بغیر نماز پڑھی۔اس سے مطلق سترے کی نفی نہیں۔اس توجیہ سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگرمحدثیبن رحمۃ اللہ علیہ کے موقف میں کوئی اختلاف نہیں رہتا۔" واضح رہے کہ عربی زبان میں لفظ غیر اگرچہ نفی محض کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے تصرف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں غیر بطور صفت استعمال ہواہے،اس معنی کی بنیاد پر دیوار کی نفی کا فائدہ ظاہر ہوتا ہے اور اگروہاں دیوانہ نہ تھی اور نہ کوئی دوسری چیز ہی تو دیوار کی نفی کرنا لغو ہے۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مسند بزار کے حوالے سے جو حدیث بیان کی ہے ،اس پر ہماری گزارشات پہلے گزر چکی ہیں۔
(شیخ الحدیث حافظ عبدلستار حماد حفظ اللہ)
 

mrs khan

مبتدی
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
9
بھیا ہماری پریشانی جدار اور غیر جدار کی نہیں ہے ۔ ۔۔ سترے کے قائل ہم پہلے ہی ہیں الحمدللہ۔ ۔ ۔ ۔ صحیح نماز نبوی کتاب میں "امام کا سترہ مقتدی کے لیے کافی ہوتا ہے" کی ہیڈنگ میں کوئ حاشیہ ہی نہیں دیا ہوا اس لیے اسکی سند درکار تھی ۔ ۔۔ آپ نے جو حدیث پیش کی اس میں مسئلہ ہمیں "بالغ اور نابالغ" کا ہے کیونکہ ساری حدودوقیود بالغ کے لئے ہیں ۔ ۔
 

mrs khan

مبتدی
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
9
اگر ابن عباس بالغ ہی نہیں تھے اس وقت تو کسی نے اسی لیے انہیں نا روکا ہوگا ۔ ۔۔ اس لحاظ سے یہ حدیث باب سے مطابقت رکھتی ہوئ نہیں لگ رہی ہمیں کہ اس میں تو بچے کی بات ہورہی ہے اور بچوں پہ تو ویسے ہی دین لاگو نہیں ہوتا
 
Top