• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوال نہ کرنے والوں کے لئے ایک جگہ ضرورت کی چیز جمع کرنا

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,307
ری ایکشن اسکور
364
پوائنٹ
209
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم اہل علم اس معاملے پر روشنی ڈالیں کہ کسی شہر کےکچھ لوگ مل جل کر کوئی جگہ مختص کرلیتے ہیں اس مقصد کیلیے کہ وہ فی سبیل اللہ اپنا استعمال شدہ (یا غیر استعمال شدہ) سامان وہاں رکھ جاتے ہیں تاکہ حاجت مند لوگ اپنی ضرورت اور پسند کا سامان بغیر جھجھک کے وہاں سے لے جائیں. عموما یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ کوئی حاجت مند کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بچ جائے اور اس کی ضرورت بھی پوری ہوجائے.
کیا (صدقہ و خیرات کے سنت طریقوں کے ساتھ ساتھ) شرعی طور پر ایسا کرنا جائز ہے؟


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ :

اسلام میں سوال کرنا منع نہیں ہے ۔ ضرورت مند سوال کرسکتے ہیں اور مالدار کو ضرورت مند کا خیال کرنا چاہئے اور اسے جھڑکنا نہیں چاہئے ۔
ہمارے یہاں مانگنے کی جو صورت حال ہے وہ دراصل ہماری ہی وجہ سے ہے ۔ صاحب زکوۃ کو چاہئے کہ زکوۃ کے مستحقین کا پتہ لگالگاکر ان کی ضرورت پوری کریں ۔لیکن آج زکوۃ ہی امانتداری کے ساتھ ادا نہیں کی جاتی تو مستحقین کو کہاں سے ڈھونڈا جائے گا۔ کچھ لوگ زکوۃ تو دیتے ہیں مگر چاہتے ہیں وہ ہمارے پاس آکر دست سوال دراز کریں پھر زکوۃ دیں۔ خیانت اور عدم توجہی کی وجہ سے ضرورمندوں کو کشکول گداگری اٹھانے پہ مجبورہونا پڑا، اور یہی نہیں بلکہ طرح طرح کے بہانے بنانے کا راستہ بھی سکھلایا۔
الحمد للہ ابھی بھی ایسے غربت زدہ لوگ ہیں جو عزت نفس کی خاطر لوگوں سے سوال نہیں کرتے ۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کا ذکر ہواہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :
لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا( سورہ بقرہ : 173)
ترجمہ: وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔
آیت میں الحاف کا ایک معنی ضرورت ہونے کے باوجود سوال نہیں کرناہے ۔
اس معنی کی تائید حدیث سے ہوتی ہے ۔
ليس المِسكينُ الذي تَرُدُّه التمرةُ والتمرتان، ولا اللُّقمةُ ولا اللقمتان، إنما المِسكينُ الذي يَتَعَفَّفُ . واقرَؤوا إن شِئتُم . يعني قولَه : { لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا }(صحيح البخاري:4539)
ترجمہ : مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجور یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں بلکہ مسکین وہ ہے جو سوال نہیں کرتا، تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: {لَا یَسْأَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا} کہ وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔

قرآن کی مذکورہ آیت و حدیث کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کی اس قسم کا پتہ لگانا چاہئے اور بہترین طریقے سے ان کی غربت کا سد باب کرنا چاہئے ۔
ایسے لوگوں کی امداد کے متعدد طریقے ہوسکتے ہیں ، ان میں سے ایک بہترین طریقہ سوال میں درج ہے کہ ایک ایسی جگہ یا صندوق وغیرہ مختص کرلیا جائے جس میں ہم ضرورت کی اشیاء رکھ دیں اور ضرورت مند اس میں سے اپنی ضرورت کی چیز لے لے ۔
اس صورت کے علاوہ بھی جو بہتر صورت ہو وہ سوال نہ کرنے والوں کے لئے اپناسکتے ہیں ۔

اللہ تعالی ہرصاحب نصاب کو صدق دلی سے زکوۃ دینے کی توفیق دے ۔ آمین

کتبہ
مقبول احمد سلفی
داعی اسلامی سنٹر شمال طائف(مسرہ)

 
شمولیت
نومبر 14، 2018
پیغامات
26
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
22
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم اہل علم اس معاملے پر روشنی ڈالیں کہ کسی شہر کےکچھ لوگ مل جل کر کوئی جگہ مختص کرلیتے ہیں اس مقصد کیلیے کہ وہ فی سبیل اللہ اپنا استعمال شدہ (یا غیر استعمال شدہ) سامان وہاں رکھ جاتے ہیں تاکہ حاجت مند لوگ اپنی ضرورت اور پسند کا سامان بغیر جھجھک کے وہاں سے لے جائیں. عموما یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ کوئی حاجت مند کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بچ جائے اور اس کی ضرورت بھی پوری ہوجائے.
کیا (صدقہ و خیرات کے سنت طریقوں کے ساتھ ساتھ) شرعی طور پر ایسا کرنا جائز ہے؟


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ :

اسلام میں سوال کرنا منع نہیں ہے ۔ ضرورت مند سوال کرسکتے ہیں اور مالدار کو ضرورت مند کا خیال کرنا چاہئے اور اسے جھڑکنا نہیں چاہئے ۔
ہمارے یہاں مانگنے کی جو صورت حال ہے وہ دراصل ہماری ہی وجہ سے ہے ۔ صاحب زکوۃ کو چاہئے کہ زکوۃ کے مستحقین کا پتہ لگالگاکر ان کی ضرورت پوری کریں ۔لیکن آج زکوۃ ہی امانتداری کے ساتھ ادا نہیں کی جاتی تو مستحقین کو کہاں سے ڈھونڈا جائے گا۔ کچھ لوگ زکوۃ تو دیتے ہیں مگر چاہتے ہیں وہ ہمارے پاس آکر دست سوال دراز کریں پھر زکوۃ دیں۔ خیانت اور عدم توجہی کی وجہ سے ضرورمندوں کو کشکول گداگری اٹھانے پہ مجبورہونا پڑا، اور یہی نہیں بلکہ طرح طرح کے بہانے بنانے کا راستہ بھی سکھلایا۔
الحمد للہ ابھی بھی ایسے غربت زدہ لوگ ہیں جو عزت نفس کی خاطر لوگوں سے سوال نہیں کرتے ۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کا ذکر ہواہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :
لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا( سورہ بقرہ : 173)
ترجمہ: وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔
آیت میں الحاف کا ایک معنی ضرورت ہونے کے باوجود سوال نہیں کرناہے ۔
اس معنی کی تائید حدیث سے ہوتی ہے ۔
ليس المِسكينُ الذي تَرُدُّه التمرةُ والتمرتان، ولا اللُّقمةُ ولا اللقمتان، إنما المِسكينُ الذي يَتَعَفَّفُ . واقرَؤوا إن شِئتُم . يعني قولَه : { لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا }(صحيح البخاري:4539)
ترجمہ : مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجور یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں بلکہ مسکین وہ ہے جو سوال نہیں کرتا، تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: {لَا یَسْأَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا} کہ وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔

قرآن کی مذکورہ آیت و حدیث کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کی اس قسم کا پتہ لگانا چاہئے اور بہترین طریقے سے ان کی غربت کا سد باب کرنا چاہئے ۔
ایسے لوگوں کی امداد کے متعدد طریقے ہوسکتے ہیں ، ان میں سے ایک بہترین طریقہ سوال میں درج ہے کہ ایک ایسی جگہ یا صندوق وغیرہ مختص کرلیا جائے جس میں ہم ضرورت کی اشیاء رکھ دیں اور ضرورت مند اس میں سے اپنی ضرورت کی چیز لے لے ۔
اس صورت کے علاوہ بھی جو بہتر صورت ہو وہ سوال نہ کرنے والوں کے لئے اپناسکتے ہیں ۔

اللہ تعالی ہرصاحب نصاب کو صدق دلی سے زکوۃ دینے کی توفیق دے ۔ آمین

کتبہ
مقبول احمد سلفی
داعی اسلامی سنٹر شمال طائف(مسرہ)
ایسے لوگوں کی امداد کے متعدد طریقے ہوسکتے ہیں ، ان میں سے ایک بہترین طریقہ سوال میں درج ہے کہ ایک ایسی جگہ یا صندوق وغیرہ مختص کرلیا جائے جس میں ہم ضرورت کی اشیاء رکھ دیں اور ضرورت مند اس میں سے اپنی ضرورت کی چیز لے لے ۔
اس صورت کے علاوہ بھی جو بہتر صورت ہو وہ سوال نہ کرنے والوں کے لئے اپناسکتے ہیں ۔
 
Top