ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 799
- ری ایکشن اسکور
- 222
- پوائنٹ
- 111
سردیوں میں نزلہ زکام کا سادہ گھریلو علاج
از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ
سردیوں کے موسم میں نزلہ کھانسی اور زکام ایک مصیبت بن جاتا ہے خاص کر بچوں کو بہت نڈھال کر دیتا ہے لیکن ہمارے لوگ کم علمی کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس بھاگ کر اپنی صحت اور مال کا ستیہ ناس تو کرواتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اس کا خود ہی کچھ سدباب کریں اوپر سے ان کا محدود علم اور الٹے سیدھے تصورات اور تجربے اور بھی مصیبت بنتے ہیں۔
نزلہ زکام وغیرہ کے متعلق کچھ باتیں بہت اہم ہیں جو میں نے تجربے سے بھی آزمائی ہیں اور میڈیکل کے طور پر بھی ثابت شدہ حقائق ہیں۔
1 - یہ بات یاد رکھیں کہ نزلہ زکام کھانسی وغیرہ بذات خوس سردی سے نہیں لگتے چاہے کتنی ہی شدیس سردی ہو بلکہ یہ وائرس سے لگتے ہیں اور سردیوں میں ہی اس لئے یہ بیماریاں ہوتی کیونکہ سردیوں میں اس کے وائرس کو زیادہ دیر تک زندہ رہنے اور پھیلنے کے مواقع میسر آجاتے ہیں
دراصل سردیوں میں ہوا انتہائی خشک ہوجاتی ہے اور یہ ہوا وائرس کے دیر تک رہنے کے لئے موزوں ہے اوپر سے یہ ہوا ناک کے حفاظتی باڑ کو بھی متاثر کر دیتی جس سے وائرس خشک ناک میں زیادہ اسانی سے داخل ہوجاتا ہے اور پھر چونکہ پھنکے بند ہوجاتے ہیں کھڑکیاں دروازے بھی سب بند ہوتے ہیں اس لئے وائرس کمرے میں دیر تک رہتا ہے اور اس ماحول میں وہ اپنے اپ کو کمرے میں برقرار رکھتا ہے اور اسی لئے سردیوں میں یہ بیماریاں بڑھ جاتی۔
2 - اس لئے ضروری ہے کہ سردیوں میں روزانہ یا ایک دو دن بعد دروازے کھڑکیاں کھول کر پنکھا کچھ دیر تک ضرور چلائیں اور اس کے ساتھ ساتھ رات کو اگر ہیٹر یا کچھ جلاتے ہیں تو اس کے قریب گرم پانی کی دیگچی رکھا کریں جس سے اٹھنے والا بھاپ کمرے کی فضا میں نمی پیدا کرے گا جو بہ صرف جراثیم کی موت میں معاون ہوگا بلکہ آپ کی ناک اور جسم کو بھی خشکی سے بچائے گا۔
3 - جراثیم آنکھ ناک منہ وغیرہ کے ذریعے داخل ہوتے ہیں اس لئے گھر آنے کے بعد خود بھی اچھی طرح صابن سے ہاتھ دھویا کریں اور بچوں کو بھی اس کی عادت ڈلوائیں اور ان کو بتائیں کہ کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھویا کریں اس کے ساتھ ساتھ چہرے کو ہاتھ کم سے کم لگایا کریں اور جبھ چھینک آئے تو ہاتھوں میں نہیں بلکہ رومال یا پھر وہ نہ ہو تو کہنی موڑ کر اس میں چھینک مارا کریں اور بچوں کو بھی یہ سکھائیں۔
4 - بچوں کو ہمیشہ اون کی جرابیں پہنا کر اور سر پر بھی گرم ٹوپی پہنا کر سلایا کریں رات کو ٹمپریچر گر جاتا ہے اور پاوں اور سر بہت جلد ٹھنڈے ہوتے ہیں اور یہ سینے کی خرابی فلو وغیرہ کا سب سے تیز ذریعہ ہے اس لئے اس کا خیال رکھیں اور خود بھی جرابیں پہن کر سونے کی عادت ڈالیں۔
5- اگر ایک بار بیماری لگ جائے تو پھر اس کا سب سے موثر علاج ادرک لیموں وغیرہ پر مشتمل قہوہ بار بار پینا، مرغ کی یخنی، گرم پانی کا بھاپ لینا اپنے اوپر کمبل اوڑھ کر ناک کو گرم پانی سے باربار صاف کرنا اور زیادہ سے زیادہ پانی پینا ہے، یہ چیزیں اس کے علاج میں انتہائی آزمودہ ہیں۔
6- ان نسخوں سے اگر جلد آرام نہیں آرہا ہو تو صبر سے کام لیا کریں فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس مت بھاگا کریں اس خطے کے اکثر جاہل ڈاکٹر ایسی اینٹی بایوٹیک اور دیگر دوائیاں تجویز کر دیتے جو آپ کے اور بچوں کے اندرونی نظام کو تہس نہس کر دیتے اور وقتی فائدہ تو ہوجاتا لیکن مستقل نقصان بھی ہوتا ہے فلو کے جراثیم کی عمر ویسے بھی چند دن ہوتی ہے اور ٹھیک ہوجاتا ہے انسان ہاں اگر بخار کےلئے کچھ لینا ہو تو بچوں کو پیراسیٹامول کا سیرپ اور خود اس کی گولیاں لے لیا کریں جیسے پینا ڈول وغیرہ۔
7- اکثر لوگ بچے کو بخار میں دیکھ کر یا جود بخار میں مبتلا ہوکر گھبرا جاتے اور فوری طور پر کسی ڈاکٹر کے پاس بھاگ کر جاتے ہیں وہاں لائن میں لگ کر ذلیل ہوکر ڈاکٹر کی باتیں سن کر جیب جھاڑ کر گھر لاتے بھی ہیں تو وہی اینٹی بایوٹک جو جسم میں اچھے برے سب کو ایک ساتھ تباہ کرتی اور فائدے سے نقصان زیادہ ہوتا ہے اس لئے تھوڑا حوصلہ کیا کریں تھوڑا صبر کیا کریں دعا کیا کریں اور خود ہی دستیاب علاج کیا کریں اگر بہت مسئلہ ہو نہ ہو رہا ہو تب ڈاکٹر تم س بھاگ تو نہیں رہا پھر بھی جا سکتے ہو لیکن میرے خیال میں تو اس خطے خے ڈاکٹروں کے پاس جانے سے نہ جانا زیادہ بہتر ہے۔
ان باتوں پر اگر آپ عمل کریں گے تو ان شاء اللہ نزلہ زکام اکھانسی وغیرہ کا خطرہ ویسے ہی 90 فیصد کم ہوجائے گا۔