• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سید ابوالاعٰلی مودودی --- مسئلہ حیات النبی صلی الله وعلیہ وسلم

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,895
پوائنٹ
436
فرقہ جماعت اسلامی - رسائل و مسائل --- سید ابوالاعٰلی مودودی ---

مسئلہ حیات النبی صلی الله وعلیہ وسلم

مودودی صاحب نے قرآن ، حدیث اور اجماع صحابہ رضی الله عنہم اجمعین کے اس عظیم و شان مسئلہ کو فروعی مسئلہ بنا دیا اور یہ فرما کر کہ جو اس مسئلہ میں ایک عقیدہ رکھے اور اس کی تبلیغ کرے وہ خطرے میں ہے - ابو بکر صدیق رضی الله عنھ اور دوسرے صحابہ رضی الله عنہم اجمعین کو خطرے میں ڈال دیا


111.jpg


یہ حدیث کافی ہے حقیقت کو بیان کرنے کے لئے -

وسی بن اسماعیل، جریربن حازم، ابورجاء، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ لیتے تھے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کہ تم میں سے کسی نے رات کو خواب دیکھا ہے اگر کوئی شخص خواب دیکھتا تو اسے بیان کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر فرماتے جو اللہ کو منظور ہوتا، چنانچہ آپ نے ایک دن ہم سے سوال کیا کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ہم نے جواب دیا کہ نہیں، آپ نے فرمایا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ دو شخص میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر ارض مقدسہ کی طرف لے گئے وہاں دیکھا کہ ایک شخص تو بیٹھا ہوا ہے اور دوسرا شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں (ہمارے بعض ساتھیوں نے کہا کہ) لوہے کا ٹکڑا ہے جسے اس (بیٹھے ہوئے آدمی) کے گلپھڑے میں ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ گدی تک پہنچ جاتا ہے پھر اسی طرح دوسرے گلپھڑے میں داخل کرتا ہے اور پہلا گلپھڑا جڑ جاتا ہے، تو اس کی طرف پھر آتا ہے اور اسی طرح کرتا ہے، میں نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو۔ ہم آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس پہنچے جو چت لیٹا ہوا تھا اور ایک شخص اس کے سر پر فہر یا ضحرہ (ایک بڑا پتھر) لئے کھڑا تھا۔ جس سے اس کے سر کوٹتا تھا جب اسے مارتا تھا تو پتھر لڑک جاتا تھا۔ اور اس پتھر کو لینے کے لئے وہ آدمی جاتا تو واپس ہونے تک اس کا سر جڑ جاتا اور ویسا ہی ہوجاتا جیسا تھا وہ پھر لوٹ کر اس کو مارتا، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے بڑھو۔چنانچہ ہم آگے بڑھے تو تنور کی طرح ایک گڑھے تک پہنچے کہ اس کے اوپر کا حصہ تنگ اور نچلا چوڑا تھا اس کے نیچے آگ روشن تھی جب آگ کی لپٹ اوپر آتی تو وہ لوگ (جو اس کے اندر تھے) اوپر آنے کے قریب ہوجاتے اور جب آگ بجھ جاتی تو دوبارہ پھر اس میں لوٹ جاتے اور اس میں مرد اور ننگی عورتیں تھیں۔ میں نے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو۔ ہم آگے بڑھے یہاں کہ ہم ایک خون کی نہر کے پاس پہنچے اس میں ایک شخص کھڑا تھا اور نہر کے بیچ میں یا جیسا کہ یزید بن ہارون نے اور وہب بن جریر نے جریر بن حازم سے روایت کیا۔ نہر کے کنارے ایک شخص تھا جس کے سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے جب وہ آدمی جو نہر میں تھا سامنے آتا تو (کنارے والا) آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا اور وہیں لوٹ جاتا جہاں ہوتا میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو ہم آگے چلے یہاں تک کہ ہم ایک سرسبز شاداب باغیچے کے قریب پہنچے جس میں بڑے بڑے درخت تھے اور اس کی جڑ میں ایک بوڑھا اور چند بچے تھے اور ایک شخص اس درخت کے قریب اپنے سامنے آگ سلگا رہا تھا۔ ان دونوں نے مجھے درخت پر چڑھایا اور ہمیں ایسے گھر میں داخل کیا جس سے بہتر اور عمدہ گھر نہیں دیکھا اور اس میں بوڑھے اور جوان آدمی اور عورتیں اور بچے ہیں پھر مجھے اس سے نکال کرلے گئے اور ایک درخت پر چڑھا دیا اور مجھے ایک گھر میں داخل کیا جو بہتر اور عمدہ تھا۔ وہاں بوڑھوں اور جوانوں کو دیکھا، میں نے پوچھا کہ تم نے مجھے رات بھر گھمایا تو اس کے متعلق بتاؤ جو میں نے دیکھا ان دونوں نے کہا بہتر! وہ آدمی جسے تم نے دیکھا کہ اس کا گلپھڑا چیرا جارہا ہے وہ شخص جھوٹا ہے جو جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور اس سے سن کر لوگ دوسروں سے بیان کرتے تھے یہاں تک کہ جھوٹی بات ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے اس کے ساتھ قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا اور جس کا سر پھوڑتے ہوئے تم نے دیکھا وہ شخص تھا جسے اللہ نے قرآن کا علم عطا کیا لیکن اس سے غافل ہو کر رات کو سو رہا اور دن کو اس پر عمل نہ کیا قیامت تک اس کیساتھ یہی ہوتا رہے گا تنور میں جن لوگوں کو تم نے دیکھا وہ زانی تھے اور جنہیں تم نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھے اور ضعیف جنہیں تم نے درخت کی جڑ میں دیکھا وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور بچے ان کے اردگرد لوگوں کے ہیں اور وہ شخص جو آگ سلگا رہا تھا وہ مالک داروغہ دوزخ تھا اور وہ گھر جس میں تم داخل ہوئے عام مومنین کا گھر تھا اور یہ گھر شہداء کا ہے اور میں جبرائیل اور یہ میکائیل ہیں اپنا سر اٹھاؤ میں نے اپنا سر اٹھایا تو اپنے اوپر بادل کی طرح ایک چیز دیکھی ان دونوں نے کہا یہ تمہارا گھر ہے میں نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں ان دونوں نے کہا تمہاری عمر باقی ہے جو پوری نہیں ہوئی جب تم اس عمر کو پورا کرلو گے تو اپنے گھر میں آجاؤ گے -

(صحیح بخاری، جلد ١، کتاب الجنائز ، حدیث ١٣١١)

حدیث کے آخری الفاظ پر غور کریں "مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں ان دونوں نے کہا تمہاری عمر باقی ہے جو پوری نہیں ہوئی جب تم اس عمر کو پورا کرلو گے تو اپنے گھر میں آجاؤ گے" - ثابت ہوا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم الله کے پاس جنت میں زندہ ہیں اپنے اس گھر میں جس میں جانے سے آپکو روکا گیا حدیث کے الفاظ ہیں "مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں" -
 
Top