• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوال : زکوۃ کی رقم کے استعمال متعلق

ام حسان

رکن
شمولیت
مئی 12، 2015
پیغامات
56
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
32
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا زکوۃ کی رقم کسی سکول میں یا مسجد میں سپیکرس وغیرہ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے؟

جزاکم اللہ خیرا
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,460
پوائنٹ
791
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا زکوۃ کی رقم کسی سکول میں یا مسجد میں سپیکرس وغیرہ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے؟
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 60؀ (سورۃ التوبہ آیت 60 )
ترجمہ :
صدقات (یعنی فرض زکاۃ ) تو صرف محتاجوں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے ہیں جو صدقات کے کام پر مامور ہوں ٭ اور وہ جن کے دلوں میں (اسلام) کی انسیت پیدا کرنا * ہو نیز اس لیے ہیں کہ گردنیں چھڑانے میں * اور قرض داروں کا بوجھ ہلکا کرنے میں * اور اللہ کی راہ میں * اور مسافروں پر خرچ کیے جائیں *۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے *۔ اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ *۔

یہاں صدقات سے مراد صرف فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہے جیسا کہ بعد کے الفاظ فریضۃ من اللہ سے واضح ہوتا ہے۔ صدقات کی تقسیم پر بھی منافقوں کو اعتراض ہوا تھا تو اس کی تقسیم کی مدات اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرما دیں تاکہ ان کی تقسیم میں اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے یا کم سے کم رہ جائے۔ اور یہ کل آٹھ مدات ہیں "
علامہ صلاح الدین یوسف اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
آیت کا آغاز انما سے کیا گیا ہے جو قصر کے صیغوں میں سے ہے اور الصقات میں لام تعریف جنس کے لیے ہے یعنی صدقات کی یہ جنس (زکوٰۃ) ان آٹھ قمسوں میں مقصور ہے جن کا ذکر آیت میں ہے ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوٰۃ کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔
اہل علم کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا ان آٹھوں مصارف پر تقسیم کرنا ضروری ہے ؟ امام شافعی کی رائے کی رو سے زکٰوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ یا ان میں سے جس مصرف یا مصارف پر امام یا زکوٰۃ ادا کرنے والا مناسب سمجھے حسب ضرورت خرچ کرسکتا ہے امام شافعی وغیرہ پہلی رائے کے قائل ہیں اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ وغیرہما دوسری رائے کے۔ اور یہ دوسری رائے ہی زیادہ صحیح ہے امام شافعی کی رائے کی رو سے زکوٰۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے یعنی اقتضائے ضرورت اور مصالح دیکھے بغیر رقم کے آٹھ حصے کر کے آٹھوں جگہ پر کچھ کھچ رقم خرچ کی جائے۔ جبکہ دوسری رائے کے مطابق ضرورت اور مصالح کا اعتبار ضروری ہے جس مصرف پر رقم خرچ کرنے کی زیادہ ضرورت یا مصالح کسی ایک مصرف پر خرچ کرنے کے متقتضی ہوں، تو وہاں ضرورت اور مصالح کے لحاظ سے زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جائے گی چاہے دوسرے مصارف پر خرچ کرنے کے لیے رقم نہ بچے اس رائے میں جو معقولیت ہے وہ پہلی رائے میں نہیں ہے۔
ان مصارف ثمانیہ کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔
ا۔ فقیر اور مسکین چونکہ قریب قریب ہیں اور ایک کا اطلاق دوسر پر بھی ہوتا ہے یعنی فقیر کو مسکین اور مسکین کو فقیر کہہ لیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی الگ الگ تعریف میں خاصا اختلاف ہے۔ تاہم دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے مسکین کی تعریف میں ایک حدیث آتی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " مسکین وہ گھو منے پھر نے والا نہیں ہے جو ایک ایک یا دو دو لقمے یا کھجور کے لیے گھر گھر پھرتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو اسے بےنیاز کر دے نہ وہ ایسی مسکنت اپنے اوپر طاری رکھے کہ لوگ غریب اور مستحق سمجھ کر اس پر صدقہ کریں اور نہ خود لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے " (صحیح بخاری ومسلم کتاب الزکوٰۃ) حدیث میں گویا اصل مسکین شخص مذکور کو قرار دیا گیا ہے ورنہ حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) وغیرہ سے مسکین کی تعریف یہ منقول ہے کہ جو گداگر ہو، گھوم پھر کر اور لوگوں کے پیچھے پڑ کر مانگتا ہو اور فقیر وہ ہے جو نادار ہونے کے باوجود سوال سے بچے اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرے (ابن کثیر)
٢۔ عاملین سے مراد حکومت کے وہ اہلکار جو زکٰو ۃ و صدقات کی وصولی و تقسیم اور اس کے حساب کتاب پر مامور ہوں۔
٣۔ مولفۃ القلوب ایک تو وہ کافر ہے جو کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر امید ہو کہ وہ مسلمان ہوجائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے وہ افراد بھی ہیں جن کی امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف قلب کی ہیں جن پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے چاہے مذکورہ افراد مال دار ہی ہوں۔ احناف کے نزدیک یہ مصرف ختم ہوگیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں حالات وظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔
٥۔ گردنیں آزاد کرانے میں۔ بعض علماء نے اس سے صرف مکاتب غلام مراد لئے ہیں اور علماء نے مکاتب وغیر مکاتب ہر قسم کے غلام مراد لئے ہیں۔ امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔
٦۔ غارمین سے ایک تو وہ مقروض مراد ہیں جو اپنے اہل و عیال کے نان نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہوگئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے جسے بیچ کر وہ قرض ادا کریں سکیں۔ دوسرے وہ ذمہ داراصحاب ضمانت ہیں جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پاگئے یا کسی فصل تباہ یا کاروبار خسارے کا شکار ہوگیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہوگیا۔ ان سب افراد کی زکوٰۃ کی مد سے امداد کرنا جائز ہے۔
٧۔ فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد (چا ہے وہ مالدار ہی ہو) پر زکٰوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ اور احادیث میں آتا ہے کہ حج اور عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے اسی طرح بعض علماء کے نزدیک تبلیغ ودعوت بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے کیونکہ اس سے بھی مقصد جہاد کی طرح اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔
٨۔ ابن السبیل سے مراد مسافر ہے۔ یعنی اگر کوئی مسافر، سفر میں مستحق امداد ہوگیا ہے چاہے وہ اپنے گھر یا وطن میں صاحب حیثیت ہی ہو، اس کی امداد زکٰوۃ کی رقم سے کی جاسکتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس تفصیل سے واضح ہے کہ :
سکول یعنی جدید تعلیم کے ادارے اور مساجد میں استعمال ہونے والی اشیاء ان آٹھ مصارف میں شامل نہیں ، اسلئے ان پر زکوٰۃ کا مال خرچ نہیں
ہوسکتا ۔
مساجد پر تو زکاۃ اس لئے بھی نہیں لگائی جاسکتی کہ مساجد کی تعمیر و آبادی ہر مسلمان پر اسکی استطاعت کے مطابق اسکی ذمہ داری ہے۔
اور مساجد میں استعمال ہونی والی چیزیں ہماری اپنی ضرورت ہیں ، لہذا اپنی ضرورت پر اموال زکاۃ صرف نہیں ہوسکتا ،
اس ضمن میں درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مسجد کے لوٹے، رسی، چٹائی، دری، جاجم فرش اور اس کی مرمت و صفائی یا تعمیر میں عشر اور زکوٰۃ (اوساخ الناس) کا خرچ کرنا درست نہیں، کیوں کہ مسجد اور اس کی ضروریات زکوٰۃ کے مصارف منصوصہ میں داخل نہیں،
"ولا یجوز صرف الزکوٰة إلی غیر من ذکر اللّٰہ تعالیٰ من بناء المساجد والقناطر والسقایات واصلاح الطرقات وسد الثبوق وتکفین الموتی والتوسعة علی الاضیاف وغیر ذلك من القرب التی لم یذکرھا اللہ تعالیٰ وقال أنس والحسن ما اعطیت فی الجسور والطرق فھی صدقة ما ضیة والأوّل أصح لقوله سبحانه وتعالیٰ ﴿إنماالصدقات للفقراء والمساکین﴾ وإنما للحصروا والاثبات تثبت المذکور وتنفی ما عداہ" (المغنی ص ۵۲۷ ج ۲)
مؤذن، مسجد اور میانجی کی گذر اوقات کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور وہ محتاج و ضرورت مند ہیں تو زکوٰۃ کا مصرف ہونے کی حیثیت سے عشر و زکوٰۃ سے معین یا غیر معین مقدار کے ذریعے ماہ بماء امداد کی جا سکتی ہے۔ (محدث دہلی جلد نمبر ۱۰ نمبر ۹)
فتاویٰ علمائے حدیث

 
Top