• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
563
ری ایکشن اسکور
173
پوائنٹ
77
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہے اس بارے میں صحیح اور متصل سند سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، البتہ قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ذوالحجہ کے بالکل آخر میں یا یکم محرم کو ہوئی، تفصیل درج ذیل ہے:

• آپ رضی اللہ تعالی عنہ 23 ہجری ماہ ذوالحجہ کے آخر میں مدینہ تشریف لائے اور جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"فقدمنا المدينة في عقب ذي الحجة فلما كان يوم الجمعة عجلت الرواح حين زاغت الشمس"
ہم ماہ ذوالحجہ کے آخر میں مدینہ آئے پھر جب جمعہ کا دن تھا تو سورج ڈھلتے ہی میں جلدی مسجد کی طرف گیا۔(صحیح البخاری:6830)

عقب کا معنی:

جب کوئی اس وقت آئے کہ مہینے کے دس روز یا اس سے کم باقی ہوں تو یہ لفظ بولا جاتا ہے، دیکھیں(لغات الحدیث عربی اردو از مولانا وحید الزمان حیدرآبادی:207/3)

یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب مدینہ تشریف لائے تو ماہ ذوالحجہ کے آخری دس روز یا اس سے کم باقی تھے۔

اسی طرح حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ جمعہ کے دن سے پہلے بدھ یا جمعرات کو مدینہ تشریف لا چکے تھے۔

اگر ہم مان لیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ ذوالحجہ کے آخری دس روز میں سے پہلے دن ہی (21 ذوالحجہ کو) مدینہ تشریف لے آئے تھے تو جمعہ کے دن 22 یا 23 ذوالحجہ تھی۔

•• آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے جمعہ کے اسی خطبہ میں چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ نامزد کر لینا۔ دیکھیں( صحیح مسلم:1258)

••• آپ رضی اللہ عنہ اس جمعہ سے ایک ہفتہ یعنی سات دنوں کے بعد یا اس کے قریب دنوں کے بعد زخمی کیے گئے، جویریہ بن قدامہ تمیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"فما كانت إلا جمعة أو نحو ذلك حتى أصيب" پس نہیں گزرا تھا مگر ایک ہفتہ یا اس کے قریب دن حتی کہ آپ رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے۔ ( السنن الکبری للبیہقی:206/9،مسند ابن الجعد:1282،مسند أحمد:51/1 وسندہ صحیح)

مذکورہ بالا تفصیل سے بالکل واضح ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ذوالحجہ کے بالکل آخر میں ہوئی یا یکم محرم کو ہوئی۔

نوٹ: یکم محرم کو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی تدفین ہوئی، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ( م:774ھ) نے اس قول کو سب سے مشہور قرار دیا ہے۔ دیکھیں(البداية والنه‍اية:148/7)

اور یوم تدفین ہی یوم شہادت ہے، کیونکہ:

1 : فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "أسرعوا بالجنازة"
جنازہ جلدی لے جایا کرو ( صحیح البخاری:1315،صحیح مسلم:944)

2 : خلافت کے معاملات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد نمٹائے گئے ( صحیح البخاری:3700)

پس تاخیر کی کوئی وجہ نہیں ہے اس لیے درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یوم تدفین ہی یوم شہادت ہے۔ واللہ أعلم

ایک سوال اور اس کا جواب:

سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" ما انسلخ ذو الحجة حتى قتل عمر رحمه الله "
ابھی ذو الحجہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا۔ رحمہ اللہ( موطأ الامام مالک:824/2 وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ذوالحجہ کے آخر میں ہوئی ہے۔

جواب: سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول واضح نہیں ہے کیونکہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا یہی قول الطبقات الکبری لابن سعد وغیرہ میں ہے جس کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"فما انسلخ ذو الحجة حتى طعن"
ابھی ذو الحجہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے۔ (الطبقات الکبری:310/3 وسندہ صحیح)

اس قول سے معلوم نہیں ہوسکا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ذوالحجہ کے آخر میں شہید کیے گئے یا زخمی کیے گئے۔

از قلم : حافظ بلال اشرف اعظمی
 
Top