• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کا رجوع یا مرزا جہلمی کا فراڈ؟

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
563
ری ایکشن اسکور
173
پوائنٹ
77
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کا رجوع یا مرزا جہلمی کا فراڈ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مرزا جہلمی بڑا دھوکے باز آدمی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رجوع ثابت کرنے کے لیے اپنے ریسرچ پیپر میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے ایک روایت درج کی جس میں تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرما رہی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مجھ سے ایک نیا کام سرزد ہو گیا۔

IMG_20240606_212151.jpg

اسکے بعد مرزا جہلمی کہتا لو جی رجوع ثابت ہو گیا!

حالنکہ یہ روایت ضعیف تھی کیونکہ اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے راوی اسماعیل بن ابی خالد مدلس تھے۔

IMG_20240606_212704.jpg


حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی اسماعیل بن ابی خالد کو مدلس قرار دیا۔ ( مقالات جلد 2 صفہ 547)

IMG_20240606_213416.jpg


  • اور ہماری طرف سے ایٹم بم
اسماعیل بن ابی خالد کو مرزا جہلمی بھی مدلس مانتا یے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زہر پینے والے واقعہ کا رد کرتے وقت کہتا ہے :
اسکی سند میں اسماعیل بن ابی خالد مدلس راوی یے عن سے روایت یے سماع کی صراحت نہیں لہزاہ روایت فارغ یے۔

  • لیکن جب اپنا الو سیدھا کرنا تھا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رجوع دکھانا تھا تب اسکو نہ اسماعیل بن ابی خالد کا مدلس ہونا نظر آیا, نہ عن سے روایت کرنا نظر آیا بس اپنے ریسرچ پیپر میں اس جھوٹ کو لکھ کر پھیلا دیا۔

جب اس سے پوچھ لو اس طرح کی ضعیف روایات کیوں درج کی ہیں اپنے ریسرچ پیپر میں تو کہہ دیتا یے اسکو کسی نہ کسی محدث نے صحیح کہا ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب اصول محدثین سے ایک روایت ضعیف یے اور خود تیرے اصول و تیرے نزدیک بھی وہ روایت ضعیف یے تو اسے درج ہی کیوں کیا؟ بے شک کوئی محدث اسے صحیح کہ بھی دے مگر جب ایک روایت ہی ضعیف یے تیرے نزدیک بھی ضعیف یے تو اس ضعیف روایت کو درج کر کے اس کو اپنی دلیل بنانا اسکو اپنا دین و ایمان مان لینا اسکو سچ مان لینا اس بنیاد پہ اپنا مقدمہ قائم کر لینا یہ دھوکہ اور فراڈ نہیں تو اور کیا ہے؟

حالنکہ ہونا یہ چاہیے تھا چاہئے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زہر پینے والا واقعہ ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رجوع والا واقعہ جب دونوں روایات میں اسماعیل بن ابی خالد مدلس ہے، دونوں میں عن سے روایت ہے، دونوں میں سماع کی صراحت موجود نہیں تو پھر ایک واقعہ صحیح اور ایک غلط کیسے ہو گیا؟

IMG_20240606_212309.jpg


یہ ہے مرزا ثانی فراڈی مداری دھوکے باز کے دو نمبر کام! کوڑ کباڑ ریسرچ پیپیر میں اکھٹا کر کے اوپر لکھا ہوا ہے ضعیف روایات کے فتنوں سے بچنے والوں کے لیے! ۔
 
Top