• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوال : تکفیری کسے کہا جاے گا ، کیا ہر تکفیر کرنے والا تکفیری کہلائے گا؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تکفیر مسلم صرف وصرف متبحر فی علم علماء و قاضیان کا عہدہ ہے؟

  • جی نہیں ہر کوئی ہر قسم کی تکفیر کر سکتا ہے

    ووٹ: 1 16.7%
  • جی ہاں ، یہ صرف مفتیان و قاضیان کا عہدہ عوام الناس کو اس سے اجتناب کرنا چاہیئے

    ووٹ: 5 83.3%

  • Total voters
    6

علی ولی

مبتدی
شمولیت
جولائی 26، 2013
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
81
پوائنٹ
21
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج کل عموما بہت سے گروہ ایک دوسرے کو تکفیری قرار دیتے نظر آتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ تکفیری کسے کہا جاتا ہے اور اصل تکفیری لوگ کون ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں تو بظاہر محض فکری اختلافات کی بناء پر الزام تراشیاں جاری ہیں اور تکفیری وخارجی کے اتہامات کی بھر مار ہے ؟
جواب:
ہر مسلمان جب بھی وہ تلاوت قرآن کا سر انجام دیتا ہے یا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کسی نا کسی کی تکفیر ضرور کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جنکو کفر کہا گیا ہے۔ مگر کسی عمل کے کفریہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسکا ہر ہر مرتکب کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعے اور فہم سلف سے یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ نہایت قبیح کبیرہ گناہوں سے مسلمانوں کو ڈرانے اور تنبیہ کرنے کے مقصد سے انہیں بھی کفر قرار دیا ہے۔ حالانکہ انکا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہ قرار دیا جاتا اور نہ ہی ایسا سمجھا جاتا ہے

تو جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کفر کی دو اقسام ، قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہمیں ملتی ہیں ،وہ درج ذیل ہیں :

1- کفر اصغر (کبیرہ گناہ)
2- کفر اکبر ( ارتداد )

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی:
ہر ایسے کام کہ جسے قرآن احادیث میں کفر کہا گیا ہو ، کا مرتکب لازمی نہیں دین اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔ کنونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ عمل کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہو
اور اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد کسی ایسے عمل میں مبتلاء ہوتا ہے کہ جو ارتداد کے زمرے میں آتا ہو تو اس مسلمان کی تکفیر کرنے والا شخص تکفیری ہرگز نہیں بن جاتا یعنی محض کسی کو کافر قرار دے دینے سے کوئی تکفیری نہیں بن جاتا ۔ جب ہم کسی کے لیے لفظ "تکفیری" یا "فتنہء تکفیر" استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تکفیر مطلق کی بات عموما نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ تکفیر معین کے حوالے سے بولے جاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار تکفیر مطلق سے متعلق بھی ہوتے ہیں ۔ عموما ان سے مراد تکفیر معین ہی ہوتی ہے ۔

پس ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کی معین تکفیر کرے جبکہ اس نے کوئی کفریہ کام بھی نہ کیا ہو یا اگر کفریہ کام کیا ہو تو تکفیر معین کے اصول وقوانین کو ملحوظ رکھے بغیر اور انہیں اپلائی کیے بغیر وہ اس معین شخص کو کافر و مرتد قرار دینا شروع کر دے تو ایسے تکفیر کرنے والے کو تکفیری یا فتنہء تکفیر میں مبتلاء قرار دیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص نے تکفیر المعین کے اصول ضوابط جو کہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں پر پرکھے بغیر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تو ایسا شخص تکفیری پکارا جائے گا ، کیونکہ اس نے ایک مسلمان کی ناحق تکفیر کی ہے اور شرعی قواعد وضوابط سے انحراف کیا ہے

ہاں اگر کوئی شخص کسی صریح کفریہ عمل میں ملوث کسی مسلمان پر تکفیر معین کے اصول وقوانین کا اطلاق کرکے اسکی معین تکفیر کرتا ہے تو ایسا کرنے والا شخص تکفیری نہیں کہلائے گا ۔ مگر یاد رہے یہ متبحر فی العلم علماء امت کا کام ہے بلکہ علماء کے گروہ کا کام ہے۔ اور عوام الناس، دینی مدارس کے طلباء، مساجد کے خطباء و آئمہ کو بھی اس مسئلے میں ایسے علماء کے پیچھا چلنا ہے جو تکفیر کرنے کے اہل ہیں اور تکفیر کے اصول ضوابط کا پورا علم اور ادراک رکھتے ہیں۔
واللہ اعلم
الشیخ ابو عمیر السفلی حفظہ اللہ
 

کیلانی

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 24، 2013
پیغامات
347
ری ایکشن اسکور
1,110
پوائنٹ
127
سوال:


جواب:
ہر مسلمان جب بھی وہ تلاوت قرآن کا سر انجام دیتا ہے یا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کسی نا کسی کی تکفیر ضرور کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جنکو کفر کہا گیا ہے۔ مگر کسی عمل کے کفریہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسکا ہر ہر مرتکب کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعے اور فہم سلف سے یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ نہایت قبیح کبیرہ گناہوں سے مسلمانوں کو ڈرانے اور تنبیہ کرنے کے مقصد سے انہیں بھی کفر قرار دیا ہے۔ حالانکہ انکا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہ قرار دیا جاتا اور نہ ہی ایسا سمجھا جاتا ہے

تو جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کفر کی دو اقسام ، قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہمیں ملتی ہیں ،وہ درج ذیل ہیں :

1- کفر اصغر (کبیرہ گناہ)
2- کفر اکبر ( ارتداد )

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی:
ہر ایسے کام کہ جسے قرآن احادیث میں کفر کہا گیا ہو ، کا مرتکب لازمی نہیں دین اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔ کنونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ عمل کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہو
اور اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد کسی ایسے عمل میں مبتلاء ہوتا ہے کہ جو ارتداد کے زمرے میں آتا ہو تو اس مسلمان کی تکفیر کرنے والا شخص تکفیری ہرگز نہیں بن جاتا یعنی محض کسی کو کافر قرار دے دینے سے کوئی تکفیری نہیں بن جاتا ۔ جب ہم کسی کے لیے لفظ "تکفیری" یا "فتنہء تکفیر" استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تکفیر مطلق کی بات عموما نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ تکفیر معین کے حوالے سے بولے جاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار تکفیر مطلق سے متعلق بھی ہوتے ہیں ۔ عموما ان سے مراد تکفیر معین ہی ہوتی ہے ۔

پس ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کی معین تکفیر کرے جبکہ اس نے کوئی کفریہ کام بھی نہ کیا ہو یا اگر کفریہ کام کیا ہو تو تکفیر معین کے اصول وقوانین کو ملحوظ رکھے بغیر اور انہیں اپلائی کیے بغیر وہ اس معین شخص کو کافر و مرتد قرار دینا شروع کر دے تو ایسے تکفیر کرنے والے کو تکفیری یا فتنہء تکفیر میں مبتلاء قرار دیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص نے تکفیر المعین کے اصول ضوابط جو کہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں پر پرکھے بغیر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تو ایسا شخص تکفیری پکارا جائے گا ، کیونکہ اس نے ایک مسلمان کی ناحق تکفیر کی ہے اور شرعی قواعد وضوابط سے انحراف کیا ہے

ہاں اگر کوئی شخص کسی صریح کفریہ عمل میں ملوث کسی مسلمان پر تکفیر معین کے اصول وقوانین کا اطلاق کرکے اسکی معین تکفیر کرتا ہے تو ایسا کرنے والا شخص تکفیری نہیں کہلائے گا ۔ مگر یاد رہے یہ متبحر فی العلم علماء امت کا کام ہے بلکہ علماء کے گروہ کا کام ہے۔ اور عوام الناس، دینی مدارس کے طلباء، مساجد کے خطباء و آئمہ کو بھی اس مسئلے میں ایسے علماء کے پیچھا چلنا ہے جو تکفیر کرنے کے اہل ہیں اور تکفیر کے اصول ضوابط کا پورا علم اور ادراک رکھتے ہیں۔
واللہ اعلم
الشیخ ابو عمیر السفلی حفظہ اللہ
یہ درست بات ہے کہ تکفیر معین کرنے کےلئے ضروری ہےکہ یہ علماء و مجتہدین کریں۔ اس حوالے سے فورم پہ بالتفصیل بات ہو چکی ہے۔ مسلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو تکفیر کرتے ہیں کیا انہیں کافر کہنا درست ہے یا نہیں؟ یعنی انہیں جب ہم تکفیری کہتے ہیں تو گویہ کافر کہہ رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ رائے محل نظر ہے کیونکہ اس میں کوئی دوآراء نہیں کہ جو تکفیر کرتے ہیں وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے کافر نہیں ہو جاتے البتہ جو انہیں تکفیری کہا جاتا ہے وہ اس وجہ سے کہا جاتاہے کہ وہ دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں۔ ان کے اس فعل کی وجہ سے نسبتی طور پر انہیں اس لقب سے ملقب کیا جاتا ہے۔واللہ اعلم۔
 

علی ولی

مبتدی
شمولیت
جولائی 26، 2013
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
81
پوائنٹ
21
السلام علیکم
محترم کیلانی بھائی جزاک اللہ خیرا،
آپ نے لکھا:
یعنی انہیں جب ہم تکفیری کہتے ہیں تو گویہ کافر کہہ رہے ہیں۔
بھائی آپ کے اس قول سے متفق ہر گز نہیں ، کیونکہ میں نے آج تک کوئی ایسی تحریر یا فتوی نہ پڑھا اور نہ سنا ہے کہ " کسی تکفیری کہنا اسکی تکفیر کرنا ہے"
کسی کا تکفیری ہونا ، اس شخص کا گمراہی پر اثبات ہے، کفر پر نہیں۔
اگر آپ کے پاس ایسی کوئی دلیل ہے تو یہاں پیش فرمائے ، کہ جسکو تکفیری کہا جارہا ہو، اس سے اسکی تکفیر لازم آتی ہے؟
جزاک اللہ خیرا
 

کیلانی

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 24، 2013
پیغامات
347
ری ایکشن اسکور
1,110
پوائنٹ
127
السلام علیکم
محترم کیلانی بھائی جزاک اللہ خیرا،
آپ نے لکھا:

بھائی آپ کے اس قول سے متفق ہر گز نہیں ، کیونکہ میں نے آج تک کوئی ایسی تحریر یا فتوی نہ پڑھا اور نہ سنا ہے کہ " کسی تکفیری کہنا اسکی تکفیر کرنا ہے"
کسی کا تکفیری ہونا ، اس شخص کا گمراہی پر اثبات ہے، کفر پر نہیں۔
اگر آپ کے پاس ایسی کوئی دلیل ہے تو یہاں پیش فرمائے ، کہ جسکو تکفیری کہا جارہا ہو، اس سے اسکی تکفیر لازم آتی ہے؟
جزاک اللہ خیرا
دور کیاجانا ہے آپ لفظ ’’تکفیری‘‘ پر ہی غور فرمالیں۔
 

علی ولی

مبتدی
شمولیت
جولائی 26، 2013
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
81
پوائنٹ
21
دور کیاجانا ہے آپ لفظ ''تکفیری'' پر ہی غور فرمالیں۔
بھائی کیلانی ، میں آپ سے مشورہ طلب نہیں کیا ، بلکہ آپ کے موقف کے حق میں کہ " کسی کو تکفیری کہنے سے اسکی تکفیر لازم آتی ہے" ، کی دلیل طلب کی تھی ، جو آپ ابھی تک دینے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔۔۔

بھائی جس چیز کا نہ پتا ہو ، اس میں چیڑ چھاڑ سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔

تکفیری کون ہوتا ہے ؟، یہ میں اوپر تفصیلا بتلا چکا ہوں۔

جزاک اللہ خیرا
 

کیلانی

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 24، 2013
پیغامات
347
ری ایکشن اسکور
1,110
پوائنٹ
127
بھائی کیلانی ، میں آپ سے مشورہ طلب نہیں کیا ، بلکہ آپ کے موقف کے حق میں کہ " کسی کو تکفیری کہنے سے اسکی تکفیر لازم آتی ہے" ، کی دلیل طلب کی تھی ، جو آپ ابھی تک دینے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔۔۔

بھائی جس چیز کا نہ پتا ہو ، اس میں چیڑ چھاڑ سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔

تکفیری کون ہوتا ہے ؟، یہ میں اوپر تفصیلا بتلا چکا ہوں۔

جزاک اللہ خیرا
میرے بھائی شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں سکا میں عرض کر رہاہوں آپ لفظ تکفیر ی پر ہی غور فرمائیں اس کے اندر ہی آپ کو اپنا جواب مل جائے گا۔لیکن آپ کی طبع نازک نے پتا نہیں یہ کیوں گوار نہیں کیا؟؟؟ چلیں میں بات آگے شروع کرتا ہوں برائے مہربانی آپ پہلے لفظ تکفیر یا تکفیری کا معنی و مطلب لکھ کے بھجیں۔آپ کی درج بالا تصریحات کے پیش نظر اس پہلو سے شاید میرا تصور غلط ہولیکن آپ رہنمائی تو فرمائیں۔
 

علی ولی

مبتدی
شمولیت
جولائی 26، 2013
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
81
پوائنٹ
21
برائے مہربانی آپ پہلے لفظ تکفیر یا تکفیری کا معنی و مطلب لکھ کے بھجیں۔
عجب حقیقت ہے، محترم آپ نے جس بات کا تقاضہ کیا وہ اوپر مضمون میں موجود ہے، جزاک اللہ خیرا

ارے بھائی آپ میری طبع نازک کی فکر میں خود مت گھلائیے اور اس مضمون میں آپ نے جس نقطہ پر اعتراض اٹھایا تھاکہ " کسی کو تکفیری کہنے سے اسکی تکفیر لازم آتی ہے" میں نے اس کی دلیل طلب کی ہے، تو بجائے کوئی دلیل و حوالہ دینے کے ، مجھے اس لفظ پر غور کرنے کا کہہ رہے ہیں ، جس کے بارے میں میں نے خوب غور کرنے بعد ہی اوپر والا مضمون شائع کیا ہے۔ شکریہ

افلا تبصرون؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,550
پوائنٹ
641
میرے خیال میں علی ولی اور کیلانی صاحب کا اختلاف لفظی ہے۔ کیلانی صاحب کا کہنا ہے
البتہ جو انہیں تکفیری کہا جاتا ہے وہ اس وجہ سے کہا جاتاہے کہ وہ دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں۔ ان کے اس فعل کی وجہ سے نسبتی طور پر انہیں اس لقب سے ملقب کیا جاتا ہے۔واللہ اعلم۔
اور یہی رائے علی ولی صاحب کی بھی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
بھائی آپ کے اس قول سے متفق ہر گز نہیں ، کیونکہ میں نے آج تک کوئی ایسی تحریر یا فتوی نہ پڑھا اور نہ سنا ہے کہ " کسی کو تکفیری کہنا اسکی تکفیر کرنا ہے"
کسی کا تکفیری ہونا ، اس شخص کا گمراہی پر اثبات ہے، کفر پر نہیں۔
نفس مسئلہ میں کوئی اختلاف ہیں ہے دونوں حضرات کی رائے ہے کہ اس معنی میں تکفیری کہنا درست نہیں ہے کہ ان کا کافر قرار دیا جا رہا ہے۔ اب ایک چھوٹا سا اختلاف لفظ تکفیری کے معنی میں ہو گا کہ کیا تکفیری کا لفظ کسی کو کافر قرار دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یا نہیں؟ کیلانی صاحب کے خیال میں یہ استعمال ہوتا ہے جبکہ علی ولی صاحب کے خیال میں نہیں۔ کیلانی صاحب لکھتے ہیں:
مسلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو تکفیر کرتے ہیں کیا انہیں کافر کہنا درست ہے یا نہیں؟ یعنی انہیں جب ہم تکفیری کہتے ہیں تو گویہ کافر کہہ رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ رائے محل نظر ہے
جبکہ علی ولی صاحب لکھتے ہیں:
بھائی کیلانی ، میں آپ سے مشورہ طلب نہیں کیا ، بلکہ آپ کے موقف کے حق میں کہ " کسی کو تکفیری کہنے سے اسکی تکفیر لازم آتی ہے" ، کی دلیل طلب کی تھی ، جو آپ ابھی تک دینے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔۔
میرے خیال میں اس مسئلے میں علی ولی صاحب کی رائے درست معلوم ہوتی ہے کہ تکفیری کا لفظ کسی کی تکفیر کو مستلزم نہیں ہے بلکہ یہ لفظ تکفیر کے آخر میں نسبت کی یاء ہے جیسا کہ لاہور سے لاہوری، مکہ سے مکی، مدینہ سے مدنی اور تکفیر سے تکفیری ہے یعنی تکفیر کرنے والے۔ لہذا کیلانی صاحب نے تکفیری کے جو دو مفاہیم بیان کیے ہیں، ان میں سے دوسرے کے ساتھ تو ہمیں اتفاق ہے لیکن پہلے مفہوم کے بارے جب تک ان کی طرف سے کوئی لطیف نکتہ سامنے نہ آ جائے تو اس وقت تک قابل غور معلوم نہیں ہو رہا ہے۔
معلوم نہیں ہم سب، بشمول میرے، چھوٹے چھوٹے اختلافات پر جذباتی کیوں ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کی علمی حیثیت یا مرتبہ یاد کروانا شروع کر دیتے ہیں۔ میں تو اس نتیجے تک پہنچا ہوں کہ جہاں ہم کسی کو اس کی علمی حیثیت یاد کروانا شروع کرتے ہیں، وہاں سے ہماری جھنجلاہٹ کا آغاز ہو جاتا ہے جو مسئلے کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھانے کا باعث بنتی ہے۔ میں پہلے بھی یہ باتیں فورم پر کر چکا ہوں کہ ہمیں اگر کسی پر طنز کرنا ہی ہو، اول تو کرنا ہی نہیں چاہیے، ہمیشہ درگزر سے کام لیں، لیکن اگر مجادلہ میں ناگزیر ہو جائے تو اپنے اردو ادب کے ادباء کو ضرور سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ طنز میں بھی کیسی کیسی لطافت پیدا کر دیتے ہیں کہ مخاطب بھی داد دیے بغیر نہیں رہتا اور جھوم اٹھتا ہے۔ اگر پطرس بخاری آج ہمارے درمیان موجود ہوتے اور کسی پر طنز کرتے تو مخاطب کے چہرے پر اس طنز کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ جاری ہو جاتی چہ جائیکہ کہ اس کے دل میں مد مقابل کے بارے کوئی نفرت یا غصے کے جذبات پیدا ہوتے۔
 
Top