• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورہ فاتحہ کی نحوی ترکیب

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,433
پوائنٹ
344
بسم اللہ الرحمان الرحیم

باء حرف جر اسم مضاف، لفظ اللہ موصوف، الرحمان صفت اول ، الرحیم صفت ثانی ، لفظ اللہ موصوف اپنی دونوں صفات سے مل کر اسم مضاف کا مضاف الیہ، مضاف اور مضاف الیہ مل باء حرف جر کا مجرور ہوا، جار مجرور مل متعلق محذوف اشرع کے، اشرع فعل مضارع اپنے انا ضمیر فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
الحمد للہ رب العالمین، الرحمن الرحیم، ملک یوم الدین

الحمد مبتدا، لام حرف جر ، لفظ اللہ موصوف ،رب مضاف ، العالمین مضاف الیہ،مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل لفظ اللہ موصوف کی صفَت اول،الرحمان صفت ثانی، الرحیم صفت ثالث،مالک مضاف ،یوم مضاف الیہ مضاف،الدین مضاف الیہ ،یوم مضاف مضاف الیہ سے مل کر پھر مضاف الیہ مالک مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر صفت رابع،لفظ اللہ موصوف اپنی چاروں صفات سے مل کر لام جار کا مجر ور جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ثابت محذوف کے، ثابت اپنے متعلق سے مل کر مبتدا کی خبر ، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
ایاک نعبد وایاک نستعین

ایاک مفعول بہ مقدم، نعبد فعل مضارع،اس میں نحن ضمیر مستترفاعل، نعبد فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ،واو حرف عطف، ایاک مفعول بہ مقدم ، نستعین فعل مضارع،اس میں پوشیدہ ضمیر فاعل، نستعین فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کرجملہ معطوفہ ہوا
اھدنا الصراط المستقیم،صراط الذین انعمت علیھم،غیر المغضوب علیھم ولا الضالین

اھد فعل امر، اس میں انت ضمیر مستتر فاعل ،نا ضمیر مفعول بہ،الصراط موصوف ،المستقیم صفت، موصوف اپنی صفت سے مل کر مبدل منہ،صراط مضاف،الذین اسم موصول،انعمت فعل ماضی،اس میں تاء ضمیر بارز فاعل،علی حرف جر،ھم ضمیر مجرور،جار مجرور مل کر متعلق انعمت فعل کے،انعمت فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر الذین موصول کا صلہ،موصول صلہ مل موصوف،غیر مضاف ،المغضوب اسم مفعول،اس میں مستتر ضمیر نائب فاعل ، علی حرفِ جر،ھم ضمیر مجرور،جار مجرور مل کر متعلق مغضوب کے،مغضوب اسم مفعول اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ ہو کرمعطوف علیہ،واو حرف عطف، لا زائدہ، الضالین معطوف معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر غیر مضاف کا مضاف الیہ،مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر الذین موصوف کی صفت، موصوف اپنی صفت کے ساتھ مل کر صراط مضاف کا مضاف الیہ،مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبدل منہ کا بدل ،مبدل منہ اپنے بدل سے مل کراھد کا مفعول بہ، اھد فعل امر اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا
 

مہوش حمید

مبتدی
شمولیت
اگست 31، 2013
پیغامات
43
ری ایکشن اسکور
66
پوائنٹ
19
السلام و علیکم بھائی یہ آپ نے سورۃ کے دوسرے حصے میں جار مجرور کو متعلق بنایا ثابت لفظ محذوف کا اور ثابت کو متعلق سے ملا کر خبر بنادی تو یہ صحیح ہے؟کیونکہ ثابت فعل ہے اس میں ھو ضمیر فاعل ہو گی پھر فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر بنے گی مبتدا کی؟وضاحت کیجیئے گا
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر الذین موصوف کی صفت، موصوف اپنی صفت کے ساتھ مل کر صراط مضاف کا مضاف الیہ،مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبدل منہ کا بدل ،مبدل منہ اپنے بدل سے مل کراھد کا مفعول بہ، اھد فعل امر اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا
جزاک اللہ خیر محترم بھائی بڑی اچھی زنجیری ترکیب ہے کچھ لوگ اس میں ساتھ یہ بھی اضافہ کرتے ہیں کہ کسی اسم کو جو بنا رہے ہیں اسکا اعراب بھی ساتھ بتا دیتے ہیں مثلا اھدنا میں نا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ اول ہوئی

ایک سوال آپ سے پوچھنا ہے کہ اوپر ہائیلائٹ کیے گئے الفاظ میں آپ نے لفظ غیر کو الذین کی صفت بنایا ہے تو اس طرح اور نحویوں کو بھی میں نے بناتے دیکھا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ الفاظ مثلا غیر، مثل وغیرہ میں ابہام زیادہ ہوتا ہے مثلا بشر مثلکم یا زوجا غیرہ یا جلودا غیرھا وغیرہ پس انکے معرفہ کی طرف مضاف ہونے کے باوجود وہ ابہام ختم نہیں ہوتا پس وہ معرفہ نہیں کہلا سکتے تو پھر الذین معرفہ کی صفت کیسے بن سکتے ہیں اسکی بجائے الذین سے بدل بنایا جا سکتا ہے یا پھر انعمت علیھم میں ھم ضمیر سے بھی بدل بنا سکتے ہیں مفہوم ایک رہے گا واللہ اعلم
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
السلام و علیکم بھائی یہ آپ نے سورۃ کے دوسرے حصے میں جار مجرور کو متعلق بنایا ثابت لفظ محذوف کا اور ثابت کو متعلق سے ملا کر خبر بنادی تو یہ صحیح ہے؟کیونکہ ثابت فعل ہے اس میں ھو ضمیر فاعل ہو گی پھر فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر بنے گی مبتدا کی؟وضاحت کیجیئے گا
بہنا پتا نہیں آپ کون سی جگہ کی بات کر رہی ہیں البتہ فعل نہیں بلکہ شبہ فعل (اسم فاعل) ہے کچھ نحوی ثبت (فعل) کو محذوف نکالنا مختار سمجھتے ہیں
باقی آپ کی بات کو میں اس طرح سمجھا ہوں کہ مبتدی کو جب پڑھایا جاتا ہے تو ثابت شبہ فعل کا بھی اسی طرح فاعل بتا کر ترکیب کی جاتی ہے اور پھر شبہ فعل کو فاعل سے ملا کر شبہ جملہ (جملہ فعلیہ خبریہ نہیں) بنا کر ترکیب کروائی جاتی ہے تاکہ اس کے کنسپٹس کلیئر ہو جائیں کیونکہ جب شبہ جملہ یا جملہ خبر بنتی ہے تو ایک عائد بھی چاہئے ہوتا ہے یہاں اس طرح ضرورت نہیں سمجھی گئی میرے خیال میں آپ کو یہی اشکال تھا
 

مہوش حمید

مبتدی
شمولیت
اگست 31، 2013
پیغامات
43
ری ایکشن اسکور
66
پوائنٹ
19
جی یہی بات تھی آپ نے اوپر للہ کا جار مجرور بنایا تھا نا تو اس میں ڈایئرکٹ متعلق بنادیا تھا تو پڑھتے وقت میرے ذہن میں یہ اشکال آیا تو پوچھ لیا جزاک اللہ خیرا
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,433
پوائنٹ
344
جزاک اللہ خیر محترم بھائی بڑی اچھی زنجیری ترکیب ہے کچھ لوگ اس میں ساتھ یہ بھی اضافہ کرتے ہیں کہ کسی اسم کو جو بنا رہے ہیں اسکا اعراب بھی ساتھ بتا دیتے ہیں مثلا اھدنا میں نا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ اول ہوئی
یہ ترکیب مجھ سے کسی نے طلب کی تھی ، اور اس میں صرف یہی مطالبہ کیا گیا تھا کہ صرف ترکیب کر دیں اعراب کو رہنے د یں سو میں نے صرف ان کا مطالبہ پورا کیا ہے اور بس
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
یہ ترکیب مجھ سے کسی نے طلب کی تھی ، اور اس میں صرف یہی مطالبہ کیا گیا تھا کہ صرف ترکیب کر دیں اعراب کو رہنے د یں سو میں نے صرف ان کا مطالبہ پورا کیا ہے اور بس
محترم بھائی جزاک اللہ خیرا مگر یہ بات میں نے آپ کے لئے بالکل نہیں لکھی بلکہ قارئین کے لئے لکھی ہے اصل میں ترکیب مختلف طریقوں سے کروائی جاتی ہے مثلا ہندوستان والے عموما زنجیری ترکیب کرتے ہیں مگر عربی اعراب القران وغیرہ کو دیکھیں تو وہاں ایسا نہیں ہوتا اسی طرح ہندوستان میں بھی آگے کوئی اعراب کے ساتھ کرتا ہے کوئی کسی اور طریقے سے
میں چاہتا تھا کہ کوئی مبتدی اگر اس طرح مختلف طریقوں کو دیکھے تو وہ کنفیوز نہ ہو اس لئے وضاحت لکھی تھی
اصل میں ہمیں یہ پتا ہونا چاہئے کہ ترکیب کا مقصد کیا ہوتا ہے میرے خیال میں شاید اسکا مقصد طلباء کے لئے نحو کے اصولوں کا اجراء اور ترجمہ کرنے والوں کے لئے غلطی کے امکان کو ختم کرنا ہوتا ہے پس یہ دونوں مقاصد تو عموما بغیر زنجیری ترکیب کے بھی حاصل ہو جاتے ہیں واللہ اعلم
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,433
پوائنٹ
344
ایک سوال آپ سے پوچھنا ہے کہ اوپر ہائیلائٹ کیے گئے الفاظ میں آپ نے لفظ غیر کو الذین کی صفت بنایا ہے تو اس طرح اور نحویوں کو بھی میں نے بناتے دیکھا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ الفاظ مثلا غیر، مثل وغیرہ میں ابہام زیادہ ہوتا ہے مثلا بشر مثلکم یا زوجا غیرہ یا جلودا غیرھا وغیرہ پس انکے معرفہ کی طرف مضاف ہونے کے باوجود وہ ابہام ختم نہیں ہوتا پس وہ معرفہ نہیں کہلا سکتے تو پھر الذین معرفہ کی صفت کیسے بن سکتے ہیں اسکی بجائے الذین سے بدل بنایا جا سکتا ہے یا پھر انعمت علیھم میں ھم ضمیر سے بھی بدل بنا سکتے ہیں مفہوم ایک رہے گا واللہ اعلم
پہلی بات تو یہ ہے کہ اسم موصول ایسا معرفہ ہے جو نکرہ کے مشابہ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جب لفظ غیر دو متضاد چیزوں کے مابین واقع ہو تو یہ اپنے مابعد کے لیے صفت واقع ہوتا ہے ،جیسا کہ نحاۃ نے اس کی وضاحت کی ہے:
ولا تتعرف( غير ) بالإضافة ،لشدة ابهامها، وتستعمل غير المضافة لفظًا على وجهين :
الأول : - وهو الأصل – أن تكون صفة للنكرة ،نحو: "نعمل صالحًا غير الذي كنا نعمل "، أو لمعرفة قريبة ، نحو "صراط الذين أنعمت عليهم غير " لأن المعرَّف الجنسي قريب من النكرة ،ولأن غيرًا إذا وقعت بين ضدين ،ضعف إبهامها،حتى زعم ابن السرّاج أنها حينئذٍ تتعرف

تكون مضافة لفظًا ومعنى إلى المفرد فقط، (أي ما ليس جملة أو شبه جملة) فهي لا تُضاف إلى جُملٍ مطلقًا، فتُعرب دون خلاف وتكون صفة لنكرة، نحو: "قرأت كتابًا غير جيد"، أو صفة لمعرفة تشبه النكرة، كالاسم الموصول فهو بغير صلة مبهم، نحو: {صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِمْ}
وأن حسن الوصف في " غير المغضوب عليهم " إنما كان لاجتماع أمرين الجنسية والوقوع بين الضدين
اس آیت میں بھی لفظ غیر دو متضاد چیزوں کے درمیان واقع ہوا ہے ، جس کی وجہ اس کی اس کا ابہام نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اس کو الذین کا صلہ بنایا گیا کیوں کہ الذین ایسا معرفہ ہے جو نکرہ کے مشابہ ہے، واللہ اعلم بالصواب
 
Top