• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورۃ قل ھو اللہ احد کی فضیلت کا بیان

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,960
ری ایکشن اسکور
5,795
پوائنٹ
354
فيه عمرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم.

اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے۔



حدیث نمبر: 5013
حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ أخبرنا مالك،‏‏‏‏ عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري،‏‏‏‏ أن رجلا،‏‏‏‏ سمع رجلا،‏‏‏‏ يقرأ ‏ {‏ قل هو الله أحد‏}‏ يرددها فلما أصبح جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له وكأن الرجل يتقالها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ والذي نفسي بيده إنها لتعدل ثلث القرآن ‏"‏‏.


ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کوامام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، انہیں ان کے والد عبداللہ نے اور انہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی (خود ابو سعید خدری) نے ایک دوسرے صحابی (قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ) اپنے ماں جائے بھائی کو دیکھا کہ وہ رات کو سورۃ قل ھو اللہ باربار پڑھ رہے ہیں۔ صبح ہوئی تو وہ صحابی (ابوسعید رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب نہ ہو گا۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔



حدیث نمبر: 5014
وزاد أبو معمر حدثنا إسماعيل بن جعفر،‏‏‏‏ عن مالك بن أنس،‏‏‏‏ عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري،‏‏‏‏ أخبرني أخي،‏‏‏‏ قتادة بن النعمان أن رجلا،‏‏‏‏ قام في زمن النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ من السحر ‏ {‏ قل هو الله أحد‏}‏ لا يزيد عليها،‏‏‏‏ فلما أصبحنا أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم نحوه‏.


اور ابو معمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے میرے بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے قل ھو اللہ احد پڑھتے رہے۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (باقی حصہ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔


حدیث نمبر: 5015
حدثنا عمر بن حفص،‏‏‏‏ حدثنا أبي،‏‏‏‏ حدثنا الأعمش،‏‏‏‏ حدثنا إبراهيم،‏‏‏‏ والضحاك المشرقي،‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري،‏‏‏‏ رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لأصحابه ‏"‏ أيعجز أحدكم أن يقرأ ثلث القرآن في ليلة ‏"‏‏.‏ فشق ذلك عليهم وقالوا أينا يطيق ذلك يا رسول الله فقال ‏"‏ الله الواحد الصمد ثلث القرآن ‏"‏‏.‏ قال أبو عبد الله عن إبراهيم مرسل وعن الضحاك المشرقي مسند‏.‏


ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نخعی اور ضحاک مشرقی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ قرآن کا ایک تہائی حصہ ایک رات میں پڑھا کرے۔ صحابہ کو یہ عمل بڑا مشکل معلوم ہوا اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ آنحضرت نے اس پر فرمایا کہ قل ھو اللہ احد اللہ الصمد قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے۔ محمد بن یوسف فربری نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوعبداللہ امام بخاری کے کاتب ابو جعفر محمد بن ابی حاتم سے سنا، وہ کہتے تھے کہ امام بخاری نے کہا ابراہیم نخعی کی روایت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقطع ہے (ابراہیم نے ابوسعید سے نہیں سنا) لیکن ضحاک مشرقی کی روایت ابوسعید سے متصل ہے۔

صحیح بخاری
کتاب فضائل القرآن
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,383
ری ایکشن اسکور
17,081
پوائنٹ
1,033
باب : سورۃ قل ھو اللہ احد کی فضیلت کا بیان

اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔
جومکہ میں نازل ہوئی اور اس سورت میں تین آیات ہیں۔

حدیث نمبر : 5013
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخدري، أن رجلا، سمع رجلا، يقرأ ‏{‏قل هو الله أحد‏}‏ يرددها فلما أصبح جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له وكأن الرجل يتقالها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ والذي نفسي بيده إنها لتعدل ثلث القرآن ‏"‏‏.
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم کوامام مالک نے خبردی ، انہیں عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ نے ، انہیں ان کے والد عبد اللہ نے اور انہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی ( خود ابو سعید خدری ) نے ایک دوسرے صحابی ( قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ) اپنے ماں جائے بھائی کو دیکھا کہ وہ رات کو سورۃ قل ھو اللہ بار بار پڑھ رہے ہیں ۔ صبح ہوئی تو وہ صحابی ( ابو سعید رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب نہ ہوگا ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے ۔

حدیث نمبر : 5014
وزاد أبو معمر حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن مالك بن أنس، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخدري، أخبرني أخي، قتادة بن النعمان أن رجلا، قام في زمن النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ من السحر ‏{‏قل هو الله أحد‏}‏ لا يزيد عليها، فلما أصبحنا أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم نحوه‏.
اور ابو معمر ( عبد اللہ بن عمرو منقری ) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے امام مالک بن انس نے ، ان سے عبد الرحمن بن عبداللہ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے میرے بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے قل ھو اللہ احد پڑھتے رہے ۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے ۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ( باقی حصہ ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

اس سورت سے خصوصی محبت اور اس کا ورد وظیفہ ترقیات دارین کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں توحید خالص کابیان اور جملہ اقسام شرک کی مذمت اور عقائد باطلہ کی بیخ کنی ہے۔

تشریح : یہ حدیث آگے موصولا ً مذکور ہوگی اس میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فوج کا سردار بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا اور ہر رکعت میں قرات قل ھو اللہ احد پر ختم کرتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ اللہ پاک بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ قل ھو اللہ کی محبت نے تجھ کو جنت میں داخل کردیاہے۔ تیسری حدیث میں ہے جو شخص سوتے وقت سوبار قل ھواللہ احد کو پڑھ لیا کرے قیامت کے دن پروردگار فرمائے گا میرے بندے! جنت میں داخل ہو جا جو تیرے داہنے طرف ہے۔ اس سورت کے تین بار پڑھ لینے سے پور ے قرآن مجید کے ختم کا ثواب مل جاتا ہے۔

حدیث نمبر : 5015
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثنا إبراهيم، والضحاك المشرقي، عن أبي سعيد الخدري، رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لأصحابه ‏"‏ أيعجز أحدكم أن يقرأ ثلث القرآن في ليلة ‏"‏‏.‏ فشق ذلك عليهم وقالوا أينا يطيق ذلك يا رسول الله فقال ‏"‏ الله الواحد الصمد ثلث القرآن ‏"‏‏.‏ قال أبو عبد الله عن إبراهيم مرسل وعن الضحاك المشرقي مسند‏.‏
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم نخعی اور ضحاک مشرقی نے بیان کیا اوران سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ قرآن کا ایک تہائی حصہ ایک رات میں پڑھا کرے ۔ صحابہ کو یہ عمل بڑا مشکل معلوم ہوا اورانہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے ۔ آنحضرت نے اس پر فرمایا کہ قل ھو اللہ احد اللہ الصمد قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے ۔ محمد بن یوسف فربری نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابو عبد اللہ امام بخاری کے کاتب ابو جعفر محمد بن ابی حاتم سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ امام بخاری نے کہا ابراہیم نخعی کی روایت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقطع ہے ( ابراہیم نے ابو سعید سے نہیں سنا ) لیکن ضحاک مشرقی کی روایت ابوسعید سے متصل ہے ۔

تشریح : اسی لئے حضرت امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں نکالا اگر یہ حدیث صرف ابراہیم نخعی کے طریق سے مروی ہوتی تو حضرت امام بخاری اس کو نہ لاتے کیونکہ وہ منقطع ہے۔ امام بخاری اور اکثر اہلحدیث منقطع کو مرسل اور متصل کو مسند کہتے ہیں ( وحیدی ) اس سورت کو سورۃ اخلاص کا نام دیا گیا ہے اس کی فضیلت کے لئے یہ احادیث کا فی ہیں جو حضرت امام نے یہاں نقل فرمائی ہیں۔
 
Top