• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ستر ہزار لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
ستر ہزار لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں !!!



1374198_1041143805901810_9098336934239016547_n (1).jpg


بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتي سَبْعُونَ أَلْفاً بِغَيْرِ حِسَابٍ
باب : نبی ﷺ کا فرمان کہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔

(102) عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ ؟ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلاَةٍ وَ لَكِنِّي لُدِغْتُ قَالَ فَمَاذَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ فَقَالَ وَ مَا حَدَّثَكُمُ الشَّعْبِيُّ ؟ قُلْتُ حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ وَ لَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَ مَعَهُ الرُّهَيْطُ وَالنَّبِيَّ وَ مَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلاَنِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي هَذَا مُوسَى صلی اللہ علیہ وسلم وَ قَوْمُهُ وَ لَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي هَذِهِ أُمَّتُكَ وَ مَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَ لاَ عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَ لاَ عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ قَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلاَمِ وَ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ وَ ذَكَرُوا أَشْيَائَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَرْقُونَ وَ لاَ يَسْتَرْقُونَ وَ لاَ يَتَطَيَّرُونَ وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ

سیدنا حصین بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ،انھوں نے کہا کہ تم میں سے کس نے اس ستارہ کو دیکھا جو کل رات کو ٹوٹا تھا؟ میں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ میں کچھ نماز میں مشغول نہ تھا (اس سے یہ غرض ہے کہ کوئی مجھے عابد، شب بیدار نہ خیال کرے) بلکہ مجھے بچھو نے ڈنگ مارا تھا (تو میں سو نہ سکا اور تارا ٹوٹتے ہوئے دیکھا) سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں نے دم کروایا۔ انھوں نے کہا کہ تو نے دم کیوں کرایا؟ میں نے کہا کہ اس حدیث کی وجہ سے جو شعبی نے ہم سے بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ شعبی نے کونسی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا کہ انھوں نے ہم سے سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ دم فائدہ نہیں دیتا مگر نظر کے لیے یا ڈنگ کے لیے (یعنی بد نظر کے اثر کو دور کرنے کے لیے یا بچھو اور سانپ وغیرہ کے کاٹے کے لیے مفید ہے) سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس نے سنا اور اس پر عمل کیا تو اچھا کیا لیکن ہم سے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے حدیث بیان کی، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :''میرے سامنے پیغمبروں کی امتیں لائی گئیں۔ کوئی پیغمبرایسا تھا کہ اس کی امت کے لوگ دس سے بھی کم تھے اور کسی پیغمبر کے ساتھ ایک یا دو ہی آدمی تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۔ اتنے میں ایک بڑی امت آئی۔ میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت ہے، تم آسمان کے کنارے کو دیکھو۔ میں نے دیکھا تو ایک اور بڑا گروہ ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ اب دوسرے کنارے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو ایک اور بڑا گروہ ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور ان لوگوں میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں کہ جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے۔'' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اپنے گھر تشریف لے گئے تو لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں گفتگو کی جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ بعضوں نے کہا کہ شاید وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ بعض نے کہا نہیں شاید وہ لوگ ہیں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہیں کیا۔ بعض نے کچھ اور کہا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا:'' تم لوگ کس چیز میں بحث کر رہے ہو؟'' انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں اور نہ دم کراتے ہیں اور نہ بدشگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔'' یہ سن کرعکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' تو انہی لوگوں میں سے ہے۔'' پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بھی دعا کیجیے کہ اللہ مجھے بھی انہی لوگوں میں کرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' عکاشہ رضی اللہ عنہ تجھ سے پہلے یہ کام کر چکا۔ ''

http://forum.mohaddis.com/threads/صحیح-مسلم-مختصر.21314/page-7
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظہ اللہ
اس روایت کے متعلق جاننا ہے
21149 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
ان الفاظ سے تو کوئی حدیث نہ مل سکی ،
البتہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مشہور حدیث پیش خدمت ہے ؛
ـــــــــــــــــــ
عَن معَاذ بن جبل قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سفر فَأَصْبَحت يَوْمًا قَرِيبا مِنْهُ وَنحن نسير فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدنِي عَن النَّار قَالَ لقد سَأَلتنِي عَن عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لِيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْت ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةُ كَمَا يُطْفِئُ المَاء النَّار وَصَلَاة الرجل من جَوف اللَّيْل قَالَ ثمَّ تَلا (تَتَجَافَى جنُوبهم عَن الْمضَاجِع)
حَتَّى بَلَغَ (يَعْمَلُونَ)
ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْس الْأَمر كُله وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نتكلم بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ. (مشکوٰۃ المصابیح ،الایمان ،رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ 2616 وَابْنُ مَاجَه 3973)
مسند احمد (۵/۲۳۱) (تراجع الألبانی: رقم: 246)
قال الشيخ الألباني: صحيح
رواه أحمد : 5 / 231 ، والترمذي ( 2616 ) وصححه ؛ والنسائي في الكبرى ( 11394 ) ،وابن ماجة(3973)،والطبراني في الكبير:20/130،131 ( 266 ) ، والحاكم : 2 / 412 ، 413 ، وصححه على شرطيهما ، ووافقه الذهبي "

ترجمہ
" سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی عمل ایسا بتا دیجئے جو مجھ کو جنت میں لے جائے اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے لیکن جس پر اللہ تعالیٰ آسان کر دے اس کے لئے یہ بہت آسان بھی ہے" پھر فرمایا " اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز پابندی کے ساتھ ادا کرو، زکوۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور خانہ کعبہ کا حج کرو، پھر اس کے بعد فرمایا اے معاذ! کیا تمہیں خیر و بھلائی کے دروازوں تک نہ پہنچادوں (تو سنو) روزہ (ایک ایسی) ڈھال ہے (جو گناہ سے بچاتی ہے اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھتی ہے) اور اللہ کی راہ میں کرچ کرنا گناہ کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے (اور اسی طرح) رات (تہجد) میں مومن کا نماز پڑھنا (گناہ کو ختم کر دیتا ہے) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (جس میں تہجد گزاروں اور رات میں اللہ کی عبادت کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس پوری آیت کا ترجمہ ہے) : ان (مومنین صالحین) کے پہلو (رات میں) بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف و امید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان (مومنین صالحین) کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ (انعام) ہے جو وہ کرتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس چیز (یعنی دین) کا سر اور اس کے ستون اور اس کے کوہان کی بلندی نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس چیز (دین) کا سر اسلام ہے، اس کے ستون نماز ہے اور اس کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تمہیں ان تمام چیزوں کی جڑ نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا ہاں اللہ کے نبی ضرور بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور (اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: اس کو بند رکھو۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ہم اپنی زبان سے جو بھی لفظ نکالتے ہیں ان سب پر مواخذہ ہوگا، آپ نے فرمایا معاذ! (ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ) (تمہاری ماں تمہیں گم کر دے ) (یہ ایک محا ورہ ہے جو عربی زبان میں اظہار تعجب کے لئے بولا جاتا ہے)۔
اچھی طرح جان لو کہ لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا پیشانی کے بل دوزخ میں گرانے والی اسی زبان کی (بری) باتیں ہوں گی۔" (مسند احمد بن حنبل ، ترمذی ، ابن ماجہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تشریح :
اس حدیث میں " دین" کی تصویر جامع اور کمال انداز میں اجاگر کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح کسی جسمانی وجود کامدار" سر" پر ہوتا ہے کہ اگر سر کو اڑا دیا جائے تو جسمانی وجود بھی باقی نہیں رہے گا، اسی طرح" ایمان و اسلام" یعنی عقیدہ تو حید و رسالت دین کے لئے بمننرلہ سر کے ہیں کہ اگر تو حید و رسالت کے اعتقاد کو ہٹا دیا جائے تو دین کا وجود بھی باقی نہیں رہے گا، پھر جس طرح کسی جسمانی وجود کو برقرار رکھنے اور کار آمد بنانے کے لئے " ستون" اولین اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح دین کا ستون نماز ہے۔ نماز ہی وہ بنیادی طاقت ہے جو دین کے وجود کو وابستہ اور قائم رکھتی ہے اگر نماز کو ہٹا دیا جائے تو دین کو وجود اپنی اصلی حالت کی برقراری سے محروم ہو جائے۔ اور پھر جس طرح کسی جسمانی وجود کو باعظمت بنانے اور اس کی شوکت بڑھانے کے کسی امیتازی اور منفرد وصف و خصوصیت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جہاد ضرورت ہے جس پر دین کی عظمت و شوکت اور ترقی و وسعت کا انحصار ہے اگر جہاد کو (خواہ وہ قلم سے ہو یا زبان سے اور خواہ تلوار سے ہو یا تبلیغی جدوجہد سے ) اہل اسلام کے ملی وصف سے خارج کر دیا جائے تو دین ایک بے شکوہ اور بے اثر ڈھانچہ بن کر رہ جائے۔
حدیث کا آخری حصّہ" زبان" سے متعلق اس ہدایت پر مشتمل ہے جو دین کو اضمحلال اور دینی گندگی کو گھن سے بچانے کے لئے ایک بڑے نفسیاتی نکتہ کی غماز ہے۔ مطلب یہ کہ دین کے وجود، دین کے بقا اور دین کی عطمت و شوکت کو پہنچانے کی جڑ زبان ہے زبان کو قابو میں رکھنا دین و دنیا کی فلاح و نجات کا پیش خیمہ ہے اور زبان کو بے قابو چھوڑ دینا خود کو دین و دنیا کی تباہی کی طرف دھکیل دینا ہے لہٰذا لازم ہے کہ زبان بند رکھی جائے یعنی منہ سے ایسے الفاظ نہ نکالے جائیں جو برائی فحاشی اور بدکلامی کے حامل ہوں، وہ برے کلام جو کفر امیز یا گناہ اور فحاشی کے ہوں، یا کسی کی غیبت کرنا، جھوٹ بولنا اور یا الزام تراشی کرنا ایسی برائیاں ہیں جن سے زبان و ذہن کی حفاظت نہ کی گئی تو سمجھ لو دوزخ کا عذاب سامنے ہے۔ دین و دنیا کی بھلائی چاہنے والے اور ابدی نجات و سعادت کے طلب گار اسی لئے اپنی زبان پر قابو رکھتے ہیں کہ نہ معلوم کب اس سے کوئی ایسا لفظ و کلام نکل جائے جس سے کفر بکنا یا گناہ و معصیت کی بات کہنا لازم آجائے اور پھر اس کی پاداش میں اللہ کا عذاب بھگتنا پڑے۔ درحقیقت " زبان" بہت بڑی وجہ سعات بنتی ہے جب اس سے نیک کلام اچھی باتیں، خیر و بھلائی کے الفاظ اور وعظ و نصیحت کے جملے نکلتے ہیں ، دنیا و آخرت میں اسی انسان کا رتبہ بلند مانا جاتا ہے جو " زبان" کی عطمت و تقدیس کو ہر حال میں ملحوظ رکھے۔ بدکلامی اور بری باتوں سے بہر صورت اجتناب کرتا ہوں۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
دل کو دوسروں کے متعلق صاف رکھنے کے بارے ایک حدیث درج ذیل بھی ہے ؛
جامع الترمذی میں ہے :
حدثنا مسلم بن حاتم الانصاري البصري، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، عن ابيه، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، قال:‏‏‏‏ قال انس بن مالك،‏‏‏‏ قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ يا بني " إن قدرت ان تصبح وتمسي ليس في قلبك غش لاحد فافعل، ‏‏‏‏‏‏ثم قال لي:‏‏‏‏ يا بني وذلك من سنتي، ‏‏‏‏‏‏ومن احيا سنتي فقد احبني، ‏‏‏‏‏‏ومن احبني كان معي في الجنة "،‏‏‏‏
سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے: اگر تم سے ہو سکے کہ صبح و شام تم اس طرح گزارے کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ (بغض، حسد، کینہ وغیرہ) نہ ہو تو ایسا کر لیا کرو“، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے بیٹے! ایسا کرنا میری سنت (اور میرا طریقہ) ہے، اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامع الترمذی 2678 ( اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)
فيه علي بن زيد بن جدعان وهو ضعيف إتحاف الخيرة المهرة للبوصيري
قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
(2678) إسناده ضعيف ¤ على بن زيد : ضعيف (تقدم:589)
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (175) ،ضعيف الجامع الصغير (6389
 
Top