• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کو مشکوک بنانے والا، ان کے لئے شہید لفظ کے استعمال کا انکاری بانی مدخلیت امان الجامی

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
563
ری ایکشن اسکور
173
پوائنٹ
77
سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کو مشکوک بنانے والا، ان کے لئے شہید لفظ کے استعمال کا انکاری بانی مدخلیت امان الجامی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جامیہ مداخلہ فرقے کا بانی امان جامی کہتا ہے :

عمر بن الخطاب رَضَ اللَّهُ عَنْهُ اغتيل وعثمان قتل؛ هل سمعتم أحد يقول: الشهيد عمر والشهيد عثمان؟ هذه عبارة ما كانت معروفة عند السلف، عبارة حديثة، لا ينبغي أن نطلق على كل من قتل في سبيل الله في المعارك أو قتله ظالم نسميه شهيدًا

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کر دیا، اسی طرح عثمان کو قتل کیا گیا، کیا آپ نے کسی کو شہید عمر یا شہید عثمان کہتے ہوئے سنا ہے؟ در اصل یہ عبارت یعنی ایسا کہنا سلف کے یہاں معروف ہی نہیں، یہ دور جدید کی ایجاد ہے، یہ جائز نہیں ہے کہ جو بھی میدان جنگ میں مارا جائے یا جسے کسی ظالم نے قتل کر دیا ہو تو اسے ہم شہید کہنے لگ جائیں۔


[قرة عيون السلفية بالأجوبة الجامية، ص : ٤١]

یہ بدبخت امان جامی زندیق کس طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تعلق سے شبہات پیدا کرتے ہوئے کہہ رہا ہے "هل سمعتم أحد يقول: الشهيد عمر والشهيد عثمان؟"

اب ملاحظہ فرمائیں اس کالے شیطان امان جامی بےایمان کے چھوڑے ہوئے شیطانی وسوسے کے بطلان و سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا کے شہید ہونے کی گواہی خود صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی :

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ:" اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ".

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔“


[صحيح البخاري، كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة، حدیث نمبر: ٣٦٧٥]

صحيح البخاري کی ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ پر اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔ [صحيح البخاري، كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة، حدیث نمبر: ٣٦٩٧]

علامہ ابن عثیمین فرماتے ہیں :

فالنبي هو عليه الصلاة والسلام والصديق أبو بكر، والشهيدان: عمر وعثمان وكلاهما رضي الله عنهما قتل شهيدا أما عمر فقتل وهو متقدم لصلاة الفجر بالمسلمين قتل في المحراب وأما عثمان فقتل وهو يتجهد في بيته في صلاة الليل فرضى الله عنهما

نبی آپ علیہ الصلاۃ والسلام ہیں اور صدیق ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور دو شہداء: عمر اور عثمان دونوں ہیں رضی اللہ عنہما دونوں شہید ہوئے، جہاں تک عمر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو وہ اس حال میں قتل کئے گئے کہ مسلمانوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، وہ محراب میں قتل کیے گئے، اور عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تہجد کی نماز ادا کرتے ہوئے قتل ہوئے، اللہ ان دونوں سے راضی ہو۔


[شرح رياض الصالحين لابن عثيمين، ج: ٤، ص: ١٣٠]

پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہید قرار پانا اور ان دونوں خلفائے راشدین کے لئے معین طور پر لفظ شہید کا اطلاق کرنا قطعی نص سے ثابت ہے اس کے باوجود سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے لئے لفظ شہید استعمال کرنے کے متعلق یہ سرکش شیطان امان جامی کہتا ہے هذه عبارة ما كانت معروفة عند السلف! عبارة حديثة

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں شیخین کے لئے لفظ "شهيدان" استعمال کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں صحیح البخاری: ٣٦٧٥، شهيدان یعنی دو شہید سے مراد: عمر وعثمان رضی اللہ عنہما ہیں جن دونوں کی شہادت کی گواہی بزبان رسالت مآب ہو ان کی شہادت کو مشکوک بنانے والا ان کے لئے لفظ شہید کے استعمال کا منکر امان جامی زندیق کا بھلا سلفیت سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟

امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ اپنی کتاب "فضائل الصحابة" میں لکھتے ہیں : وَالشَّهِيدَانِ عُمَرُ وَعُثْمَانُ یعنی دو شہید عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما ہیں۔ [فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل، ج: ١، ص: ٤٣٨] اس کے باوجود عمر و عثمان کے لئے لفظ شہید کے اطلاق کو دور جدید کی ایجاد بتا رہا ہے یہ بدبخت امان جامی!

پھر امان جامی اپنی ضلالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو شہید کہنے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہتا ہے "لا ينبغي أن نطلق على كل من قتل في سبيل الله في المعارك أو قتله ظالم نسميه شهيدًا"

جبکہ اس کے برعکس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ یعنی جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔ [صحيح مسلم، حدیث نمبر: ٤٩٤١]

علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شَهِيدٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَهُوَ الْمَقْتُولُ فِي حَرْبِ الْكُفَّارِ دنیا اور آخرت میں شہید وہ ہیں جو جہاد میں کافروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ [المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، ج: ١٣، ص: ٦٣]
 
Top