• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (قراءت)

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
بسم الله الرحمن الرحيم
نماز

آئیے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق نماز سیکھ کر پڑھیں۔
قراءت
نماز میں قيام كى حالت میں سورة فاتحہ کی قراءت اور اس کے ساتھ دیگر کسی سورۃ يا تين آيات كى مقدار قراءت واجب ہے۔ نماز میں کسی شخص کی تین حالتیں ممکن ہیں۔ نمبر ایک منفرد :نمبر دو امام: نمبر تین مقتدی :
منفرد
احادیث سے ظاہر ہے کہ منفرد پر سورة فاتحہ کے ساتھ كوئى اور سورۃ يا تين آيات كى مقدار قراءت واجب ہے۔ رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدینہ میں منادی کردو کہ نماز نہیں مگر قرآن کے ساتھ وہ سورۃ فاتحہ اور زیادہ ہو(سنن أبی داؤد کتاب الصلاۃ باب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمايا اس كى نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ اور زياده نہ پڑھا(
سنن النسائي کتاب الافتتاح باب إِيجَابُ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلاةِ
رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمايا نماز كى كنجى وضوء ہے اور اس كى تحريم الله اكبر ہے اور حلت سلام پھیرنا ہے اس كى نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ اور زياده نہ پڑھا فرض اور غير فرض نماز میں(سنن الترمذي کتاب الصلاۃ باب مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ الصَّلَاةِ وَتَحْلِيلِهَا
رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم كى تعليم فرمائى نماز
ابو ہریرۃ رضى الله تعالیٰ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہؤا اور نماز پڑھنے کے بعد آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص گیا اور اس نے نماز پڑھی اور آکر سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی اس طرح تین دفعہ ہؤا۔ اس کے بعد اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ مجھے سکھلائیے میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہہ پھر پڑھ قرآن سے جو تمہیں یاد ہو پھر رکوع کر اطمینان کے ساتھ پھر رکوع سے کھڑا ہو اطمینان کے ساتھ پھر سجدہ کر اطمینان کے ساتھ پھر سجدہ سے سر اٹھا اور اطمینان سے بیٹھ جا پھر پوری نماز میں ایسا کر(صحيح بخاری کتاب الآذان باب وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا
وضاحت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے قراءت کے بارے فرمايا، قرآن سے تمہیں جو ياد ہے اس سے قراءت كر۔ یہی فرمانِ باری تعالیٰ بھی ہے "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآَنِ" پس پڑھ قرآن سے جو تمہیں یاد ہو۔ نماز کی قراءت میں مطلقاً قرآن پڑھنا فرض ہے سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنا واجب۔
امام
امام پر سورۃ فاتحہ کے ساتھ دیگر كوئى سورۃ يا تين آيات كى مقدار قراءت واجب ہے- فجر٬ مغرب، عشاء، جمعہ اور عیدین كى نمازو میں امام بلند آواز سے قراءت کرے گا بقیہ نمازوں میں آہستہ۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا اور ہمیں سنتیں سکھلائیں اور نماز کی وضاحت فرمائی۔ فرمایا صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے ایک امام بنے جب تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب "وَلا الضَّالِّينَ" کہے تو آمین کہو اللہ آپ سے محبت کرے گا(سنن النسائي کتاب التطبیق باب نَوْعٌ آخَرُ مِنْ التَّشَهُّدِ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
بسم الله الرحمن الرحيم
نماز

آئیے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق نماز سیکھ کر پڑھیں۔
قراءت
نماز میں قيام كى حالت میں سورة فاتحہ کی قراءت اور اس کے ساتھ دیگر کسی سورۃ يا تين آيات كى مقدار قراءت واجب ہے۔ نماز میں کسی شخص کی تین حالتیں ممکن ہیں۔ نمبر ایک منفرد :نمبر دو امام: نمبر تین مقتدی :
منفرد
احادیث سے ظاہر ہے کہ منفرد پر سورة فاتحہ کے ساتھ كوئى اور سورۃ يا تين آيات كى مقدار قراءت واجب ہے۔ رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدینہ میں منادی کردو کہ نماز نہیں مگر قرآن کے ساتھ وہ سورۃ فاتحہ اور زیادہ ہو(سنن أبی داؤد کتاب الصلاۃ باب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمايا اس كى نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ اور زياده نہ پڑھا(
سنن النسائي کتاب الافتتاح باب إِيجَابُ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلاةِ
رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمايا نماز كى كنجى وضوء ہے اور اس كى تحريم الله اكبر ہے اور حلت سلام پھیرنا ہے اس كى نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ اور زياده نہ پڑھا فرض اور غير فرض نماز میں(سنن الترمذي کتاب الصلاۃ باب مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ الصَّلَاةِ وَتَحْلِيلِهَا
رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم كى تعليم فرمائى نماز
ابو ہریرۃ رضى الله تعالیٰ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہؤا اور نماز پڑھنے کے بعد آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص گیا اور اس نے نماز پڑھی اور آکر سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی اس طرح تین دفعہ ہؤا۔ اس کے بعد اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ مجھے سکھلائیے میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہہ پھر پڑھ قرآن سے جو تمہیں یاد ہو پھر رکوع کر اطمینان کے ساتھ پھر رکوع سے کھڑا ہو اطمینان کے ساتھ پھر سجدہ کر اطمینان کے ساتھ پھر سجدہ سے سر اٹھا اور اطمینان سے بیٹھ جا پھر پوری نماز میں ایسا کر(صحيح بخاری کتاب الآذان باب وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا
وضاحت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے قراءت کے بارے فرمايا، قرآن سے تمہیں جو ياد ہے اس سے قراءت كر۔ یہی فرمانِ باری تعالیٰ بھی ہے "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآَنِ" پس پڑھ قرآن سے جو تمہیں یاد ہو۔ نماز کی قراءت میں مطلقاً قرآن پڑھنا فرض ہے سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنا واجب۔
امام
امام پر سورۃ فاتحہ کے ساتھ دیگر كوئى سورۃ يا تين آيات كى مقدار قراءت واجب ہے- فجر٬ مغرب، عشاء، جمعہ اور عیدین كى نمازو میں امام بلند آواز سے قراءت کرے گا بقیہ نمازوں میں آہستہ۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا اور ہمیں سنتیں سکھلائیں اور نماز کی وضاحت فرمائی۔ فرمایا صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے ایک امام بنے جب تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب "وَلا الضَّالِّينَ" کہے تو آمین کہو اللہ آپ سے محبت کرے گا(سنن النسائي کتاب التطبیق باب نَوْعٌ آخَرُ مِنْ التَّشَهُّدِ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
مکمل احادیث مع حوالہ و ترجمہ و صحت درج کریں۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
مکمل احادیث مع حوالہ و ترجمہ و صحت درج کریں۔
محترم! آپ ابتداء سے شروع ہو جائیں اور جس جس پر اشکال ہو پوچھتے جائیں ان شاء اللہ حوالہ جات دیتا چلا جاؤں گا۔ ساتھ ساتھ تصحیح بھی ہوتی جائے گی۔ شکریہ
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,103
پوائنٹ
412
عنوان قابل توجہ ہے
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,666
ری ایکشن اسکور
748
پوائنٹ
290
بهت ادب سے گذارش ہیکہ احادیث اور انکے حوالوں کے علاوہ مفہوم پر بهی حوالے دئیے جائیں تاکہ آنجناب کی بات محض آپکا فہم نا سمجہا جائے بلکہ جملہ قارئین کی تشفی بهی ہو جائے کہ ترجمہ حدیث اور اس سے اخذ کردہ مفہوم با صحت باحوالہ ہیں ۔
وجزاک اللہ خیرا
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,713
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بھٹی صاحب! معاملہ کچھ یوں ہے کہ فقہ حنفی میں نہ امام پر، نہ مقتدی پر اور نہ منفرد پر، کسی پر بھی صورہ فاتحہ پڑھنا لازم نہیں! کسی کی بھی نماز صورہ فاتحہ کے بغیر ادا ہو جاتی ہے!
ابو ہریرۃ رضى الله تعالیٰ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہؤا اور نماز پڑھنے کے بعد آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص گیا اور اس نے نماز پڑھی اور آکر سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی اس طرح تین دفعہ ہؤا۔ اس کے بعد اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ مجھے سکھلائیے میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہہ پھر پڑھ قرآن سے جو تمہیں یاد ہو پھر رکوع کر اطمینان کے ساتھ پھر رکوع سے کھڑا ہو اطمینان کے ساتھ پھر سجدہ کر اطمینان کے ساتھ پھر سجدہ سے سر اٹھا اور اطمینان سے بیٹھ جا پھر پوری نماز میں ایسا کر(صحيح بخاری کتاب الآذان باب وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا
بھٹی صاحب! فقہ حنفی اس حدیث کے احکام کہ رکوع سجود میں اطمنان لازم ہے ، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، اس کی بھی انکاری ہیں! فقہ حنفی اس حدیث کا بھی صاف انکار کرتی ہے!
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
معاملہ کچھ یوں ہے کہ فقہ حنفی میں نہ امام پر، نہ مقتدی پر اور نہ منفرد پر، کسی پر بھی صورہ فاتحہ پڑھنا لازم نہیں! کسی کی بھی نماز صورہ فاتحہ کے بغیر ادا ہو جاتی ہے!
یہ آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ میرے علم کے مطابق کسی ”حنفی“ نے یہ نہیں کہا کہ امام یا منفرد پر بھی سورہ فاتحہ پڑھنا لازم نہیں۔ ہاں البتہ وہ اس کو فرض (رکن) قرار نہیں دیتے واجب کہتے ہیں۔ قرآن اور حدیث کے حوالہ سے ”احناف“ قراءت کو فرض (رکن) قرار دیتے ہیں۔
دلائل
فرمانِ باری تعالیٰ ہے؛
فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآَنِ ۔۔۔ الآیۃ (مزمل)
ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ ۔۔۔ الحدیث (صحیح بخاری)
امام اور منفرد پر سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ مزید قراءت ”احناف“ کے ہاں واجب ہے۔ اور واجب کا حکم ”احناف“ کے ہاں یہ ہے کہ اگر غلطی سے چھوٹ گیا تو سجدہ سہو واجب ہوگا اور سجدہ سہو کر لینے سے نماز صحیح ہوجائے گی۔ اگر جان بوجھ کر چھوڑے تو وہ سورہ فاتحہ ہو یا اس کے ساتھ ملائی جانے والی قراءت تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی بھلے وہ سجدہ سہو بھی کرلے۔
واللہ اعلم بالصواب
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بھٹی صاحب! معاملہ کچھ یوں ہے کہ فقہ حنفی میں نہ امام پر، نہ مقتدی پر اور نہ منفرد پر، کسی پر بھی صورہ فاتحہ پڑھنا لازم نہیں! کسی کی بھی نماز صورہ فاتحہ کے بغیر ادا ہو جاتی ہے!

بھٹی صاحب! فقہ حنفی اس حدیث کے احکام کہ رکوع سجود میں اطمنان لازم ہے ، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، اس کی بھی انکاری ہیں! فقہ حنفی اس حدیث کا بھی صاف انکار کرتی ہے!
معذرت چاہتا ہوں۔
میں اس بحث میں شرکت کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن اتنی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ بھٹی بھائی کی یہ بات درست ہے:
نماز میں قيام كى حالت میں سورة فاتحہ کی قراءت اور اس کے ساتھ دیگر کسی سورۃ يا تين آيات كى مقدار قراءت واجب ہے۔
احناف کا یہی مسلک ہے۔ آپ کسی بھی معتبر حنفی دار الافتاء سے یہ معلوم کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ فرض نہیں ہے اور احناف کے یہاں فرض اور واجب میں تھوڑا فرق ہے۔
 
Top