• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی شہادت

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,535
پوائنٹ
791
ذاتی پیغام میں ایک بہن نے سوال کیا ہے کہ :
کیا ایسی کوئی روایت موجود ہے ؟
"جرموز اس کے بعد آپ کے ہتھیار لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا آپ یہ خبر سن کر حیرت زدہ رہ گئے اور بہت افسوس کا اظہار کیا اور ابن جرموز سےفرمایا۔
تجھے دوزخ کی بشارت ہو وہاں بھڑکتی ہوئی آگ میں تیرا انتظار ہو رہا ہے"
اگر ہے تو حوالہ بما سند سینڈ کر دیجئے۔۔۔جزاکم اللّه خیرا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ

سیدنا زبیر بن عوام ابوعبداللہ قرشی کی کنیت سے مشہور ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، چوتھی پشت " قصی " پر پہنچ کر ان کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے، ان کی والدہ ماجدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا عبد المطلب کی بیٹی اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی حضرت اسماء ان کی زوجیت میں تھیں، انہوں نے اور ان کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہانے ایک ساتھ حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر ١٦ سال اور ایک روایت کے مطابق ٢٥ سال تھی،

سیدنا زبیر وہ خوش نصیب شخصیت ہیں جنہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : فداک ابی و امی ،تجھ پر میرے ماں ،باپ قربان جائیں "
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں حدیث روایت فرمائی ہے کہ :
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمَ الأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي النِّسَاءِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ، عَلَى فَرَسِهِ، يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ: يَا أَبَتِ رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ؟ قَالَ: أَوَهَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ». فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: «فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي»
ترجمہ :
٭عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا (کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے) میں نے اچانک دیکھا کہ زبیر رضی اللہ عنہ (آپ کے والد) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ (یہودیوں کے ایک قبیلہ کی) طرف آ جا رہے ہیں۔ دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میں نے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جا کر ان کی (نقل و حرکت کے متعلق) اطلاع میرے پاس لا سکے۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں (خبر لے کر) واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرط مسرت میں) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔( صحیح بخاری 3720 )

اور اس اعزاز کو پانے والے دوسرے خوش نصیب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں ،امام بخاریؒ نے روایت کیا ہے :
سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: نَثَلَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِنَانَتَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» (صحیح بخاری 4055 )
٭ امام سعیدؒ بن مسیب نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش کے تیر مجھے نکال کر دیئے اور فرمایا کہ خوب تیر برسائے جا۔ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔

اور سیدنا زبیر بن عوام ان بلند بخت صحابہ کرام سے ایک ہیں جنہیں نام لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی ،
امام ترمذیؒ نے روایت کیا ہے کہ :
عن عبد الرحمن بن عوف، قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " ابو بكر في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وعمر في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وعثمان في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وعلي في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وطلحة في الجنة، ‏‏‏‏‏‏والزبير في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وعبد الرحمن بن عوف في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وسعد في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وسعيد في الجنة، ‏‏‏‏‏‏وابو عبيدة بن الجراح في الجنة "(جامع الترمذیؒ 3747 )
٭ ترجمہ
٭ سیدناعبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید (سعید بن زید) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں (رضی اللہ علیہم اجمعین)“
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
جنگ جمل (جو 10 جمادی الاول سنۃ 36 ھ کو ہوئی ) اس میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھے ،
جنگ کے بعد واپس جاتے ہوئے ،جناب علی رضی اللہ عنہ کے ایک سپاہی عمیر بن جرموز نے بصرہ کے قریب انہیں شہید کردیا ،
اور ان کا سرکاٹ کر جناب علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا ،
آٹھویں صدی کے حدیث اور تاریخ کے مشہورامام شمس الدين أبو عبد الله الذهبي (المتوفى : 748 ھ) نے (سیراعلام النبلاء ) میں نقل فرمایا ہے کہ :
قرة بن حبيب: حدثنا الفضل بن أبي الحكم، عن أبي نضرة، قال:
جيء برأس الزبير إلى علي، فقال علي: تبوأ يا أعرابي مقعدك من النار، حدثني رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن قاتل الزبير في النار "

یعنی ایک اعرابی (ابن جرموز سیدنا زبیر بن عوام کو قتل کرکے ان کا سر مبارک ) جناب علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ،تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا :اے اعرابی ! تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے ،کیونکہ مجھے جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ زبیر کا قاتل جہنم میں جائے گا "
(سیر اعلام النبلاء کی تحقیق میں علامہ شعیب الارناؤط اس روایت کے تحت لکھتے ہیں : رجال الإسناد ثقات )
نیز امام ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں انہی الفاظ سے نقل فرمائی ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور امام احمدؒ نے فضائل صحابہ ( )1272اور اپنی مسند (799 )میں صحیح اسناد سے حدیث روایت فرمائی ہے کہ :
حدثنا عبد الله قال: حدثني أبي، قثنا معاوية قثنا زائدة، عن عاصم، عن زر قال: استأذن ابن جرموز على علي، وأنا عنده فقال: علي بشر قاتل ابن صفية بالنار، ثم قال علي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لكل نبي حواري، وحواري الزبير» فضائل الصحابہ

حدثنا عفان، حدثنا حماد، أخبرنا عاصم بن بهدلة، عن زر بن حبيش، أن عليا قيل له: إن قاتل الزبير على الباب. فقال: ليدخل قاتل ابن صفية النار، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن لكل نبي حواريا، وإن الزبير حواري» مسند احمد

إسناد. حسن. وأخرجه ابن سعد 3/105 عن عفان، بهذا الإسناد
ثقہ تابعی اور قراءت کے امام زر بن حبیشؒ کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی،اور میں بھی وہاں موجود تھا جناب علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے اندر آنے دو ، زبیر کے قاتل کوجہنم کی بشارت دو، ابن صفیہ کا قاتل جہنم میں جائے گا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ "
(فضائل صحابہ 1271 ، الاحادیث المختارۃ ، المعجم الکبیر للطبرانی ، المتدرک للحاکم5578 ، السنۃ لابن ابی عاصم )
نیز دیکھئے :امام ابن جریرؒ الطبری کی (تهذيب الآثار جلد 3 ،ص169 )
اور امام سیوطیؒ کی جامع الاحادیث ملاحظہ فرمائیں :
https://books.google.com.pk/books?i...fAVsQ6AEIPTAI#v=onepage&q=جرموز و علي&f=false
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ

اور مستدرک حاکم جہاں امام حاکم اور امام ذہبیؒ نے اس روایت کو صحیح کہا ہےمیں بالاسناد ان الفاظ سے ہے :
حدثنا أبو بكر بن دارم الحافظ، بالكوفة، ثنا أبو جعفر الحضرمي، ثنا حمزة بن عون المسعودي، ثنا محمد بن القاسم الأسدي، ثنا سفيان الثوري، وشريك، عن عاصم بن أبي النجود، عن زر بن حبيش، قال: كنت جالسا عند علي فأتي برأس الزبير ومعه قاتله، فقال علي: للآذن بشر قاتل ابن صفية بالنار، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لكل نبي حواري، وإن حواري الزبير» هذه الأحاديث صحيحة، عن أمير المؤمنين علي، وإن لم يخرجاه بهذه الأسانيد "
[التعليق - من تلخيص الذهبي] 5580 - هذه أحاديث صحاح

ترجمہ :
امام زر بن حبیشؒ کہتے ہیں کہ امیں جناب علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا کہ ان کے پاس سیدنا زبیر بن عوام کا سر مبارک لایا گیا ،اور ساتھ ہی سیدنا زبیر کا قاتل بھی تھا ،(جس نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو ) جناب علی نے اسے بلا کر لانے والے کو کہا کہ پیغمبر اکرم کے پھوپھی زاد زبیر کے قاتل کو جہنم کی بشارت دےدو ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ " (امام حاکم اور امام الذھبیؒ فرماتے ہیں : یہ احادیث صحیح ہیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نوٹ :
اگر ان مندرجات اور تفصیلات میں اصلاح اور تبدیلی کی کوئی گنجائش ہے تو باخبر بھائی بلا جھجک آگاہ فرمائیں ،
جزاکم اللہ تعالی خیراً

 

وارثین

مبتدی
شمولیت
مارچ 30، 2022
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
‏اسلام علیکم محترم روافض و نیم روافض ایک حدیث پیش کرتے ہیں:
حضور ﷺ نے سیدنا زبیر بن عوام رضہ سے فرمایا تھا، ایک دن تم ناحق علی سے لڑو گے ۔
کیا یہ حدیث صحیح ہے رہنمائی فرمائیں
 

وارثین

مبتدی
شمولیت
مارچ 30، 2022
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
درج ذیل لنک پہ سوال پوچھ چکا ہوں
 

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,403
ری ایکشن اسکور
405
پوائنٹ
190
درج ذیل لنک پہ سوال پوچھ چکا ہوں
أخرجه الحاكم في "مستدركه" (3 / 366) برقم: (5619) ، (3 / 366) برقم: (5620) ، (3 / 366) برقم: (5621) ، (3 / 367) برقم: (5622) ، (3 / 367) برقم: (5623) وأبو يعلى في "مسنده" (2 / 29) برقم: (666) وأورده ابن حجر في "المطالب العالية" (18 / 150) برقم: (4410) ، (18 / 134) برقم: (4403 / 1) ، (18 / 134) برقم: (4403 / 2) ، (18 / 137) برقم: (4404) وأخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" (21 / 399) برقم: (38982)
 
Last edited:

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,403
ری ایکشن اسکور
405
پوائنٹ
190
أخرجه الحاكم في "مستدركه" (3 / 366) برقم: (5619) ( كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم ، رجوع الزبير عن معركة الجمل ) ، (3 / 366) برقم: (5620) ( كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم ، رجوع الزبير عن معركة الجمل ) ، (3 / 366) برقم: (5621) ( كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم ، رجوع الزبير عن معركة الجمل ) ، (3 / 367) برقم: (5622) ( كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم ، رجوع الزبير عن معركة الجمل ) ، (3 / 367) برقم: (5623) ( كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم ، رجوع الزبير عن معركة الجمل ) وأبو يعلى في "مسنده" (2 / 29) برقم: (666) ( مسند الزبير بن العوام ، ) وأورده ابن حجر في "المطالب العالية" (18 / 150) برقم: (4410) ( كتاب الفتوح ، باب وقعة الجمل ) ، (18 / 134) برقم: (4403 / 1) ( كتاب الفتوح ، باب وقعة الجمل ) ، (18 / 134) برقم: (4403 / 2) ( كتاب الفتوح ، باب وقعة الجمل ) ، (18 / 137) برقم: (4404) ( كتاب الفتوح ، باب وقعة الجمل ) وأخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" (21 / 399) برقم: (38982) ( كتاب الجمل ، في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير رضي الله عنهم )
 

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,403
ری ایکشن اسکور
405
پوائنٹ
190
نبی کریم ﷺ کے حواری سیدنا زبیر بن العوام بن خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرزندار جمند اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:“ان لکل نبي حواریّاً و حواريّ الزبیر بن العوام” ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں (صحیح البخاری : ۲۸۲۶ و صحیح مسلم : ۲۴۱۵)
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ :”أما أبوہ فحواري النبی ﷺ“ اور اس (عبداللہ بن الزبیرؓ ) کے ابا جان ، نبی ﷺ کے حواری تھے (صحیح البخاری : ۴۶۶۵)
سفیان بن عیینہ نے فرمایا کہ : حواری ناصر (مددگار) کو کہتے ہیں۔(سنن ترمذی : ۳۷۴۴ و سندہ صحیح)
بنوقریظہ والے دن، نبی اکرم ﷺ نے زبیرؓ کو فرمایا:”فداک أبي و أمي“ میرے ماں باپ تجھ پر فدا (قربان) ہوں (صحیح البخاری: ۳۷۲۰ و صحیح مسلم: ۲۴۱۶)
سیدنا عمرؓ نے فرمایا:
”ماأجدأحق بھذا الأمر من ھؤ لاء النفرأ والرھط الذین توفي رسول اللہﷺ وھو عنھم راضٍ، فسمّی علیاً عثمان و الزبیر و طلحۃ وسعداً و عبدالرحمٰن“ میرے خیال میں اس خلافت کا مستحق ان لوگوں کے علاوہ دوسرا کوئی شخص نہیں ہے ، جن سے رسول اللہ ﷺ وفات تک راضی تھے ، آپ نے علی، عثمان، زبیر ، طلحہ ، سعد (بن ابی وقاص) اور عبدالرحمٰن (بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کا نام لیا۔ (صحیح البخاری: ۳۷۰۰)
سیدنا عثمانؓ نے فرمایا:”أما والذي نفسي بیدہ إنہ لخیرھم ما علمت و إن کان لأحبھم إلی رسول اللہﷺ“ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بےشک وہ (زبیرؓ) میرے علم کے مطابق ان لوگوں میں سب سے بہتر ہیں اور آپ نبی ﷺ کو ان سب سے زیادہ محبوب تھے (صحیح البخاری : ۳۷۱۷)
رب کریم کا ارشاد ہے کہ ﴿ اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَ اتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۲﴾ۚ﴾ جن لوگوں نے تکلیف اٹھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہی، ان میں نیک اور متقی لوگوں کے لئے بڑا اجر ہے۔ (آل عمران: ۱۷۲)
اس آیت کے بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ اپنے بھانجے عروہ بن الزبیرؒ سے فرماتی ہیں کہ :”أبواک، واللہ من الذین استجابواللہ والرسول من بعدما أصابھم القرح“ اللہ کی قسم ! تیرے دونوں والدین (ابا زبیر ؓ اور نانا ابوبکرؓ) ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زخم و تکلیف اٹھانے کے بعد بھی اللہ و رسول کی پکار پر لبیک کہی۔ (صحیح مسلم: ۲۴۱۸ و ترقیم دارالسلام: ۶۲۴۹)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”زبیر (بن العوام) جنت میں ہیں“ (سنن الترمذی: ۳۷۴۷ و إسنادہ صحیح، الحدیث: ۱۹ص ۵۶)
ایک روایت میں آپﷺ نے سیدنا زبیرؓ کو شہید کہا۔ (صحیح مسلم: ۲۴۱۷ و الحدیث :۱۹ ص ۵۶)
جنگِ جمل میں آپ سیدنا علیؓ کے خلاف لشکر میں تھے کہ آپ کے پاس سیدنا عبداللہ بن عباسؓ تشریف لائے اور کہا :آپ اپنی تلوار کے ساتھ علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب سے جنگ کر رہے ہیں، (آپ کی والدہ) صفیہ بن عبدالمطلب کہاں ہے؟ یہ سن کر زبیرؓمیدانِ جنگ سے لوٹ آئے تو (راستے میں) ابن جرموز ملا، اس نے (غداری اور دھوکے سے) آپ کو شہید کردیا۔ آپ کی شہادت کے بعد عبداللہ بن عباس علیؓ کے پاس گئے اور پوچھا:صفیہ کے بیٹے (زبیر) کا قاتل کہاں جائے گا ؟ تو علیؓ نے فرمایا : (جہنم کی ) آگ میں۔(طبقات ابن سعد ۱۱۰/۳ و سندہ حسن ، ثابت بن یزید سمع من ھلال بن خباب قبل اختلاطہ، انظرنیل المقصود في تحقیق سنن أبي داؤد:۱۴۴۳)
زربن حبیشؒ سے روایت ہے کہ میں (سیدنا) علیؓ کے پاس تھا کہ (سیدنا زبیرؓ کے قاتل) ابن جرموز نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو علیؓ نے فرمایا:ابن صفیہ (زبیرؓ) کے قاتل کو آ گ کی “خوشخبری” دے دو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے (مسند احمد ۸۹/۱ ح ۶۸۰ و سندہ حسن)
اس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے ۔(المستدرک ۳۶۷/۳ ح ۵۵۷۹)
سیدنا علیؓ نے فرمایا : مجھے یہ پوری امید ہے کہ میں، طلحہ اور زبیر(بن العوام) ان لوگوں میں ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ان کےدلوں میں جو رنجش ہوگی ہم اسے نکال دیں گے ]وہ آمنے سامنے تختوں پر بھائیوں کی طرح (بیٹھے) ہوں گے[(مصنف ابن ابی شیبہ ۲۸۱،۲۸۲/۱۵ ح ۳۷۸۱۰ وسندہ حسن ، الحدیث:۲۰ ص ۴۸) سیدنا زبیرؓ بچپن میں مسلمان ہوئے تھے اور چھتیس ہجری کو جنگِ جمل سے واپس لوٹتے ہوئے شہید کئے گئے ۔رضي اللہ عنہ
تحفۃ الاشراف کی ترقیم کے مطابق کتاب ستہ میں آپ کی بیان کردہ بیس سے زیادہ احادیث ہیں ان میں سے مشہور ترین حدیث درج ذیل ہے:
سیدنا زبیرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:“من کذب عليّ فلیتبوأ مقعدہ من النار“جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے گا وہ اپنا ٹھکانا (جہنم کی) آگ میں تلاش کرے ۔ (صحیح بخاری: ۱۰۷)
اے اللہ ! ہمارے دِلوں کو سیدنا زبیرؓ اور تمام صحابہ کرامؓ کی محبت سے بھر دے۔ رضي اللہ عنھم أجمعین
اے اللہ ! ہمارے بھائی شیخ اسحاق سلفی ‫ رحمہ اللہ کی مغفرت فرما، ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔
 
Last edited:
Top