• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سماک بن حرب

شمولیت
دسمبر 17، 2016
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
48
امام دار قطنی رحمہ اللہ نے کہا:
" ولم یرفعه غیر سماك ،و سماك سىء الحفظ (علل الدارقطني ج١٣ ص ١٨٤)
ترجمہ: امام دار قطنی کہتے ہیں سماک کے علاوہ کسی نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا اور سماک سئ الحفظ(کمزور حافظہ والے) ہے۔

اب اگر کوئی کہے کہ امام دار قطنی کی اس جرح کا پس منظر سماک کا ثقہ راویوں سے مخالفت ہے اور امام دار قطنی نے موقوفا روایت کو راجح قرار دیا اور مرفوع روایت کو مجروح قرار دیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ سوء حفظ کہنے کی وجہ صرف دیگر ثقہ رواة کی مخالفت کی وجہ سے ہے ۔

ایسا کہنا نری دھوکہ دہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ امام دار قطنی کے الفاظ کو جب دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ امام دار قطنی کی جرح میں دو قول مختلف ہے۔
1۔ امام دار قطنی نے فرمایا کہ سماک بن حرب کے علاوہ کوئی اسے مرفوع روایت نہیں کرتا ۔

2۔اور سماک سئ الحفظ ہے۔

"و" کا لفظ یہ وضاحت کرتا ہے کہ یہ دو مختلف قول ہے۔

جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سماک بن حرب پر امام دار قطنی کا مفصل قول ہے کہ وہ سماک کو سئ الحفظ کہتے ہیں ۔

ہم یہ بھی بتا دیں کہ امام دار قطنی نے خود سماک کی خطا بتلائی ہے جسکا ہم نے پہلے بھی ذکر کیااور انہوں نے ایک حدیث کے تحت یہ بھی لکہا ہے کہ سماک اس حدیث میں اضطراب کا شکار ہوئے ہے اور اس حدیث کو سماک نے ابن ام ہانی سے روایت کیا نہ کہ عکرمہ سے۔
دیکہیے۔
"والاضطراب فیه من سماك بن حرب" (العلل الدار قطنی ج ١ ص ٣٦٦)

اسی طرح امام دار قطنی اپنی دوسری کتاب الالزامات میں کہتے ہیں
وكان سماك يضطرب فيه والله اعلم بالصواب(الإلزامات والتتبع للدارقطني ج١ ص ٢٣٢)

امام دار قطنی نے سماک کے اضطراب کی بات جو کہی یے وہ عکرمہ کے علاوہ کی حدیث میں کہی ہے اوپر نقل کردہ قول سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سماک امام دار قطنی کے نزدیک مضطرب بھی تھے۔

اب اگر کوئ کہے کہ امام دار قطنی کا سماک کو سئ الحفظ کہنا آخری عمر میں مختلط ہونا ہے تو اس کی کیا حقیقت ہے خود دارقطنی رحمہ اللہ کے قول سے دیکھتے ہیں ۔

امام دار قطنی نے سئ الحفظ کی جرح کس پس منظر میں کی ہے اور مختلط ہونے کے بعد کی روایت میں کی یے یا مختلط ہونے سے پہلے بیان کرنے والی روایت میں کی یے؟؟
چلیے ہم اسے دیکھ لیتے ہیں ۔

وسئل عن حديث سعيد بن جبير، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم إذا اشتريت ذهبا بفضة فلا تفارق صاحبك وبينك وبينه لبس.
فقال: اختلف في رفعه على سعيد بن جبير؛
فرواه سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، مرفوعا.
حدث به عنه أبو خالد الدالاني، وأبو الأحوص، وإسرائيل، والثوري، وعمر بن رزين، وحماد بن سلمة، ومحمد بن جابر.
وقال عمر بن عبيد: حدثنا سماك، أو عطاء بن السائب، والصواب: سماك.
وخالفه داود بن أبي هند، فرواه عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، موقوفا.
وكذلك رواه سعيد بن المسيب، ونافع، عن ابن عمر، موقوفا.
ولم يرفعه غير سماك، وسماك سيء الحفظ.(علل الدارقطنی رقم 3072 ج 13 ص 184 )


اب یہاں دیکھیے سماک بن حرب سے کس کس نے یہ روایت بیان کی ہے۔
حدث به عنه أبو خالد الدالاني، وأبو الأحوص، وإسرائيل، والثوري، وعمر بن رزين، وحماد بن سلمة، ومحمد بن جابر.

سماک سے اس حدیث کو بیان کرنے والے ابو خالد الدالانی ابو الاحوص، اسرائیل اور سفیان الثوری عمر بن زرین اور حماد بن سلمہ اور محمد بن جابر۔
اب دیکھیں ان میں سے کس کس کا سماع سماک بن حرب کے اختلاط سے پہلے کا ہے۔

سماك بن حرب إذا حدث عنه شعبه والثوري و ابو الاحوص فاحاديثهم عنه سليمة،وما كان عن شريك ابن عبدالله و حفص بن جميع ونظرائهم، ففي بعضها نكارة(سوالات السلمی للدارقطنی ص 189 )

سماک بن حرب سے جب شعبہ ،سفیان ثوری اور ابو الاحوص روایت کریں تو سماک سے ان کی احادیث سالم ہیں اور شیخ کفایت اللہ خود "سلیم" کا ترجمہ "صحیح" کا کرتے ہیں۔اور سماک سے جو روایات شریک بن عبداللہ اور حفص بن جمیع ان جیسے لوگ روایت کریں تو ان میں سے بعض میں نکارت ہے۔(نیز دیکہیں انوار البدر ص 128 )

دیکھیے ثابت ہو گیا جس حدیث کے تحت امام دار قطنی نے سماک کو سئ الحفظ کہا اس کو سفیان الثوری نے سماک سے روایت کیا اور سفیان ثوری کا سماک سے سماع سالم ہے۔
اسی طرح امام شعبہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی سماک کی خطا بتلائی ہے کہ سماک کے علاوہ کوئی بھی اسے مرفوع بیان نہیں کرتے۔(الجرح والتعدیل ج ١ ص ١٥٨)


لہذا اس طرح سے کہنا درست نہیں کہ امام دار قطنی کا سماک بن حرب کو سئ الحفظ کہنا اخیر میں مختلط ہونا ہے۔

اب اگر کوئی کہے کہ امام دار قطنی نے خود سماک کی حدیث کو صحیح کہا تو ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَطْحَاءَ , وَآخَرُونَ قَالُوا: نا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عِنْدَكِ شَيْءٌ؟» , قُلْتُ: لَا , قَالَ: «إِذًا أَصُومُ» , وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ , فَقَالَ: «أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟» , قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: «إِذًا أُطْعِمُ وَإِنْ كُنْتُ قَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ». هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ(سنن الدارقطنی ج 3 ص 136 رقم 2233)
یہ روایت سماک بن حرب عن عکرمہ سے ہے۔
خیر امام دار قطنی کا یہاں پر حدیث کو اسناد حسن صحیح کہنے کو ہم تعدد طرق پر احتمال کرتے ہیں اور یہ ضمنی توثیق ہے اور شیخ ارشاد الحق اثری ضمنی توثیق کے بارے میں کہتے ہیں کہ ضمنی توثیق کا حتمی طور پر اعتبار نہیں کیا جائیگا جس کو انہوں نے مثالوں سے بتلایا ہے ہم وہ تمام مثالیں یہاں پیش کردیتے ہیں۔

1۔امام دار قطنی رحمہ اللہ نے روایت ذکر کی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہر اعضاء کو وضو میں تین تین مرتبہ دھویا حتی کہ سر کا مسح بھی تین مرتبہ کیا۔
امام دار قطنی کہتے ہیں کہ یہ روایت درست نہیں ہے کیونکہ اس کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ خالد بن علقمہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ
"مسح برأسه ثلاثه " بیان کرتے ہیں جبکہ " خالفه جماعت من الحفاظ الثقات منهم زائدہ بن قدامه و سفيان الثوري و شعبه و ابو عوانه و شريك و ابو الأشهب جعفر بن الحارث ..............وحجاج بن ارطاة و ابان بن تغلب" (سنن الدا قطنی باب صفة وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم )
تو اس سے یہ مفہوم نکلےگا کہ حجاج بن ارطاة کو بھی ثقہ حفاظ میں شمار کیا ہے لیکن یہ درحقیقت توثیق ضمنی ہے۔ شیخ ارشاد الحق اثری کہتے ہیں کیا حجاج بن ارطاة اور ابو الأشهب جعفر بن الحارث كو ثقہ سمجھا جائیگا ؟؟جبکہ حجاج بن ارطاة کو امام دار قطنی نے "ضعیف لا یحتج بہ"اور جعفر بن حارث کو "یعتبر بہ" کہا ۔
شیخ کہتے ہیں اب کہاں ثقہ اور کہاں یعتبر بہ اور کہتے ہیں۔

2۔اسی طرح سے نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ؟اس کے تحت امام دار قطنی فرماتے ہیں
"فهولاء خمسة ثقات رواه عن قتادة عن أبي عاليه مرسلا "
پانچ ثقہ راوی اس کو مرسلا روایت کرتے ہیں جن میں معمر ،ابو عوانہ،سعید ابن ابی عروبہ ، سعید بن بشیر ہیں اور دیکہا جائے تو امام دار قطنی نے خود سعید بن بشیر کو لیس بالقوی فی الحدیث کہا اس لیے اکٹھا کہنے کی وجہ سے ضمنا ثقہ کہے دیا لہذا شیخ ارشاد الحق اثری کہتے ہیں لہذا اس قسم کی توثیق ضمنی ہر ہر راوی کی توثیق کو متمضن نہیں ہوتی۔

3۔اسی طرح شیخ ارشاد الحق اثری ایک اور مثال دیتے ہیں امام محمد بن حسن الشیبانی سے کہ امام دار قطنی رفع الیدین کی حدیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں ۔
"حدث بہ عشرون نفرا من الثقات الحفاظ"
یعنی بیس کے قریب ثقہ راوی اس روایت کو بیان کرتے ہیں جن میں یحی بن سعید القطان ،محمد بن حسن اور عبداللہ بن المبارک وغیرہ روایت کرتے ہیں آگے شیخ ارشاد الحق اثری کہتے ہیں اب لسان یا میزان اٹھاکر دیکھ لیں محمد بن حسن کا ترجمہ میں امام دار قطنی کی جرح کیا ہے ۔
شیخ کہتے ہیں کیا امام دار قطنی کی ضمنی توثیق کے پیش نظر ان کو ثقہ حفاظ میں شمار کرلیا جائے؟؟
آگے شیخ ارشاد الحق اثری کہتے ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی ضمنی توثیق کو حتمی طور پر تعدیل پر وقف نہیں کر سکتے دیکھنا چاہیے کہ اس پر انکا مفصل اور بنیادی قول کیا ہے۔

سماک بن حرب پر امام دار قطنی کا مفصل قول ہے کہ سماک سئ الحفظ ہے (علل الدار قطنی ج13 ص 174)اور
اسی طرح امام دار قطنی اپنی دوسری کتاب الالزامات میں کہتے ہیں
وكان سماك يضطرب فيه والله اعلم بالصواب(الإلزامات والتتبع للدارقطني ج١ ص ٢٣٢)
 
شمولیت
دسمبر 17، 2016
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
48
امام احمد رحمہ اللہ (المتوفی :241 )
سماک کو مضطرب الحدیث کہا(الجرح والتعدیل ج 4 ص 279 و اسنادہ صحیح )
یعنی وہ حدیث بیان کرنے میں اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں
کوئی کہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کی اس جرح کا تعلق ان کے شاگرد امام اثرم نے امام احمد کی جرح ان الفاظ میں نقل کی۔
حدیث سماک مضطرب عن عکرمہ (النفح الشذی ص 326 )
یہ قول جہاں سے لیا گیا ہے وہاں امام احمد کا نام ہی موجود نہیں۔ اگر ہو سکے تو امام احمد کے نام کے ساتھ یہ قول پیش کریے
دوسری بات اگر یہ امام اثرم کا قول ہو بھی تو ان کی اصل کتاب میں تو ہمیں یہ قول نہیں ملا ۔
کوئی کہتے ہیں دیگر محدثین نے بھی اضطراب والی جرح خاص کر عکرمہ کی سند پر کی ہے چلیے ان محدثین کے اقوال کا جائزہ لیتے ہیں۔

وقال يعقوب بن شيبة قلت لابن المديني رواية سماك عن عكرمة فقال مضطربة(تہذیب التہذیب ج 4 ص 233 )
ترجمہ: یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں میں نے ابن المديني سے کہا سماک کی عکرمہ سے روایت تو ابن المدینی نے کہا مضطرب ہے
بے شک سماک کی عکرمہ سے روایت مضطرب ہے اس پر تو ہم متفق ہے اب یہاں یعقوب بن شیبہ کے سوال پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ سوال میں تخصیص کی گئی تھی کہ سماک کی عکرمہ سے روایت تو ابن المدینی نے وہی جواب دیا کہ مضطرب ہے
اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ صرف عکرمہ سے ہی سماک کی روایت مضطرب ہے یہ ٹھیک نہیں۔

وروايته عَنْ عكرمة خاصة مضطربة (تهذيب الكمال ج١٢ص١٢٠ )
ترجمہ :يعقوب بن شيبہ نے خاص طور پر سماک کی عکرمہ سے روایت کو مضطرب بتلایا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا:
صدوق وروایتہ عن عکرمہ خاصة مضطربة
آپ صدوق ہیں اور خاص عکرمہ سے روایت مضطرب ہے۔(تقریب التہذیب رقم 2624 )

اب ان اقوال کے تحت کوئی کہے کہ صرف عکرمہ کی روایت میں مضطرب ہے تو یہ درست نہیں کیونکہ محدثین کے اقوال سے معلوم ہوتا سماک ،عکرمہ کے علاوہ کی حدیث میں بھی اضطراب کا شکار ہوئے ہیں ۔

امام نسائی نے اور امام ذہبی وغیرہ نے سماک سے عکرمہ کےعلاوہ کی حدیث میں بھی اضطراب بتلایا ہے
امام نسائی سنن الکبری میں روایت کرتے ہیں
أخبرنا محمد بن عبد الأعلى قال: حدثنا خالد قال: حدثنا حاتم، عن سماك، عن أبي صالح قال: لما افتتح رسول الله مكة فكان أول بيت دخله بيت أم هانئ فدعا بماء فشرب، وكانت أم هانئ عن يمينه فدفع فضله إلى أم هانئ فشربته أم هانئ ثم قالت: يا رسول الله، والله لقد فعلت فعلة، والله ما أدري أصبت أم لا، إني شربت فضل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أقضاء من رمضان أو تطوع؟» قلت: يا رسول الله، بل تطوع، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن المتطوع بالخيار إن شاء صام وإن شاء أفطر»(سنن الکبری ج ٣ ص٣٦٨)
دیکھیے یہ حدیث سماک عکرمہ کے علاوہ سے روایت کر رہے ہیں
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام نسائی ابو عبدالرحمن کا قول نقل کرتے ہیں کہ
هذا الحديث مضطرب
یہ حدیث مضطرب ہے
نوٹ :ابو عبدالرحمن (احمد بن بکار بن ابی میمونہ )
حافظ ابن حجر کہتے ہیں
صدوق كان له حفظ
ترجمہ : صدوق حفظ حدیث کے ساتھ متصف راوی ہے
امام نسائی کہتے ہیں
لا باس بہ
اس میں کوئی حرج نہیں

امام ذہبی :
امام ذہبی میزان الاعتدال میں ایک راویہ کی حدیث کے تحت فرماتے ہیں
(10984) – قرصافة [س] .

تفرد عنها سماك بن حرب.قال النسائي: هذا غير ثابت.وقرصافة لا يدرى من هي.والحديث عن سماك مضطرب

ترجمہ : سماک بن حرب اس کو روایت کرنے میں منفرد ہے امام نسائی کہتے ہیں یہ ثابت نہیں اور قرصافة کے بارے میں معلوم نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے اور سماک سے اس حدیث کا منقول ہونا بھی مضطرب ہے۔
یعنی امام ذہبی بھی امام نسائی اور ابو عبدالرحمن کی تائید کررہے ہیں
اس سے معلوم ہوا سماک کو محدثین نے غیر عکرمہ کی روایت میں بھی مضطرب کہا ہے

امام دار قطنی:
امام دار قطنی نے بھی سماک بن حرب میں عکرمہ سے علاوہ کی روایات میں اضطراب بتلایا ہے۔

والاضطراب فيه من سماك بن حرب (العلل دار قطنی ج١ ص ٣٦٦)
اس میں اضطراب سماک بن حرب سے ہے
اسی طرح امام دار قطنی اپنی دوسری کتاب الالزامات میں کہتے ہیں
وكان سماك يضطرب فيه والله اعلم بالصواب(الإلزامات والتتبع للدارقطني ج١ ص ٢٣٢)

ابن ابی حاتم اپنے والد سے امام احمد کا قول نقل کرتے ہیں

قلت له قال أحمد بن حنبل سماك اصلح حديثا من عبدالملك بن عمير


امام احمد کہتے ہیں سماک بن حرب یہ عبدالملک بن عمیر سے بہتر حدیث والے ہیں (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ٤\٢٧٩، واسناده صحيح )
اب ہم دیکہتے ہیں کہ امام احمد کے نزدیک دونوں کا کیا مقام ہے
عبدالملک بن عمیر کو امام احمد کہتے ہیں

وقال علي بن الحسن الهسنجاني : سمعت أحمد بن حنبل يقول : عبدالملك بن عمير ، مضطرب الحديث جدا (موسوعة اقوال الإمام احمد بن حنبل في رجال الحديث ج٢ ص ٣٨٩)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں عبدالملک بن عمیر یہ بہت زیادہ اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
اور سماک بن حرب کے بارے میں امام احمد فرماتے ہیں یہ حدیث میں اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ٤\٢٧٩)

ان دونوں اقوال سے معلوم ہوا امام احمد کے نزدیک عبدالملک بن عمیر یہ سماک سے بہت زیادہ مضطرب راوی ہے اور سماک ان سے بہتر ہے لیکن وہ بھی مضطرب ہے لیکن عبدالملک جیسے نہیں ہاں ہیں دونوں بھی مضطرب الحدیث ۔

امام ابو بکر الجساس :
امام ابو بکر الجساس ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں

وَهَذَا حَدِيثٌ مُضْطَرِبُ السَّنَدِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا، فَأَمَّا اضْطِرَابُ سَنَدِهِ فَإِنَّ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ يَرْوِيهِ مَرَّةً عَمَّنْ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ، وَمَرَّةً يَقُولُ هَارُونُ ابْنُ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنُ ابْنَةِ أُمِّ هَانِئٍ، وَمَرَّةً يَرْوِيهِ عَنْ ابْنَيْ أُمِّ هَانِئٍ، وَمَرَّةً عَنْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَهْلُنَا. وَمِثْلُ هَذَا الِاضْطِرَابِ فِي الْإِسْنَادِ يَدُلُّ عَلَى قِلَّةِ ضَبْطِ رُوَاتِهِ(الاحکام القرآن للجساس ج١ ص ٢٩٦)


امام ابو بکر الجساس کہتے ہیں یہ حدیث مضطرب ہے سند اور متن دونوں کے اعتبار سے اور دیکھا جائے تو یہ بھی حدیث سماک کی غیر عکرمہ سے مروی ہے

ابن رجب حنبلی :
ابن رجب حنبلی رح شرح علل الترمذی میں ایک باب قائم کرتے ہیں اور اس کا عنوان دیتے ہیں
"وممن يضطرب في حديثه "

اس عنوان کے تحت ابن رجب سب سے پہلے سماک اور عاصم بن بہدلہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وقد ذكر الترمذي أن هؤلاء وأمثالهم ممن تكلم فيه من قبل حفظه، وكثرة خطئه لا يحتج بحديث أحد منهم إذا انفرد. يعني في الأحكام الشرعية والأمور العلمية، وأن أشد ما يكون ذلك إذا اضطرب أحدهم في الإسناد
ترجمہ : ابن رجب فرماتے ہیں امام ترمذی نے ذکر کیا ہیکہ یہ اوران ہی کی طرح وہ جو حافظہ کی وجہ سے اور کثرتِ خطا کی وجہ سے متکلم فیہ ہین ان مین سے کسی کی بھی حدیث سے احکامِ شرعیہ اور امورِ علمیہ مین دلیل نہین لی جائیگی جب کہ وہ منفرد ہوں اور بات اس وقت اور بھی سخت ہو جائیگی جب ان مین سے کوئ سند مین مضطرب ہو۔(شرح علل الترمذی ج 1 ص 141)

یعنی خود ابن رجب کہتے ہیں کہ سماک ان راویوں میں ہیں جن سے احکام شرعیہ اور امور علمیہ میں دلیل نہیں کی جائیگی جب وہ روایت کرنے میں منفرد ہو ۔

اسی طرح شرح علل الترمذی کے محقق کتاب میں ایک جگہ حاشیہ میں کہتے ہیں سماک مضطرب ہے اور خاص عکرمہ کی روایت میں (شرح علل الترمزی ج 1 ص 423)

یعنی کے محقق نے صاف لفظوں میں کہا سماک مضطرب تو ہے اور خاص عکرمہ کی روایت میں بھی ہے

یعقوب بن شیبہ:

قال يعقوب: وروايته عَنْ عكرمة خاصة مضطربة، وهو فِي غير عكرمة صالح، وليس من المتثبتين
ترجمہ : امام یعقوب کہتے ہیں سماک کی خاص عکرمہ سے روایت مضطرب ہے اور غیر عکرمہ میں وہ درست ہے پر مضبوط نہیں (تہذیب الکمال ج 1 ص 120 )

امام یعقوب کے قول سے معلوم ہوتا ہے سماک عکرمہ سے روایت کرنے میں مضطرب تو ہے ہی اور غیر عکرمہ میں درست ہے لیکن پہر بھی مضبوط نہیں یعنی ان سے حجت پکڑنے کےقابل نہیں ۔

ان تمام محدثین سے معلوم ہوا سماک مضطرب تو ہے ہی اور جب عکرمہ سے روایت کرے تو تب بھی مضطرب ہے اور امام احمد کا قول سماک مضطرب ہے اس کو دوسرے محدثین کے اقوال سے صرف عکرمہ کے ساتھ خاص کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔واللہ اعلم
 
شمولیت
دسمبر 17، 2016
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
48
امام نسائی رحمہ اللہ (المتوفی :303 )نے کہا:
سماك لیس بالقوی وکان یقبل التلقین
سماک قوی نہیں ہے اور یہ تلقین کو قبول کرتے تھے۔(سنن النسائی 3/231)

اب ہیاں اگر کوئی کہے کہ سماک صرف عکرمہ کی روایت مین تلقین قبول کرتے تھے تو پہلے انہیں امام نسائی کا قول غور سے پڑھ لینا چاہیے کہ کیا امام نسائی نے یہاں کوئی قید لگائی ہے کہ سماک صرف عکرمہ کی روایت میں تلقین قبول کرتے تھے ۔نہیں ! اور امام نسائی خود جرح والتعدیل کے فن کے ماہر ہیں اور ان کے اقوال کو محدثین نے جابجا قبول کیا ہے۔
امام نسائی نے سنن الکبری میں خود سماک کی غیر عکرمہ کی روایت پر کلام کیا ہے اور غیر عکرمہ کی روایت میں تلقین قبول کرنے والی بات کہی ہے ۔

وسماك بن حرب ليس ممن يعتمد عليه إذا انفرد بالحديث لأنه كان يقبل التلقين،(سنن الکبری لنسائی ج ٣ ص ٣٦٧)

امام نسائی کہتے ہیں سماک بن حرب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا جب وہ حدیث بیان کرنے میں منفرد ہو کیونکہ وہ تلقین قبول کرتے تھے ۔

اور اسی طرح ایک اور جگہ فرماتے ہیں ۔
سماك ليس بالقوي وكان يقبل التلقين (سن الكبري لنسائی ج٥ ص ١٠٥)
سماک قوی نہیں ہے اور وہ تلقین قبول کرتے تھے۔

امام نسائی نے جو فرمایا وہ جب منفرد ہو تو ان سے حجت نہیں لی جائیگی اس کی تائید امام ترمذی اور ابن رجب حنبلی رحمہم اللہ نے بھی کی ہے جس کو ہم نے امام احمد رحمہ اللہ کی جرح کے جائزہ میں دیکھا ۔

چنانچہ ابن رجب حنبلی رح شرح علل الترمذی میں ایک باب قائم کرتے ہیں اور اس کا عنوان دیتے ہیں ۔
"وممن يضطرب في حديثه "

اس عنوان کے تحت ابن رجب سب سے پہلے سماک اور عاصم بن بہدلہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وقد ذكر الترمذي أن هؤلاء وأمثالهم ممن تكلم فيه من قبل حفظه، وكثرة خطئه لا يحتج بحديث أحد منهم إذا انفرد. يعني في الأحكام الشرعية والأمور العلمية، وأن أشد ما يكون ذلك إذا اضطرب أحدهم في الإسناد
ترجمہ : ابن رجب فرماتے ہیں امام ترمذی نے ذکر کیا ہیکہ یہ اوران ہی کی طرح وہ جو حافظہ کی وجہ سے اور کثرتِ خطا کی وجہ سے متکلم فیہ ہین ان مین سے کسی کی بھی حدیث سے احکامِ شرعیہ اور امورِ علمیہ مین دلیل نہین لی جائیگی جب کہ وہ منفرد ہوں اور بات اس وقت اور بھی سخت ہو جائیگی جب ان مین سے کوئ سند مین مضطرب ہو۔(شرح علل الترمذی ج ١ ص ١٤١)
یعنی خود ابن رجب کہتے ہیں کہ سماک ان راویوں میں ہیں جن سے احکام شرعیہ اور امور علمیہ میں دلیل نہیں لی جائیگی جب وہ روایت کرنے میں منفرد ہو۔
ابن جریر الطبری بھی ایک جگہ محدثین کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہتے ہیں
وَهَذَا خبر - عندنَا - صَحِيح سَنَده، وَقد يجب أَن يكون على مَذْهَب الآخرين سقيما، غير صَحِيح، لعلل: -
إِحْدَاهَا: أَنه خبر لَا يعرف لَهُ عَن طَلْحَة، عَن رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ - مخرج إِلَّا من هَذَا الْوَجْه. وَالْخَبَر انْفَرد بِهِ - عِنْدهم - مُنْفَرد، وَجب التثبت فِيهِ {
وَالثَّانيَِة: أَنه عَن سماك، عَن مُوسَى، وَمن رِوَايَة إِسْرَائِيل عَنهُ} وَسماك - عِنْدهم - وَإِسْرَائِيل: مِمَّن لَا يثبت بنقلهما فِي الدّين حجَّة!(تہذیب الآثار الجزء المفقود حدیث نمبر ٦٢٢)


یہ خبر ہمارے نزدیک صحیح ہے لیکن دوسروں کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے اور کچھ علل فرمائے ہیں اور کہا سماک نے موسی کی سند سے روایت کیا ہے اور سماک و اسرائیل ان کے نزدیک ایسے ہیں کہ ان دونوں کی نقل کردہ روایت دین میں کوئی حجت نہیں ہے۔
ساتھ ہی ابن جریر نے یہ بھی کہا سماک منفرد ہے اور سماک کے منفرد ہونے سے حجت نہیں قائم کی جاسکتی
اگر کوئی کہے کہ ابن جریر نے خود اس خبر کو صحیح کہا ہے تو ابن جریر کو شیخ البانی نے تصحیح میں متساہل کہا ہے وہ بھی ابن حبان کی طرح دیکھیے

أقول: لم أره في القسم المطبوع من كتاب ابن جرير "تهذيب الآثار"، وقد تبين
لي من مطالعتي إياه: أنه متساهل في التصحيح نحو تساهل ابن حبان (سلسلة أحاديث الضعيفه ج ١٣ ص ٣٣٩ )

اسی طرح ابن حبان رحمہ اللہ نے سماک کو یخطيء کثیرا کہا ہے یہ بھی ان کے نزدیک ایسا ہے کہ وہ اگر منفرد ہو تو اس سے حجت نہیں لی جائیگی اس پر تفصیلی بحث ابن حبان کی جرح کے تعلق سے کی جائیگی ان شاءاللہ

امام نووی بھی ایک روایت کے تحت لکھتے ہیں
وفى رواته سماك، وإذا تفرد بأصل لم يكن حجة اللغة.(مجموعہ شرح المھذب ج ٢٠ ص ١٤٤)
سماك جب کسی روایت میں تفرد کرے تو ان سے حجت نہیں قائم کی جا سکتی۔

معلوم ہوا امام نسائی کی تفرد کی جرح میں وہ اکیلے نہیں ہیں ان کے ساتھ دوسرے محدثین بھی ہیں

لہذا جب سماک بن حرب کسی حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہو تو ان سے حجت نہیں قائم کی جائیگی۔
 
شمولیت
دسمبر 17، 2016
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
48
امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی :354 ) نے کہا :
یخطيء کثیرا
یہ بہت زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔(الثقات لابن حبان ج 4 ص 339 )

کوئی کہتے ہیں اگر یہ ثقہ ہے تو ان پر جرح کیوں کی۔
ہم بتا دیں کے سماک منفرد نہیں جن پر ابن حبان نے ثقات میں ذکر کرنے کے ساتھ یخطیء کثیرا کی جرح کی ہے۔
بہت سی رواة ہیں جنہیں الثقات میں ذکر کرنے کے ساتھ یخطیء کثیرا کی جرح کی ہے کچھ مثالیں پیش خدمت ہے
١-سدوس بن حبیب(الثقات ج٤ ص٣٤٩)
٢- شبيب بن بشر (الثقات ج ٤ ص ٣٥٩)
٣-مختار بن فلفل (الثقات ج ٥ ص ٤٢٩)
٤- يزيد بن درهم (الثقات ج ٥ ص ٥٣٨ )
٥-ربيعة بن سيف ( الثقات ج ٦ ص ٣٠١ )

کوئی کہتے ہیں ان کی توثیق اصطلاحی مراد نہیں ہوتی بلکہ محض دیانت داری مراد ہوتی ہے یعنی کہ ابن حبان نے انہیں دیانت داری کے لحاظ سے ثقہ بتلایا ہے اور ضبط کے لحاظ سے جرح کی ہے
ہم نے محدثین کے اقوال سے بتلایا ہے کہ سماک ضبط اور حفظ کے اعتبار سے کمزور ہے اور غلطیاں کرتے تھے اور یہ جرح کرنے میں ابن حبان منفرد نہیں ہے جیسا کہ امام دار قطنی نے بھی سماک پر سئ الحفظ کی جرح کی ہے (علل الدار قطنی ج ١٣ ص ١٨٤) اور ابن عمار الموصلی نے بھی محدثین کی طرف اشارہ کیا ہے وہ سماک کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ غلطی کرتے تھے (تاريخ بغداد ج ٩ ص٢١٤ واسناده صحيح ) اور ابن خراش نے بھی ان کی حدیثوں میں کمزوری بتلائی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ نے بھی کہا کہ سماک حدیث میں اضطراب کا شکار ہوجاتے تھے۔(الجرح والتعفیل لابن ابی حاتم ج ٤ ص ٢٧٩ )

نوٹ : یہاں امام احمد نے کوئی قید نہیں لگائی کہ کسی خاص سے روایت کرنے میں ہی اضطراب کا شکار ہوتے تھے بلکہ انہوں نے تو عموما کہا۔

لہذا ابن حبان جرح کرنے میں منفرد نہیں ہے اسلیے ان کی جرح معتبر ہوگی۔
ابن حبان کی ایک راوی پر اسطرح کی جرح کے تعلق سے شیخ البانی بھی کہتے ہیں

انه كان يخطىء حتى خرج عن حد الاحتجاج به إذا انفرد (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ج٢ ص ٣٠١ )
ترجمه : شیخ البانی کہتے ہیں کہ وہ غلطی کرتا تھا حتی کہ وہ احتجاج پکڑے جانے کے حد سے باہر نکل گیا۔

شیخ البانی جس راوی کے تعلق سے یہ کہے رہے ہیں اس پر تو صرف ابن حبان نے صرف غلطی کرنے کی جرح کی ہے جبکہ سماک پر تو کثیر غلطیاں کرنے کی جرح کی ہے تو سماک جس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہوتو کیسے ان سے حجت قائم کی جائیگی۔

کوئی کہتے ہیں ابن حبان نے خود اپنی جرح کا اعتبار نہیں کیا اور اپنی صحیح میں ان سے روایت لی ہے۔
اس طرح سے کہنا درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ حافظ ابن حجر النکت میں کہتے ہیں

احتجاج ابن خزيمة وابن حبان بأحاديث أهل الطبقة الثانية؛ الذين يخرج مسلم أحاديثهم في المتابعات: كابن إسحاق، وأسامة بن زيد الليثي، ومحمد بن عجلان، ومحمد بن عمرو بن علقمة، وغير هؤلاء، اهـ.

ابن خزیمۃ اور ابن حبان رحمہم اللہ نے طبقہ ثانیہ کے راویوں سے احتجاج کیا یے اور امام مسلم نے ان لوگوں سے احادیث متابعات میں لی ہے جن میں ابن اسحق، اسامہ بن زید اليثي اور محمد بن عجلان اور محمد بن عمرو بن علقمہ اور ان کے علاوہ سے۔

معلوم ہوا محدثین ایسے راویوں کے روایت متابعات میں لیتے تھے اور اگر ان میں سے کسی کا متابع موجود نہ ہو اس سے احتجاج نہیں کرتے تھے۔

لہذا ابن حبان کے نزدیک بھی سماک بن حرب کا درجہ یہ ہے کہ جب وہ منفرد ہو تو ان سے حجت قائم نہیں کی جاسکتی۔
 
شمولیت
دسمبر 17، 2016
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
48
بعض لوگ کہتے ہیں امام شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ہے اور وہ صرف ثقہ سے روایت کرتے تھے۔
امام شعبہ: روی عنه (صحیح مسلم:۲۲۴)

ہم کہتے ہیں اگر آپ اس قاعدہ سے متفق ہیں تو پہر مندرجہ ذیل رواة بھی آپ کے نزدیک ثقہ ہوں گے
یزید بن ابی زیاد اور جابر جعفی وغیرہ
ان نقل کردہ راویوں سے بھی امام شعبہ نے روایت کی ہے لہذا کیا یہ بھی آپ کے نزدیک ثقہ ہوگئے۔
شیخ ارشاد الحق اثری کہتے ہیں امام شعبہ رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں اگر میں صرف ثقہ سے روایت کرتا تو میں صرف تین راویوں سے روایت نہیں کرتا اس کو ابن حبان نے اپنی کتاب المجروحین میں ذکر کیا۔اسی طرح سے امام ذہبی نے سیر میں اور تذکرہ الحفاظ میں ذکر کیا لیکن خطیب بغدادی نے الکفایہ(ص ٩٠) میں تین کی جگہ تیس کا ذکر کیا الغرض تین ہو یا تیس امام شعبہ کے خود کے فرمان کے مطابق یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ صرف ثقات سے ہی روایت کرتے تھے ۔
امام حاکم رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں شعبہ رحمہ اللہ نے مجہولین کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے۔ (معرفة العلوم الحدیث ص ١٠٦)

خود امام شعبہ بھی سماک بن حرب کو ضعیف کہتے تھے جیسا کہ ابن معین رحمہ اللہ نے بتلایا۔
"كان شعبه يضعفه" (الكامل ابن عدي ج ٤ ص ٥٤١)
کہ امام شعبہ سماک بن حرب کو ضعیف کہتے تھے۔

اب اگر کوئی کہے کہ ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی سند نہیں بتلائی تو ہم بتا دیں کہ ابن معین رحمہ اللہ جرح والتعدیل کے امام ہیں اور ان کے اقوال کو بھی اس طرح سے رد کریں تو پہر کس کے اقوال معتبر رہیں گے۔؟؟؟

کوئی کہتے ہیں امام شعبہ کے دوسرے قول کے مطابق عکرمہ والی سند میں سماک کا ضعیف ہونا ہے۔چلیے دیکھتے ہیں امام شعبہ کا دوسرا قول کیا ہے۔
حدثني سماك، أكثر من كذا وكذا مرة، يعني حديث عكرمة‍: «إذا بنى أحدكم فليدعم على حائط جاره، وإذا اختلف في الطريق» وكان الناس ربما لقنوه فقالوا: عن ابن عباس؟ فيقول: نعم، وأما أنا فلم أكنألقنه.

ترجمہ : سماک نے مجھ سے عکرمہ کی روایت «إذا بنى أحدكم فليدعم على حائط جاره، وإذا اختلف في الطريق» کئ بار بیان کی ہے اور لوگ بساوقات انہیں تلقین کرتے اور کہتے عن ابن عباس ؟ یعنی کیا یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ؟تو سماک کہتے : ہاں ۔لیکن میں نے انہیں کبھی تلقین نہیں کی۔(الضعفاء الکبیر للعقیلی ج ٢ ص ١٧٨ واسناده حسن )
امام شعبہ کے اس قول کے مطابق وہ تلقین قبول کرنے والی بات کررہے ہیں اور اس کا تعلق عکرمہ کی سند سے ہے
اسی طرح امام نسائی نے بھی تلقین قبول کرنے والی بات کہی ہے خیر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امام شعبہ سماک کو صرف عکرمہ کی سند میں ضعیف سمجھتے تھے کیونکہ اگر محدثین کے اقوال دیکھے جائے تو امام شعبہ نے سماک کی غیر عکرمہ کی حدیث کا بھی انکار کیا ہے اور خطا بتلائی ہے ۔دیکھیے۔

" کان شعبة ینکر حدیث سماك بن حرب عن مصعب بن سعد "(الجرح والتعدیل ج ١ ص ١٦٧)
امام شعبہ،سماک بن حرب کی مصعب بن سعد والی روایت کا انکار کرتے تھے۔
اسی طرح امام شعبہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی سماک کی خطا بتلائی ہے کہ سماک کے علاوہ کوئی بھی اسے مرفوع بیان نہیں کرتے۔(الجرح والتعدیل ج ١ ص ١٥٨)

اسی طرح سے شیخ وصی اللہ عباس نے بھی العلل و معرفة الرجال کے مقدمہ میں کہا کہ سماک نے اس میں غلطی کی اور مرفوع بیان کیا۔(العلل و معرفةالرجال ج١ ص ٢٧)

ان محدثین کے اقوال سے معلوم ہوا امام شعبہ سماک کو عکرمہ کی سند کے علاوہ بھی ضعیف سمجھتے تھے۔
 

عدیل سلفی

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 21، 2014
پیغامات
1,718
ری ایکشن اسکور
423
پوائنٹ
197
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

محترم شیخ @خضر حیات حفظ اللہ ان موصوف کی پوسٹ سب جگہ ایک ہی ہے
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ @خضر حیات حفظ اللہ ان موصوف کی پوسٹ سب جگہ ایک ہی ہے
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے خیال میں سماک بن حرب پر بات الگ تھریڈ میں ہی ہوجانی چاہیے ۔ میں چند دنوں تک آئی ڈیز دیکھ کر تکرار ختم کرنے کی کوشش کروں گا ۔إن شاءاللہ
 
شمولیت
دسمبر 17، 2016
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
48
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے خیال میں سماک بن حرب پر بات الگ تھریڈ میں ہی ہوجانی چاہیے ۔ میں چند دنوں تک آئی ڈیز دیکھ کر تکرار ختم کرنے کی کوشش کروں گا ۔إن شاءاللہ
السلام علیکم و رحمۃاللہ!
پہلے ہم جس تھریڈ میں بات کرنا چاہ رہے تھے وہاں کچھ بھائیوں کو اعتراض تھا اس لیے نیا تھریڈ بناکر دوبارہ ان مراسلات کو یہاں کاپی کیا گیا۔
اب یہاں تو کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے اور مراسلات پر گفتگو ہو تو بہتر ہے تاکہ دونوں کو فائدہ ہوسکے۔
 
شمولیت
دسمبر 17، 2016
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
48
سماك بن حرب پر سفیان ثوری رحمہ اللہ کی جرح کا جائزہ:
ابن المبارك، عن سفيان: أنه ضعيف
ميزان الاعتدال (2/ 232)

کفایت اللہ صاحب نے کہا امام سفیان رحمہ اللہ کی یہ جرح ثابت نہیں لیکن جب ابن المبارک رحمہ اللہ کی جرح کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ سماک کو ضعیف کہنے والا قول ابن المبارک کا نہیں بلکہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ہے۔
کفایت اللہ صاحب یہ بھی لکھتے ہیں امام عجلی کے قول کے مطابق سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماک میں کچھ ضعف بتلایا ہے لیکن اس قول کو بدون سند یعنی اس کی سند ہی نہیں جب خود کہے رہے ہیں کہ اس قول کی سند نہیں تو کیوں کر اسے نقل کیا۔
کفایت اللہ صاحب نے آگے سفاین ثوری رحمہ اللہ کا ایک قول سماک کے تعلق سے نقل کیا کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا سماک کی کوئی حدیث ساقط نہیں(تاریخ بغداد ج 9 ص 214) اور اس سے یہ ثابت کیا کہ سماک بن حرب کی احادیث سفیان ثوری رحمہ اللہ کی نظر میں ثابت ہیں۔
اب یہاں دیکہیں سفیان ثوری رحمہ اللہ کے دو شاگردوں سے دو مختلف قول ہمیں ملے ہیں۔

امیر المومنین فی الحدیث عبداللہ ابن المبارک : سماک بن حرب ضعیف ہے
امام عبدالرزاق : سماک بن حرب کی کوئی حدیث ساقط نہیں ہے۔
اب یہاں پر سفیان ثوری رحمہ اللہ کےدو شاگردوں سے الگ الگ قول ہیں اب کس کے قول کو ترجیح دی جائے ہم یہ محدثین کے اقوال سے دیکھیں گے۔

وَقَال أَبُو بكر بْنُ أَبي خيثمة: سمعت يحيى بن مَعِين، وسئل عن أصحاب الثوري أيهم أثبت؟ فقال: هم خمسة: يحيى القطان، ووكيع، وابن المبارك، وابن مهدي، وأبو نعيم الفضل بْن دكين، وأما الفريابي، وأبو حذيفة، وقبيصة بْن عقبة، وعُبَيد الله، وأبو عاصم، وأبو أحمد الزبيري، وعبد الرزاق، وطبقتهم فهم كلهم في سفيان بعضهم قريب من بعض، وهم ثقات كلهم دون أولئك في الضبط والمعرفة.

ابن ابی خیثمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں ابن معین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا انہیں سوال کیا سفیان ثوری کے شاگردوں میں کون سب سے زیادہ ثبت ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ پانچ ہیں یحی بن سعید القطان، وکیع ،ابن المبارک و ابن مہدی و ابو نعیم الفضل بن دکین ہیں اور جو فریابی ،ابو حذیفہ، قبیصی بن عقبہ، عبیداللہ ،ابو عاصم ،ابو حمید الزبیری ،عبدالرزاق اور یہ طبقہ کے لوگ سفیان کے بارے میں ایک دوسرے سے قریب تر ہے تمام ثقات ہیں مگر ضبط اور معرفت کے معامہ میں پہلے طبقہ سے کم ہے۔(تہذیب الکمال ج ٢٧ ص ٥٦)

قال وسألت يحيى وسئل عن أصحاب سفيان من هم قال المشهورون وكيع ويحيى وعبد الرحمن وابن المبارك وابو نعيم هؤلاء الثقات قيل له ف أبو عاصم وعبد الرزاق وقبيصة وأبو حذيفة قال هؤلاء ضعفاء

ابن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں سفیان ثوری کے شاگردوں کے بارے میں کہ وہ کون ہے تو انہوں نے کہا ان میں سے جو مشہور ہے وہ وکیع ، یحی بن سعید القطان، عبدالرحمن ابن مہدی ، ابن المبارک اور ابو نعیم ہیں اور یہ تمام ثقات ہیں اور پوچھا گیا ابو عاصم ،عبدالرزاق ،قبیصہ اور ابو حذیفہ تو فرمایا یہ تمام ضعیف ہے۔(سوالات یحی ابن معین ابن محرز ج ١ ص ٥٠٤ )

نوٹ : یہاں ضعیف سے مراد یہ ہے کہ ابو عاصم ،امام عبدالرزاق، قبیصہ ابو حذیفہ یہ تمام وکیع ،ابن المبارک یحی بن سعید القطان اور ابو نعیم کے مقابلے میں کم درجہ کے ہے

اس سے معلوم ہوتا ہے سفیان ثوری رحمہ اللہ کے شاگردوں میں امام عبداللہ ابن المبارک حفظ و اتقان میں عبدالرزاق رحمہ اللہ سے اعلی درجہ پر فائز تھے
اسلیے عبداللہ ابن المبارک اور عبدالرزاق رحمہ اللہ کے اقوال میں عبداللہ ابن المبارک کے قول کو ترجیح دی جائیگی۔
عبداللہ ابن المبارک رحمہ اللہ نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ سماک بن حرب ضعیف ہے۔

اسی لیے حافظ ابن حجر نے بھی کہا

قلت الذي حكاه المؤلف من عبد الرزاق عن الثوري أنما قاله الثوري في سماك بن الفضل اليماني والسماك بن حرب فالمعروف عن الثوري أنه ضعفه
حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ عبدالرزاق سے سفیان ثوری کا قول کہ سماک کی کوئی حدیث ساقط نہیں یہ سماک بن فضل الیمانی کے تعلق سے ہے جبکہ سماک بن حرب کے تعلق سے تو مشہور ہے کہ وہ سماک کو ضعیف کہتے تھے۔(تہذیب التہذیب ج ٤ ص ٢٣٢)
 
Top