• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورۃ الفتح کی فضیلت کا بیان

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
5,795
پوائنٹ
354
حدیث نمبر: 5012
حدثنا إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ عن زيد بن أسلم،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسير في بعض أسفاره وعمر بن الخطاب يسير معه ليلا فسأله عمر عن شىء فلم يجبه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم سأله فلم يجبه ثم سأله فلم يجبه،‏‏‏‏ فقال عمر ثكلتك أمك نزرت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرات كل ذلك لا يجيبك،‏‏‏‏ قال عمر فحركت بعيري حتى كنت أمام الناس وخشيت أن ينزل في قرآن فما نشبت أن سمعت صارخا يصرخ ـ قال ـ فقلت لقد خشيت أن يكون نزل في قرآن ـ قال ـ فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فقال ‏"‏ لقد أنزلت على الليلة سورة لهي أحب إلى مما طلعت عليه الشمس ‏"‏‏.‏ ثم قرأ ‏ {‏ إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏}‏


ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے والد اسلم نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ایک سفر میں جا رہے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا۔ لیکن آنحضرت اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ تیسری مرتبہ پھر پوچھا اور جب اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے آپ کو) کہا تیری ماں تجھ پر روئے تو نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ عاجزی سے سوال کیا اور آنحضرت نے کسی مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنی اونٹنی کو دوڑایا اور لوگوں سے آگے ہو گیا (آپ کے برابر چلنا چھوڑ دیا) مجھے خوف تھا کہ کہیں اس حرکت پر میرے بارے میں کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو پکار رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سوچا مجھے تو خوف تھا ہی کہ میرے بارے میں کچھ وحی نازل ہو گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا (سلام کے جواب کے بعد آنحضرت نے فرمایا کہ اے عمر! آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پرسورج نکلتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ انا فتحنا لک فتحاً مبیناً کی تلاوت فرمائی۔

صحیح بخاری
کتاب فضائل القرآن
 
Top