• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلسلہ وار مجلہ اھل الحدیث ملتان کا تعارف

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

میں اپنے دینی بھائیوں کو یہ خبر دیتے ہوئے نہایت مسرت اور فخر محسوس کررہا ہوں کہ مسلک اہل حدیث کی سچی ترجمانی کرنے والے مجلات کی فہرست میں شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ کی زیر ادارت ایک نئے مجلے کا اضافہ ہوا ہے۔یہ مجلہ دیگر مجلات کی بنسبت کچھ منفرد اور جداگانہ خصوصیات کا حامل ہے جس کی بناء پر اسکے خصوصی تعارف کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جن میں چند ایک یہ ہیں۔

1۔ اس مجلے کا قیمتی حصہ اسکا دینی سوال جواب پر مشتمل مستقل سلسلہ ہے۔ویسے تو یہ اہم کام بہت سے علمائے کرام کررہے ہیں لیکن شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ کا انداز سب سے جداگانہ ہے اور انکے فتوؤں میں مجتہدانہ رنگ صاف اور جابجا نظر آتا ہے اور یہی بات انکے فتوؤں کو منفرد اور قیمتی بناتی ہے۔

2۔ شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا اہم مضمون بھی اس دینی رسالے کی زینت ہے۔ شیخ کفایت اللہ سنابلی کا تعلق ہندوستان سے ہے اور انکے خوبصورت مضامین وہاں کے رسالوں کی قدروقیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔لیکن پاکستانی قارئین انکے علمی کارناموں سے واقف نہیں کیونکہ سب کی رسائی نیٹ تک نہیں اور بہت سوں کے لئے کسی اہل علم کے تعارف اور اسکی تحاریر سے استفادہ کا ذریعہ دینی رسائل ہی ہیں جو انکے اپنے ملک میں شائع ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس مفید سلسلے کا آغاز اس مجلے سے ہوا ہے اور آئندہ بھی شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کے علمی مضامین اس رسالے کا حصہ ہونگے۔ ان شاء اللہ

3۔ اس رسالے کی ایک بہت ہی خاص بات جو ہر قاری کو اسکے مطالعہ کے دوران معلوم ہوگی وہ اسکی حق بیان کرنے میں بے باکی اور کھرا پن ہے جو کہ اس رسالے کے مدیر کی جراء ت اور بہادری کا مرہون منت ہے۔اکثر دینی مجلات ایسے مضامین کا اشاعت سے گریز کرتے ہیں جس میں مخالفین کی رعائیت کئے بغیر دو ٹوک اندا ز میں تنقید کی گئی ہو اسکے برعکس مخالفین علی الاعلان اہل حق پر سب و شتم کرتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا ۔ راقم الحروف نے اپنے کچھ مضامین اہل حدیث کے قدیم ترین مجلے ''صحیفہ اہل حدیث'' میں بھیجے تھے لیکن صرف دو مضامین کی اشاعت کے بعد رسالے کی انتظامیہ نے معذرت کرلی کہ ہم اختلافی موضوع پر کوئی مضمون شائع نہیں کرینگے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حق بیان کرنے میں لوگ کس قدر خوف زدہ ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ کو کسی مصلحت یا نام نہاد حکمت سے پرہیز کرتے ہوئے اسی طرح دو ٹوک انداز میں حق بیان کرنے اور پھیلانے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

میری نظر میں اس رسالے کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اسکا نام ''اھل الحدیث''اگرچہ دیگر رسالوں سے مختلف ہے لیکن پہلے سے موجود اور ملتے جلتے ناموں میں یہ کہیں گم ہوجاتا ہے جیسے الحدیث، دعوت الحدیث، صحیفہ اہل حدیث، اہل حدیث وغیرہ ۔ دیگر ملتے جلتے ناموں کی وجہ سے قاری کو اسکا نام یاد رکھنا مشکل ہے۔

آپ تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس رسالے کاضرور مطالعہ کریں اور اپنی قیمتی آراء سے نوازیں۔ جزاک اللہ


اسی صفحہ پر پی ڈی ایف میں آن لائن پڑھنے کا آپشن بھی موجود ہے​
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,086
پوائنٹ
1,155
وعلیکم السلام
جزاک اللہ خیرا شاہد نزیر بھائی
بہت ہی اچھا اور علمی رسالہ ہے، میں نے ایک ہی وقت میں سارا پڑھ لیا، علمی موضوعات پر مبنی یہ رسالہ ہر مہینے نیا آنے پر آپ پوسٹ کر دیا کریں۔
اس میں ایک آپ کا اپنا بھی موضوع نظر آیا، غیر مقلد کی کہانی مقلد کی زبانی کے نام سے تھا شاید، بھائی میں اس پر تبصرہ کروں ، آپ برا تو نہیں منائیں گے، آپ کا یہ تھریڈ معلوماتی ضرور تھا لیکن اس میں کوئی علمی جھلک نظر نہیں آئی، احناف کا اہلحدیث حضرات کو غیر مقلد کہہ کر گالیاں دینا کوئی نیا طریقہ نہیں، ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، جس کے پاس جو کچھ ہو گا وہ وہی کچھ نکالے گا، لہذا ہمیں علمی نکات کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ جزاک اللہ خیرا

شیخ رفیق طاھر بھائی کے سوالات و جوابات بھی پڑھے، اس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے خواتین کو قبرستان جانے کی اجازت کے جواز میں فتویٰ دیا، جبکہ اس کے برعکس عرب علماء اس معاملے میں بہت سخت ہے، وہ قبرستان جانے والی خاتون کو ملعون قرار دیتے ہیں، اور ان کے پاس بھی دلائل ہیں، اب پتہ نہیں راجح موقف کیا ہے؟

شیخ کفایت اللہ سنابلی صاحب کا مضمون البتہ بہت ہی اچھا تھا، انہوں نے آج کے دور میں نام نہاد مفاہمت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مفاہمت نہیں مداہنت ہے، جسے آج کل بہت سارے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنائے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ اس کے نقصانات سے واقف نہیں شاید۔ اللہ سے ہدایت کا سوال ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کی کوششیں قبول فرمائے آمین۔
جزاکم اللہ خیرا
 

محمد شاہد

سینئر رکن
شمولیت
اگست 18، 2011
پیغامات
2,510
ری ایکشن اسکور
6,022
پوائنٹ
447
ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ
ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﯿﺮﺍ ﺷﺎﮨﺪ ﻧﺰﯾﺮ
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
وعلیکم السلام
جزاک اللہ خیرا شاہد نزیر بھائی
بہت ہی اچھا اور علمی رسالہ ہے، میں نے ایک ہی وقت میں سارا پڑھ لیا، علمی موضوعات پر مبنی یہ رسالہ ہر مہینے نیا آنے پر آپ پوسٹ کر دیا کریں۔
ان شاء اللہ ضرور۔

اس میں ایک آپ کا اپنا بھی موضوع نظر آیا، غیر مقلد کی کہانی مقلد کی زبانی کے نام سے تھا شاید، بھائی میں اس پر تبصرہ کروں ، آپ برا تو نہیں منائیں گے، آپ کا یہ تھریڈ معلوماتی ضرور تھا لیکن اس میں کوئی علمی جھلک نظر نہیں آئی، احناف کا اہلحدیث حضرات کو غیر مقلد کہہ کر گالیاں دینا کوئی نیا طریقہ نہیں، ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، جس کے پاس جو کچھ ہو گا وہ وہی کچھ نکالے گا، لہذا ہمیں علمی نکات کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ جزاک اللہ خیرا
جزاک اللہ بھائی آپ نے اپنے قیمتی تبصرے و مشورے سے نوازا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مثبت تنقید کی ہے۔ میرے بارے میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھئیے گا میں اپنے بارے میں سچ سننا پسند کرتا ہوں اور جو مجھ پر تنقید کرتا ہے چاہے وہ تنقید کتنی ہی سخت ہو میں اس سے خوش ہوتا ہوں کیونکہ اس سے اپنی غلطیاں سدھارنے کا موقع ملتا ہے پھر ایک سچے دوست کی پہچان ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ خلوص سے آپکی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

مضمون کے سلسلے میں عرض ہے کہ یہ علمی نہیں بلکہ الزامی مضمون ہے میری نظر میں ایسے مضامین کی بھی سخت ضرورت ہے کیونکہ باطل پرست جس طرح کے غیرعلمی اعتراضات کرتے ہیں ہم اسے جاہلانہ اعتراضات قرار دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بات میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی ان جاہلانہ اعتراضات سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ میری جب اپنے آفس کے پڑھے لکھے دوستوں سے بحث ہوتی ہے تو میں حیران رہ جاتا ہوں کہ میری معقول اور بادلائل باتیں انہیں سمجھ میں نہیں آتی لیکن امین اوکاڑوی کے جاہلانہ مغالطے انہیں بہت معقول اور علمی محسوس ہوتے ہیں اور وہ مسلسل مجھ سے انکے جواب کے طالب رہتے ہیں جیسے امین اوکاڑوی کا یہ سوال کہ آپ لوگ سوسال پہلے اہل حدیث کے نام سے اپنےکسی ایک مدرسے اور مسجد کا نام بتاؤ۔ حالانکہ یہ ایک بے ہودہ سوال ہے لیکن جب کوئی ایسا شخص جس کو آپ مسلک اہل حدیث کی دعوت دے رہے ہوں ایسا سوال کرے گا تو آپکو چاروناچار اس کا جواب دینا ہوگا اور ظاہر ہے کہ اسکا جواب علمی یا معقول تو نہیں ہوسکتا اس کے لئے آپکو الزامی جواب سے ہی اسے مطمئن کرنا ہوگا۔

ایک طویل عرصہ تک اہل حدیثوں نے امین اوکاڑوی کی تحریروں اور اعتراضات کو جہالت کا انبار سمجھ کر کوئی جواب نہیں دیا لیکن آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ امین اوکاڑوی کی جاہلانہ باتوں اور تحریروں نے کتنے لوگوں کو گمراہی کے گڑھے میں پھینک دیا۔ الحمدللہ جب سے ماہنامہ الحدیث کا اجراء ہوا ہے تو امین اوکاڑوی کی کچھ باتوں کا جواب دیا گیا ہے۔ جوکہ میری نظر میں بہت اہم اور مفید کام ہے۔ بہرحال یہ میرا نقطہ نظر تھا آپ کو بھی اس سے اتفاق ہو یہ ضروری نہیں۔

شیخ رفیق طاھر بھائی کے سوالات و جوابات بھی پڑھے، اس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے خواتین کو قبرستان جانے کی اجازت کے جواز میں فتویٰ دیا، جبکہ اس کے برعکس عرب علماء اس معاملے میں بہت سخت ہے، وہ قبرستان جانے والی خاتون کو ملعون قرار دیتے ہیں، اور ان کے پاس بھی دلائل ہیں، اب پتہ نہیں راجح موقف کیا ہے؟
آپ نے شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ کے جواب کو غور سے نہیں پڑھا انہوں نے اس کا بہترین جواب دیا ہے اور ان دونوں باتوں میں تطبیق دی ہے کیونکہ احادیث میں عورتوں کو قبرستان جانے کی اجازت بھی دی گئی ہے اور اس سے روکا بھی گیا ہے۔ تطبیق یہ ہے کہ عورتوں کا کثرت سے قبرستان جانا منع ہے جبکہ کبھی کبھی قبرستان جانے کی اجازت ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,086
پوائنٹ
1,155
ان شاء اللہ ضرور۔

جزاک اللہ بھائی آپ نے اپنے قیمتی تبصرے و مشورے سے نوازا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مثبت تنقید کی ہے۔ میرے بارے میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھئیے گا میں اپنے بارے میں سچ سننا پسند کرتا ہوں اور جو مجھ پر تنقید کرتا ہے چاہے وہ تنقید کتنی ہی سخت ہو میں اس سے خوش ہوتا ہوں کیونکہ اس سے اپنی غلطیاں سدھارنے کا موقع ملتا ہے پھر ایک سچے دوست کی پہچان ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ خلوص سے آپکی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

مضمون کے سلسلے میں عرض ہے کہ یہ علمی نہیں بلکہ الزامی مضمون ہے میری نظر میں ایسے مضامین کی بھی سخت ضرورت ہے کیونکہ باطل پرست جس طرح کے غیرعلمی اعتراضات کرتے ہیں ہم اسے جاہلانہ اعتراضات قرار دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بات میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی ان جاہلانہ اعتراضات سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ میری جب اپنے آفس کے پڑھے لکھے دوستوں سے بحث ہوتی ہے تو میں حیران رہ جاتا ہوں کہ میری معقول اور بادلائل باتیں انہیں سمجھ میں نہیں آتی لیکن امین اوکاڑوی کے جاہلانہ مغالطے انہیں بہت معقول اور علمی محسوس ہوتے ہیں اور وہ مسلسل مجھ سے انکے جواب کے طالب رہتے ہیں جیسے امین اوکاڑوی کا یہ سوال کہ آپ لوگ سوسال پہلے اہل حدیث کے نام سے اپنےکسی ایک مدرسے اور مسجد کا نام بتاؤ۔ حالانکہ یہ ایک بے ہودہ سوال ہے لیکن جب کوئی ایسا شخص جس کو آپ مسلک اہل حدیث کی دعوت دے رہے ہوں ایسا سوال کرے گا تو آپکو چاروناچار اس کا جواب دینا ہوگا اور ظاہر ہے کہ اسکا جواب علمی یا معقول تو نہیں ہوسکتا اس کے لئے آپکو الزامی جواب سے ہی اسے مطمئن کرنا ہوگا۔

ایک طویل عرصہ تک اہل حدیثوں نے امین اوکاڑوی کی تحریروں اور اعتراضات کو جہالت کا انبار سمجھ کر کوئی جواب نہیں دیا لیکن آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ امین اوکاڑوی کی جاہلانہ باتوں اور تحریروں نے کتنے لوگوں کو گمراہی کے گڑھے میں پھینک دیا۔ الحمدللہ جب سے ماہنامہ الحدیث کا اجراء ہوا ہے تو امین اوکاڑوی کی کچھ باتوں کا جواب دیا گیا ہے۔ جوکہ میری نظر میں بہت اہم اور مفید کام ہے۔ بہرحال یہ میرا نقطہ نظر تھا آپ کو بھی اس سے اتفاق ہو یہ ضروری نہیں۔

آپ نے شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ کے جواب کو غور سے نہیں پڑھا انہوں نے اس کا بہترین جواب دیا ہے اور ان دونوں باتوں میں تطبیق دی ہے کیونکہ احادیث میں عورتوں کو قبرستان جانے کی اجازت بھی دی گئی ہے اور اس سے روکا بھی گیا ہے۔ تطبیق یہ ہے کہ عورتوں کا کثرت سے قبرستان جانا منع ہے جبکہ کبھی کبھی قبرستان جانے کی اجازت ہے۔
جزاک اللہ خیرا شاہد نزیر بھائی
آپ نے صحیح کہا ہے۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
شاہد نذیر بھائی !
میرا مشورہ یہ ہے کہ اس رسالے کے تمام مضامیں چونکہ یونیکوڈ میں بھی موجود ہوتے ہیں لہذا ان کو یہاں فورم پر بھی لگادیا کریں ۔
ہر مضمون کو اس کے متعلقہ زمرے میں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک تو سب بھائی اس کو تفصیلا پڑھ لیں گے دوسرا اگر کوئی تبصرہ کرنا چاہیں تو بھی کرسکیں گے ۔
اب اس ایک ’’ لڑی ‘‘ میں دو مضامین پر تبصرہ تو شروع ہوچکا ہے ۔ جو کہ میرے خیال سے الگ الگ زمرے میں ہونا چاہیے تھا ۔
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
شاہد نذیر بھائی !
میرا مشورہ یہ ہے کہ اس رسالے کے تمام مضامیں چونکہ یونیکوڈ میں بھی موجود ہوتے ہیں لہذا ان کو یہاں فورم پر بھی لگادیا کریں ۔
ہر مضمون کو اس کے متعلقہ زمرے میں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک تو سب بھائی اس کو تفصیلا پڑھ لیں گے دوسرا اگر کوئی تبصرہ کرنا چاہیں تو بھی کرسکیں گے ۔
اب اس ایک ’’ لڑی ‘‘ میں دو مضامین پر تبصرہ تو شروع ہوچکا ہے ۔ جو کہ میرے خیال سے الگ الگ زمرے میں ہونا چاہیے تھا ۔
جزاک اللہ بہترین مشورہ ہے۔
کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا مضمون تو پہلے ہی اس فورم پر موجود ہے۔
اور حالیہ شمارہ میں میرا مضمون بھی پہلے ہی یہاں موجود ہے کافی تبصروں کے ساتھ ایک غیرمقلد کی کہانی مقلدین کی زبانی اور آئندہ بھی میرے تمام مضامین جو اس مجلے میں شائع ہونگے وہ پہلے ہی اس فورم پر موجود ہیں۔
باقی دیگر اہل علم کےمضامین کوشش کرونگا کہ یہاں شئیر کردوں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
جزاک اللہ بہترین مشورہ ہے۔
کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا مضمون تو پہلے ہی اس فورم پر موجود ہے۔
اور حالیہ شمارہ میں میرا مضمون بھی پہلے ہی یہاں موجود ہے کافی تبصروں کے ساتھ ایک غیرمقلد کی کہانی مقلدین کی زبانی اور آئندہ بھی میرے تمام مضامین جو اس مجلے میں شائع ہونگے وہ پہلے ہی اس فورم پر موجود ہیں۔
باقی دیگر اہل علم کےمضامین کوشش کرونگا کہ یہاں شئیر کردوں۔
بارک اللہ فیکم ۔

جو مضامین پہلے فورم پر موجود ہیں ان کے حوالے سے یہ بہتر رہے گا کہ آپ اس ’’ لڑی ‘‘ ( تھریڈ ) میں جاکر رسالے کا ’’ دھاگہ ‘‘ لگا دیں ۔ ایک تو وہ ’’ لڑی ‘‘ تازہ ہو جائے گی ۔ دوسرا اس ’’ لڑی ‘‘ کو دیکھنے والے یہ بھی جان سکیں گے کہ یہ مضمون فلاں رسالہ میں بھی شائع ہوچکا ہے ۔
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
Top