1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (جلسہ استراحہ)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مارچ 09، 2016۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 09، 2016 #1
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    بسم الله الرحمن الرحيم
    سنت طریقہ نماز (جلسہ استراحہ)
    آئیے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق نماز سیکھ کر پڑھیں۔
    جلسہ استراحہ
    آقا علیہ السلام اپنی عمر کے آخر میں ذرا بھاری جسم کے ہو گئے تھے اس لئے آخری عمر میں نماز میں کچھ اعمال بحالتِ مجبوری کرتے تھے۔ انہی میں سے جلسہ استراحہ بھی ہے۔ بالکل تندرستی کی حالت میں جو نماز پڑھتے تھے اس میں جلسہ استراحہ نہیں کرتے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں اس ضمن میں کچھ احادیث۔
    ابوہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (سجدہ کے بعد) قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہو جاتے تھے (یعنی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے)( سنن الترمذي كِتَاب الصَّلَاةِ باب مَا جَاءَ كَيْفَ النُّهُوضُ مِنْ السُّجُودِ
    عبيد بن أبی الجعد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نماز میں (سجدہ کے بعد) قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہو جاتے تھے (یعنی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے)(
    مصنف ابن أبي شيبة كتاب الصلاة باب من كان ينهض على صدور قدميه
    عبد الرحمن بن يزيد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عبد الله رضی اللہ تعالی عنہ نماز میں (سجدہ کے بعد) قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہو جاتے تھے (یعنی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے)(ایضاً)۔
    محمد بن عبد الله رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابن أبی ليلى رحمۃ اللہ علیہ نماز میں (سجدہ کے بعد) قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہو جاتے (یعنی جلسہ استراحت نہیں کرتے) تھے(ایضاً)۔
    شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ، علی رضی اللہ تعالی عنہ اور أصحاب رسول رضی اللہ تعالی عنہم نماز میں (سجدہ کے بعد) قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہو جاتے تھے (یعنی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے) (ایضاً)۔
    وہب بن كيسان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن الزبير رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز میں (سجدہ کے بعد) قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہو جاتے تھے (یعنی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے) (ایضاً)۔
    إبراہيم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ پہلی رکعت اور تیسری رکعت میں بیٹھتے نہ تھے (یعنی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے) جب کھڑے ہونا چاہتے تو (بغیر جلسہ استراحت کے) کھڑے ہو جاتے(
    مصنف ابن أبي شيبة كتاب الصلاة باب من كان يقول إذا رفعت رأسك من السجدة الثانية في الركعة الاولى (فلا تجلس)
     
  2. ‏مارچ 09، 2016 #2
    ابوطلحہ بابر

    ابوطلحہ بابر مشہور رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2013
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    837
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    سنن الترمذي
    كتاب الصلاة
    کتاب: نماز کے احکام و مسائل

    باب منه أيضا
    باب: سجدہ سے اٹھنے سے متعلق ایک اور باب
    حدیث نمبر: 288
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ " قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَنْهَضَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُقَالُ خَالِدُ بْنُ إِيَاسٍ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ هُوَ صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو صَالِحٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ نَبْهَانُ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.
    ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں یعنی دونوں پیروں کی انگلیوں پر زور دے کر اٹھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اہل علم کے نزدیک ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی کی حدیث پر عمل ہے۔ خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے، لوگ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر (بغیر بیٹھے) کھڑا ہو۔
    تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۳۵۰۴) (ضعیف) (سند میں دو راوی خالد اور صالح مولیٰ التوامہ ضعیف ہیں)
    وضاحت: ۱؎ : جو لوگ جلسہ استراحت کے قائل نہیں ہیں اور دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر بغیر بیٹھے کھڑے ہو جانے کو پسند کرتے ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے استدلال کے قابل نہیں۔
    قال الشيخ الألباني: ضعيف، الإرواء (362)
     
  3. ‏مارچ 09، 2016 #3
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! ابوعیسٰی رحمۃ اللہ علیہ (جو ثقہ ہیں) فرما رہے ہیں کہ اہلِ علم کا عمل اس پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ نماز اسی طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اہلِ علم نے یہ عمل دیکھ کر ہی اپنایا۔ لہٰذا آپ کا یہ فرمانا ؛
    کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
     
  4. ‏مارچ 10، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,395
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    [QUOTE="عبدالرحمن بھٹی, post: 251660, member: 5124"]محترم! ابوعیسٰی رحمۃ اللہ علیہ (جو ثقہ ہیں) فرما رہے ہیں کہ اہلِ علم کا عمل اس پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ نماز اسی طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اہلِ علم نے یہ عمل دیکھ کر ہی اپنایا۔ لہٰذا آپ کا یہ فرمانا ؛
    کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔[/QUOTE]
    کیا یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟
     
    Last edited: ‏مارچ 10، 2016
  5. ‏مارچ 10، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,395
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم شیخ!
    براہ کرم اسکا ثبوت بھی فراہم کر دیں
     
  6. ‏مارچ 10، 2016 #6
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ وَثَقُلَ (مسند احمد)
     
  7. ‏مارچ 10، 2016 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,395
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    شیخ محترم!
    پوری حدیث ذکر کریں. میں یہ حدیث تلاش نہیں کر پا رھا ھوں. اور براہ کرم وجہ استدلال بھی ذکر کریں. اور یہ بھی بتائیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو اس بات کا علم کیوں نہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بڑھاپے کی بنا پر کیا تھا ؟
     
  8. ‏مارچ 10، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,395
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ؟؟
     
  9. ‏مارچ 10، 2016 #9
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

     
  10. ‏مارچ 10، 2016 #10
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    مسند احمد: باقی مسند الانصار: باقی المسند السابق: حدیث رقم 24795
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں