1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سعودی عدالت نے بیوی کو تھپڑ مارنے پر شوہر کو 10 دن قید اور 30 کوڑوں کی سزا سنا دی

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏جون 05، 2013۔

  1. ‏جون 05، 2013 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    ریاض: سعودی عرب کی عدالت نے بیوی کو تھپڑ مارنے پر شوہر کو 10 دن قید اور 30 کوڑوں کی سزا سنادی۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے صوبے القطیف میں ایک خاتون نے عدالت میں اپنے شوہر پر تشدد کا الزام عائد کیا تھا جس پر عدالت نے اس کے شوہر کو 10 دن قید اور30 کوڑے مارنے کی سزا سنائی ، عدالت نے حکم دیا کہ ملزم ایسے دینی اجتماعات اور کورس میں بھی شریک رہے گا جہاں بیویوں کے ساتھ برتاؤ کی تربیت دی جائے گی، عدالت نے کوڑوں کی سزا کے دوران بیوی کی موجودگی کو بھی لازم قرار دیا تاکہ وہ اپنے شوہر کو اسی اذیت سے گزرتے ہوئے دیکھ سکے جس سے وہ گزری تھی۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 05، 2013 #2
    ساجد کمبوہ

    ساجد کمبوہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2011
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    172
    تمغے کے پوائنٹ:
    82

    السلام عليكم
    قرآن و سنت کی روشنی میں اسکا کیا حکم ہے؟
     
  3. ‏جون 05، 2013 #3
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    پہلے تو پورے واقعے کا علم ہو۔ پھر طرفین کو سنا جائے۔ اس کے بعد ہی علماء کرام اس پر بات کر سکتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  4. ‏جون 05، 2013 #4
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    حدیث مبارکہ ہے۔۔۔
    جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ( تم عورتوں کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈرو ، بلاشبہ تم نے انہيں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے ، اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں تو تم انہيں مار کی سزا دو جو زخمی نہ کرے اور شدید تکلیف دہ نہ ہو، اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہيں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اور رہائش دو ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) ۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
    ''اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں ڈر اورخدشہ ہوانہيں نصیحت کرو ، اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو ، اور انہیں مار کی سزا دو '' سورۃالنساء34
    اور ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے :
    ''اے ایمان والو ! اپنے آپ اور اپنےاہل وعیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں'' سورۃ التحریم 6
    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
    قتادہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : آپ انہیں اللہ تعالی کی اطاعت کا حکم دیں ، اوراللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی کرنے سے روکیں ، اور ان پر اللہ تعالی کے احکام نافذ کریں ، انہیں ان کا حکم دیں ، اور اس پر عمل کرنے کے لیے ان کا تعاون کریں ، اورجب انہیں اللہ تعالی کی کوئی معصیت ونافرمانی کرتے ہوئے دیکھیں تو انہیں اس سے روکیں اور اس پر انہیں ڈانٹیں ۔
    ضحاک اور مقاتل رحمہم اللہ تعالی نے بھی اسی طرح کہا ہے :
    مسلمان کا حق ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں ، گھر والوں اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو اللہ تعالی کے فرائض کی تعلیم دے اور جس سے اللہ تعالی منع کیا ہے وہ انہیں سکھائے ۔
    دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 4 / 392 ) ۔
    ایک جگہ قرآن میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    ''اورعورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان مردوں کے ہیں اچھائي کے ساتھ'' سورۃ البقرۃ228
    امام قرطبی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :
    ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ہی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : یعنی ان عورتوں کے لیے حسن صحبت ، اوراچھے اور احسن انداز میں معاشرت بھی ان کے خاوندوں پراسی طرح ہے جس طرح ان پر اللہ تعالی نے خاوندوں کی اطاعت واجب کی ہے ۔
    اور یہ بھی کہا گيا ہے :
    ان عورتوں کے لیے یہ بھی ہے کہ ان کے خاوند انہيں تکلیف اور ضرر نہ دیں جس طرح ان عورتوں پر خاوندوں کے لیے ہے ۔ یہ امام طبری کا قول ہے ۔
    اور ابن زید رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہيں :
    تم ان عورتوں کے بارہ میں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرو اور اس سے ڈرو ، جس طرح کہ ان عورتوں پر بھی ہے کہ وہ بھی تمہارے بارہ میں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کريں اور ڈريں ۔
    اور معنی قریب قریب سب ایک ہی ہے ، اور مندرجہ بالا آیت سب حقوق زوجیت کو عام ہے ۔
    دیکھیں تفسیر القرطبی ( 3 / 123- 124 ) ۔
    اگر بیوی ان حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتی ہے تو شریعت نے طلاق دینے سے پہلے اسے سمجھانے اور اس کی اصلاح کرنے کےلئے ترتیب وار مندرجہ ذیل تین طریقے بتلائے ہیں:
    ۱) ...پہلا طریقہ اور درجہ یہ ہے کہ خاوند نرمی سے بیوی کو سمجھائے ، ا س کی غلط فہمی دور کرے۔ اگر واقعی وہ جان کر غلط روش اختیار کئے ہوئے ہے تو سمجھا بجھا کر صحیح روش اختیار کرنے کی تلقین کرے، اس سے کام چل گیا تو معاملہ یہیں ختم ہوگیا، عورت ہمیشہ کے لئے گناہ سے اور مرد قلبی اذیت سے اور دونوں رنج و غم سے بچ گئے اور اگر اس فہمائش سے کام نہ چلے تو ...
    ۲)... دوسرا درجہ یہ ہے کہ ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے بیوی کا بستر اپنے سے علیٰحدہ کردے اور اس سے علیٰحدہ سوئے۔ یہ ایک معمولی سزا اور بہترین تنبیہ ہے، اس سے عورت متنبہ ہو گئی تو جھگڑا یہیں ختم ہوگیا، اور اگر وہ اس شریفانہ سزا پر بھی اپنی نافرمانی اور کج روی سے باز نہ آئی تو...
    ۳)... تیسرے درجے میں خاوند کومعمولی مار مارنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، جس کی حد یہ ہے کہ بدن پر اس مار کا اثر اور زخم نہ ہو... مگر اس تیسرے درجہ کی سزا کے استعمال کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا، ا سلئے اس درجہ پر عمل کرنے سے بچنا اولیٰ ہے ۔ بہرحال اگر اس معمولی مارپیٹ سے بھی معاملہ درست ہوگیا، صلح صفائی ہوگئی، تعلقات بحال ہوگئے، تب بھی مقصد حاصل ہوگیا، خاوند پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی بال کی کھال نہ نکالے اور ہر بات منوانے کی ضد نہ کرے، چشم پوشی اور درگزر سے کام لے اور حتی الامکان نباہنے کی کوشش کرے۔

    مندرجہ بالا معلومات اس لنک سے حاصل کی گئی ہیں۔

    جہاں تک اس سوال کی بات ہے کہ خاوند کی جانب سے بیوی پر تشدد کی سزا دینا۔ تو اس بارے میں علماء ہی بہتر حکم دے سکتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
  5. ‏جون 06، 2013 #5
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    جہاں کہیں بھی ایسی خبر ہو کہ کسی شوہر نے اپنی بیوی کو مارا تو اس پر یہی رائے قائم کرنا کہ قصور عورت کا ہی ہو گا اس لئے اسلام میں اس کی اجازت ھے اور پھر شوہر کی فیور میں اور عورت کی مخالفت میں قرآن اور حدیث مبارکہ پیش کرنا یہ کسی بھی طرح مکمل جواب نہیں۔

    خبر تو خود بتا رہی ھے کہ معاملہ کیا ھے،

    سعودی عرب میں 999 ایک کال پر پولیس آ جاتی ھے، عورت پر تشدد ہوا، پولیس کو اگر کال کی جائے تو جس پر تشدد ہوا ھے پولیس کا پہلا کام ھے کہ یا تو ایمبولینس وہیں بلوائے گی یا اسے خود ہسپتال لے کر جائے گی یہ تشدد پر منحصر ھے کہ کتنا تشدد ہوا آیا وہ چل پھر بھی سکتی ھے کہ نہیں۔ اس پر شوہر کو بھی چاہیں تو ہتھکڑی لگا لیں یا ایسے ہی اپنے ساتھ ایک گاڑی میں پولیس سٹیشن لے جائیں گے وہاں ایک شیشے کے کیبن میں اس سے مار پیٹ کی وجہ پوچھیں گے۔

    ہسپتال والے پہلے اس کا ٹریممنٹ کریں گے پھر اس کی میڈیکل رپورٹ بنے گی کہ اس کے جسم پر کتنے زخموں کے نشان ہیں وہ رپورٹ پولیس کو دیں گے پھر اس کے بعد تشدد جس پر ہوا ھے اس کا پورا بیان قلمبند کریں گے، اس گھر میں جہاں یہ سب ہوا ھے اس گھر کے افراد سے بھی سوال جواب کریں گے اور سب رپورٹیں چیک کریں گے کہ شوہر کے بیان کے مطابق گھر کے افراد کے بیان کیا کہتے ہیں۔ اس پر مکمل انکوائری کر کے اسے کورٹ میں بھیج دیا جاتا ھے۔

    سعودی کورٹ میں فیملی میٹر پر جو قاضی حضرات ہیں وہ سب جانتے ہیں کہ عورت پر خاوند کی طرف سے کیا حقوق ہیں اور کن وجوہات کی بنا پر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کہاں تک سختی والا برتاؤ کر سکتا ھے کہ جس کی قرآن و حدیث میں اجازت ھے۔ اس لئے یہ ثابت ہونے پر کہ عورت ہی قصور وار ھے تو پھر خاوند کو بری کر دیا جاتا ھے اور وہاں دونوں کی مصالحت بھی کروا دی جاتی ھے۔

    قاضی سے خاوند کو سزا سنائی تو اس کا مطلب ھے کہ جو قرآن مجید کی آیت اور احادیث مبارکہ پیش کی گئی ھیں عورت کا ایسے الزام سے کوئی تعلق نہیں۔ خاوند اگر گھر میں بیوی بچوں کو وقت نہ دے اور رات تک باہر رہے تو عورت اس پر خاوند سے وجہ پوچھنے پر اس پر تشدد کرنا یہ جرم ھے اور اس جرم کی سزا بھی ھے جو اسے ملی ھے۔

    اس پر بھی اگر کوئی چاہے تو ضرور شریعت سے پیش کرے کہ خاوند اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اگر بیوی پر ظلم و تشدد کرے تو کیا سزا ھے، تاکہ دونوں معلومات ایک ہی جگہ اکٹھی ہو سکیں۔

    والسلام
     
  6. ‏جون 06، 2013 #6
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    ماشا اللہ حضرت میں نے کہاں لکھ دیا کہ میں نے مکمل جواب دیا ہے؟
    اور کسی بھی معاملے میں قرآن و حدیث سے تفصیلات دینا غلط ہے کیا؟
    جو ریفرنس میں نے اوپر پیش کئے ہیں یہ قاضی صاحبان کے لئے نہیں دیئے کہ وہ اس فورم پر انہیں پڑھ کر ان کی روشنی میں از سر نو فیصلہ کریں۔ یہ اپنے جیسے نئے آنے والے ایسے افراد کے علم میں اضافے کے لئے یہاں اس پوسٹ میں پیش کئے ہیں جو اس معاملے میں نہیں جانتے۔
    اور محترمی ان ریفرنسز میں یہ کہاں لکھا ہے کہ مکمل عبارت صرف شوہر کے حق میں ہیں؟
    احادیث یا آیات میں شروع میں عورت کے ساتھ اچھے سلوک ہی کی بات کی گئی ہے بعد میں اس صورتحال کا بیان کیا گیا ہے کہ کن معاملات میں سزا دی جائے۔
    جس تفصیل سے آپ نے قوانین بیان کئے ہیں اس سے صورتحال بے حد واضح ہو گئی ہے اس معاملے میں معلومات میں اضافے کا خصوصی شکریہ۔
    تاہم میری جس پوسٹ پر بھی کسی بھی محترم ساتھی کو اعتراض ہو وہ اس پوسٹ کو رپورٹ کر کے فورم کے منتظمین کی مدد سے ہٹوا سکتے ہیں۔
     
  7. ‏جون 06، 2013 #7
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جزاک اللہ آپ سب کا، کہ اتنی معلوماتی گفتگو کی ہے، اور بخاری سید بھائی جزاک اللہ آپ نے لنک لگا دیا ، میں بھول گئی اور بعد میں یاد آیا تو آپ لنک منسلک کر چکے تھے۔اس کے لیے شکریہ۔اللہ آپ کو خوش رکھے۔امین
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 06، 2013 #8
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77


    کس چیز کا لنک بہن؟ اگر میری "متنازعہ" پوسٹ کی بات کر رہی ہیں تو وہ میں نے تدوین نہیں کی لنک پوسٹ کے وقت ہی دیا تھا اور لنک بھی محدث فتویٰ کا ہے کسی اور ویب سائٹ کا نہیں۔ تاہم جو سوالات میں نے کئے ہیں ان کے جواب اللہ کرے مجھے مل جائیں۔ ابتسامہ
    جزاکِ اللہ خیرا کہ آپ نے یہ پوسٹ ہمارے ساتھ شیئر کی۔
     
  9. ‏جون 06، 2013 #9
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم


    اگر آپکا یہ اشارہ میری طرف ھے تو محترم آپکے سوال غیر متعلقہ تھے اس لئے خاموشی اختیار کرنا ہی ضروری سمجھا، اس پر دو آئیکون جس پر ایک میں کراس لگا ھے اور دوسرے میں بکس، ان انڈیکیٹر کا استمعال کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتا کہ کسی صاحب مراسلہ کی دل آزاری نہ ہو۔

    اللہ ماشا اللہ میں نے اپنے مراسلے میں آپکے کسی بھی مراسلہ کی عبارت کوٹ نہیں کی اور نہ ہی آپکو مخاطب کیا ھے اس لئے آپکے سوالات پر میں کیا جواب پیش کرتا۔

    والسلام
     
  10. ‏جون 07، 2013 #10
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    ابتسامہ
    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں